مرگ گریز تہذیب میں موت کا سفیر: سفیرؔ صدیقی – کامران غنی صباؔ
مشہور امریکی نیورو سرجن ڈاکٹر پاول کالانتھی (Dr Paul Kalanithi)نے اپنی خود نوشت When Breath Becomes Airمیں ’’موت‘‘ کے موضوع پر معروضیت کے ساتھ غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ ڈاکٹر پائول کینسر کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے جب خود اس مرض کے شکار ہوتے ہیں تو وہ اپنی خود نوشت لکھنے کی ٹھانتے ہیں جس کا مرکزی موضوع موت ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر پائول کے انتقال کے تقریباً ایک سال بعد منظر عام پر آئی اور کافی مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ڈاکٹر پائول نے ’’مرگ گریز تہذیب‘‘ (Death Avoidant Culture) کی اصطلاح وضع کرتے ہوئے موت کے موضوع پر دنیا کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب موت سامنے ہو تو زندگی کی قیمت ہی کیا ہے؟ مغرب میں حالیہ کچھ برسوں میں موت کے موضوع پر سنجیدہ گفتگو کا آغاز ہوا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب بھی موت کے موضوع پر گفتگو سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ موت کا موضوع سماج کے ہر طبقہ میں ناپسندیدہ تصور کیا جاتا ہے۔ موت کو ہم اپنی گفتگو کا موضوع بنانے سے کتراتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی کے مختلف مراحل کے لیے منصوبے بناتے ہیں لیکن ’’موت‘‘ ہمارے منصوبے میں کہیں نہیں ہوتی۔
پتھروں کے شہر میں اگر کوئی شیشے کا کاروبار کرے تو یہ بات چونکانے والی ہے۔مرگ گریز تہذیب میں کوئی کمسن نوجوان ’’موت‘‘ کا ورد کرنے لگ جائے تو اُسے پاگل اور دیوانہ ہی کہا جائے گا ۔ حقیقت کا ادراک اگر دیوانگی ہے تو دیوانگی کو زندگی کی معراج کہہ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مشہور صوفی واصف علی واصفؒ کہتے ہیں:
’’اگر انسان کو اچانک نگاہ مل جائے تو وہ خوف سے پاگل ہو جائے، یہ دیکھ کر کہ یہ زمین انسانی ڈھانچوں سے کس طرح بھری پڑی ہے۔یہ ویرانے کبھی آباد تھے، یہ آبادیاں بھی کبھی ویرانیاں بن جائیں گی۔ دنیا میں کون کون نہیں آیا، یہاں کیا کیا نہیں ہو چکا۔‘‘
سفیر صدیقی کا شعری مجموعہ ’’خوابوں کے مرثیے‘‘ کچھ ماہ قبل زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آیا ہے۔ اس مجموعہ پر علمی و ادبی حلقے میں سنجیدہ گفتگو ہو رہی ہے۔ سفیر کی شاعری کا مرکزی موضوع ’’موت‘‘ ہے۔ ’’خوابوں کے مرثیے‘‘ میں شامل 72 غزلوںمیں 46 جگہ ’’موت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بیشتر مقامات پر خودکشی، زخم، پھندا، پنکھا،، غم، ہجر، بدبختی، قسمت، عشق، حیرت، رقص، زندگی جیسے الفاظ ہیں۔ جن کا رشتہ بھی کسی نہ کسی طور پر ’’موت‘‘ سے وابستہ ہے۔ ’’موت‘‘ میرا بھی پسندیدہ موضوع ہے لیکن مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ میں ’’ موت‘‘ کا ورد کرنے سے ڈرتا ہوں کیوں کہ میں بھی ’’مرگ گریز تہذیب‘‘ کا حصہ ہوں۔ ایک ایسی تہذیب جہاں ہر لحظہ مرنا تو ضروری ہے لیکن اپنی موت کے اعلان سے گریز کرنا ہے۔
