دراصل خالق تو اللہ ہی کی ذات ہے۔
اللہ نے انسانوں کی تخلیق میں اپنی بعض صفتوں کے کچھ عناصر بھی شامل کیے ہیں۔
فنون لطیفہ کے توسط سے فنکار دراصل خدا کی اسی صفت کی نقالی کرتے ہیں لیکن کسی شے کو پیدا کرنے کے لیے خدا کو محض ’کن‘ کہنے کی ضرورت ہے، جبکہ فنکار اپنی تخلیق کے تعلق سے کرب اور جنون کے دریا سے گزرتا ہے۔
اس وقت میرے پیش نظر مرزا حامد بیگ کی تخلیقی کاوش کا ثمرہ ناول ’انارکلی‘ ہے۔ اس ناول کی تخلیق اکتیس سال کی طویل مدت پر محیط ہے۔ یہ اکتیس سال کتنا صبر آزما اور کس قدر جنونی کیفیت کا حامل رہا ہوگا، اس کا تصور بھی محال ہے۔ لیکن جب ہم کسی شاہکار تخلیق کو دیکھتے ہیں تو اس کے پس منظر میں جو Seriousness اور جنون ہوتا ہے، اور فنکار کو جس آگ کے کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے، اس سے ہم قطعی ناواقف ہوتے ہیں۔
متعلقہ ناول کے تعلق سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزا حامد بیگ نے، اسی جذبہ،اسی جنون کی ہم سری میں یہ سفر طے کیا ہوگا، جیسا کہ فلم ’مغل اعظم‘ بنانے میں کے۔ آصف نے اختیار کیا تھا۔ یہ فلم سولہ سال کی مدت میں پایۂ تکمیل کو پہنچتی تھی۔
کے۔آصف کے Seriousness کے تعلق سے خود مرزا حامد بیگ نے ناول ’انارکلی‘ میں لکھا ہے:
’’کے آصف نے بڑے غلام علی خاں کی منت سماجت کرنے کے علاوہ اس دورمیں پچاس ہزار روپے کے بھاری معاوضے کے عوض انھیں فلم ’مغل اعظم‘ کے لیے دو چیزیں گانے پر مجبور کردیا۔‘‘
اس کے علاوہ کے۔ آصف نے فلم میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی غرض سے، فلم کے کرداروں کے لباس اور پہناوے کے ڈیزائننگ کے لیے دہلی سے ٹیلر Embroideryکے لیے سورت سے کشیدہ کار، جوئیلری کے لیے حیدرآباد سے زرگر، Crown تیار کرنے کے لیے کولہاپور سے کاری گر اور ہتھیار بنانے کے لیے راجستھان سے لوہار بلوائے تھے۔ یہی نہیں انھوں نے جو دھا بائی کے لیے لارڈ کرشنا کی مورتی اصلی سونے کی بنوائی تھی۔
’مغل اعظم‘کی تاریخی کوتاہیوں کے تعلق سے مرزا حامد بیگ نے ’انارکلی‘ میں کئی جگہ نشان دہی کی ہے۔ مثلاً جلال الدین اکبر ’کہاں ایسا گرانڈیل تھا‘ جیسا کہ کے۔ آصف نے بطور خاص پیش کیا ہے۔ اس تعلق سے مرزا حامد بیگ کی تحقیق یہ ہے کہ:
’’….. اکبر کے بارے میں جہانگیر نے توزک جہانگیری میں لکھا ہے: قد درمیانہ، رنگ سانولا، چھریرا بدن، چوڑی چھاتی، لمبے لمبے پانو، ناک کے بائیں طرف اوسط درجے کے چنے کے برابر ایک خال…..‘‘
ایک اور جگہ تان سین کے تعلق سے درج ہے:
’’….. بیشک تان سین آگرہ کے قلعے میں گاتا رہا، لیکن وہ 1588 میں سورگ باش ہوگیا۔ اسے ہم 1591 تا 1599لاہور میں نہیں دکھا سکتے، جیسا کہ کے آصف نے فلم مغل اعظم میں کیا ہے۔‘‘
اس کے علاوہ بھی اس فلم میں متعدد تاریخی خامیاں ہیں جن کی جانب مرزا حامد بیگ نے اشارہ دیا ہے۔ ایک نمونہ اور ملاحظہ ہو:
’’….. بھئی ’مغل اعظم‘ کے سنگ تراش، انارکلی کی ماں، اس کی چھوٹی بہن کے کردار، قلعۂ لاہور میں تو دیکھنے کو نہیں ملتے…..‘‘
اس کے علاوہ، انار کلی کے اصل نام کا معاملہ ہو، یا موسیقی کا تذکرہ، یا اس موضوع پر بنائی گئی فلموں کی بات ہو، پوری تلاش وجستجو کے بعد استدلالی اظہار بیان میں حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً:
’’انارکلی کا اصل نام شریف النسا یا شرف النسا ہو نہیں سکتا، اس لیے کہ قندہار، انت خوئی بلخ یا بخارا میں یہ دونوں نام مروج نہیں تھے، نہ آج ہیں۔ انارکلی کااصل نام نادرہ اس لیے بھی قرین قیاس ہے کہ ازبک اور تاجیک لڑکیوں کا یہ نام قدیم وقتوں سے چلا آتا ہے۔‘‘
مرزا حامد بیگ نے اپنے اس ناول میں عہد اکبری کے عہد گم گشتہ کی بازیافت کا عمل نہایت فنکاری اور خلاقانہ استدلالی اظہار کو بروئے کارلاتے ہوئے انجام دیا ہے اور یوں یہ باکمال تخلیق، آثار قدیمہ کی کھدائی سے سالم برآمد ہونے والے نوادرات جیسا ہے جبکہ کے آصف کی فلم ’مغل اعظم‘ امتیاز علی تاج کا ڈرامہ ’انارکلی‘ گویا متعلقہ کھدائی کی مسخ شکلیں ہیں۔
اس موضوع پر فلم بنانے کے تعلق سے یہ دلچسپ معلومات:
’’گریٹ ایسٹرن فلم کمپنی دہلی، خاموش فلم Love of Mughal Prince میں ایک اینگلو انڈین اداکارہ سیتا دیوی نے انارکلی کاکردار پہلی بار ادا کیا تھا۔ سیتادیوی کاا صل نام اینی اسمتھ تھا۔‘‘
یہی نہیں، بلکہ اس تعلق سے فلمی قذاقی کا تذکرہ بھی تفصیل کے ساتھ آیا ہے کہ پروڈیوسر مشرا ایرانی نے اس موضوع پر کہانی لکھوائی اور راما شنکر چودھری کے ڈائرکشن میں دو تین ماہ میں اپنی فلم انارکلی عرف Monument of Tears کے عنوان سے 1928 کے وسط میں ریلیز کردی۔
ناول دراصل زندگی کی ایسی تصویر اور تفسیر ہوتی ہے، جو کئی جہتوں میں چلتی ہے۔ اس ناول میں ’انارکلی حقیقت تھی یا فسانہ‘ کے مرکزی خیال کے ساتھ ہی ساتھ، شہریار مرزا اور شازیہ کی محبت کی دھڑکنوں کی بازگشت بھی ہم رکاب ہے لیکن شہریار مرزا اور شازیہ کے کردار، ان کی محبت، محض زیب داستان نہیں، بلکہ شازیہ کے کردار کے ذریعے تہہ داری اور معنی آفرینی کی پرکشش اور فکرانگیز پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ شازیہ اکثر مقامات پر انار کلی کے درد کی تفسیر بن کر ابھرتی ہے، اور گویا انارکلی کی محبت، شازیہ اور شہریار مرزا کی محبت کے روپ میں، اپنی بازیافت کررہی ہے اور یوں شازیہ، انارکلی کی بے بضاعتی اور المناکی کو محسوس کرنے کا ایک وسیلہ بن جاتی ہے۔ یا یوں کہیں کہ انارکلی کی محبت کے مقابل شازیہ اور شہریار مرزاکی محبت کو انارکلی کے دائمی درد کو، شازیہ کے درد میں منقلب کرکے عہد حاضر کے تنوع میں پیش کیا گیا ہے۔
