میں ہیرا ہوں – ڈاکٹر قمر جہاں

by adbimiras
3 comments

میں ہیرا ہوں

” میں ہیرا ہوں” کہا تم نے
تو ہیرا کھلکھلا اٹھا
کہ پتھر سے سفر ہیرے کا طے کرتے ہوئے
کیسے شکستہ پا ہوا تھا میں
سر مژگان لہو آلود راہ سنگ خارا سے
کبھی آنکھوں میں چبھتی ریت صحرا کی
بہ زعم خود
مجھے ہیرے کا رنگ و روپ دینے کو
تراشا جوہری نے کیسی بے دردی سے مجھ کو
سنیں تم نے کبھی چیخیں مری دل چیرنے والی
کبھی سینے میں گھٹتی سسکیاں، دم توڑتی آہیں

کہا تم نے "میں ہیرا ہوں”
یہی میرا بھی کہنا ہے”میں ہیرا ہوں”
مگر ہیرا تراشیدہ
فقط اک جوہری کے ہاتھ سے گزرا
کہ کوہ نور بنتے ہی
ملی تھی باریابی
بارگاہ ظل سبحاں میں

سنو!
ہیرا میں ایسا کہ
تراشا جارہا مجھ کو مسلسل
ٹپکتا خون میری روح سے ہر پل
کبھی مذہب کبھی تہذیب نامی جوہری سارے
ہنر کو آزمانے آگئے اپنے
کبھی یہ وقت نامی جوہری، ممکن نہیں جس کا
کبھی بھی مطمئن ہونا
مگر پھر ایک لمحے کو
سوال ایک ان کہا معصوم سا، ہیرے کے لب پہ آ ہی جاتا ہے
"وہ کاری گر وہ صناع ازل کیسا
مکمل مان لوں کیسے میں اس کے فن ناقص کو
مری تہذیب و آرائش
مری تکمیل کا کوہ گراں جس نے
اٹھا کر رکھ دیا شانوں پہ نائب کے”

You may also like

3 comments

ANSARI KULSOOM جنوری 16, 2021 - 1:20 شام

ہیرے کی آپ بیتی ہیرے سے بہتر کون بیان کر سکتا ہے اب تو ڈر ہے کہ کوہ نور ہیرے سے گوہر نایاب ہونے کا اعزاز چھین نہ لیا جائے

Reply
QAMAR JAHAN جنوری 16, 2021 - 1:26 شام

شکریہ انصاری کلثوم، سلامت رہیں اور ترقی کے مدارج طے کرتی رہیں۔ آمین

Reply
adbimiras جنوری 17, 2021 - 7:51 صبح

شکریہ

Reply

Leave a Comment