سہیل عظیم آبادی اردو ادب کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جس کی چمک اردو ادب پر تادیر تک قائم ودائم رہی۔ بلکہ ابھی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ بنیادی طور پر وہ ترقی پسند ادیب و افسانہ نگار اور صحافی کہلائے۔ اور براہ راست پریم چند اسکول کے نمائندہ افسانہ نگار کے صف اول میں شمار کئے جاتے رہیں ہیں۔ ان کو عظیم آباد کا پریم چند کہنا بیجا نہ ہوگا۔
سہیل عظیم آبادی خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں
’’میں جن افسانہ نگاروں سے متاثر ہوا ان میں سب سے پہلا نام منشی پریم چند کا ہے، ان کے بعد سدرشن اور روسی لکھنے والے غیر ملکی افسانہ نگاروں میں ٹالسٹائی، چیخوف، موپاساں، اور بعض دوسرے افسانہ نگاروں نے بھی متاثر کیا، لیکن میں سب سے زیادہ پریم چند، ٹالسٹائی سے متاثر رہا ہوں‘‘۔
(سہیل عظیم آبادی اور ان کے افسانے، صفحہ 8، 9)
سہیل عظیم آبادی نے اس دور میں لکھنا شروع کیا جب سرمایہ دارانہ نظام اور زمینداری اپنے عروج پر تھی۔ جہان بھوک سے لوگ دم توڑ دے رہے تھے۔ فقط دو وقت کی روٹی کی آس پر اپنی جوانی کو جھونک رہے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اس سماج کے مکروہ چہرے پر سے نقاب ہٹانے کی کوشش کی ہے اور بڑی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں، ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ الاؤ‘‘ 1940 میں منظر عام پر آیا تو سرمایہ دارانہ نظام تلملا اٹھا اور ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ہوئی۔
غریب، کسان، مزدور، مجبور کرداروں کو سہیل عظیم آبادی نے اپنی کہانیوں میں جگہ دی۔ جن میں پھاگو، رام لعل، رانی، بوڑھی بفاتن، وغیرہ زندہ مثالیں ہیں، علاوہ ازیں ان کے موضوعات میں تنوع ہے۔ سماجی اور معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی داخلیت اور خارجیت کا بیان بھی ملتا ہے۔ جس کو سادہ اور عام فہم جملوں میں بیان کردیتے ہیں، زبان وبیان پر قدرت کے ساتھ ساتھ اپنی تحریروں سے وہ سحر کاری پیدا کردیتے ہیں کہ پڑھنے والا عش عش کرنے لگتا ہے اور اس کی اپنی کہانی معلوم ہونے لگتی ہے۔
اردو ادب ابھی ان کی تحریروں سے محظوظ ہو ہی رہا ہوتا ہے، تب تک پروفیسر ارتضیٰ کریم سہیل عظیم آبادی کے غیر مطبوعہ بیش بہا قیمتی ناول دھوپ چھاؤں سے متعارف کراتے ہیں۔ یہ ناول غیر مطبوعہ ہے۔ جس کو پروفیسر ارتضیٰ کریم نے بڑی تلاش و جستجو کے بعد منظر عام پر لایا ہے۔
ان کی یہ کوشش قابل دید ہے۔ بلاشبہ انہوں نے اپنی محنت سے سہیل عظیم آبادی کو ناول نگار کے درجے تک پہنچا دیا ہے، اب تک اردو ادب کا ایک بڑا حلقہ ان کے افسانوں اور ناولٹ تک ہی محدود تھامگر ان کی جگر کاوی نے سہیل عظیم آبادی کے مرتبے کو اعلی مقام عطا کردیا ہے۔
یہ ناول کئی پہلوؤں سے بھی اہم ہے یہ اس وقت دریافت کی گئی جب پوری دنیا قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور تھی، پروفیسر ارتضیٰ کریم ناول کی تاریخ کے بارے میں لکھتے ہیں،
