ناکامی کو یقینی بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے، آپ کامیاب ہونے کی کوشش چھوڑ دیں۔ ناکامی کو دعوت دینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ وہ خود بھاگتی ہوئی آئے گی اور آپ کے گلے لگ جائے گی۔ کامیابی کو بھی یقینی بنانے کا صرف ایک ہی نسخہ ہے اور وہ ہے جہد مسلسل، یعنی مسلسل کوشش اور عمل پیہم۔ کامیابی تھوڑا وقت مانگتی ہے۔ وہ دیر سے ملتی ہے لیکن اس کے ساتھ سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ آپ ایک پل میں معزز اور مقبول ہو جاتے ہیں۔ کامیاب ہونے سے ایک دن پہلے تک آپ کچھ نہیں ہوتے۔ کامیابی ملتے ہی آپ ترنت ہیرو ہو جاتے ہیں۔ آپ سب کے آئیڈیل بن جاتے ہیں۔ لوگ آپ سے مشورہ کرنے لگتے ہیں۔ کامیاب انسان کی ہر طرف آو بھگت ہوتی ہے۔ اس کے لیے محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ اس کا ہر جگہ پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے۔ کامیاب انسان کو لوگ ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ ناکامی کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوتا۔ ایک ناکام ہونے والے شخص کے سامنے صرف اس کی ناکامی کا صدمہ نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کے مختلف سوالات ہوتے ہیں جو اس کو مسلسل پریشان کرتے ہیں۔ حوصلہ دینے والے کم اور اس کی قابلیت پر انگلی اٹھانے والے ہزاروں ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں اس کا دوبارہ اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھانا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ اپنے بکھرے ہوئے اعتماد کو بحال کرکے کامیابی کی جستجو میں دوبارہ لگنا در اصل پہلے سے زیادہ محنت کرنے کا عزم مصمم کرنا ہے۔ یہ اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔ لیکن محنت و مشقت کا معاملہ یہ ہے کہ اس سے آپ کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی لوگ آپ کی محنت نہیں بلکہ آپ کا نتیجہ دیکھتے ہیں۔ آپ نے یہ مشاہدہ یا تجربہ کیا ہوگا کہ شہرت و مقبولیت صرف کامیاب شخص کے حصہ میں آتی ہے۔ دوران محنت آپ کچھ بھی نہیں ہوتے۔
ناکامی کے بعد از سر نو کامیابی کی طرف قدم بڑھانے والے در اصل اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کامیابی کے لیے دوبارہ کوشش کرنا ضروری ہے۔ آپ کمزور اس وقت نہیں ہوتے جب آپ ناکام ہو جاتے ہیں، آپ کمزور تب ہوتے ہیں جب آپ دوبارہ کوشش نہیں کرتے۔ ایڈیسن نے بڑی اچھی بات لکھی ہے:
Our greatest weakness lies in giving up. The most certain way to succeed is always to try just one more time.
