اسلامی نیے سال کا آغاز ہو چکا ہے، شوشل میڈیا پر اسلامی سال نو کی مبارک بادیوں کا سلسلہ جاری ہے جسے دیکھ کر دل کو تسلی ہو رہی ہے کہ کم از کم ہمیں اسلامی ماہ و سال یاد تو ہیں، ورنہ انگریزی سال نو کی خوشیاں منانے میں ہم ایسے مگن ہو جاتے ہیں اور انگریزی ماہ و سال اور تارییخیں ہماری زندگی کا ایسا لازمہ بن گئی ہیں کہ ہم اپنے ماہ وسال اور تاریخوں کو لگ بھگ بھول سے گیے ہیں- ہم میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ کون سی ہجری ہے؟ کون سا مہینہ اور کون سی تاریخ ہے؟ انہیں عمل میں لانا تو دور کی بات ہے-
مانا کہ حکومتی اداروں اور دفاتر کے ساتھ ہی روز مرہ کی زندگی میں انگریزی ماہ وسال کا چلن اس قدر عام ہوگیا ہے کہ اس سے مفر محال نہیں تو ناممکن ضرور ہے پھر بھی ہم اپنے یہاں اپنے اداروں، تنظیموں، کتابوں، رسالوں، دعوت ناموں، پمفلٹوں اور پوسٹروں میں تو اسلامی ماہ و سال اور تاریخ کا التزام تو کر ہی سکتے ہیں- جب اہل علم و اہل قلم اور ادارے اس کا اہتمام کرنے لگیں گے تو رفتہ رفتہ عوام میں بھی بیداری آئے گی، اس طرح اسلامی ماہ و سال اور تاریخ بھی ہماری روزمرہ کی زندگی میں شامل ہو جائے گی اور اس طرح ہم معدوم ہو رہی ایک اسلامی شناخت کو بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے، جو دراصل بحیثیتِ مسلمان ہماری ذمہ داری بھی ہے، آئیے ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنے تمام معاملات میں جہاں تاریخوں کا اندراج ہوتا ہے، لازمی طور پر اسلامی ماہ و سال اور تارییخوں کا خصوصی التزام کرے گے-
یہ اسلامی سال نو ہمیں گذشتہ دنوں کے احتساب کا پیغام بھی دے رہا ہے کہ ہم نے اس سال کیا کھویا اور کیا حاصل کیا؟ کیسی کیسی عظیم ہستیاں ہم سے رخصت ہو گئیں، کون کون سی عبقری شخصیات کا نمود ہوا، اور کیسے کیسے مہلک فتنوں کا ظہور ہوا؟ ہم نے کون کون سی ترقیاں اور بلندیاں حاصل کیں اور کہاں کہاں تنزلی اور نقصانات کے شکار ہوئے- اس وقت ہمیں کن کن امور پر غور و خوض اور کون کون سا محاسبہ کرنا چاہیے، صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ کے لفظوں میں ملاحظہ فرمائیں، ارشاد فرماتے ہیں: سب سے پہلے ہمیں اپنی دینی حالت پر نظر ڈالنی ہے کیونکہ ہر حیثیت سے دین ہمارے لیے ہر چیز پر مقدم اور سب سے زیادہ ضروری ہے، دین ہی کی وجہ سے ہم مسلمان کہلاتے ہیں، معاذ الله اگر یہ نہ ہو تو کوئی حال ہو، وہ مسلمان کا حال نہیں اور اس کو مسلمانوں کی ترقی یا تنزلی نہیں کہا جاسکتا، مسلمانوں کی ترقی وہی ہوسکتی ہے جو مسلمان رہ کر حاصل کی جائے، اس لیے سب سے پہلے اسی پر نظر ڈالنی ہے کہ نعمت دین کی ہم نے کیسی قدر کی اور ہم اپنے پہلوں سے اس میں کہاں تک سبقت لے گئے-
پہلی صدی کے مسلمان بالعموم راسخ العقیدہ تھے، ان کے کان دین کے خلاف ایک ادنی سی بات سننے کی تاب نہ رکھتے تھے، ان میں دینی غیرت و حمیت تھی، کیسی ہی ضد ہو، کیسے ہی اشتعال کا وقت ہو، کیسا ہی جوش و غضب ہو، خدا و رسول کا نام سنا، دین کا کوئی حکم کان میں پڑا، یا کسی عالم صالح یا درویش کا حکم آیا اور سر جھک گیا-
علماء و مشائخ کی وہ کمال عزت کرتے تھے، حافظوں اور نیکوں کا ان کے دل میں احترام تھا، حاجیوں کی زیارت موجب ثواب جانتے تھے، اہل الله کی خدمت سعادت سمجھتے تھے، عالم کی زبان سے نکلا ہوا کلمہ ان کے لئے ناقابلِ انکار سند ہوتا تھا-
آئیے ہم اس سال نو میں اہل کربلا سے شجاعت و بہادری کی خیرات مانگتے ہوئے ایک نئے جوش و خروش کے ساتھ دین و ملت کے سچے شیدائی و فدائ کی طرح دامنِ مصطفیٰ مضبوطی کے ساتھ تھام کر آگے بڑھیں تاکہ گذشتہ سال جو ناکامیاں ہمارا مقدر بنیں، کامیابیوں کی قطاریں لگا کر ہم ان کا تدارک کر سکیں-
.کریم گنج، پورن پور، ضلع پیلی بھیت، مغربی اتر پردیش
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

