عارفہ شہزاد کے ناول’میں تمثال ہوں ‘ کی پی ڈی ایف فائل کسی گروپ کی جانب سے موصول ہوئی اور میں نے یہ ناول موبائل فون پر ایک گھنٹہ میں ہی پڑھ لیا۔اگرچہ ناول کا آغاز کسی چونکا دینے والے فقرے سے نہیں ہوتا جیسا کہ عموماََ بڑے ناول کسی چونکا دینے والے فقرے سے آغاز ہوتے ہیں نہ ہی اس کاا سلوب متاثرکن ہے۔ اس کے باوجود ، یہ تحریر اپنے پڑھنے والے کے اندر ایک تجسس آغاز ہی میں پیدا کرنے میں کامیاب رہتی ہے ، یہ تجسس قاری کو اس امید پر اپنے ساتھ اختتام تک لے کر چلتا رہتا ہے کہ اب ناول کا مرکزی خیال واضح ہو گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا۔باذوق قاری اور ادب کے لکھاری اس ناول کو پڑھتے ہی اپنی رائے کا اظہار ضرور کرنا چاہیں گے کہ یہ تحریر اپنے قاری کو اس بات پر اکساتی ہے کہ اس پر بات کی جائے. اس لیے نہیں کہ یہ بہت عمدہ ہے بلکہ، اس لیے کہ تمثال کی یہ آپ بیتی ناول کی تعریف پر کسی بھی حوالے سے پورا نہیں اترتی۔
یہ تحریر پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ تمثال کی کہانی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو نفسیاتی دباو ٗکے تحت اپنے معالج کو ای میل کے زریعے اپنی کہانی سناتی ہے، اس کا مرکزی کردار تمثال خود ترسی کا شکار ہے اور اپنے مختلف عشق کی کہانیوں کے بارے میں جو ای میلز وہ اپنے نفسیاتی معالج کو کرتی ہے ان کو ناول کی شکل میں ڈھالنے کے لیے ہماری معروف شاعرہ عارفہ شہزاد کے لکھنے کے فن کا سہارا لیتی ہے، جبکہ تمثال خود بھی ایک نظم نگار ہے۔ یہ ناول انتہائی مختصر ہے جو چند ای میلز اور تجزیاتی آراہ پر مشمل ہے۔’’ اسلوب اس کا انتہائی آسان ہے ‘‘یہ بات وہ لوگ کہ رہے ہیں جو ناول نگار کو شاید خوش کرنا چاہتے ہیں مگر در حقیقت ادبی اسلوب کے حوالے سے پرکھاجائے تو یہ ایک احساسات و جذبات سے عاری عام سی تحریر ہے جو اپنے قاری کو اسلوبیاتی ، جمالیاتی یا معنوی حوالے سے کسی بھی سطح پر اپنی گرفت میں نہیں لے سکتی ۔ آسان اسلوب ویسے تو اس لیے پسندیدہ ہوتا ہے کہ لکھنے والے کے مقصد کا آسانی سے ابلاغ ہوجائے مگر،جب بات افسانہ یا ناول کی ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے اسلوبیاتی پہلو ادب پروروں کی تحریروں اور تبصروں میں زیرِ بحث آتے ہیں ۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہیں کہ دبی اسلوب کے حوالوں سے یہ تحریر انتہائی کمزور ہے۔ کوئی ایک جملہ پورے ناول میں ایسا نہیں ملتا جو ذہن و دل کو جکڑ لے، قاری کی نظر کو اپنے اوپر ساکن کر لے ، کہ قاری اس جملے کو بار بار پڑھنا چاہے یا اس کی تخلیقی لذت کو تادیر محسوس کرتا رہے۔ اس حوالے سے مجھے مایوسی اس لیے بھی زیادہ ہوئی ہے کہ اس ناول کو ہماری ایک شاعرہ نے ترتیب دیا ہے مگر ، اپنے ادبی اسلوب کی کوئی بھی چھاپ ناول پر نہیں لگا سکی۔ ایک اچھے ناول ، شاعری اور ادب پاروں کو، جو چیز عام بول چال سے الگ پہچان دیتی ہے وہ اس کا لسانی حوالہ ہوتاہے۔
