اردو غزل کا مجموعی مزاج حزنیہ ہے لیکن بعض شعرا کے ہاں نشاطیہ انداز کو بھی نظر انداز نہیں جاسکتا۔ اسلوب کے لحاظ سے حزن اور نشاط کے علاوہ ایک اور روایت طنز و تعریض کی بھی رہی ہے ۔
اردو غزل کی اس روایت کو پہلی بار بھرپور طور پر داغ سے فروغ ملا۔ اگرچہ اُس کا لب و لہجہ سمجھنے کے پیمانے محدود رہے اور بہت سے سماجی تناظرات نظر انداز کردیے گئے۔ طنز اور تیکھا پن جدید اردو غزل میں 60 کی دہائی میں بھی بہت مرغوب رہا۔ جون ایلیا، اقبال ساجد، انور شعور اور بعض دیگر شعراء نے اپنے تیکھے اسلوب کے کئی تیور دکھائے۔
غزل میں تیکھا پن بطور خاص اس لیے بھی میرے ذہن میں آیا کہ خیبر پختونخوا کے شعرا میں اس وقت پیش نظر ایک شاعر اسحاق وردگ کے ہاں یہ لہجہ ایک خاص آب و تاب کے ساتھ جلوہ گری کرتا ہے ۔ اُس کے طنز کے پیرائے بھی متنوع ہیں اور اس کے پیچھے مفاہیم کا بھی ایک سلسلہ جو اپنا مخصوص سماجی پس منظر رکھتا ہے ۔
خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں
٭٭٭
دیوانوں کے مانند مرے شہر کے سب لوگ
دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں
٭٭٭
ہونے کا اعتبار نہیں کر رہے ہیں لوگ
اب خود کو اختیار نہیں کر رہے ہیں لوگ
جدید اردو غزل کے تعریفی اسلوب میں کہانی اور کردار کے الفاظ بھی بڑے تخلیقی پیرائے میں برتے گئے ہیں ۔ اسحاق وردگ نے اس اسلوب کے تسلسل میں جو اشعار کہے ہیں اُن میں بعض مقامات پر حیران کن حد تک نیا پن دکھائی دیتا ہے اور اُس کا اپنا لب و لہجہ ایک خاص جادوگری دکھاتا ہے ۔ اگرچہ کہیں کہیں مخصوص لفظیات کی تکرار کے باعث دائرے کا احساس بھی ہوتا ہے اور اردو غزل کے مجموعی سرمائے میں جب کہانی اور کردار سے وابستہ لفظیات کی کثرت سامنے آتی ہے تو میں اسحاق وردگ کو اس ڈکشن سے آگے جانے کا ضرور کہوں گا لیکن جو سرمایہ تخلیقی سطح پر صفحۂ قرطاس پر ہے ۔ اُس میں درج ذیل شعروں کی داد نہ دینا بھی بخل ہوگا۔
اپنا ہی کردار رد کرتا ہوا
میں کہانی مستند کرتا ہوا
٭٭٭
تیرے کردار کو نبھانے میں
مجھ کو مرنا پڑا فسانے میں
اسحاق وردگ ، جس سرزمین پر شعر کہہ رہے ہیں۔ اُس کے آشوب کے بھی کئی پہلو ہیں ۔ یہ خطہ جس کے بارے کسی زمانے میں یہ خوش نظری پائی جاتی تھی کہ اس زمین سے آسماں بھی جھک کے ملتا ہے ، فی زمانہ آسمان جھکنے کے بجائے ٹوٹ پڑا ہے اور وہ کہانی جو کسی تابندہ موڑ کی طرف جا رہی تھی، ایک عجیب تاریکی اور دھندلکوں کے چوراہے میں گم ہوگئی ہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں شکیل جمالی: شہری مڈل کلاس کی آواز – مالک اشتر)
گزشتہ تین دہائیوں میں اس سرزمین کو جس جہادی ڈسکورس کے ذریعے آگ اور خاک و خون کی فضا میں دھکیل دیا گیا، اُس نے خارجی سطح ہی پہ استبداد کے سامان نہیں کیے بلکہ داخلی سطح پر بھی توڑ پھوڑ کے اسباب بہم پہنچائے ہیں ۔ تباہی و بربادی کے آثار جہاں درو دیوار پہ نظر آتے ہیں۔ وہاں دل و دماغ پر بھی اس کے نشانات واضح ہیں ۔ یہاں کا فرد جو ایک خاص تفاخر کے ساتھ زندگی بسر کرنا اپنی ثقافتی قدر خیال کرتا تھا اب اضمحلال اور یاسیت کے داخلی کرب میں گرفتار ہے ۔
اسحاق وردگ کے ہاں اس تاراجی کی داستان کے کئی پہلو شعری پیراہن میں ظاہر ہوئے ہیں ۔ ان اشعار میں غصہ ، احتجاج اور طنز بھی ہے جبکہ دکھ، پژمردگی اور کرب بھی نظر آتا ہے ۔