یعنی ہماری سب سے بڑی کمزوری کوشش نہیں کرنا ہے۔ کامیابی کا سب سے یقینی فارمولہ یہ ہے کہ ایک بار مزید کوشش کی جائے۔ یہ صرف قول نہیں ہے بلکہ خود ایڈیسن کی زندگی کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ وہ برقی بلب بنانے میں فیل ہوتا رہا لیکن کوشش کرتا رہا۔ تقریبا ایک ہزار بار ناکام ہونے کے بعد اس نے وہ کامیابی حاصل کی جو اس وقت کے دوسرے سائنسدان حاصل نہ کر سکے۔ دوسرے سائنسدان ایک بار کی ناکامی سے دلبرداشتہ ہو کر بیٹھ گئے۔ ایڈیسن نے اپنے اندر ایسی مثبت فکر پیدا کر لی تھی کہ وہ اپنے ہر ناکام تجربے کے بارے یہی کہتا کہ جو تجربہ اس نے کیا وہ "حل” نہیں تھا۔ اس طرح وہ ایک کے بعد دوسرا تجربہ کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے ایسی کامیابی حاصل کی کہ اس کی کامیابی تاریخ کا سنہرا باب بن گئی۔
جب آپ کوئی کام آدھا ادھورا چھوڑتے ہیں تو در اصل آپ ان لوگوں کے لیے راستہ آسان کرتے ہیں جو آپ کے بعد اس ادھورے کام کو تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح جس عزت و وقار کے آپ حقدار ہوتے ہیں صرف دوبارہ کوشش نہ کرنے کی وجہ سے اس کا مستحق کوئی اور ہو جاتا ہے۔
ناکامی کا افسوس ہوتا ہے اور بلاشبہ ہر انسان کو ہوتا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے۔ انسان ہیں تو جذبات سے عاری نہیں ہو سکتے۔ مثبت خبر ملتے ہی آپ کے چہرے پر خوشی دوڑ جاتی ہے۔ منفی خبر ملے تو آپ گھنٹوں اداس رہتے ہیں۔ یہ انسانی جبلت ہےاور یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ منفی ایموشن کا اثر تا دیر رہتا ہے جبکہ مثبت ایموشن کا دورانیہ مختصر ہوتا ہے۔ اس لیے جب کسی کام میں ناکامی ملتی ہے تو آپ تا دیر غمگین رہتے ہیں۔ بعض دفعہ اس سے نکلنے میں بہت دیر ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ آپ نکل ہی نہیں پاتے۔ مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ اچھی خبر پاکر آپ خوش ہوتے ہیں اور تھوڑی دیر اس کا جشن مناتے ہیں۔ بری خبر سے آپ غمزدہ ہوتے ہیں اور اس کا اثر بہت دیر تک رہتا ہے۔ خوشی آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ غم آتا ہے اور ٹھہر جاتا ہے۔ غم کا ٹھہر جانا ہی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ غم کا اثر اتنا تیز ہوتا ہے کہ آپ کچھ سوچ ہی نہیں پاتے۔ ناکام ہونے کے اسباب پر غور و فکر نہیں کرتے۔ لیکن کامیاب ہونا ہے تو آپ کو سوچنا تو پڑے گا۔ کاروباری حلقہ میں یہ کہاوت بہت مشہور ہے:
Think think think, there must be a way.
آپ کو بار بار سوچنا ہوگا کیونکہ کامیابی کا راستہ غور و فکر کرنے سے ہی نکلتا ہے۔ آپ کو دیکھنا ہوگا کہ آپ سے کہاں پر چوک ہوئی ہے۔ آپ کو یہ تجزیہ کرنا ہوگا کہ آیا آپ کی محنت میں کمی رہ گئی تھی یا محنت ہی غلط سمت میں کی تھی۔ آپ کی امیدیں زیادہ تھیں یا آپ نے کوشش کم کی۔ اگر ایک آدمی دیوار کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام ہو جائے اور اس پر وہ غمزدہ ہو تو آپ اس کی محنت کو قصوروار ٹھہرائیں گے یا اس کی غلط امید کو؟ ظاہر ہے اس کی غلط امید کو۔ ناکامی کے اسباب پر غور کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ کامیاب ہونے کے دوسرے راستے کیا ہیں۔ آپ کو ایڈیسن کی طرح دوسرا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ ایک دروازہ کے بند ہونے پر دوسرا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے لیکن ہم بند دروازے کی طرف ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ ٹیلیفون کے موجد گراہم بیل نے لکھا ہے:
When one door closes, another opens; but we often look so long and so regretfully upon the closed door that we do not see the one which has opened for us.
