کس کی وجہ سے ہندوستان کو صفائی دینی پڑی؟
پریہ درشن (این ڈی ٹی وی)
ہندوستان بنیادی طور پر روادار، ثقافتی لحاظ سے ترقی یافتہ اور کثیر لسانی ملک رہا ہے۔ ہم سب کو اس روایت پر فخر ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ اس ملک کو اب قطر، بحرین، ایران، کویت جیسے ممالک کو سمجھانا ہوگا کہ یہاں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے تو یہ ایک شرمناک بات ہے۔ لیکن یہ شرمناک صورتحال کس کی وجہ سے بنی؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار اس کے لیے ذمہ دار ہیں؟
نوپور شرما، جسے بی جے پی اب ‘فرنج ایلیمنٹ’ کہہ رہی ہے، طویل عرصے سے قومی ٹی وی چینلز پر بی جے پی کی حمایت کر رہی ہیں۔ بی جے پی جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کہتی ہے، نے اپنے قومی ترجمان کے طور پر اس طرح کے حاشیہ بردار عنصر کو کیوں رکھا؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ سنگھ پریوار اور بی جے پی نے پچھلے کچھ سالوں میں جو فرقہ وارانہ سنسنی پیدا کیا ہے، اس کی کوکھ سے ایسا قومی جذبہ اور قومی ترجمان پھوٹتا ہے؟
ایسا نہیں ہے کہ نوپور شرما بی جے پی کی واحد ترجمان ہیں جن میں ہندوستان کی روادارانہ روایت کا فقدان ہے۔ دہلی بی جے پی کے ایک ترجمان تیجندرپال سنگھ بگا ہیں۔ ٹوئٹر پر نیلے رنگ کے نشان والے ان کے اکاؤنٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دہلی بی جے پی کے ترجمان، بی جے پی یووا مورچہ کے قومی سکریٹری اور اتراکھنڈ یووا بی جے پی کے انچارج ہیں۔ اس اکاؤنٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت پروفائل پر موجود تصویر ہے جس میں وزیر اعظم انتہائی پیار بھرے انداز میں ان کا بازو تھپتھپاتے نظر آ رہے ہیں۔
یہ تیجندرپال سنگھ بگا کون ہیں؟ پہلی بار ان کا نام اس وقت چرچہ میں آیا جب انہوں نے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن پرشانت بھوشن کے ساتھ ان کے چیمبر میں گھس کر ہاتھا پائی کی۔ اس لئے کہ بگا پرشانت بھوشن کے اس بیان سے متفق نہیں تھے کہ مسئلہ کشمیر میں کشمیریوں کی رائے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک بھیانک منظر تھا جس کی سزا جیل ہونا چاہیے تھا، لیکن بی جے پی نے اس حیرت انگیز آدمی کو دہلی میں اپنا ترجمان بنا دیا۔
دراصل یہ فرنج ایلیمنٹ ہی بی جے پی کی طاقت ہے، اس کی بنیادی فطرت۔ اس نے شاید ہمیشہ خود کو اس مرکزی دھارے کے ہندوستان سے کچھ حد تک اکھڑا ہوا پایا ہے، جس میں سے کئی دریا اور صدیاں گزرتی ہیں، کچھ رنجشوں میں۔ گویا اس ملک کا نقشہ اس طرح نہیں کھینچا گیا تھا جس کا اس نے تصور کیا تھا۔
سنگھ پریوار کو اس ملک کا جھنڈا برسوں تک عزیز نہیں تھا، ان کے لوگ برسوں تک بتاتے رہے کہ اس کا قومی ترانہ شہنشاہ جارج پنجم کی دعا میں لکھا گیا تھا، جب کہ ٹیگور نے اپنی زندگی میں ہی اس کی مصدقہ تردید کی تھی۔ اس نظریے نے یہ سوال کیا تھا کہ مہاتما گاندھی کیسے بابائے قوم ہوسکتے ہیں اور آخرکار ایک دن انہیں گولی بھی مار دی گئی۔
حال ہی میں سڑک پر ‘گولی مارو سا…کو’ کہنے والے ایک لیڈر کو وزیر اعظم نے وزیر بنا کر نوازا ہے۔ اور کچھ سال پہلے، ان کے ایک وزیر نے ہجومی تشدد کے ملزم کو ہار پہنا کر خوش آمدید کہا تھا۔ راجستھان میں یہ نظریہ ایک ایسے ملزم کا مقدمہ لڑنے کے لیے رقم اکٹھا کر رہا ہے جس نے محض مسلم شناخت کی وجہ سے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا۔
وزیراعظم وقتاً فوقتاً مذہبی رواداری کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کو اچانک خیال آتا ہے کہ ہر مسجد میں شیولنگ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اصل صورت حال کیا ہے؟ اس کے لیے سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈالنا کافی ہوگا۔ بی جے پی کے کئی حامی اب بھی نوپور شرما کے خلاف کارروائی کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ سنگھ کے حامی موہن بھاگوت کی رائے کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے، آپ کا بنایا ہوا بھسماسور آپ کے سر پر ہاتھ رکھنے کو بے تاب ہے۔
بی جے پی نے نوپور شرما کے خلاف کارروائی کب کی؟ جب بیرونی ممالک نے ہندوستان کی تنقید شروع کی۔ ایسا نہیں ہے کہ بھارت کو پہلے تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ اندرا گاندھی کو پوکھرن کے پہلے دھماکوں کے دوران دنیا بھر میں احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دوسرے دھماکوں کے وقت واجپائی حکومت کے بارے میں بھی کم و بیش یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ (اگرچہ یہ مصنف جوہری تجربات کا حامی نہیں رہا ہے)۔
