اردو میں تذکرہ نگاری کی روا یت قدیم اور مستحکم رہی ہے:پروفیسر اسلم جمشید پوری
شعبۂ اردو میں ادب نما کے تحت ’’اردو میں تذکرے کی روایت اور موجودہ صورت حال‘‘موضوع پر آن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ06؍جولائی2023ء
تذکروں سے بنیادی معلومات حاصل ہو تی ہیں اور تذکرہ بھی شاعری کی طرح فارسی زبان سے آ یا ہے۔ِیہ الفاظ تھے پروفیسر سراج اجملی کے جو شعبۂ اردو اور آ یوسا کے ذریعے منعقد ہفتہ واری ادب نما پروگرام’’اردو میں تذکرے کی روایت اور موجودہ صورت حال‘‘ موضوع پر اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گل رعنا اور گلشن بے خار بھی اہم تذکرے ہیں۔ یہ تذکرہ بھی فارسی زبان میں ہے اور بہ لحاظ حروف تہجی مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں شعرا کے حالات اگرچہ مختصر ہیں لیکن جو کچھ ہیں، قابل اعتبار ہیں۔ خاص طور پر شیفتہؔ نے اپنے معاصرین خصوصاً غالبؔ، مومنؔ، ذوقؔ، آرزوؔ اور شاہ نصیر کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ تاریخی اور ادبی دونوں لحاظ سے اہم خیال کیے جانے کے لائق ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازنوید خان نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت عظمیٰ پروین نے پیش کیا۔ پروگرام کی سرپرستی صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔ مہمان خصوصی کے بطورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے شعبۂ اردو کے پروفیسر اور معروف شاعر سراج اجملی نے آن لائن شرکت کی۔مقررین کے بطور پروفیسر ناصرہ بصری( صدر شعبۂ اردو، راجستھان یونیورسٹی،جے پور)،لکھنؤ سے پروفیسر ریشما پروین (صدر،بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرس انجمن(آیوسا) اور اڑیسہ سے محترمہ رقیہ جمال نے شرکت کی ۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی نظامت سیدہ مریم الٰہی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر آصف علی نے انجام دی۔
صدر شعبۂ اردو اور معروف فکشن ناقد و فکشن نگار پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آج کا موضوع تذکرہ نگاری کے حوالے سے ہے۔ اردو میں تذکرہ نگاری کی روا یت قدیم اور مستحکم رہی ہے۔ تذکروں سے ہی اردو تنقید کی راہ نکلی ہے تذکرے کی روایت کا جہاں تک تعلق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ میر ؔکے تذکرے سے لے کر آب حیات تک تقریباً150 تذکرے ہمیں ملتے ہیں۔ تذکروں نے تنقید کے لیے بنیاد کا کام کیا۔ ہمارے یہاں اردو میں ایسے تذکرے ملتے ہیں جن میں بہت سے شعرا اور ان کے فن کا ذکر ملتا ہے۔تذکرہ آج بھی زندہ ہے حالانکہ ان کی پہلی جیسی کیفیت نہیں رہی لیکن پھر بھی ہر شہر کے شعرا کا تذکرہ مل جاتا ہے۔ آج بھی کامیاب تذکرے لکھے جا رہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ان میں بہت ہی تفصیلی مضمون ملتے ہیں۔آج کے تذکروں میں پہلی جیسی کیفیت با قی نہیں رہی۔لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ فن آج بھی زندہ ہے۔
پرو فیسر ریشما پروین نے تذکروں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا موضوع بہت اہم ہے اور میرا کام بھی میرؔ اور تذکروں کے حوالے سے ہے اگر ہم تذکروں کو بغور پڑھیں تو یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ہماری تنقید کی بنیاد ہی تذکرے ہیں۔آج کے مسائل کے تعلق سے بھی ہم تذکروں سے مدد لے سکتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تذکرہ نگاری آج بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔آج ہمارے سامنے ایک خلا ہے ایسے میں ہم ان تذکروں سے مدد لے سکتے ہیں اور میں یقینی طور پر کہہ سکتی ہوں کہ تذکرے آج کے بہت سے مسائل کا تدارک کر سکتے ہیں۔ میرؔ شاعری کازبردست تنقیدی شعور رکھتے تھے۔ شعر میں سادگی اور صفائی کے بڑے دلدادہ تھے۔ شعراء کے متعلق میرؔ کے خیالات اور بیانات مختصر مگر جامع ہیں۔ میرؔ پہلے تذکرہ نگار ہیں جنھیں مشرقی شعریات پر عبور حاصل تھا۔ نکات الشعراء کے مطالعے سے اس زمانے کے ادبی ماحول، طرز معاشرت اور رسم و رواج کا اندازہ ہوتاہے۔اس موقع پر سیدہ مریم الٰہی نے’’ اردو تذکرہ نگاری کی روایت‘‘ پر مقالہ پیش کیا۔
پروگرام میں ڈاکٹر شاداب علیم ،ڈاکٹرالکا وششٹھ،ڈاکٹر ارشاد سیانوی ڈاکٹر شبستاں آس محمد،سعید احمد سہارنپوری، محمد شمشاد، فیضان ظفر ،فرح ناز وغیرہ موجود رہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

