اس خطۂ عرضی پر کچھ ایسی خاص جگہیں پائی جاتیں ہیں کہ جن کی مٹی نے ایک سے بڑھ کر ایک لعل پیدا کئے۔ خدا نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ان میں سے بغض نے ان صلاحیتوں میں نکتۂ کمال حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ قدرت کے ان نگینوں میں سے ایک نگینہ خطۂ پوٹھوہار کی سرزمین گولڑہ شریف ( اسلام آباد) میں سید غلام معین الدین گیلانی کے گھر ۱۴ نومبر ۱۹۴۹ء کو رونق افزائے عالم ہوتا ہے۔ سید نصیر الدین نصیر پیر سید مہر علی شاہ گیلانی کے پڑ پوتے تھے۔ پیر صاحب کا تعلق ایک خانقاہ سے تھا اور اسی وجہ سے آپ نے ظاہری و دینی علوم گولڑہ شریف میں ہی قابل اساتذہ کے زیرِ نگرانی پائی اور روحانی تربیت اپنے دادا حضرت بابو جی علیہ رحمہ اور اپنے والدِ گرامی سے پائی۔ آپ بیک وقت جید عالم دین، محقق، ادیب ، شاعراور صوفی باصفا تھے۔ گولڑہ شریف ایک علمی کانقاہ ہے جس کی ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے اہم خدمات ہمیشہ تاریخ کے زیرِ نظر رہیں گیں۔آپ سادات ِ گولڑہ شریف کے چشم و چراغ اور علمی و ادبی خوبیاں رکھنے کے باعث اہم مقام و مرتبہ کے حامل تھے۔ آپ نے شعر و سخن میں کثیر تعداد میں لوگوں کو اپنا واریفتہ بنایا۔ پیر صاحب اپنے شاعرو ادب سے شغف کے متعلق خود کہتے ہیں:
”اُردو زبان سے میرے قلبی ربط اور موانست کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دس گیارہ برس کی عمر ہی سے مجھے شعرائے اُردو کے سیکڑوں اشعار زبانی یاد تھے۔“
پیر صاحب پر آپ کے دادا پیر سید غلام محی الدین گیلانی کی تربیت کا رنگ نظر آتا ہے۔آپ کے دادا حضور مولانا رومی کے بڑے معترف تھے اور اس وجہ سے مولانا کی مثنوی کو قوال حضرات سے محو ہوکر سنے کرتے تھے۔ اسی لئے پیر نصیر صاحب کو بھی ان کی صحبت سے اس قدر فیض ملا کہ آپ نے ذوقَ مطالعہ کے باعث بڑے بڑے اکابر شعراء کو پڑھا جس میں عربی ، فارسی،اُردو اور پنجابی کے شعرائے کرام شامل تھے۔ اسی ذوق و شوق کی وجہ سے آپ نے خود شعر کہنا شروع کر دیے۔ آپ کی شاعری تقریباً سات زبانوں میں ہمیں ملتی ہےجس میں عربی ، فارسی، اُردو، پوربی، سرائیکی، پنجابی، پوٹھوہاری زبانیں شامل ہیں۔ اسی بناء پر آپ کو ’شاعرِ ہفت زبان‘ بھی کہا جاتا ہے۔آپ نے حمد ، نعت ،رباعیات، مناقب، قصائد،غزلیات، خمریات اور یہاں تک کہ سہرے بھی کہے۔ان سب کے علاوہ آپ نے کئی اصناف ادب میں اپنی خدمات پیش کیں۔آپ کی اُردو غزلیات پر مشتمل دو کتابیں ملتیں ہیں جن میں ’ پیمانِ شب‘ اور ’ دستِ نظر‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی کتب میں دیں ہمہ اوست، عرشِ ناز ، آغوشِ حیرت، رنگِ نظام، فیصِ نسبت، متاعِ زیست،رباعیات المدحیہ فی حضرت القادریہ، وغیرہ شامل ہیں۔
پیر صاحب کی غزلیات میں اپنائیت، محویت، جاذبیت سے بھرپور ہیں۔ آپ نے جس صنف میں بھی اشعار کہے وہ سننے والے کے قلب و روح پر اثر انداز ہوتے تھے ۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپ کسی بھی کتاب کو پڑھتے تو اس کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے اور اس کے اسرار و رموز تک پہنچتے۔ آپ کی غزلیات میں تصوفانہ اور عاشقانہ باتیں ملتیں ہیں۔ مولانا جامی کاایک شعر جس نے نصیر الدین نصیر گیلانی کی غزل گوئی کی جانب توجہ دلائی کہ:
بیا جامیؔ رہا کن شرمساری
زصاف ودُرد پیش آرآنچہ داری
پیر صاحب کی غزلیات پر مشتمل کتاب ”پیمانِ شب“ کے تبصرہ میں احمد ندیم قاسمی رقم طراز ہیں کہ:
”سید نصیر الدین صاحب نصیرؔ اُردو اور فارسی کے ایک نوجوان شاعر ہیں اور دونوں زبانوں میں اُن کی سخن وری نے پورے ملک میں دھوم مچا رکھی ہے۔اس دھوم کا سبب یہ نہیں کہ سید صاحب گولڑہ شریف کے اُس آستانہ عالیہ سے متعلق ہیں جس کا ایک دُنیا احترام کرتی ہے۔ اِس کا واحد سبب اُن کا پاکیزہ اور اعلیٰ ذوقِ شاعری ہے۔“
شعر ملاحظہ ہو:
انہیں پھر کون جانچے گا، کون تولے گا نگاہوں میں
اگر کانٹے رہیں گلشن میں پھولوں سے جُدا ہو کر
پیر صاحب کے اس شعر سے اس بات کا اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی فطرت کے کرشموں پر کتنی گہری نظر تھی۔اسی وجہ سے ان کی شعروں میں اپنائیت پائی جاتی ہے۔
پیر نصیر الدین گیلانی سُر اور تال کو بھی خوب جانتے تھے ۔موسیقی کی راگ راگنیوں میں بھی خاصی دسترس رکھتے تھےسترس حاصل تھی۔ قوال حضرات بھی آپ سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔ موسیقی کی روح نصرت فتح علی خان جیسے عظیم قوال نے بھی آپ کی غزلیات گائیں اور عوام میں مقبول بھی ہوئیں۔ اس سب میں ایک اور دلچسپ پات یہ ہے کہ پیر صاحب نے نصرت صاحب کو اس کی طرز سے متعلق آگاہی دی ۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
ان کے اندازِ کرم ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت ، وہ باتیں ، وہ زمانہ دل کا
ان کی محفل میں نصیر اُن کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم، ہاتھ سے جانا دل کا
پیر صاحب صاحب حال بزرگ تھے اور ایک خانقاہ کے سجادہ نشین ہونے کے ناطے بھی لوگ آپ سے محبت و اُنس رکھتے تھے۔اسی لئے جب پیر صاحب محویت میں کھوئے ہوئے ہوتے تو عقیدت مندان اپنے دُکھ درد اور اپنے حال احوال سناتے تو اس کا اثر بھی آپ پر پڑتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے آپ کی غزلیات میں ہمیں ایسے اشعار بھی ملتے ہیں جس میں آپ لوگوں کے افکار و نظریات اور ان کی اخلاقی تربیت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔
منزلِ شوق میں ایسا بھی مقام آتا ہے
کہ جہاں صرف جُنوں راہ میں کام آتا ہے
خود شناسی جن کے مسلک میں نہیں ایسے لوگوں سے کنارا چاہیے
جان سے جانا، نہیں مردانگی عشق میں جینے کا یارا چاہیے
کہہ رہا ہے یہ زندگی کا سفر
پاؤں ہر دم رکاب میں رکھیئے
سید نصیر الدین گیلانی کئی اشعار میں لوگوں کی دینی اصلاح بھی فرماتے ہیں جس میں وہ دین کی روح کا ذکر کرتے ہیں جس کے بغیر کوئی بھی انسان مکمل مسلمان نہیں بن سکتا ۔ کہتے ہیں کہ:
حُبِ دیں، عشق نبیؐ،خوفِ خدا، جس میں نہ ہو
ہم تو باز آئے نصیرؔ ایسی مسلمانی سے
سید نصیر گیلانی کی غزلیات میں ایک اور اہم چیز نظر آتی ہے کہ ان کے کلام میں مجاز اور حقیقت گلے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔آپ ایک بات مجاز سے شروع کر کے حقیقت پر ختم کرتے ہیں۔تصوف کی مسائل کو آپ نے اپنی غزلیات کا حصہ بنایا کیونکہ تصوف شوق سےعبادت کا نام ہے اور اس شوق میں محبت و عشق کا عنصر پایا جاتا ہے۔عام انسان جنت کی طلب میں عبادت کرتا ہے اور اہل اللہ رضائے الہی اور دیدار الہی کی خاطر عبادت کرتے ہیں۔ ؎
آگئیں چل کے ہوائیں ترے دیوانے تک
اب یہی لے کے چلیں گی اُسے میخانے تک
دھیان زاہد کا خدا تک کسی صورت نہ گیا
دسترس تھی اُسے تسبیح کے ہر دانے تک
دو عالم کے علاوہ کوئی عالَم اور ہے شاید
اِن آئینوں میں وہ آئینہ گر دیکھا نہیں جاتا
قطرہ جس وقت محوِ دریا ہو
اُس کو دریا نظر نہیں آتا
سید صاحب لوگوں کی تکلیفوں سے اُکتا چکے تھے ۔ انہوں نے اپنے کئی کلام میں ان کا ذکر کیا ۔ پیر صاحب نے ایک دن اپنے بھتیجے سے فرمایا کہ میں نے آج اپنے لئے وہی دعا مانگی ہے جو داتا گنج بخش کے مرشد شیخ ابو الفضل محمد بن الحسن ختلی رحمۃ اللہ علیہ نے کی تھی اب دیکھو یہ کب قبول ہوتی ہے ۔ وہ دعا یہ تھی کہ مالک میں نے ساری زندگی تیری فرمان برداری میں گزاری آج میں تیرے سے تجھ ہی کو مانگتا ہوں مجھے اس دنیا سے اُٹھا لے تو روایت میں آتا ہے کہ اسی دن آپ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ تو پیر صاحب نے بھی یہی دعا فرمائی اور اسی دن شام کو آپ کا بھی وصال ہوگیا۔؎
اُٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کو
زمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو
نصیر! جن سے توقع تھی ساتھ دینے کی
تُلے ہیں مجھ پہ وہی اُنگلیاں اُٹھانےکو
پیر نصیر الدین صاحب کا ایک پنجابی قطعہ جو کہ اس موضوع سے متعلق ہے اور اس میں حضرت سلطان باہو کی ابیات کی تضمین کی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو:
بے قدراں کچھ قدر نہ جانتی کیتی خوب تسلی ھو
دُنیا دار پجاری زر دے جیویں کتیاں دے گل ٹلی ھو
بُک بُک اتھرو روسن اکھیاں ویکھ حویلی کلی ھو
کوچ نصیر اساں جد کیتا پے جاسی تھر تھلی ھو
﴿حوالہ جات﴾
- پیر سید نصیر الدین گیلانی: کلیاتِ نصیر گیلانی؛
- پیر سید نصیر الدین گیلانی: پیمان شب (اُردو غزلیات)؛
- پیر سید نصیر الدین گیلانی: دستِ نظر( اُردو غزلیات)؛
- پیر سید نصیر الدین گیلانی:پنجابی کلام ( در رنگ ابیات سلطان باھو)
ahmadjamalawan5@gmail.com
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
انتہائی دلکش و خوبصورت و دلنشیں انداز میں آپ نے اس کمال شخصیت کا تذکرہ زیست کیا اور ان کی زندگی کے تمام پہلوئوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے ادبی کام سے روشناس کروایا۔ اللہ پاک برکت و استقامت کی دولت سے مالامال فرمائیں