ہم موت سے لاکھ آنکھیں چرا لیں،موت ہر لحظہ ہمارا تعاقب کرتی رہتی ہے۔ موت کو وسیع مفہوم میں دیکھا جائے تو جسم سے روح کا رشتہ معطل ہونے کا نام ہی موت نہیں ہے بلکہ موت بے شمار دفعہ ہمیں اپنی آغوش میں لیتی ہے۔ بچپن سے جب ہم نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ہمارا بچپن مر جاتا ہے، اسی طرح جوانی کی موت ہوتی ہے اور ہم ضعیفی سے لپٹ کر جوانی کی میت پر آنسو بہاتے ہیں۔ آرزوئوں اور تمنائوں کی موت تو اتنی خاموشی سے ہوتی ہے کہ شورِ ماتم بھی نہیںہو پاتا۔ بقول خلیق برہانپوری ؎
آرزئوں کی جواں موت کا ماتم ہے فضول
یہ جنازے کبھی اٹھتے نہیں کہرام کے ساتھ
ہمارے بے شمار خواب تعبیر کی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ خوابوں کی موت ، موت کے خواب سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔ سفیر صدیقی نے اپنے شعری مجموعہ کا نام ’’خوابوں کے مرثیے‘‘ رکھا ہے۔ مرثیہ موت کا ثبوت ہے ۔ مرثیہ اظہار بے بسی ہے لیکن ساتھ ہی مرثیہ شکست کے دبیز پردوں میں چھپی فتح کی داستان بھی ہے۔ ہم جب امام عالی مقام حضرت حسینؓ کا مرثیہ پڑھتے ہیں تو ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ مرثیے ہمیں موت سے آنکھیں ملانے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں۔
سفیر صدیقی کی شاعری کا یہی امتیاز ان کی شاعری کو ’’ماتم کدہ‘‘ بننے سے بچاتا ہے۔ ان کی شاعری میں موت کا بے ہنگم شور نہیں ہے۔ شاعر موت کے رقص کو دیکھتا ہے۔ موت کا رقص وحشت بننے کی بجائے شاعر کے جمالیاتی شعور کو عرفان کی منزلوں تک لے جاتا ہے ؎
مجھے تو اچھا لگا زندگی کا رقص مگر
سنا ہے اس سے بھی اچھا ہے اک سنا ہوا رقص
سفیرؔ کو موت کے موضوع سے اس قدر دلچسپی کیوں ہے یہ ایک اہم سوال ہے۔ ایک نوجوان شاعر جس نے ابھی نوجوانی کی دہلیز میں قدم ہی رکھا ہو، وہ بار بار موت کو ہی اپنی شاعری کا مرکزی خیال کیوں بناتا ہے؟ مرگ گریز تہذیب میں کیا اسے اس بات کا اندیشہ نہیں کہ اس کی شاعری کہیں موت کے لمس سے لقمۂ اجل نہ ہو جائے؟جس عمر کے شعرا حسن و عشق کی وادیوں میں شہزادے اور شہزادیوں کا کھیل کھیل رہے ہوتے ہیں، سفیر اس عمر میں موت سے انتے مانوس اگر ہو رہے ہیں تو کیا اس کی کچھ نفسیاتی وجوہ بھی ہیں؟میرے اس سوال کا جواب سفیر کے پہلے شعری مجموعہ ’’کوزۂ فکر‘‘ کے پیش لفظ میں موجود ہے۔ سفیر اپنے متعلق خود لکھتے ہیں:
