اکیسویں صدی کی پہلی اور دوسری دہائی میں اردو کی تقدیسی شاعری میں جن باکمال نعت گو شعرا نے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے ، ان میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل بھاگل پوری کا بھی ہے ۔ وہ بیک وقت معلم ، ادیب ، شاعر ، محقق اور ناقد ہیں ۔ نظم اور نثر دونوں صنف پر قدرت رکھتے ہیں ۔ ” ان کی بلند پایہ کتاب ” تنقیداتِ خوشدل ” ان کی تنقیدی بصیرت اور ادبی و شعری مہارت کی آئینہ دار ہے ۔ دینی اقدار کے تحفظ کے ساتھ وضع داری اور اصول پسندی ان کا طرّۂ امتیاز ہے ۔ بڑے کھرّے انسان ہیں ۔ جو کچھ کہتے ہیں ، بر ملا کہتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں ۔ 1975 ء سے شاعری سے کر رہے ہیں ۔ 45 / سالہ شعری تجربے نے ان کے فکر و فن کو مضبوط سے مضبوط تر اور کافی توانا بنا دیا ہے ۔ علامہ ناوک حمزہ پوری و استاذ الشعراء جناب یونس احمر کے قابلِ فخر شاگرد ہیں ۔ شاعری اور بالخصوص نعتیہ و حمدیہ شاعری ان کا خاص میدان ہے ۔ خلوص و عقیدت پر مبنی ان کی تقدیسی شاعری میں فصاحت و بلاغت ، حسنِ زبان ، لطافتِ بیان اور ندرتِ اسلوب قارئین کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی ۔ سادگی کے ساتھ پُرکاری و طرفگی ان کے کلام کی نمایاں ترین خصوصیت ہے ۔
شہر بھاگل پور کے دیگر محلات و قریہ جات کی طرح ” برہ پورہ ” ( خوشدل صاحب کا وطنِ مالوف ) بھی شروع سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے ، جہاں اصحابِ فکر و فن کی کثیر تعداد پہلی کی طرح آج بھی موجود ہے ۔ ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل ایک علمی خاندانی کے چشم و چراغ ہیں ۔ ان کے دادا مولوی محمد کامل مرحوم برہ پورہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور فارسی شعر و ادب میں مہارت رکھتے تھے ۔ ان کے شاگردوں کی ایک لمبی فہرست ہے ، جنھوں نے آ گے چل کر علم و ادب کی دنیا میں بڑا نام پیدا کیا ۔ ان کے چار لڑکے تھے ۔ محمد عمر عادل ، محمد علی ، سید علی ( خوشدل صاحب کے والد ) احمد علی ۔ خوشدل صاحب کے بڑے ابو ڈاکٹر محمد عمر عادل مرحوم کو شہر بھاگل پور کے نعت گو شعرا میں بلند ترین مقام حاصل تھا ۔ ان کے والد جناب سید علی مرحوم بھی فارسی و اردو زبان پر دسترس رکھتے تھے ۔ شاعری سے بھی دلچسپی رکھتے تھے اور ڈاکٹر اقبال کے کلام کے شیدائی تھے ۔ شکوہ و جوابِ شکوہ انہیں زبانی یاد تھا ۔ مترنم اور بلند آواز میں اکثر ڈاکٹر اقبال کے اشعار گنگنایا کرتے تھے ۔ غرض کہ گھر کا ماحول شروع سے علمی و ادبی رہا اور اسی علمی و ادبی ماحول میں 5 / جنوری 1958ء میں ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل کی پیدائش ہوئی ۔ والدہ کا نام سیدہ طاہرہ علی مرحومہ ہے ، جنہوں نے ان کی تعلیم و تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ خوشدل صاحب اعلیٰ عصری تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ دینی مزاج رکھنے والے انسان ہیں ۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں ۔ وہ جس طرح مذہبی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں ، اسی طرح دوسروں کو بھی دیکھنا پسند کرتے ہیں ۔ مسلک و مشرب سے قطع نظر وہ خود کو ایک سچا مسلمان سمجھتے ہیں اور مسلکی خانہ جنگیوں کو قومی و ملی فلاح و بہبود کے لیے سمِّ قاتل سمجھتے ہیں ۔ دورانِ گفتگو ایک مرتبہ میں نے سوال کر دیا کہ آپ بنامِ مسلمان کس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں ؟ اس سوال پر انہوں نے برجستہ کہا کہ ” میں نہ وہابی ہوں اور نہ بریلوی و دیوبندی ، بلکہ ایک مسلمان ہوں ” ۔ اور برجستہ یہ شعر کہا :