ناول میں منظر سازی اور کردار ساز ی کے لئیے زبان مرکزی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ مناظر، ماحول، موسم ، جذبات و احساسات اور کرداروں کے لفظی عکس کو قاری پر واضح کرنے کے لیئے تشبیہات ، استعار ات اور علامتوں کا استعمال کسی بھی ادب پارے کو پر کشش بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تحریر اس کشش سے عاری ہے ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تمثال نے جس وقت یہ آپ بیتی لکھی وہ نفسیاتی مسائل کی وجہ سے اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی کہ اسے اپنی درونِ ذات چل رہی کشمکش کے سوا کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ناول میں خیال کی یکجائی اور روانی کا فقدان ہے۔ جس طرح تمثال خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اسی طرح اس کے عشق کی سات کہانیوں میں یکسوئی کی بجائے انتشار ہے جیسا کہ وہ اپنے پہلے عشق کی بات کرتے کرتے چوتھے اور پانچویں تو کبھی ساتویں عشق کی کتھا سنانے لگتی ہے اور وہ کتھا بھی ادھوری ہوتی ہے، وہ کہیں بھی اپنے کرداروں کی تاریخ نہیں بتاتی، جبکہ کسی بھی ناول کے کرداروں کی اپنی ایک تاریخ ضرور ہوتی ہے جوکرداروں کو زندگی بخشتی ہے۔اسی طرح تمثال نے اپنے عشق کو نام دینے کی بجائے نمبر وں سے بیان کیا ہے۔ پہلا عشق، دوسرا عشق، تیسرا عشق اور ساتویں عشق تک وہ اسی طرح ان کے بارے میں بیان کرتی چلی جاتی ہے۔ تمثال اس کی وجہ یہ بتاتی ہے کہ وہ کسی کا نام لے کر ان کی بدنامی نہیں کرنا چاہتی یا کسی کی ذات کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ وہ بس اپنے درد کو بیان کرنا چاہتی ہے جو اسے ساتویں عشق کی بے رخی نے خصوصاََ بخشاہے۔ جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی دباوٗ کا شکار ہوکر بیمار رہنے لگتی ہے۔اس لیے وہ نفسیات کی ان الجھی گتھیوں کو سلجھانا چاہتی ہے جن میں وہ خود پھنس چکی ہے۔ مجھے تمثال کی اس حالت پر بہت ترس آتا ہے، جس کی بہت حد تک وہ خود بھی ذمہ دار ہے۔ تمثال جس کی یہ آپ بیتی ہے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی ۔ نفسیاتی الجھنوں میں گھِری ہوئی تمثال معاشرے میں موجود موقع پرست مردوں کے چہروں سے نقاب اتارنے کی کوشش میں اس بری طرح سے ناکام اس لیے نظر آتی ہے کہ اس نے اپنی شناخت کو چھپانے کی خاطر منظر نگاری اور اپنے کرداروں کی کردار سازی سے گریز کیا۔ جس کے نتیجے میں اس کے ناول لکھنے کا اصل مقصد جو وہ پروجیکشن کے ذریعے اپنے سے منسلک مردوں کو ایکسپوز کرکے کرنا چاہتی تھی پورانہ ہوسکا۔ اس کے بر عکس اس کی اپنی ذات کے وہ پہلو ایکسپوز ہوجاتے ہیں جن کا ادراک اس کے ارد گرد بسنے والوں کو شاید اس قدر نہیں تھا۔’’میں تمثال ہوں ‘‘ جیسا کہ اس ناول کا نام ’ میں ‘ سے شروع ہوتا ہے۔ دنیا میں ’ میں ‘ کا لفظ دو سطح پر عمل آراء ہوتاہے ایک چھوٹا ’میں ‘ جو انسان کی اپنی ذات ہے اور ایک بڑا ’میں ‘ جو انسان کو پوری انسانیت سے جوڑتا ہے ۔ یہ ناول چھوٹے ’میں ‘ کی ذاتی کہانی پر مبنی ہے جسے اپنے سماج، اس کی اقدار، روایات حتی کہ اپنے سے وابستہ رشتوں سے بھی کچھ غرض نہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ تمثال ایک خود غرض اور خود مرکزیت کے شکار انسان کی کہانی ہے تو بے جا نہ ہوگا .اس کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ تمثال ایک شعور اور لاشعور کی کشمکش میں گھرا ہوا کردار ہے۔ (یہ بھی پڑھیں میں تمثال ہوں: ایک سرسری جائزہ – گلناز کوثر)
تمثال کی ظاہری زندگی "Supper Ego” ’شعور ‘کے زیرِ اثر سماجی و مذہبی اخلاقیات کے مطابق گزرتی ہے مگر اس کی وہ خواہشات جن کو بچپن ہی میں "sub-conscious”لاشعور میں دھکیل دیا جاتا ہے وہ تمثال کے”Rational Self” عقل‘ کے زریعے اس کی زندگی میں نہ صرف جگہ بنا لیتی ہیں بلکہ ان کو تمثال اپنی مرضی اورآزادی کے تحت پورا بھی کرتی ہے۔ ان خواہشات کو پورا کرتے ہوئے جن میں عورت کے جنسی جذبات کی تسکین کا بے پناہ احساس شامل ہے، تمثال ایک کے بعد دوسرے مرد کے عشق میں مبتلا ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایسا کرنے میں تمثال بہت بارخود کو سماجی رسم و روا ج کی پابندیوں سے وقتی طور پراپنی "Libido Energy ” کے زیرِ اثر آزاد کراتی ہے اور عشق پر عشق کیے جاتی ہے، مگر اس کی یہ پُر دلیل آزادی ایک ’سچے عشق‘ کو پانے کی خواہش کے تعاقب میں ’ شعور ‘کی زد میں آجاتی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس تھیوری کے حوالے سے تمثال کے کردار پر آگے بڑھیں ، یہ مناسب ہوگا کہ میں مختصر سا تعارف نفسیاتی تجزیاتی تھیوریوں کی بنیادی اصطلاحات اور ان کی معنوی اہمیت سے کرادوں ۔
نفسیاتی تجزیاتی تھیوریوں کا لاشعور کا نظریہ مختلف تصورارت پر مبنی ہے۔ نفسیاتی تجزیہ کا جب ذکر ہوتو سب سے پہلے سگمنڈ فرائڈ کا نام ذہن میں آتا ہے۔ اس نے 1905ء ’ سہ چہرہ ذات‘ کے نمونے کی کی تشکیل کی۔ جس کی بنیاد میں "ID” کا اہم کردار ہے۔ سگمنڈ فرائڈ کا کہنا ہے جو خواہشات انسان کی سماج کے مروجہ رسم و رواج اور روایات سے متصادم ہوتی ہیں وہ ایک بچے کی تربیت کے دوران اس کے”sub-conscious” لاشعور میں دب جاتی ہیں ، مگر ختم نہیں ہوتیں . وہی خواہشات ساری زندگی کسی نہ کسی روپ میں انسان کے کردار پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں ۔ فرائڈ کی سہ چہرہ زات کے نمونے میں دوسرا حصہ ” rational self or Ego” پر مشتمل ہے جسے’ عقل‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اورجو حقائق کے ساتھ ہم آہنگی قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِ ڈ کا تیسرا حصہ "Supper Ego” یعنی شعور پر مبنی ہے۔سپر ایگو کا کام انسان کو سماجی، اخلاقی رسم و رواج اور مفروضات کے مطابق اچھے اور بُرے کی فہم فراہم کرنا ہوتا ہے اور یہ سماجی ساختوں اور مفروضوں کے تحت، انسان کو سماج کی غالب فکر کے متعین کردہ اصول وضوابط میں رہتے ہوئے اپنے اور دوسروں کے اچھے یا برے عمل کو شناخت کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔اس کے ساتھ فرائڈ یہ بھی کہتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر کچھ متشدد عناصر لے کر پیدا ہوتا ہے جنھیں وہ "Libidinal”کا نام دیتا ہے۔اس کا خیال ہے کہ اگر نسان کو مثبت ماحول میں پرورش پائے تو اس کی ذات میں موجود یہ "Libido Energy” کسی تخلیقی و فنی یا سائنسی صلاحیت میں ڈھل جاتی ہے۔
