جدیدیت اور نو آبادیت/ ناصر عباس نیّر – پیر زادہ سلمان
جدیدیت اور نو آبادیت’، ناصر عباس نیّر کی ایک اور کتاب — نطشے، غالب اور میں
تنقید میرا میدان نہیں (دوسرے میدانوں کی طرح) لیکن ناصر عباس نیّر کو اکثر ادبی محفلوں میں گفتگو کرتے سن چکا ہوں اس لیے ان کی کچھ کتابیں پڑھ چکا ہوں- جب مجھے ان کی تازہ چھپی ہوئی کتاب ‘جدیدیت اور نو آبادیت’ ملی اور اس کے ابواب پڑھتے وقت دو نام نظر سے گزرے — نطشے اور غالب — تو طے کر لیا کہ بھیا اسے تو اپنی جاتی بینائی کی باوجود پڑھنا ہی پڑھنا ہے- اور میرا فیصلہ، تقریباً ہمیشہ کی طرح، صحیح ثابت ہوا-
کتاب میں شامل چھ chapters میں سے میں دو پر خفیف سی بات کروں گا- پہلے chapter کا نام ہے ‘یورپی جدیدیت، نو آبادیت اور اردو جدیدیت’- ناصر یہاں یورپ کی نسبت سے نطشے (یا نطشی) کو مرکز میں رکھ کر،یعنی اس کی کتاب the birth of tragedy کو بنیاد بنا کر، ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہیں جس کا اطلاق بعد کے دلائل پر بھی ہوتا- وہ کہتے ہیں کہ "جدیدیت کے لیے حقیقت وہ ہے جو فنکار کے حسی تجربے میں واقع ہوتی ہے… گویا پہلے فکر اور روایت استناد کا درجہ رکھتی تھی اب فنکار کی حس اور تجربہ… جدیدیت جس نئی حقیقت کو خلق کرنے کا دعویٰ کرتی ہے وہ اپنی اصل میں ‘فنکارانہ’ ہے-”
پھر specific ہو کر لکھتے ہیں: "نطشے تہذیب کے بحران کا حل صرف اور صرف آرٹ میں دیکھتا ہے … وہ تسلیم کرتا ہے ہے کہ کوئی شخص المیاتی احساس کے بغیر جی نہیں سکتا تاہم اس سے وقتی پناہ گاہ اگر کہیں مل سکتی ہے تو وہ ہے آرٹ اور بالخصوص المیہ آرٹ-”
ناصر لکھتے ہیں کہ جدیدیت آرٹ سے متعلق اپنے تصورات خواب کے ذریعے واضح کرتی ہے اور نطشے خواب اور آرٹ میں سب سے اہم مشترکہ نکتہ یہ پیش کرتا ہے کہ دونوں نقش یعنی semblance ہیں- ظاہر ہے جب فنکار اور خواب کا ذکر ہو گا تو اس سے مراد ایک خاص نوع کی ‘انفرادیت’ ہے جس کی طرف ناصر بار بار جاتے ہیں- نطشے کے ساتھ ساتھ دادائیت اور surrealism کا ذکر بھی ہوتا ہے اور یورپی ذہن کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے-
اسی موضوع، جدیدیت، سے جڑ کر اردو ادب کے ذیل میں ناصر کمال کے دلائل دیتے ہیں: "امیر خسرو سے لے کر غالب تک پانچ سو سال سے زائد بنتے ہیں- ان پانچ صدیوں میں اردو شاعری کو پہلا سب سے بڑا امتحان در پیش ہوا؛ یہ امتحان تاریخ کے ایک خاص دوراہے پر پیدا ہوا مگر یہ تاریخی نہیں وجودی تھا- سب سے بڑا امتحان وجودی ہی ہو سکتا ہے، ایسا امتحان جس میں ایک ایسا حتمی فیصلہ کرنا ہو جو بعد میں تقدیر بنے… پہلے کی شاعری کی سب خصوصیات بیان کرنا ممکن نہیں- ایک خصوصیت جو زیادہ نمایاں ہے مگر جسے باقاعدہ موضوع کم ہی بنایا گیا ہے وہ ہے ‘وحشت’- اس کی وضاحت سے اس فیصلے کے مضمرات کو سمجھنا آسان ہو سکتا ہے جسے ہم نے وجودی کہا ہے … وحشت کو واضح کرنا بے حد مشکل ہے-”
اس کے کچھ صفحے بعد کہتے ہیں کہ "وحشت کی جگہ واضح مذہبی قومی شناخت نے لے لی”
ہیں نا دلچسپ باتیں؟
پیر زادہ سلمان صاحب کے "جدیدیت اور نو آبادیات ” پر تبصرے کا دوسرا حصہ۔ ان کے شکریے کے ساتھ
‘جدیدیت اور نو آبادیت’، ناصر عباس نیّر کی ایک اور کتاب — نطشے، غالب اور میں – (II) – غالب کے دماغ کی کھڑکی اور دل کا دروازہ
کتاب کا دوسرا مضمون جس کو میں نے بہت شوق سے پڑھا (اور جو کتاب میں مضمون نمبر ٣ ہے) وہ ہے ‘انگریزی استعماراورغالب کی جدیدیت’-