فخر کے ساتھ کہا کرتا ہے خوشدل سب سے
میرا مسلک ، میرا ایمان رسولِ اکرم
مروجہ عصری تعلیم ( ڈبل ایم ، اے ، بی ایڈ ، پی ، ایچ ، ڈی ) سے فراغت حاصل کرنے کے بعد ضلع اسکول ، ہزاری باغ ، جھارکھنڈ کے شعبۂ اردو میں عرصۂ دراز تک تدریسی خدمات انجام دیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ملازمت سے سبک دوش ہوئے ۔ جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے 2011 ء میں ” Best Teacher ” ایوارڈ ( مع سند و نقد پندرہ ہزار روپے ) سے سرفراز ہو چکے ہیں ۔ آذر اکیڈمی ، علی گڑھ کی جانب سے آپ کے اعزاز میں ایک تقریب منقعد کی گئی اور آپ کو ” تاجدارِ سخن ” کے خطاب سے نوازا گیا ۔ موصوف اپنی علمی و ادبی خدمات کے باعث یقیناً ان اعزازات کے مستحق ہیں ۔ حمد و نعت اکیڈمی ، نئی دہلی کے Executive Member میں شامل ہیں اور حمد و نعت اکیڈمی ، ہزاری باغ کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے نعتیہ ادب کے فروغ و استحکام میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ( یہ بھی پڑھیں پنڈت ہری چند اختر کی غزلیہ شاعری کے منفی کردار – ڈاکٹر خالد مبشر )
شعری ، ادبی ، تحقیقی و تنقیدی خدمات :
ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل بیک وقت میدانِ نظم و نثر کے فاتح ہیں ۔ شاعری کے اصول و مبادی سے کماحقہ واقفیت رکھنے کے ساتھ نثر کے اصول و آداب سے بھی آگاہ ہیں اور اب تک مختلف علمی ، ادبی ، تحقیقی و تنقیدی موضوعات پر ڈھائی سو ( 250 ) سے زائد گراں قدر مضامین و مقالات لکھ چکے ہیں ۔ مندرجہ ذیل کتابیں جناب خوشدل کے خوش فکر و قلم کی خوب صورت یادگار ہیں جو منظرِ عام پہ آ کر باذوق قارئین سے داد و تحسین وصول کر چکی ہیں :
1 ………. ایوانِ نعت ( مختلف نعت گو شعرا پر مختصر مضامین ) ، مطبوعہ : 2009 ء
2 ……….. الحمد للّہ ( مجموعۂ حمد و مناجات ) ، مطبوعہ : 2010 ء
3 ………. سمعنا و اطعنا ( مجموعۂ نعوتِ پاک ) ، مطبوعہ : 2010 ء
4 ……….. وجدان کے پھول ( مجموعۂ غزل ) ، مطبوعہ : 2014 ء
5 ………… تنقیداتِ خوشدل ( تنقیدی مضامین ) ، مطبوعہ : 2016 ء
6 ………… اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول ( مجموعۂ حمد و نعت ) ، مطبوعہ : 2017 ء
7 ……….. مقالاتِ خوشدل ( تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ ) ، مطبوعہ : 2019 ء
8 ………. پشپانجلی ( ہندی شعری مجموعہ ) مطبوعہ : 2019 ء
9 ………… انتخابِ کلام بی ، ایس ، این ، جوہر
ان کے علاوہ مندرجہ ذیل کتابیں کمپوز شدہ فائنل ہیں اور عنقریب زیورِ طباعت سے آراستہ ہونے والی ہیں :
( 1 ) نقوشِ خوشدل ( 2 ) تفہیم و تنقید ( 3 ) تنقیحاتِ خوشدل ( 4 ) ایک لٹھ مار ناقد : علامہ ناوک حمزہ پوری