یعنی جب ایک دروازہ ہمارے لیے بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے لیکن ہم اس بند دروازے کی طرف اتنی دیر تک اور اتنی مایوسی سے دیکھتے ہیں کہ جو دروازہ ہمارے لیے کھلا ہوتا ہے اس کو نہیں دیکھ پاتے۔
گراہم بیل کی مذکورہ بات در اصل نظام فطرت کی طرف اشارہ ہے۔ قران میں ایک آیت ہے "ان مع العسر یسرا”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس میں بہت بڑا پیغام اور بہت بڑی نصیحت پوشیدہ ہے اس شخص کے لیے جو کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ جتنے بھی لوگوں نے اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کی ہے ان کے ساتھ "ان مع العسر یسرا” کا معاملہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بار بار کوشش کرنے پر زور دیا ہے۔ گراہم بیل جب یہ کہتا ہے کہ ایک دروازہ کے بند ہوتے ہی دوسرا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک راستہ بند ہوتا ہے تو اللہ دوسرا راستہ اسی وقت پیدا کر دیتا ہے۔ جب ایڈیسن یہ کہتا ہے کہ کامیابی کا سب سے یقینی فارمولہ یہ ہے کہ آپ ایک بار مزید کوشش کریں تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ تنگی کے بعد آسانی ہے۔ آج آپ ناکام ہوئے ہیں تو کوئی بات نہیں۔ ایک بار پھر کوشش کریں، کل آپ کامیاب ہوں گے ۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ جو آج ناکام ہوتا ہے وہ کل کو کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا پرابلم سے سولوشن کی طرف سفر کر رہی ہے۔ آج ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے کل اس کا حل تلاش کر لیا جاتا ہے۔ آج ایک بیماری پیدا ہوتی ہے اور دوسرے دن ڈاکٹرس اس کے علاج کا طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ کورونا وائرس پیدا ہوا اور ماہرین نے اس کا ویکسین تیار کر لیا۔ اسی کو کہتے ہیں مسائل سے حل کی طرف سفر کرنا۔ اسی کا نام ہے پریشانی کے ساتھ آسانی کا ہونا۔ آپ نے قران کو سمجھ کر نہیں پڑھا۔ کامیابی کے سارے راز وہیں دفن ہیں۔ قرانی فارمولے اپنا کر لوگ کامیابیوں کی بلندی پر پہنچ گئے اور آپ قران رکھتے ہوئے ناکامی کی طرف ہر دن ایک قدم آگے جا رہے ہیں۔ مولانا وحید الدین خان کی ایک بات بہت اچھی لگی۔ انہوں نے اپنی ایک گفتگو میں کہا تھا کہ اگر آپ کچھ نہیں کر سکتے تو "پرامید” بن جائیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ پیغام بھی "ان مع العسر یسرا” میں پوشیدہ ہے۔ تنگی ہے تو صبر کریں۔ ناکام ہوئے ہیں تو حوصلہ رکھیں۔ اللہ کا آپ سے وعدہ ہے کہ پریشانی کے ساتھ آسانی ہے۔ مشکل وقت میں آپ اپنی امیدیں بحال رکھیں۔ کامیابی کی جستجو میں لگے رہیں۔ پرامید ہونا مثبت انرجی دیتا ہے۔ آپ پر امید ہیں تو اللہ کے ساتھ ہیں۔ آپ اللہ کے ساتھ ہیں تو ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ناامیدی کفر ہے، اس میں انسان شیطان کے ساتھ ہوتا ہے۔ شیطان کے ساتھی کو اللہ کی مدد نہیں پہنچتی۔ شیطان ناکامی اور ذلت کا دوسرا نام ہے۔ امید ہے تو سب کچھ ممکن ہے۔ امید نہیں ہے تو صرف ایک چیز ممکن ہے اور وہ ہے ناکامی۔ آپ ناکام ہوئے ہیں تو اٹھ کھڑے ہوں۔ ناکامی سے ناامید نہ ہوں۔ ایک بار پھر کوشش کریں، کامیابی ضرور ملے گی۔ کامیابی کوشش کرنے والوں کو ہی ملتی ہے۔ اب کامیابی پہلی کوشش میں ملے یا دوسری کوشش میں لیکن ملے گی کوشش کرنے سے ہی۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