ہوئی تھی زندگی جب شہر میں گم
کسی کو کوئی رنج اس کا نہیں تھا
٭٭٭
عجب اک کھیل کھیلا جارہا ہے
نہ تھا جس کا ہمیں کوئی گماں تک
یہ امر قابل ذکر ہے کہ شہرِ پشاور اسحاق وردگ کے خوابوں کا مرکز ہے ۔ مذکورہ صورتِ حال میں وہ اس نگر کا مرثیہ نگار ہے۔ لیکن اُس کی تزئین نو کے خواب بھی دیکھتا ہے اور اُس کی تعبیر کے قرینے بھی تلاشتا ہے۔
اے پشاور! آخری کوشش ہے یہ
خواب سے اک فاختہ لایا ہوں میں
اسحاق وردگ کے تخلیقی سرمائے کے سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خارجی حالات کی دگرگونی کا بیان اُس نے ایک تخلیق کار کے سماجی منصب کے طور پر کیا ہے اور بلاشبہ بڑے بھرپور انداز میں اپنی ذمہ داری کو نبھایا ہے لیکن اُس نے اس منصب کو بھی فراموش نہیں کیا جو ایک تخلیق کار اپنے فن کے حوالے سے اختیار کرتا ہے اور اُسے حتی الامکان نبھاتا ہے ۔ یہ مسئلہ اکثر شعرا کے سلسلے میں قابل ذکر ہے کہ یا تو وہ خارجی حالات کے انتشار کے باعث یا تو خود کو دہرانا شروع کردیتے ہیں یا بقول مشتاق احمد یوسفی کسی دماغی باﺅلے کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اس تناظر میں اسحاق وردگ کے ہاں ایک توازن بھی نظر آتا ہے اور اُن جدید پیرایوں کا شعور اور تلاش بھی نظر آتی ہے جو اس وقت جدید شعرا اختیار کرتے ہوئے اردو کے شعری سرمائے میں بڑے تخلیقی اضافے کر رہے ہیں ۔
جدید شعری حسیت اور نئے تحقیقی پیرایوں کے سلسلے میں اسحاق وردگ کے درج ذیل اشعار یقینا عمدہ مثال ہیں :
دروازے کو اوقات میں لانے کے لیے میں
دیوار کے اندر سے کئی بار گیا میں
٭٭٭
مرے لیے تو یہ بےکار ہونے والا ہے
یہ دل کہ عشق سے بےزار ہونے والا ہے
٭٭٭
اب عشق اور دشت خسارے میں ہیں میاں
اب دل کا کاروبار نہیں کر رہے ہیں لوگ
اسحاق وردگ کی شاعری کے باطن میں جھانکا جائے تو یہ حقیقت کھلتی ہے کہ وہ خارجی حالات میں پھیلنے والی تاراجی کا مرثیہ خوان ضرور ہے لیکن بنیادی طور پر وہ اس تخلیقی بانجھ پن کی نوحہ خوانی کر رہا ہے جسے وہ اپنے ارد گرد محسوس کر رہا ہے ۔ اس لحاظ سے اگر یہ کہا جائے کہ وہ تخلیقی زرخیزی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اس کی کاوشوں میں جہاں وہ احتجاج نمایاں ہے جس کا ذکر اوپر کی سطور میں ہو چکا ہے تو وہ تخلیقی عمل بھی شامل حال ہے ۔ جو اُس کی پہچان ہے اور یہ امر بہت خوش آئند ہے کہ وہ مسلسل اس میں کوشاں ہے ۔ اس کا احتجاجی لب و لہجہ اپنی جگہ لیکن اس کا اپنا تخلیقی سرمایہ اور اسلوب کا نیا پن دیوار کے اندر سے گزرنے کے عمل کو سہل بنانے کا اشارہ ہے اور وہ اس عمل سے اپنے ساتھ ساتھ اپنے کئی ایک معاصرین کے یقین کو بھی تازہ تر کرتا ہے ۔
میں وہ مجنوں کہ اک صحرا ہے مجھ میں
وہ صحرا بھی بہت سمٹا ہے مجھ میں
کسی کی یاد کے بجھتے دیے پر
عجب شعلہ بھڑک اٹھا ہے مجھ میں
تمہیں میری ضرورت بھی پڑے گی
پرانے شہر کا نقشہ ہے مجھ میں
اسحاق وردگ کا یہ تخلیقی صحرا، شعلہ اور پرانے شہر کا نقشہ لمحۂ آئندہ میں رونما ہونے والی ساعت تابندہ کے نمایاں استعارے اور خوش آثار اشارے ہیں جو یقینا مایوس عصری فضا میں شمع امید کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر طارق ہاشمی
شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی،فیصل۔آباد
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