علاوہ ازیں مختلف علمی و ادبی موضوعات پر خوشدل صاحب کے 150 / مضامین و مقالات غیر مطبوعہ ہیں جن سے تین چار نثری کتابیں بآسانی تیار ہو سکتی ہیں ۔ ملک کے مشاہیر اہلِ علم و قلم اب تک ان کی شعری و ادبی و تنقیدی خدمات پر لگ بھگ 75 / مضامین لکھ چکے ہیں ۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل چوں کہ ایک قادر الکلام نعت گو شاعر اور بلند پایہ ادیب و ناقد ہیں ، اس لیے ان کے فکر و فن کا اعتراف تحقیق و ادب کے ممتاز ترین فضلا و شخصیات نے کیا ہے ۔ علامہ ناوک حمزہ پوری نے تو اس حوالے سے پوری ایک کتاب ہی ” اردو شعر و ادب کا برق رفتار فنکار : ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل ” کے نام سے لکھ ڈالی ہے ۔ استاذ جس ہونہار شاگرد کے فکر و فن کو سراہے ، بھلا اس کی صلاحیت و لیاقت میں کس کو شبہہ ہو سکتا ہے ۔ ماہنامہ ” قرطاس ” ناگپور نے 2013 ء میں ” ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل نمبر ” شائع کیا ہے ۔ خوشدل صاحب کی اصل جولان گاہ نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ، جہاں وہ اپنے فکر و فن کو کمالِ ہنرمندی کے ساتھ پیکرِ جمال میں ڈھالتے نظر آتے ہیں ۔ ایک عظیم نعت گو شاعر کی حیثیت سے وہ شعری و ادبی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ نعت کے علاوہ حمد و مناجات اور غزل گوئی میں بھی انہوں نے طبع آزمائی کی ہے اور ہر ایک فن کی رہ گذر پر فکر کی شمعیں روشن کرتے وقت اپنے منفرد میلانِ طبع کا مظاہرہ کر کے ہر صنفِ سخن کے فنی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے اور یہ نتیجہ ہے اس مہبطِ انوار کی تجلیوں کا جن سے خوشدل کی فکر منور اور سینہ مجلّیٰ ہے ۔ فصاحتِ الفاظ ، بلاغتِ معانی ، رعنائیِ افکار اور اسلوب کی شائستگی و سنجیدگی ان کی شاعری کے اجزائے ترکیبی ہیں ۔ وفورِ جذبات و قرینۂ اظہار کا انہیں شعور و ادراک حاصل ہے ، جو نعتیہ شاعری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان کی نعتیہ شاعری پر مختلف جہت سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ، لیکن وقت و صفحات کی قلت اس امر سے مانع ہے ۔ اس لیے ان کے نعتیہ و حمدیہ و غزلیہ کلام کے ذکر پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے ۔
نمونۂ کلام :
( الف )
نبی کے عشق کا دریا مرے سینے کے اندر ہے
اگر یہ جذبہ صادق ہے تو پھر کس بات کا ڈر ہے
یقیناً ہر نبی بیشک نبی ہے اور پیمبر ہے
مگر میرا نبی ان سے سے افضل سب سے برتر ہے
غلامِ سیدِ ابرار جو بھی ہیں ذرا سن لیں
نبی کے عشق کا دعویٰ عمل میں اس کے مضمر ہے
مری ہر نعت میں جوشِ عقیدت کے حقائق ہیں
مگر حدّ ِ ادب سے بڑھ نہ جاؤں لگتا یہ ڈر ہے
محبت سرورِ کونین کی جس دل میں ہو خوشدل
بلا شک بر سرِ اوجِ فلک اس کا مقدر ہے
( ب )
مئے عشقِ شاہِ بطحا کا جسے پتہ نہیں ہے
وہ خدا کی بندگی سے ابھی آشنا نہیں ہے
مرے دل میں شاہِ دیں کا ہے چراغ کب سے روشن
جو ہزار آندھیوں میں سرِ رہ بجھا نہیں ہے
یہ کمالِ درسِ احمد اسے معجزہ ہی کہیے
بجز اک خدا کے اپنا کوئی آسرا نہیں ہے
یہ سبق ملا ہے مجھ کو گئے عرش پر نبی جب
کہ مکاں سے لا مکاں تک کوئی فاصلہ نہیں ہے
نہیں دل میں جس کے خوشدل ہو نبی کا عشقِ کامل
وہ مرے دل و نظر میں کسی کام کا نہیں ہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