میں غالب کا عاشق ہوں (جو نہیں ہے اس کا بھی بھلا)- غالب کو مرے ہوے اب تقریباً ١٦٠ برس ہو چکے ہیں اور میرا احساس ہے (جو غلط ہو سکتا ہے) کہ غالب کی عظمت کو ماننے اور اسے سراہنے کے باوجود اب تک اس کی شاعری کی artistry اور شخصیت کے ہیکل کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوا ہے جو اس کا حق ہے- ایک گروہ ایسا بھی دیکھا ہے جو اس کی انا کے پیچھے پڑ گیا اور ایسے بھی احباب ہیں جو اس کے غیر انقلابی طرز_عمل پر سوال اٹھاتے ہیں- ایسا نہیں ہے کہ ناصر نے اپنے thesis میں ان باتوں کا براہ_راست جواب دیا ہے، بلکہ انہوں نے غالب کو نوآبادیاتی دور میں پیدا ہونے والے شاعر کے طور پر انتہائی دانشمندی سے جانچا ہے جس سے ان باتوں کی گرہیں کھل جاتی ہیں- (یہ بھی پڑھیں ادب میں فحاشی کا مسئلہ -پروفیسر ناصر عباس نیر )
ناصر اپنی دلیل کے آغاز میں ١٨٢٥ میں قائم ہونے والے دہلی کالج کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غالب کے لیے اگر دہلی میں کچھ ‘نیا’ تھا تو وہ یہ کالج تھا اورغالب کے وہاں فارسی کے استاد بننے کی پیشکش کو ٹھکرانے کی وجہ صرف اس کی انا نہیں بتاتے- ایک کتاب کا ریفرنس دیتے ہوے کہتے ہیں کہ مسلمان شرفا دہلی کالج کو ایک خیراتی درس گاہ تصور کرتے تھے-
دہلی میں مغربی اثرات سے جو نئی چیز وجود میں آ رہی تھی اور شہر کی ذہنی اور ثقافتی زندگی میں تبدیلی لا رہی تھی وہ دہلی سے جاری ہونے والے اردو اخبارات تھے اور لیتھو پریس تھا- اس کے بعد ناصر وہ سوال کرتے ہیں جو شائد اردو شاعری سے دل بہلانے والے ہر شخص نے کبھی نہ کبھی کیا ہو: اردو کا سب سے عظیم شاعراستعمار کی حمایت میں کیوں رطب اللسان ہوتا تھا؟ ناصر اعتراف کرتے ہیں کہ اس کا جواب آسان نہیں مگر اس کے بعد نقادوں کی کچھ گھسی پٹی دلیلوں کو طاق پر رکھتے ہوے (مثال کے طور پر اس کی کہن سالی اور ضعف) ایسی بات کرتے ہیں جو صرف ایک جدید ذہن ہی کر سکتا ہے: "گمان غالب ہے کہ غالب عدم تحفّظ کے نفسیاتی عارضے کا شکار تھے جو معاشی طور پر منحصر ہونے کی اس حقیقت کا نتیجہ تھا جو برابر غیر یقینی کا شکار تھی- یہی وہ عارضہ تھا جوانہیں پنشن کی بحالی کو زندگی کی بڑی جد وجہد بنانے کی تحریک دیتا تھا-”
اب آتے ہیں اس موضوع پر جو بے حد دلچسپ ہے- ناصر کہتے ہیں کے انگریزوں کے نظام_زندگی میں بڑھتے ہوے دخل کے باوجود دہلی کی ثقافت، فن_تعمیر، مدارس، مشاعرے، خانقاہیں وہی تھیں جن کی تعمیر مغل جمالیات سے ہوئی تھی- اور یہاں وہ بہت اہم نکتہ پیش کرتے ہیں: "غالب کی شخصیت اور طرز_زندگی اپنی اصل میں مغل اشراف کا تھا-”
یہ بات یوں expand ہوتی ہے:”غالب کی جدیدیت مستعار نہیں، ان کی اپنی ہے جو مغربی جدیدیت سے نہ صرف جدا شناخت رکھتی ہے بلکہ اس اسطورہ کو شکست بھی دیتی ہے کہ ہمارے ہاں جدیدیت ساری کی ساری مغرب سے آئی ہے- مغرب سے جدیدیت ضرور آئی مگر وہ اور طرح کی ہے اور اور ڈھنگ سے آئی-”
غالب کی جدیدیت کو بیان کرتے ہوے ناصر بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ (جن کو پڑھنا ضروری ہے) لکھتے ہیں: "غالب کی شاعری میں زبان ایک ‘وجود’ کے طور پر اپنے امکانات کو مسلسل تلاش کرتی دکھائی دیتی ہے-"… واہ! اور پھر آتے ہیں سب سے کلیدی نکتے پر… غور کیجیے:
"اثر چار طرح کا ہوتا ہے؛ راست اثر، الٹا اثر، بالواسطہ اثراور ماخذ کا اثر-” ان کی تعریفیں کیا ہیں اورغالب نے کون سا اثر قبول کیا، اس پر ناصرنے کمال کی بحث کی ہے جسے نہ پڑھنا اپنے آپ سے زیادتی ہو گی-
جاتے جاتے یہ جملہ بھی اپنے ساتھ لیتے جایے اوراس کے بعد دیوان_غالب کھول کر اسے صرف تکتے رہیں تو بھی کافی ہو گا: "غالب کا امتیاز یہ ہے کہ وہ کسی اور کی زبان کو نہیں خود شعری زبان کو اس کی انتہا میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں-”
تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے

