’آزادی کے ۷۵سال:حقوق نسواں،چیلنجزاورامکانات‘ سالانہ نظام خطبات بعنوان کاشعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام انعقاد
نئی دہلی:شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام آرٹس فیکلٹی میں سالانہ نظام خطبات’ ا ٓزادی کے ۷۵سال:حقوق نسواں، چیلنجزاورامکانات‘کے عنوان سے کیاگیا۔اس پروگرام کی صدارت اردواکادمی،دہلی کے سکریٹری محترم احسن عابدنے کی اورمعروف صحافی مرنال پانڈے،سابق چیئرپرسن ،پرساربھارتی نے خطبہ دیا۔اپنے استقبالیہ خطبے میں شعبہ اردوکی صدر پروفیسر نجمہ رحمانی نے کہاکہ شعبہ اردوکاباضابطہ قیام ۱۹۵۹میں ہوا۔اس شعبہ سے متعدداہم ، مشہور اور معروف اساتذہ منسلک رہے ہیں ،جنھوں نے ادب کی خدمات انجام دی ہیں ۔اس شعبے میں ۱۹۶۶میں سالانہ نظام خطبات کاآغازہوا۔اس سالانہ نظام خطبات کے بانی خواجہ احمدفاروقی ہیں ۔ سالانہ خطبے کاآغاز حیدرآباد کے آخری نظام کے پوتے پرنس مفخم جاہ کے زرعطیہ سے ہوا۔۱۹۶۶سے اب تک ہندوستان کی اہم شخصیات نے یہ خطبہ پیش کیاہے ،جن میں پروفیسررشیداحمدصدیقی، حبیب تنویر، سیدظہورقاسم،وجاہت حبیب اللہ ،حامد انصاری ،پروفیسرمشیرالحسن وغیرہ قابل ذکرہیں۔مرنال پانڈے سالانہ نظام خطبات کی پہلی خاتون خطیب ہیں۔میں بہت مختصراندازمیں مرنال پانڈے کاتعارف کراتے ہوئے یہ کہہ سکتی ہوں کہ مرنال پانڈے ہندوستان کی چند متحرک وفعال خواتین میںنمایاں مقام رکھتی ہیں ۔آج کے پروگرام کے صدراحسن عابدصاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔متعددذمہ داریاںبحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں ۔میں شعبہ اردوکی جانب سے آپ سب کابصمیم قلب سالانہ نظام خطبات میں استقبال کرتی ہوں۔
سالانہ نظام خطبہ پیش کرتے ہوئے محترمہ مرنال پانڈے نے کہاکہ آزادخاتون کاکوئی تصورہماری تاریخ میں موجودنہیں ہے ۔جنگ آزادی میں خواتین جذباتی طورپرشریک تھیں، اس کی بڑی وجہ گھرکے مردتھے ،جن کی وجہ سے خواتین جنگ آزادی سے منسلک تھیں ۔آج ہمیں غورکرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی آزادی کے ۷۵برسوں بعدکیاملک کی نصف آبادی کووہی آزادی،برابری ،اوروہی حقوق حاصل ہیں۔جومردوں کوحاصل ہیں ۔تاریخ بنیادی طورپرجنگوں کی تفصیل ہے ۔تاریخ میں خواتین کاذکربادشاہوں اورجنگجوؤں کی بیواوں کاہوتاہے ۔خواتین کاذکران کی شناخت کے ساتھ نہیں ہوتا ۔خواتین پرتقسیم کے بہت منفی اثرات پڑے ہیں ۔تاریخ اورفکشن کی بہت سی کتابیں ہیں ،جواس درد کو بیان کرتی ہیں ۔تقسیم کی دراڑوں پرلال کارپیٹ بچھادی گئیں۔اس کے باوجوداس کی حساسیت کی وجہ سے اس دراڑکوختم نہیں کیاجاسکا۔اسے خواتین کے نظریے اوران کی زبان میں ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔تقسیم سے متاثرہونے والی خواتین کاشمارممکن نہیں ہے ۔تقسیم کی وجہ سے برصغیرکانقشہ ہی تبدیل ہوگیا ۔آج تک خواتین سے کسی نے معلوم ہی نہیں کیاکہ تقسیم کے اثرات ان پرکیاپڑے ۔انھیں نظراندازکیاجاتارہا،گھریلوسطح پربھی انھیں بالکل نظراندازکیاگیا ۔سیاست میں ہماری نمائندگی کم تھی،کم ہے اورآثاربتاتے ہیںکہ کم رہے گی،پارلیمنٹ اوراسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی انتہائی کم ہے ،جن مقامات اورریاستوں میں خواتین کوموقع ملاہے ،وہاں خواتین نے خودکوثابت کیاہے۔ہندوستان کی اکثر ریاستوں میں گھونگھٹ کے رواج کی وجہ سے بلدیاتی اوردیہی اکائیوں میں بھی خواتین کانام اورکام مردکررہے ہیں ۔خاتون سرپنچ کابہت سی جگہوں پرلوگ نام تک نہیں جانتے ۔عمومی طورپراقتدارکے اہم عہدوںپرمردقابض ہیں ۔میڈیامیں کچھ خواتین ہیں ۔لیکن وہ بھی قابل اطمینان حدتک نہیں۔۷۵برسوں میں بہت کچھ اچھابھی ہواہے ۔جسے نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔جائدادکے معاملے میں خواتین کوکاغذی طورپران کاحق توملاہے ۔لیکن پچھلے دروازے سے ان کے حقوق پران کے بھائی قابض ہیں ۔بے روزگاری کے اس زمانے میں سب سے زیادہ خواتین متاثرہوئی ہیں ۔بنیادی اوراصلی برابری کوسمجھنااوراسے نشان زدکرنابہت مشکل امر ہے ۔قوانین یہاں بہت ہیں ۔لیکن قوانین کاوجوداورقوانین تک رسائی دومختلف چیزیںہیں۔حکومت جب جوچاہتی ہے،وہ ہوجاتاہے ۔خواتین کوبرابرکے حقوق دینے کے لیے حکومتوں اورعوام دونوں کوتیارہوناپڑے گا۔ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارانظام انصاف کہاں کھڑاہے ۔
تمام شعبہ ہائے حیات میں خواتین کی نمائندگی یقینی بنائی جائے تووہ اپنی صلاحیتوں کابھرپورمظاہرہ کرسکتی ہیں ۔خواتین کواتنے پیسے کمانے چاہئیں کہ وہ عزت نفس کے ساتھ زندگی جی سکیں ۔میرے وجودمیں میری نانی نے تانیثیت کابیج بویا۔اروناآصف علی نے بھی مجھے وہی کہاتھا،جومیری نانی نے مجھ سے کہاتھا۔آزادی کاامرت کال آگیاہے ۔لیکن ہمیں ابھی بہت آگے جاناہے ۔اس لیے ہمیں بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
احسن عابدنے کہاکہ مرنال پانڈے کی تقریرکے بعدصدارتی گفتگوکرناآسان نہیں ہے ۔آج اردووالوں کے ساتھ ہوں کہناچاہتاہوں کہ اردوشاعری یقینالاجواب ہے ۔لیکن سماجی ،سیاسی اورحقوق نسواں کے حوالے سے ہندی میں بہت اہم کتابیں شائع ہوئی ہیں ۔میرے خیال میں اس طرح کے موضوعات کامطالعہ ہندی میں کرنے سے اردووالوں کوفائدہ ہوگا ۔آج خواتین کی شناخت کوخفیہ رکھا جاتا ہے ۔جب کہ ہمیںامہات المومنین کانام بھی پتاہے پھرہم اپنے گھرکی خواتین کانام کیوں چھپاناچاہتے ہیں ۔آج کے خطبے سے یقیناہمیں آگے کی راہ طے کرنے میںآسانی ہوگی۔
پروگرام کے آخرمیں اظہارتشکرکرتے ہوئے شعبہ کی استاذپروفیسرارجمندآرانے کہاکہ مرنال پانڈے نے فکرانگیزخطبہ پیش کیاہے۔اس سماج اورمعاشرے کی تعمیروتشکیل میں خواتین کاحصہ ناقابل فراموش ہے ۔مرنال پانڈے کی تقریرسے طلبہ وطالبات کوسوچنے اورسمجھنے کاموقع ملے گااوران کے لیے غوروفکرکی راہیں ہموارہوں گی۔اس خطبے میں طلبہ وطالبات کے علاوہ لوگوں کے لیے مقامات غوروفکربہت ہیں ۔میں تمام شرکاکافردافرداشکریہ اداکرتی ہوں ۔
سالانہ نظام خطبات میں بڑی تعدادمیں اساتذہ طلبہ وطالبات نے شرکت کی ۔شرکامیں بالخصوص پروفیسرابن کنول ،پروفیسرابوبکرعباد، پروفیسرمشتاق عالم قادری،ڈاکٹر متھن کمار، شمیم احمد،ناصرہ سلطانہ ،ڈاکٹراحمدامتیاز، ڈاکٹرارشادنیازی، ڈاکٹرعلی احمدادریسی، ڈاکٹرشاذیہ عمیر،ڈاکٹرفرحت کمال،ڈاکٹرنورالاسلام،ڈاکٹرنورین علی حق،ڈاکٹرشاہ فہدنسیم، ذاکر حسین دلی کالج کے اساتذہ میں پروفیسر مظہراحمد،پروفیسرشاہینہ تبسم، سینٹ اسٹیفنزکالج سے ڈاکٹرشمیم احمد،ڈاکٹرہردے بھانوپرتاپ،ڈاکٹرعالم شمس،ستیہ وتی کالج کے ڈاکٹر قمرالحسن اورڈاکٹرعارف اشتیاق،کروڑی مل کالج سے ڈاکٹرمحمدمجیب،دیال سنگھ کالج سے ڈاکٹرابوظہیرربانی اورڈاکٹرمحمدارشددہلی یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے پروفیسر وجیا وینکٹا رمن،ڈاکٹرمنیشا،پروفیسراومادیوی، ڈاکٹرسندرم، پروفیسر حسنین اختر،ڈاکٹرمجیب الرحمان،ڈاکٹراکرم،ڈاکٹرعلی اکبرشاہ،ڈاکٹرمختار،ڈاکٹرضیاء الرحمان،یشیکا ساگروغیرہ بطور خاص قابل ذکرہیں ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

