میں لکھ رہاہوں اک کہانی جو تھی بھی ناقص اور ہے ادھوری
تو تم بتاؤ کہ وقتِ رخصت ہے سرسری ملنا کیا ضروری
ابھی تو اچھی طرح ہماری ملاقات بھی نہ ہو سکی تھی
کہ تم سے فرصت کی ساعتوں میں بات بھی نہ ہوسکی تھی
وہی تھا آدھا ادھورا ملنا، وہی تھی بیکار و تشنہ باتیں
جو تم سے مل کر بسی تھی دل میں، ہیں میری جھولی میں بس وہ یادیں
نہ کچھ کہا تم نے ہم سے، نہ ہم ہی کچھ کہہ سکے تھے تم سے
نظر میں کھوے رہے تھے تم بھی، خیال میں ہم رہ گئے تھے گم سے
ہمارے دل میں جگا کے امید، ادھوری تم نے کہانی چھوڑی
تو تم بتاؤ کہ جاتے جاتے بظاہر ملنا ہے کیا ضروری
یہ تم سے آخر کہا ہے کس نے کہ فرقتوں کا ہوا ہے لمحہ
کہ وصلِ باہم کا، موسمِ عشق و عاشقی کا گیا ہے لمحہ
یہ لمحے آپس میں جڑ کے بنتے ہیں دل کی دنیا میں اک صدی سے
کہ جس میں ملتے ہیں عاشق و یار خوش دلی اور عاشقی سے
کہ قلبِ مضطر نہیں ہے قائل، فراقِ ناحق کی اس گھڑی کا
کہ پہلے دل کو سکوں ملے کچھ، صلہ تو پائے یہ دوستی کا
ہماری آنکھیں ہیں چشم پرنم، کہ رو رہا ہے یہ ناصبوری
تو تم بتاؤ کہ جاتے جاتے اچانک ملنا ہے کیا ضروری
یہ get together یہ رسم ساری نہیں ہماری روایتوں کی
جو تم ہمارے تو ہم تمہارے، یہ بات ہے اب ضرورتوں کی
میں چاہتا ہوں کہ ہم بنیں تم، اور تم سراپا ہو میری ہستی
اداسیوں میں امیدِ باہم کی، الفتوں کی بسے یہ بستی
تمہارا ملنا دوبارہ ملنا، ہے زندگانی کا اک سہارا
وہ ملکے ملنا، بچھڑ کے ملنا، ہماری دنیا کا ہے ستارہ
جو ہم نے جانا وہ ہم نے مانا، اسی لیے ہے یہ دنیا چھوڑی
تو تم بتاؤ کہ جاتے جاتے اچانک ملنا ہے کیا ضروری
ہزار خواہش، ہزار باتیں جو میں کہوں گا وہ تم سنوگے
جدائیوں کی کہانیوں کو نہ میں بُنوں گا نہ تم بنوگے
کہ پھر ملیں گے کبھی ملیں گے کہیں ملیں گے امید ہے یہ
ہماری یادوں کے سلسلے میں تمہارے وعدے سبھی ملیں گے
ہے مختصر سی یہ زندگی جب، سو کیا بھروسہ ہے کیا بھرم ہے
تمہاری مرضی، تمہاری خواہش، جو مل سکوگے تبھی ملیں گے
چلو ذراسی دراز کر لیں جو گفتگو اب بھی ہے ادھوری
تو تم بتاؤ کہ جاتے جاتے بظاہر ملنا ہے کیا ضروری
کہ سوچتا ہوں وہ دن بھی کیا تھے، جو تم نہیں تھے تو میں نہیں تھا
نہ تیرا کچھ تھا نہ میرا کچھ تھا جو تھا تمہارا وہ تھا ہمارا
مگر کریں کیا، یہی حقیقت یہی روایت ہے دوستی کی
تو مان لیتے ہیں ہم بھی رسمًا یہی حقیقت ہے دوستی کی
مگر سنو تم بھلا نہ دینا، یہ دل جو چاہے تو یاد کرنا
خیال رکھنا ہمیشہ اپنا، جہاں بھی رہنا خوشی میں رہنا
یہی دعا ہے ہماری جانب سے آرزو بھی یہی ہے میری
تو تم بتاؤ کہ وقتِ رخصت ہے سرسری ملنا کیا ضروری
از قلم ۔ محمد غزالی خان
ایڈیٹر آف انگلش میگزین
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