اکثر مقام پر شہریار مرزا شازیہ کو ’انار کی کلی‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے، اس انداز تخاطب کا التزام گویا قاری کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ شازیہ کو انارکلی کے روپ میں محسوس کریں۔جب کہ شازیہ اور شہریار مرزا کی محبت کی کہانی بظاہر ایک سیدھی سادی، معصوم محبت کی کہانی ہے….. لیکن واقعتاً یہ اتنی سیدھی اور اس قدر سادہ بھی نہیں کہ ہم اسے نظرانداز کردیں۔ شازیہ کے کردار میں بلا کی تہہ داری، اور اس کردار کے تراش خراش میں، اس کے ذریعے ادا کیے گئے مکالمے میں معنی خیز، گہرائی و گیرائی سموئی ہے۔ شازیہ کی ایکٹیویٹی اس کی سنّی سے محبت کے تئیں اداسی اوریاسیت، اور بے بضاعتی کا احساس گویا انارکلی کی حرماں نصیبی اور داستان الم کا اشاریہ ہے۔ اس طرح ان کی محبت ہمیں عہد حاضر سے انارکلی، اکبر اور جہانگیر کے عہدمیں لے جاتی ہے اوراس کا وجود المناکی اور درد لامتناہی کے بار گراں سے بوجھل نظر آتا ہے۔ اگرچہ ناول کے قصے میں انارکلی بہ نفس نفیس موجود نہیں۔ ٹھیک اسی طرح، جیسا کہ قرۃ العین حیدر کے ناول ’چاندنی بیگم‘ میں چاندنی بیگم آتش زنی کے ایک حادثہ میں، ناول کے ابتدا ہی میںجاں بحق ہوجاتی ہے، لیکن اس کے باوجود پورے ناول میں اپنے کردار کے استحکام کے ساتھ موجود رہتی ہے۔ اس ناول ’انارکلی‘ میں بھی انارکلی اور اس کی محبت پوری کہانی میں حاوی بھی ہے اور جاری و ساری بھی۔
واقعات کے تسلسل میں محبت اور فریفتگی کے تعلق سے انارکلی، اکبر اور جہانگیر کے کرداروں کے گرد اجاگر دلچسپ اوربنیادی امر یہ ہے کہ:
’’شاہی قلعہ لاہور کی ایک کنیز نادرہ جو ایران میں پیدا ہوئی یا ملک ترکستان میں وہ کسی تجارتی قافلے کے ہمراہ ہندوستان چلی آئی….. اور بطور کنیز شاہی قلعہ لاہور تک پہنچی….. اور جب جوان ہوئی تو شہنشاہ ہند اکبر نے اس کی سرخ و سفید رنگت اور حسن و جمال کے سبب انارکلی کے خطاب سے نوازا اور داخل حرم کیا؟‘‘
نادرہ (یا انارکلی) کے لیے شہنشاہ اکبر کی کشش (یامحبت) کی یہ شروعات تھی، اس کے مقابل شازیہ اور شہریار مرزا کے انوکھے اور دلآویزجذبات کا اشارہ دیکھتے ہیں:
’’تمباکو کے مرغولے اڑاتا، سرمئی لانگ کوٹ میں ملبوس، وہ دراز قامت جوان لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہواخانی بلڈنگ اور کوتوالی کی ترائی اترجانے کو ابھی مڑا ہی تھا کہ عین اسی لمحے، مرحبا ہوٹل کے پچھواڑے، ایک چمچماتی ہوئی روڈ لائینر تیز موڑ کاٹ کر جھٹکے کے ساتھ رکی۔ انجن کا شور تھما تو اس کی جگہ ایک بہت سریلی اور یکسر انوکھی آواز نے لے لی۔‘‘
’’اے مورے عالی‘‘
یہ بیلا خانی ٹوڈی کی مدھر لے تھی یا التجا۔مغلئی آنکھوں والا کچھ سمجھ نہ پایا…..۔
ایک التجا جس نے آہنی جنگلے کے نیچے سے مخروطی انگلیوں والے نازک ہاتھ بڑھا کر ، اس کے دونوں پانو تھام لیے۔
’’انصاف….. شہزادۂ عالم انصاف‘‘