’’مسودہ میں کہیں کوئی تاریخ یا سال بھی درج نہیں ہے جس سے یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ سہیل عظیم آبادی نے اسے کس زمانے میں لکھا۔ لیکن ناول کے پلاٹ اور داخلی شواہد سے یہ قیاس لگایا جاسکتا ہے کہ سہیل عظیم آبادی نے اس ناول کو 1950اور 1955 کے درمیان لکھا ہوگا۔ قصہ میں ہندوستان کی آزادی کی بات بھی آئی ہے اور جنگ آزادی میں صوبہ بنگال کی جو شرکت رہی ہے اس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے دوسری جنگ عظیم اور ہٹلر کی جنگی تیاریوں کا بھی ذکر آیا ہے۔
میرا بھی کچھ یہی خیال ہے۔ اس لئے کہ ان کا پہلا مجموعہ 1940 میں آیا اور اس کے ٹھیک چار سال بعد دوسرا افسانوی مجموعہ 1943 میں آیا ۔1943 کے بعد 1972 تک ایک طویل عرصے تک ان کی تصانیف نہیں ملتی۔1972 میں ایک ناولٹ بے جڑ کے پودے کی شہادت ملتی ہے ان 29 سالوں کے درمیان ہی اس ناول کی تخلیق ہوئی ہوگی۔
ناول کے تعلق سے پروفیسر ارتضی کریم نے ایک طویل پیش لفظ بھی لکھا ہے اور ناول کی بابت بہت محققانہ گفتگو کی ہے ۔ناول کا آغازمکالماتی انداز میں ہوتا ہے۔ جس میں ایک طرف سبودھ اور دوسری طرف نریندر ہوتا ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار نریندر اور رانی ہیں۔ جن کے خط و کتابت سے کہانی میں روح ڈالی گئی ہے، ناول کے ضمنی کرداروں میں نیرود، ریتا، بیلا، جھرنا، میرا وغیرہ۔
ناول کو پڑھتے وقت یہ حیرت ہوتی کہ سہیل عظیم آبادی نے کس کس طرح کے مسائل کو ناول میں برتا ہے۔ سرانیل چٹرجی ،رانی،نرمل چودھری ،اوما،چارو،مانک دا یہ ایسے کردار ہیں ،جن کی گتھی آسانی سے سلجھ نہیں سکتی۔ان کے کرداروں میں بہت رکھ رکھائو ہے ۔سرانیل صرف کاروباری انسان ہے اس کو کسی اور سے مطلب نہیں ہے۔رانی جو ایک اسکول میں لکچرر ہے ۔اور ساتھ ہی ساتھ ایک باغی خاتون بھی جو اپنے بھائی ٹونو کے خون کا بد لہ د ل میں لئے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ پھرتی ہے۔نرمل چودھری پرتاپ پور کا بڑا خوددار زمین دار جس نے اپنی ساری دولت بیچ کر دھوکے باز لالچی گوبند رام سے صلح کرلی مگر کورٹ کچہری نہیں گیا۔اوما ایک خوددار عورت ہے اور چارو جو اپنی جوانی میں ہی سنیاسی بن گیا،مانک دا جس نے اپنی پوری زندگی فیصلے لینے اور بدلنے میں صرف کردی۔
جس طریقے سے ایک مصور کئی رنگوں کی مدد سے خالی کینوس پر ایک خوبصورت تصویر بنا دیتا ہے ٹھیک اسی طرح سہیل عظیم آبادی نے انسانی زندگی میں پیدا ہونے والے مسائل اور ان کی پیچیدگیوں کو کہانی کا موضوع بنایا ہے۔
ناول میں کئی امور کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ جیسے توہم پرستی، توہمات و تعصبات، اور رسم و رواج کے بندھن، سود بیاج کا ذکر، ظلم و جبر وغیرہ اور ساتھ ہی ساتھ ہندوستانی فلموں پر بھی بھر پور طنز ملتاہے۔
’’ہندوستانی فلموں میں لڑکیوں کے روپ اور ان کی جوانی کی نمائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ گنتی کی ایسی فلمیں بنی ہوں گی جن میں خواہ مخواہ کا بے ہودہ پن نہ ہو لیکن بنگالی فلمیں بے ہودہ نہیں ہوتیں۔ بنگالی فلم ڈائریکٹر پروڈیوسر اور کہانی لکھنے والے زندگی کے قریب رہتے ہیں‘‘۔ صفحہ نمبر 15 دھوپ چھاؤں
آج یہ بات سچ کہ اسی ہیروئن کو سب سے زیادہ مقبولیت ملتی ہے جو سب سے زیادہ اپنے بدن کی نمائش پردوں پر کرتی ہے۔ اور کہانی بھی کچھ اسی نوعیت کی برتی جاتی ہے جس میں عورتوں کا استحصال، آبروریزی، اغوا، اور خانگی مسائل کے چٹخارے پن بھرپور ہوتے ہیں۔