جیسا کہ تمثال ایک فنکار بھی ہے، مگر اس کے بچپن کی جن یادوں کا تذکرہ اس تحریر میں ملتاہے وہ جنسی تلذذ پر مبنی ہیں ۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تمثال کی ’سہ چہرہ ذات‘ اَن بیاہی خواہشوں ‘ کا ایک جہاں رکھتی تھی۔جن کو پورا کرنے کے لیے یا تو ان کا سماجی مفروضات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری تھا یا پھرحقائق کے ساتھ ہم آہنگی کرنے والا اس کا ریشنل سیلف مضبوط ہوتا جو اس کے لیے ان بیاہی خواہشوں کو پوری کرنے کے لیے سماجی حقائق کے ساتھ کسی ضروری جواز کے ذریعے ہم ٓہنگی پیدا کرسکتا۔ جو حقائق تمثال کی زندگی میں موجود تھے یعنی وہ ایک شادی شدہ اور بچوں کی ماں بھی ہے اور کسی ذمہ دارانہ پوسٹ پر بھی تعینات ہے اور ان حقائق کے تقاضوں کے ساتھ تمثال کی اَن بیاہی خواہشوں کی ہم آہنگی اس کے شعور کے تحت ممکن نہیں تھی۔ اسی لیے تمثال یہ ہم آہنگی اپنے ریشنل سیلف؛جسے عقل بھی کہتے ہیں ، کے ذریعے اپنے سماج سے اپنی جنسی خواہشات کو شوہر اور سسرال کی بے اعتنائی کا جواز دے کر ہم سماجی مفروضوں کے بر عکس ہم آہنگ بنانے کی کوشش کرتی ہے مگر یہ کوشش ، حقائق سے فرار پر منتج ہوکر اس کے لیئے صرف نفسانی خواہشات کی تکمیل کا جز وقتی ایک چور دروازہ ہی کھول پاتی ہے۔کیونکہ ،شعور اور لاشعور میں ہمیشہ ریشنل سیلف حائل رہتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ کونسا عمل کیا جائے اور کونسی خواہش کو دبا کر لاشعور میں دھکیل دیا جائے۔
ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ تمثال کی پرورش مثبت ماحول میں ہوئی ہوگی ، مگر اس کے ساتھ ہی اس کی انفرادی زندگی کی جو جھلک بچپن کی یادوں میں ملتی ہے وہ جنسی تلذذ کی سر گرمی پر مشتمل ہے ، یا پھر اس کے پہلے عشق کا تذکرہ ملتا ہے اور اس کے بعد یونیورسٹی میں ہونے والا دوسرا عشق جو تمثال کی زندگی میں پہلا دھوکا تھا۔ اس کے علاوہ ای میلز کے ذریعے قاری تک تمثال کے ماضی کی کوئی جھلک نہیں پہنچتی, جس سے اندازہ ہوسکے کہ تمثال کو کیسا ماحول ملا ؟جو اس کی پرورش میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جیسا کہ بچپن کی یادوں میں بہت سے رشتے ہوتے ہیں جن سے ہم محبت یا نفرت کرتے ہیں ۔ انسان بہت سے جذبوں سے گزرتا ہے، مگر ان تذکروں کی منظر سازی صرف جنسی سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔نہ تو کہیں کسی ہجر کادرد ملتا ہے نہ ہی کسی یاد کی کوئی نرم گرم دھوپ کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ تمثال اپنے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے صرف اسی ایک پہلو سے روشناس کراتی ہے جو جنسی سرگرمی کا لمحہ تھا۔ جواس بات کا غماز ہے کہ عشق ، جس میں جنسی سر گرمیوں کا وہ کھل کر اظہار کرتی ہے، تمثال کی زندگی کا اہم مسئلہ رہا ہے۔ دوسرے عشق میں دھوکا کھانے کے بعد تمثال شادی شدہ زندگی میں اس عہد کے ساتھ داخل ہوتی ہے کہ اب شادی کے بعد کسی اور عشق میں مبتلا نہیں ہوگی، اس سے اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ تمثال کے لاشعور میں ایک ایسے عشق کی خواہش پہلے سے موجود تھی جو نہ صرف اس کی نفسی خواہشات کو پورا کرے بلکہ ، اس کے دلی جذبات و احساسات کو بھی سمجھے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ شادی کے بعد خود میں کسی نئے عشق کی خواہش کو شعوری سطح پر دبائے رکھنے کی ناکام کوشش کرتی نظر آتی ہے۔وہ اپنے لاشعور میں دبی ہوئی ایک آئیڈیل عشق کی ’اَن بیاہی خواہش‘ کو کچھ برس تو دبانے میں کامیاب ہوتی ہے، مگر شادی شدہ گھریلو زندگی کے مسائل جو تقریباََ ہر شادی شدہ عورت کو کسی نہ کسی حد تک درپیش ہوتے ہیں ان کو بنیاد بنا کر تمثال اپنے’ ریشنل سیلف‘ کے ذریعے خود کو نئے عشق کا جواز دیتی ہے کہ شوہر تو اس سے پیار نہیں کرتا، یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اگر شوہر پیار نہیں کرتا تھا تو تمثال اس کو عشق کرتی تھی، تبھی تو اسے تیسرے عشق کا درجہ دیتی ہے تو پھر تمثال کا عشق کیا ہوا؟ کیسے ختم ہوگیا؟ کیا اس کے شوہر نے اس کے مقابل کسی اور خاتون کو اہمیت دی؟ ان سوالوں کے کوئی جوب نہیں ملتے کیونکہ یہ تحریر بہت بڑے بڑے خلا وں پر مشتمل ہے۔
تمثال اپنی تحریر میں اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ وہ جسے چاہے اسی مرد کو حوصلہ ملتا ہے کہ اس سے بات کرے اور عشق کے لیے بھی ہر بار وہ اپنی مرضی کے مرد سے عشق کا رشتہ استوار کرتی ہے۔ یہاں وہ ان مردوں کو بھی تنقید کا نشانہ بڑے دکھ سے بناتی ہے جن سے وہ صرف اپنا د کھ بانٹتی ہے تو وہ اسے خالی اسامی سمجھ کر اس کی طرف قدم بڑھاتے ہیں ۔اگر یہ مان لیا جائے کہ تمثال کا دکھ یہ نہیں کہ اسے عشق نہ ملا، بلکہ اس کا دکھ یہ ہے کہ اسے اس کی پسند کے انسان کاعشق نہ ملا یعنی اس انسان کا عشق جسے وہ دوسرے عشق کا نام دیتی ہے تو پھر اس کے ہجر میں بے قرار رہنے کی بجائے وہ شوہر کو تیسرے عشق کے درجے پر فائز بھی کرتی ہے اور شادی کے بعد بھی بہت سے عشق جاری رکھتی ہے ؟ اگر جنسی خواہشات کی تکمیل ،اس کا مسٗلہ مان لیا جائے تو کیا اس کی یہ تشنگی شادی کے بعد بھی اس لیے برقرار رہی کہ اس کے شوہر کی ظاہر ی اور باطنی شخصیت ویسی نہیں تھی جیسا کہ تمثال اپنے محبوب کے لیئے سوچتی تھی؟ یا پھر وہ اس کی جنسی خواہشات کی تکمیل کرنے میں ناکام رہتا ہے؟ ان سوالات کے جواب کسی حدتک اس کی اپنے نفسیاتی معالج کو لکھی ہوئی ای میلز میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ وہ لکھتی ہے کہ اس کے شوہر نے کبھی اس کے لبوں کا بوسہ نہیں لیا اور ہر بار جنسی ضرورت کے لیے اسے ہی اپنے شوہر کے پاس جانا پڑتا ہے۔اس بات سے تمثال کی شخصیت کا یہ پہلو بھی کھلتا ہے کہ اس کے اندر جنسی سطح پر چاہے جانے کا جذبہ در حقیقت پوری شدت سے موجود ہے مگر اس کی تسکین شا دی شدہ زندگی کے بعد بھی جب نہیں ہوپاتی تو وہ ایکسٹرا میریٹل ریلیشنز کے زریعے اپنے نفسانی جذبات کی تسکین خود عاشق کا روپ دھار کر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔تمثا ل کے کردار کا یہ پہلو ہماری توجہ اس جانب دلاتا ہے کہ بہت سی خواتین کے ایکسٹرا میریٹل ریلیشنز کی وجہ یہ بات ہوسکتی ہے کہ ان کے شوہروں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان کی بیویوں کے جنسی عمل کے حوالے سے کیا کیا احساسات یا خواہشات و جذبات ہوسکتے ہیں جن کو کبھی سوچا نہیں گیا ۔ اس بات کی تصدیق اس کا اپنے چھٹے عشق کے حوالے سے لکھا جانے والا جملہ کرتا ہے ۔ جس میں وہ جنسی عمل کے دوران عورت کے تلذذ کا باعث” Clitoris ” کو بتاتی ہے اور اس بات پر تنقید کرتی ہے کہ مرد کے نزدیک عورت کے جسم کا یہ حصہ کسی اہمیت کا حامل نہیں ہوتا۔ یہاں وہ اپنے عشق کی اس عادت پر تنقید کرتی ہے کہ جنسی عمل کے دوران اسے اس بات کا احساس نہیں کہ عورت کے لیے کیا بات جنسی عمل میں مسرت کا باعث بنتی ہے۔تمثال کے یہ جملے بتاتے ہیں کہ وہ جتنی شدت سے مردوں کے عشق میں مبتلا ہوتی ہے در حقیقت ہ اسی شدت سے خود کے چاہے جانے کی خواہش میں مبتلا تھی. یہی وجہ ہے کہ اس کی یہ’ َان بیاہی خواہشیں ‘جو وقت گزرنے کے ساتھ اس کے لاشعور کا حصہ بن چکی تھیں ، اس کی زندگی میں عشق کی صورت کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوتی رہیں ۔ان خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے وہ اس قدر بے قرار دکھائی دیتی ہے کہ وہ سماج کی مروجہ رسم و رواج، روایات اور اخلاقیات کے سارے قاعدے اور قانون اپنی جنسی خواہشات کے ریلے میں بہا دیتی ہے۔ وہ اپنی اس آزادی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتی نظر آتی ہے جو اس کو اس کے گھر والوں اور سماج میں کسی عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے میسر ہے۔ اس کے اس جنون اور چاہے جانے کی نفسانی جذبات کی شدت سے گھبرا کر، اس کا چوتھا عشق پیچھے ہٹ جاتاہے تو پھر وہ پانچواں عشق چوتھے عشق کے دوست سے کرتی ہے جو شاید کسی دوسرے شہر یا ملک میں رہتا تھااور اس کی ناگہانی موت کے بعد تمثال پر کیا گزری اس کا اس آپ بیتی میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ مگرچھٹے عشق میں جس شخص کے ساتھ مبتلا ہوتی ہے اس کی حققت پسند طبیعت اور حقیقت پسند باتیں تمثال کی”Self-centered”’ خود مرکزیت‘ کا شکار شخصیت کو زیادہ دیر برداشت نہیں ہوتیں اور وہ ساتویں عشق کی جانب چل پڑتی ہے۔ ساتواں عشق تمثال کو کسی شاعر سے ہوتا ہے، مگر وہ عشق پہلی ملاقات کے بعد ہی تمثال سے گریز کرنے لگتا ہے ۔ پہلی ملاقات کا احوال تفصیل سے نہیں بتایا گیا مگر، اس کے ساتویں عشق کا گریز تمثال کی شخصیت کو توڑ پھوڑ کر اس لیے رکھ دیتا ہے کہ تمثال اس سے پہلے اپنی مرضی سے عشق کے لیے جس شخص کو بھی چنتی آئی تھی اس کا حصول اس کے لیے آسان تھا ۔ ساتویں عشق کے معاملے میں پہلی بار تمثال کا سامنا انکار سے ہوا تو اس کواپنی خود مرکزیت کا شکار شخصیت کا رد کیے جانا پسند نہیں آتا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شدید ذہنی دباوٗ کا شکار ہوکر بیمار رہنے لگتی ہے۔ چاہے جانے کی خواہش اور ساتویں عشق کی بے رخی کی وجہ سے تمثال کی شخصیت کی شکست و ریخت اس قدر بری طرح سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتویں عشق کو پانے کی خاطرخود ترسی میں مبتلا ہوکر خود کشی تک پہنچ جاتی ہے اس اُمید میں کہ شاید اب وہ اس کی جانب پلٹ آئے، مگر س کے باوجود جب ایسا نہیں ہوتا تو تمثال نفسیاتی معالج کی مدد لینے کی کوشش کرتی ہے تاکہ وہ شکستِ ذات کے اس لمحے سے باہر نکل آئے جس میں اس کے وجود کی نفی ہوئی تھی۔ ناول کا اختتام یہی پرہوجاتا ہے مگر، ان ای میلز کے بعد اس کے معالج کا نفسیاتی تجزیہ جو تمثال ہی کی کہانی کا چربہ ہے شائع کیا گیا ہے جو تمثال کی سیلف اسٹیم کو بحال کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ تم آخری خط اپنے ساتویں عشق کو لکھو، تا کہ اس خط میں تمثال اپنی طرف سے قطع تعلقی کا اعلان کرکے اس عشق کو ٹھکرانے کی تسکین حاصل کرے جس نے اسے ٹھکرا کر ذات کی نفی کے عذاب میں ڈال رکھا ہے، مگر تمثال نہ ہی ایسا کرتی ہے نہ ہی اس کو چین ملتا ہے ۔اس کے مترادف تمثال کی ذات ٹرانسفیرینس کے تحت اپنے ساتویں عشق کے حوالے سے پروجیکشن کے عمل میں مبتلا ہوکر یہ ای میلز لکھتی ہے جن کو وہ ناول کا نام دے رہی ہے۔ پروجیکشن نفسیاتی تجزیہ کاروں کے نزدیک نفسیاتی مرض میں مبتلا انسان کی وہ سٹیج ہوتی ہے جس میں وہ اپنی ذات کی تمام برائیوں کو دوسرے کی ذات میں دیکھتا ہے اور دوسرے سے منسوب کرتا ہے جیسا کہ ساتویں عشق کے تعاقب میں ہر حد سے گزرنے والی تمثال نارسسزم کے حوالے سے اپنے معالج کی بات پر بہت خوش ہوتی ہے اور اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ ایسے لوگ شکاری ہوتے ہیں اور اپنے شکار کیے ہوئے پرانے لوگوں کی خیر خبر دریافت کرتے رہتے ہیں ، اگر یہی نارسسزم ہے تو پھر تمثال کا یہ عمل کیا ہے جب وہ ایک عشق کے ساتھ دوسرے عشق سے رابطے میں رہتی ہے اور اسی طرح ہر عشق کے ساتھ ساتھ پرانے عشق سے بھی مسلسل رابطوں میں ہے؟ یہ بات یقینی ہے کہ تمثال نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہے اور شعور اور لاشعور کی جنگ میں مبتلا ہے کیونکہ کہ تمثال اس معاشرے کا فرد ہے جہاں اچھائی اور برائی کے کچھ معیار مقرر ہیں اور اس کا شعور چاہ کر بھی ان سے فرار حاصل نہیں کر پارہا جو مسلسل اس کی بے چینی کا سبب ہے۔ اس تحریر کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ تمثال کی لکھی ہوئی آپ بیتی کو بنا کسی ترمیم کے کتابی شکل دے دی گئی ہے اور تمثال جس خوف اور بے چینی کا شکار ہے اس کے تحت وہ اپنے کرداروں کا ربط کسی بھی سطح پر قاری سے اس لیے نہیں ہونے دیتی کہ قاری ان کرداروں کی شناخت کے ذریعے تمثال کی ذات تک نہ پہنچ سکے، جو ہماے ہی درمیان ایک لکھنے والے کی حیثیت سے موجود ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے اس میں کردار سازی کا شدید فقدان رہاہے۔ جس نے اس تحریر کو ناول کی ساخت میں ڈھلنے نہیں دیا۔
( نوٹ: یہ مضمون محترمہ عارفہ شہزاد صاحبہ کے فیس بک سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