ایک التجا، انصاف، شہزادۂ عالم انصاف— یہ تقاضائے انصاف کی صدا، انارکلی کی فریاد تھی یا شازی کی پکار؟ جو سنّی یا شہریار مرزا کے حضور پیش ہوا چاہتی ہے، یہ کہانی کا کلائمکس(محبت کا مستقبل؟) کا اشاریہ ہے یا ابہام محبت؟
یہ شہریار مرزا اور شازی کی پہلی ملاقات کی جھلک ہے۔ جس نے انارکلی کی محبت کی داستان کے متوازی ایک ہم نوا محبت کی بنیاد رکھ دی اور گویا اس انصاف کے لیے صدا بلند کی جو کہ دیوار میں چنی گئی انارکلی یا بے بضاعت شازیہ کا نصیب نہ تھا۔
محبت جس قدر لطیف اور زود حس جذبہ ہے، یہاں اس کے اظہار میں ناول نگار نے ویسی ہی فنکاری اور کمال ہنرمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔
محبت ہنگامہ خیز اور شورو غل کے ساتھ ہو تو بھی محبت ہے،اور خاموش اورمدھم مدھم آنچ دیتی کیفیت کی حامل بھی محبت ہے۔
ناول ’انارکلی‘ میں ’انارکلی حقیقت تھی یا فسانہ‘ کے ریسرچ ٹور پر فلم یونٹ میں شامل افراد (کردار) موضوع کے تعلق سے تاریخ کے تاریک نہاں خانے میں سنبھل سنبھل کر اترتے رہے۔ اور غیرمحسوس اور انوکھے طور پر طلسم زدہ اور ستم زدہ محبت کی لطیف لپٹیں شہریار مرزا اور شازیہ عرف انار کی کلی کو شرابور کرتی ہیں اوریوں محبت انھیں اپنے شکنجہ میں جکڑ لیتی ہے۔
شاید محبت کی تکمیل،دائمی درد کی صورت طے ہے، لہٰذا یہ آفاقی سچائی ایک التجا بن کر، اس کہانی کے انجام کا پتہ دیتی ہے۔ جب کہ اس واردات قلبی نے ابھی انگڑائی ہی لی تھی :
’’شہریار مرزانے کھڑے کھڑے اپنا بازو پھیلا کر اس کا راستہ روکتے ہوئے صرف اتنا کہا—
’’دو گھڑی ہمارے پاس بھی رک جاؤ انار کی کلی۔‘‘
’’کیا؟ میرا نام انارکی کلی نہیں I am Shazia Hayat، اس وقت وہ، جیسے نیند میں چل رہی تھی، اور شہریار مرزا نے اسے جھنجھوڑ کر جگا دیا تھا۔‘‘
یہ وہ وقت تھا، جب شازی سنّی کی چاہت اپنے نہاں خانۂ دل میں لیے سنّی کے مدیحہ کی طرف جھکاؤ کے جھٹکے سے دل برداشتہ، اور گویا سکتہ میں تھی۔
انارکلی، اکبر اور سلیم….. یہ محبت کی تثلیث تھی یا عورت اور مرد کی ازلی نفسانی خواہشوں کا مکڑجال…..جس نے انارکلی کی زندگی میں ایک بھونچال پیدا کردیا تھا۔ انسان کی سرشت میں محبت جس قدر،ازلی اور لازمی جذبہ ہے، اسی طرح محبت کی تعبیر اور تفسیر ایک عقدۂ لاینحل ہے۔ انارکلی کی محبت کی تثلیث کے مقابل شازیہ کی محبت کی تثلیث بھی قائم ہے، یہ ایک عجیب اور دلچسپ تثلیث محبت ہے جس کے ذریعے ایک تثلیث محبت کو کہانی میں دوسری تثلیث محبت کا گویا عکس بنا کر نمایاں کیا گیا ہے۔شازیہ سنّی سے محبت کرتی ہے، سنّی مدیحہ میں دلچسپی لیتاہے اور شہریار مرزا کا شازیہ کی طرف جھکاؤ ہے—
محبت کے اس سفر میں شہزادہ سلیم اور شہریارمرزا کی عشق جنوں خیز کے بیان میں بھی ناول نگار نے یکسانیت کو ملحوظ رکھا ہے۔ دیکھیں:
’’ایک روز جب اکبر، ایک ایسے کمرے میں بیٹھا تھا، جس میں آئینے نصب تھے اور نوجوان انار کلی اس کی خدمت میں حاضر تھی۔ اس نے آئینوں میں انارکلی کا عکس دیکھا کہ وہ شہزادہ سلیم کی مسکراہٹ کے جواب میں مسکرائی…..‘‘
اور یہی نہیں—
انارکلی سے ملنے کے لیے شہزادہ سلیم،پاگل شخص کا بہروپ بھر کر حرم شاہی میں بھی داخل ہوگیا—
(اورشاید یہی واقعے انارکلی کے دیوار میں زندہ چنوائے جانے کے بنیادی سبب ہوں—)
شہریار مرزا کی محبت کی لپٹیں، ان مکالموں سے ہویدا ہے:
’’وہ کم بخت ساری رات سوئی نہیں…..‘‘
’’کون، کون نہیں سوئی رات بھر۔‘‘ شہریارمرزا اپنے بھنچے ہوئے بازو، ڈھیلے چھوڑ کر ہدہد کے گلے میں جھول گیا۔‘‘
’’وہی جس کی خاطر تم نے رات کھانا نہیں کھایا۔‘‘ ہدہد نے بے ہنگم سی انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔‘‘
’’کیا مطلب؟وہ انارکی کلی؟‘‘
’’ہاں شازی۔‘‘
اگرچہ شہریار مرزا شازی کے تئیں اپنی کشش اور محبت کا ابھی اظہاربھی نہ کرپایا تھا کہ سوئے قسمت ایک وقت وہ آیا کہ—
’’لان میں بیڈمنٹن کا نیٹ لگا تھا، اور نیٹ کی ایک جانب دھان پان صفیہ اور شازی ہاتھوں میں ریکٹ تھامے، ہانپ رہی تھیں اوردوسری جانب سنی تھا۔
وہ اکیلا ان دونوں کو پِدا رہا تھا۔
اور پھر—
’’میچ اِز اُووَر، —I have won۔ سنّی چلّایا۔
پھر—
سنّی بولا….. میرا سب کو چیلنج ہے کہ میرے مقابلے میں کوئی پانچ پوائنٹ بنا کر دکھا دے تو میری طرف سے پانچ سو روپے…..
ہے کوئی؟ سنّی چلایا۔
……….
’’میں قبول کرتا ہوں چیلنج۔ پانچ سو روپے میری طرف سے۔ اگر سنّی پانچ پوائنٹ بنایا جائے تو۔‘‘شہریار مرزا نے اپنا بٹوہ شازی کے ہاتھوں میں تھمایا اور کورٹ میں جاکھڑا ہوا۔
سنّی کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ شہریارمرزا بیڈمنٹن کا یونیورسٹی کلر ہولڈر ہے۔
لہٰذا ہزیمت اٹھا کر اور خوار ہوکر سنّی ہیرو سے زیرو ہوگیا، اور گویاشہریار مرزا کی ’سرخروئی‘ کا آغاز ہوا۔
اس کے باوجود شازیہ سنّی کے مدیحہ کی طرف جھکاؤ کو محسوس کرکے افسردہ اور ملول تھی۔ اسے ایک عجیب سناٹگی نے گھیر رکھاتھا۔ ایسے میں اس کی دلجوئی کا خاطرصفیہ اسے گلے لگا کر کہتی ہے:
’’میری جان! محبت ایک جذبۂ بے اختیار ہے، جو دلوں میں دبے پانو داخل ہوکر زندگی کی تلپٹ کردیتا ہے۔ کوشش کرکے بھلا دو سب، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔‘‘
اور یوں صفیہ کی دلجوئی اور شہریار مرزا کی پیش قدمی نے حوصلہ افزا صورت حال پیدا کردی اور پھر شازیہ کو ایک دوسری راہ دکھلائی پڑی۔
’’شہر یار مرزا اٹھ کر ڈائننگ ہال کی طرف نکل آیا۔ جہاں اس نے کچن کے دروازے سے لگ کر کھڑی شازی کو اگلے دن کھانے کے حوالے سے ہدایات دیتے ہوئے دیکھا۔
نیم روشن ڈائننگ ہال میں اور کوئی نہیں تھا۔
’’کیا چائے کا ایک کپ مل جائے گا؟‘‘
’’Sure… لیکن مجھے خود بنانا ہوگی۔باورچی کھانا پکانے میں مصروف ہیں! کوئی بات نہیں، کرسی لے لو۔‘‘ انار کی کلی جیسے خواب میں بڑبڑائی۔
’’شازی تم ٹھیک تو ہو نا؟‘‘
’’جی….. جی ہاں۔‘‘ وہ کچن کا دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔
شازی جب کچن سے پلٹی تو اس نے چائے کے دو کپ اٹھارکھے تھے۔
دونوں کپ میز پر رکھ کروہ ایک کرسی گھسیٹ لائی۔
Why you have come here۔کوہ مری سے ادھر چلے آئے….. محض مجھ سے دل لگی کی خاطر؟ سچ بتاؤ۔‘‘
’’میں دل لگی نہیں کررہا شازی۔‘‘
’’پتہ نہیں۔ پر میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گی….. سنّی کو میں نے دل سے چاہا تھا، پر وہ دھوکے باز نکلا اور اب تم درمیان میں آکھڑے ہوئے ہو۔ میں بٹ گئی۔ تم ہی بتاؤ، میں کیا کروں؟
’’میں ہٹ جاتا ہوں، درمیان سے۔ یوںبھی کل جان سپور میں ہمارا آخری دن ہے۔ شام کو چل پڑیں گے یہاں سے مری کی جانب۔ مجھے وہاں اتار کر تمھاری بس آگے نکل جائے گی۔ پیچھے رہ جاؤں گا میں، اور ہوٹل برائیٹ لینڈ کے برآمدے میں دھری بید کی خالی کرسیاں—‘‘
کون کہہ رہا ہے، تمھیں پیچھے ہٹ جانے کے لیے….. لاہور سے کوہ مری تک کے سفر میں مجھ سے مدیحہ نے سنّی کو چھیناا ور لگتا ہے، تم نے سنّی سے مجھے چھین لیا۔ اگر دل لگی کرنی ہے تو بیشک پیچھے ہٹ جاؤ۔‘‘
اس کے بعدتیزی سے کئی دل پذیر واقعے رونما ہوتے ہیں، اور ان کی محبتیں گویا، کہرآلود فضا میں تجسیم کے عمل کی منتظر ہی رہ جاتی ہے۔ یوں بھی ان کی محبت کو انارکلی کے المناکی کے پر تو کے روپ میں ظاہر ہونا تھا۔
یہ امر محل نظر ہے کہ انارکلی کی طرح شازیہ بھی اپنی محبت میں صادق تھی، لیکن انھیں اپنی حیثیت، اپنی کم مائیگی کا پوری طرح احساس تھا….. انارکلی تو ایک کنیز تھی جو شہنشاہ اور شہزادے کے مقابل یقینا بے بضاعت تھی،ا ور شازیہ؟ دیکھیں شازیہ کا احساس بے بضاعتی:
’’شہریار مرزا چین اسموکر نہیں رہا تھا، لیکن گزشتہ رات وہ سگریٹ سے سگریٹ سلگا رہا تھا۔
’’ایک سگریٹ مجھے بھی دو۔‘‘ شازی نے اپنے چہرے پر پڑی بالوں کی لٹ پیچھے کی سمت جھٹک کر فرمائش کی تو مغلئی آنکھوں والے نے بیک وقت دو سگریٹ سلگائے اوران میں ایک اسے تھما دیا۔
شازی پہلا کش لیتے ہی بری طرح کھانسنے لگی۔
’’پھینک دواسے، جب پیتی نہیں تو…..‘‘
’’اب پیا کروں گی، لاہور جاکر تمھیں یاد کرتے ہوئے…..‘‘ یہ کہتے ہوئے اچانک شازی نے سلگتا ہوا سگریٹ اپنی بائیں کلائی میں گاڑ دیا۔ اس نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے۔
’’ارے یہ کیا کیاتم نے؟‘‘شہریار مرزا نے دونوں ہاتھوں سے اس کی کلائی تھامتے ہوئے پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔ جب قلعہ میں ایک کنیز اپنی دونوں ہتھیلیوں پرلوہے کاآگ میں تپا ہوا گولہ تھام کر چلی ہوگی تو ہاتھ جلے ہوں گے نا اس کے بھی…..‘‘