ناول میں ایک کردار سبودھ کا بھی ہے۔ جو فلم بنانے کا کاروبار کرتا ہے۔ اپنی حرکتوں سے وہ پورے ناول پر چھایا ہوا ہے جس جگہ بھی اس کاذکر آتا ہے وہ فضا کو خوشگوار بنادیتا ہے۔ ہر وقت کے ایکٹنگ سے وہ پورے ناول میں مسکراہٹ بکھیرتا رہتا ہے۔ اور رتن ناتھ سرشار کی مایہ ناز تصنیف فسانہ آزاد کی یاد دلاتا ہے وہاں خوجی اپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے قاری کو مسرور کرتا ہے تو وہیں سبودھ بھی اپنی ایکٹنگ سے پورے ناول پر آتا جاتا رہتا ہے۔ اس کی طبیعت میں لاا بالی پن ہے اور ایک زندہ دل انسان ہے۔ وہ سماج کے سبھی گتھیوں کو سمجھتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ سونا گاچھی سے تین لڑکیوں کو اٹھا کر لاتا ہے اور اپنے فلم کی ہیروئن بناتا ہے۔
سہیل عظیم آبادی کے ناولوں اور افسانوں میں ایک مشترک بات دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ ان کے ناولوں اور افسانوں میں کلکتہ کا بازار حسن سونا گاچھی کا ذکر بڑے ہمدردانہ انداز میں ملتا ہے۔
سہیل عظیم آبادی سونا گاچھی کے بارے میں ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کے دوسرے مجموعے چار چہرے کی دوسری کہانی ساوتری میں اور ناول دھوپ چھاؤں میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔
ساوتری میں کچھ یوں رقمطراز ہیں :
’’ساوتری نام ہے، اور دیویوں جیسی صورت ہے مگر رہتی ہے سونا گاچھی‘‘
حوالہ چار چہرے صفحہ نمبر 40
دھوپ چھاؤں میں کچھ اس طرح لکھتے ہیں :
ـ’’ بیلا ،ریتا ،جھرنا یہ لڑکیاں سونا گاچھی میں کیسے پہنچیں۔اتنا تو اسے یقین ہوگیا کہ یہ لڑکیاں بھٹک کر پہنچی ہیں مگر کیسے اور کہاں سے ۔یہ کیسی ٹریجڈی ہے کہ ذرا سی غلطی سے اچھی لڑکیوں کی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں پھر ان کے لئے شریفوں کے سماج میں برابری کی جگہ نہیں رہتی بلکہ جو جگہ دیتا ہے وہ بھی ایسی کہ دوسرے اسے گری ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں لیکن علاج کیا ہے؟‘‘
دھوپ چھاؤں صفحہ نمبر 149
ناول کے دو مرکزی کردار ہیں نریندر اور رانی نریندر شادی شدہ ہے اور اپنی ازدواجی زندگی سے نالاں ہے۔نریندر بظاہر تو ایک بچے کا باپ ہے مگر اس کی بیوی ہروقت بیمار رہتی ہے، اور سینو ٹوریم میں زیر علاج ہے۔ کچھ اپنے فیصلے کی وجہ سے اور کچھ باپ کے لالچ کی بنیاد پر وہ اپنی برادری میںگوبند رام کی اکلوتی بیٹی سے شادی کرتا ہے۔ نریندر چونکہ جوان ہے اور کاروبار کے سلسلے میں رانچی اور کلکتہ آنا جانا لگا رہتا ہے ۔چنانچہ رانی سے اس کی ملاقات ہوجاتی ہے اور دبی دبی ہی صحیح وہ رانی سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پورے ناول میں خط و کتابت سے کام لیا گیا ہے۔ جس میں مرکزی حیثیت رانی کے خطوط کے ہیں ۔
نریندر اس سماج کا آئینہ دار ہے جو رسم ورواج کے بندھن میں بندھا ہوا ہے۔ جو وید اور پران کو مانتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی چھل کپٹ نہیں کرتا۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ اس کے باپ اور سسر کا ظلم اور لوگوں کی بددعائیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گی۔ وہ نرمل چودھری کے گھر والوں کی مدد کرتا ہے اور اخیر میں میرا سے شادی بھی کرلیتا ہے۔ میرا اسی نرمل چودھری کی بیٹی تھی جس کو نریندر کے سسر نے دھوکے سے سارا مال اور کوٹھی ہڑپ کر لیا تھا۔
بیچ بیچ میں ضمنی کردار بھی ہوا کے جھونکے کی طرح آتے ہیں ، اور اپنا اثر دکھا کر چلے جاتے ہیں۔ایک طرف توہم پرستی ہے تو دوسری جانب رسم ورواج،ایک طرف گوبند رام کے دھوکے کا ذکر ہے تو وہیں نرمل چوھری کی خودداری کی داستان،
سہیل عظیم آبادی کے ناول دھوپ چھاؤں کی کچھ جھلکیاں ان کے پہلے اور دوسرے افسانوی مجموعے کے افسانوں میں دیکھنے کو مل جاتے ہیں، سہیل عظیم آبادی کے پہلے افسانوی مجموعے’ الاؤ‘ کے مرکزی کردار کا نام پھگوا ہے جو بجھتے الاؤ اور زمینداری نظام کے خاتمے کی علامت ہے تو وہیں ان کے ناول’ دھوپ چھاؤں‘ میں نریندر کے گھر کا نوکر اور خانساما ںپھاگو ہے۔ یہ ایسے جیتے جاتے کردار ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کی سچی عکاسی کرتے ہیں، الاؤ کا دوسرا افسانہ ’بے چارہ‘ جہاں رحمو پردیس میں مزدوری کرنے گیا ہے اور ہر عورت میں رجیا کو دیکھتا ہے تو وہیں ’دھوپ چھاؤں‘ میں نریندر بھی تارا کو یاد کرکے کڑھتا رہتا ہے، ان کے دوسرے افسانوی مجموعے’ چار چہرے ‘ میں شامل افسانہ ساوتری جس میں سونا گاچھی کلکتہ کے بازار حسن کی منظر کشی کی گئی ہے تووہیں ’دھوپ چھاؤں‘ میں بھی سبودھ نے اپنے فلموں کے لیے ہیروئن سونا گاچھی سے ہی تلاش کرکے لاتا ہے۔
تھوڑی بہت تبدیلی کے بعد یہ گمان کامل یقین میں بدل جاتا ہے کہ یہ مایہ ناز تصنیف کے خالق کوئی اور نہیں بلکہ سہیل عظیم آبادی ہی ہیں۔
ناول کے پلاٹ میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے،زبان و بیان وبیان کا استعمال بہت چابکدستی سے کرتے ہیں ۔آسان اور عام فہم جملوں سے کام لیتے ہیں ،جس کو پڑھتے وقت بلا شبہ دل اور ذہن پر جبر نہیں کرنا پڑتا ۔
سہیل عظیم آبادی کے زبان وبیان کی برتری کا اعتراف کرشن چندر جیسا بڑا ادیب ان لفظوں میں کرتا ہے:
’’سہیل کی زبان بہت سادہ اور سلیس ہے، معنوی اور غیر ضروری مکالمے کہیں نہیں ہیں۔ بہاری گائوں اور اس کے افراد کی تصویر اس فنی صناعی اور چابک دستی سے کھینچتے ہیں کہ افسانے کی دلکشی دوبالا ہو جاتی ہے۔ غیر ضروری الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرتے ہیں۔ اپنی تحریرات میں کم گو مگر پر گو ہیں، بہت کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ دیتے ہیں، اسے ان کی تحریر کا اعجاز سمجھنا چاہیے‘‘۔ ص۔ 11( کرشن چندر، پیش لفظ، الاو)
کتاب کے سرورق پر بات کی جائے تو سیاہ رنگ سے لپٹا ہوا جیکیٹ مانو آسمان پر گھنے بادل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کہیں برس جانا چاہتا ہے ،سرخ رنگ سے بمبئی بلیک کے فونٹ میں لکھا ہوا دھوپ چھائوں دلکش دکھائی دیتا ہے۔بیک سائڈ میں ڈاکٹر قاسم خورشید کے تاثرات اور پروفیسر ارتضی کریم صاحب کی کاوشوں کو قلم بند کیا گیا ہے ۔ بحیثیت مجموعی دھوپ چھائوں (ناول)ہمارے عہد کے اردو فکشن میں ایک بیش بہا قیمتی اضافہ ہے۔
شاداب
ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی دہلی
موبائل نمبر : 8765001998
email:sadab20201@gmail.com
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