’’شاعری میرے لیے صرف ایک فن یا ایک ہنر نہیں بلکہ میری ہمدرد ہے، میری غم گسار ہے، میری تنہائیوں کی ساتھی ہے، میری شکایتوں کا باحجاب چہرہ ہے، میری خواہشوں کی سسکتی ہوئی صدا ہے، میرے خوابوں کے اُڑتے ہوئے رنگوں کا اضمحلال ہے، میرے اشکوں کی قیمت ہے، میرے درد کی دوا ہے، میری فریاد کی خوددار صد اہے، میرے احساسات کی ترجمان ہے اور اس بے اعتبار اور بے حس دنیا میں صرف میری شاعری ہی ہے جو میرے نزدیک لائق اعتنا اور میرے جذبات کی تفہیم کے قابل ہے۔‘‘
اس اعترافِ حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو سفیر کے اشعار کو زیادہ قریب سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سفیر کی شاعری میں موت کا مطلب جسم سے روح کا رشتہ معطل ہونا نہیں ہے۔ بیشتر مقامات پر موت ، خواب کا استعارہ ہے۔ ایسے خواب جو بے موت مارے گئے ، جو دل کے نہاں خانوں میں مدفون ہیں ؎
سفیرؔ میری سوانح میں صرف یہ لکھنا
تمام عمر فقط موت کے سفر میں رہا
جہاں تک میں نے سفیر کو دیکھا اور پڑھا ہے، ان کی مسکراہٹوں میں چھپی ان کہی کہانیوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے، اس تناظر میں میرا خیال ہے کہ سفیر کی شاعری میں ان کا باحجاب چہرہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا باحجاب چہرہ جو صرف آنکھوں کے ذریعہ پہچانا جا سکے۔ آنکھیں حجاب میں زیادہ حسین نظر آتی ہیں۔ سفیر کی شاعری کا سارا حسن اس حجاب میں ہی پوشیدہ ہے۔ زندگی کو شاعری اور شاعری کو زندگی بنانے کا سلیقہ سفیرؔ کو جس کم عمری میں حاصل ہوا ہے وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ باحجاب چہرے کا حسن مزید نکھرنے والا ہے۔اللہ کرے خوابوں کی مرثیہ گری کا مشغلہ سفیرؔ کی شاعری کو بلندی تک لے جائے۔آخر میں خوابوں کے مرثیے سے اپنی پسند کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
فنا سے بولو کہ اب وہ اپنا ہنر دکھائے
مجھے جو لمحہ سنوارنا تھا، گزر گیا ہے
۔۔۔۔
تیرگی کے آنے تک روشنی نہیں آتی
یعنی موت آنے تک موت بھی نہیں آتی
۔۔۔۔
کیا کہیں سفیرؔ اب ہم اس ستم ظریفی کو
موت کی کہانی میں، موت ہی نہیں آتی
۔۔۔۔
ہجر، تنہائی، اُداسی، بے بسی، آوارگی
ہم نے کاٹا ہے بہت کچھ غیر کا بویا ہوا
۔۔۔۔
کاش تو دیکھ لے ان نظروں سے اک بار مجھے
ہائے جن نظروں سے غم میری طرف دیکھتے ہیں
۔۔۔۔
مرتے رہتے ہیں ہر اک پل کہ نہ مر جائیں کہیں
جینے والوں کا عجب عشق ہے مر جانے سے
۔۔۔۔
کوئی آواز تو تھی خواہ مری آہ سہی
اب تو سناٹا ہے بس زخم کے بھر جانے سے
۔۔۔۔
جینے والوں سے ہی آباد ہے وحشت کا سماں
مرنے والے تو کسی وقت بھی مر سکتے ہیں
۔۔۔۔
موت کے خط مجھے یوں ہی نہیں آئے ہوں گے
زندگی نے مرے کچھ خواب چرائے ہوں گے
۔۔۔۔
مرا وہ ربط ہے محرومیوں کے ساتھ سفیرؔ
کہ زہر چھو لوں تو اس میں اثر نہیں رہتا
۔۔۔۔
مجھ کو بس ایک ہی غم ہے کہ مری قسمت میں
سیکڑوں غم ہیں مگر ایک بھی میرا نہیں ہے
کامران غنی صباؔ
اسسٹنٹ پروفیسر نتیشور کالج، مظفرپور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

