یاس و الم میں ڈوبا پدر پاش پاش ہے
رخصت ہوا شکیب ، جگر پاش پاش ہے
وہ کیا گیا کہ رونق شام و سحر گئی
تنہائیوں کا ڈیرا ہے گھر پاش پاش ہے
نزہت جہاں کو، سوز کو دے صبر اے خدا
اس سانحے سے انکا جگر پاش پاش ہے
اسکی اذاں کے سوز کو ترسے ہیں سب کے کان
روحانیت اے شام و سحر پاش پاش ہے
غم سے نڈھال ہو گئے ہم سب ھی اے شکیب
آنسو چھلک رہے ہیں نظر پاش پاش ہے
لکھوں گی کسطرح ترے غم کا یہ مرثیہ
جس پر تھا سب کو ناز ، شجر پاش پاش ہے
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

