تری یادیں مٹانا چاہتا ہوں
نئے سپنے سجانا چاہتا ہوں
اسے پانے کی حسرت بھی نہیں ہے
خدا جانے کہ میں کیا چاہتا ہوں
غموں پر ڈال کر چادر ہنسی کی
میں دنیا کو ہنسانا چاہتا ہوں
مسلسل دوستوں کو آزما کر
انہیں دُشمن بنانا چاہتا ہوں
گل امید کوئی تو کھلا دے
کہ میں خود کو بھلانا چاہتا ہوں
وقار ان پتھروں کے زیر سایہ
میں شیشہ گھر بنانا چاہتا ہوں
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