لیکن یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستان بیرونی تنقید سے اس قدر پست ہوا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوری طور پر اپنے ترجمان کو ہٹانا پڑا۔ کیوں کہ اچانک ہم وہ اخلاقی ہمت کھو رہے ہیں جو پوری دنیا میں ہمارا سر بلند کیا کرتی تھی-
دراصل دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ہم پیچھے لوٹ رہے ہیں۔ مورخین کا کام ہمارے لیڈروں اور اداکاروں نے لے لیا ہے۔ اکچھے کمار تک نے تاریخ پڑھانا شروع کر دی ہے۔ 400 سال پرانی مسجد کے انہدام سے تقویت پانے والی سیاست اب ساڑھے تین سو سال پرانی مسجد پر دعویٰ ٹھوک رہی ہے۔ عدالتوں میں ایک کے بعد ایک مقدمات دایر کئے جا رہے ہیں۔ ہمارے تجربہ کار وکیل اور سنجیدہ جج فوٹو اور ویڈیو گرافی کے ذریعے فیصلہ کر رہے ہیں کہ شیولنگ کہاں ہے اور چشمہ کہاں – ہمارے ہونہار انجینئرز سلی بلی ایپ بناتے ہوئے پکڑے جا رہے ہیں جن پر اقلیتی لڑکیوں کے نام پر تصورانہ سودےبازی کی جاتی ہے۔ سکولوں میں حجاب اور گمچھے کی جنگ جاری ہے، مندروں اور مساجد میں اذانوں اور لاؤڈ سپیکروں کے جھگڑے کرایے جا رہے ہیں۔ حکومتیں اپنی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگا رہی ہیں کہ انہوں نے کتنی عبادت گاہوں سے لاؤڈ سپیکر ہٹائے ہیں۔ ایک قرون وسطوی ہندو خلفشار اپنےعروج پر ہے۔
جبکہ یہ وہ دور ہے جب پڑھے لکھے گھروں کے لڑکے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ وہ نیویارک سے دبئی تک چھوٹے بڑے کاموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی قدر باہر بڑھی ہے۔ ہندوستانی دنیا کی سب سے بڑی تارکین وطن آبادی پر مشتمل ہیں۔ امریکہ سے آسٹریلیا تک کے رہنما ووٹ اور حمایت کے لیے ان کے پاس جاتے ہیں۔
یہ سب آگے بڑھنے کی نشانیاں لیکن ایک جھٹکے میں سب کو پیچھے لے آتی ہیں۔ 1992 میں جب بابری مسجد کو مسمار کیا گیا تو پاکستان-بنگلہ دیش میں مندروں پر قہر ٹوٹا تھا۔ آخر ایک جنون دوسرے جنون کو پالتا ہے۔ وہاں تسلیمہ نسرین مندروں کے انہدام کے بارے میں ‘لججہ’ لکھ کر اس قدر پھنس گئیں کہ ان کا ملک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان سے چھوٹ گیا۔ یہ تعصب پھر سے تعصب کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ دلیل پرانی ہے کہ ہندو تعصب مسلم تعصب کے رد عمل سے پیدا ہوا ہے۔ یہ بات ایک حد تک درست بھی ہو سکتی ہے، مسلمانوں کو بھی اپنے تعصب سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا وہ نہیں آرہے ہیں؟ حال ہی میں، شہری ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں، وہ جمہوری احتجاج کے لیے ایک نیا محاورہ بنا رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ وہ کسی تعصب، کسی اشتعال میں نہیں آئیں گے۔ پیر کو ہی نجیب جنگ نے کہا ہے کہ اگر دس بارہ مساجد دے دینے سے تنازع ختم ہو جائے تو یہ مسجدیں دے دینی چاہیے-
یہ رواداری نہیں تو اس سے زیادہ روادارانہ طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ آپ اس پر سوچیں۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ سمجھ لیں کہ دنیا ایک دوسرے کے بہت قریب آرہی ہے۔ اگر آپ یہاں اکثریت ہونے کی اینٹھ دکھاینگے تو آپ کے کسی بھائی اور رشتہ دار کو کہیں اور اقلیت ہونے کی کسک جھیلنی ہوگی۔ آپ کانپور کے پتھر باز لوگوں کے گھر کو بلڈوزر سے ڈھا دیں گے، لیکن اگر دوسرے ممالک میں اپنے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی سوتیلا سلوک شروع ہو جائے تو آپ کیا کریں گے؟
یہ کوئی ہندو-مسلمان کا معاملہ نہیں ہے، یہ غلبہ کی سیاست کا کھیل ہے جس سے جمہوری معاشروں کو آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کی کسوٹی یہ نہیں ہے کہ اس کی اکثریت کو کتنے سکھ حاصل ہیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس کی اقلیتوں کے حصّے سلامتی اور مساوات کا احساس کتنا ہے۔
کیا امید کی جائے کہ لوک سبھا میں تین سو سے زیادہ سیٹیں جیت کر اپنی بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت کرنے والی مودی سرکار جمہوریت کی اس ضروری کسوٹی کا بھی خیال رکھے گی؟
(اردو ترجمہ: رضی الدین عقیل)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