(آئین اکبری جلد دوم کے مطابق اس وقت مجرمانہ سازش کے ملزم یا ملزمہ پر نفسیاتی دباؤ ڈال کر جرم ثابت کرنے کے لیے آگ کا تپا ہوا گولا تھام کر چلنے کی آزمائش کا چلن تھا جس کی تفصیل ناول کے صفحہ 113 پر آئی ہے)
’’پگلی، اس سے تو سچ اگلوانا تھا انھوں نے۔تم نے تو کوئی بات نہیں چھپائی…‘‘
’’اب چھپا رہ بھی کیا گیا ہے۔ لاہور آؤ گے نا، مجھ سے ملنے؟
مغلئی آنکھوں والا چپ تھا،اس کی نظریں شازی کی کلائی پر جمی ہوئی تھیں۔
تمھاری کلائی کا یہ زخم، جب ٹھیک ہوجائے گا نا، تب بھی اس میں یہ کالک رہے گی۔
’’ہاں مجھے پتہ ہے، میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔‘‘
’’اورشازی افسوس۔ یہ کالک میں ہوں—‘‘
انارکلی کی زندگی میں کالک کون تھا؟ شہنشاہ اکبر یا شہزادہ سلیم؟
شازیہ کے لیے کالک سنّی تھایا شہریار مرزا؟
اس سوال کو یہیں چھوڑتے ہیں کہ ناول نگار نے اپنی مشاقیٔ فن اور جادوئی صناعی کو بروئے کار لاتے ہوئے اظہار بیان میں تحلیل نفسی کا نادر نمونہ پیش کیاہے، کہ شہنشاہ اکبر کے عہد میں ملزم یا ملزمہ کی سچائی کو پرکھنے کے طریقہ کار کو فنی ہنرمندی سے جاذب نظر بنا دیا۔
پھر وقت کاجبر درمیا ن میں حائل ہوگیا۔
شہریار مرزا نے اس احساس کے باوجود کہ شازی کی زندگی کا ’’کالک میں ہوں‘ ‘اس نے اسے دھونے کا جتن نہیں کیا۔اور وقت کا بلاخیز اورپرشور دریا جب اسے آگے دھکیل دیتا ہے تو کالک زدہ وجود لیے وہ سوچتاہے، ستائیس سال بیت گئے۔ ستائیس سال—؟
’’اب کیا رہ گیا۔ راہ تکنے والی شناسا آنکھیں تو ایک ایک کرکے گور اترگئیں۔ تمام دوست کوئی کہیں، کوئی کہیں کی صورت بکھر گئے۔ کتنے دل توڑے، کتنے جھوٹ بولے، جرمن شہریت حاصل کرنے کی خاطر،اور ہاتھ کیاآیا؟صرف کاغذ کے پرزے….. مارک اوریورویا نحیف سی ہائیڈی کلاؤز کی کوکھ سے جنم لینے والا ایک ابنارمل سا بیٹا…..‘‘
ستائیس سال بعد اس لمحہ شہریار مرزا وہاں کھڑا تھا، جہاں ماضی اسے بے شمار سوالات….. تذبذب اور خلش سے گھائل کیے دے رہے تھے۔
اور شازیہ؟
شازیہ قطرۂ شبنم کی طرح نازک اورلطیف احساس کو اپنے نہاں خانۂ دل میں دبائے انارکلی کی دربدری اور بے نشان زندگی کی کالک کو دھونے کے لیے جہد مسلسل کے عمل میں خود کو گم کیے تھی….. کہ وہ آخر تنہا رہ گئی….. اسے احساس تھا، وہ جانتی تھی:
’’مرد بھول بھال جاتا ہے، بڑی آسانی سے خالی جگہ پر کرلیتا ہے کسی متبادل سے، اور آگے بڑھ جاتا ہے….. پر عورت نہیں بھولتی۔ نہ بھلاد ینے والے کو، نہ اس مقام کو۔ عورت وہیں کھڑی رہتی ہے اس جگہ جہاں اسے چھوڑا گیاتھا۔‘‘
اور شازی؟ شازی، مقبرہ انارکلی کے سامنے احتجاج کررہی ہے…..
یہ احتجاج؟ بظاہر انار کلی کی بدنصیبی، اسے مسلسل دربدر اور بے نشان اور قبر سے محروم کیے جانے کے خلاف ہے۔ قبر کی حصولیابی کے لیے شازیہ کی یہ ضد، یہ کوشش ایک نوحہ ہے جو خود اس کی کسمپرسی اور درد کو منعکس کرتا ہے کہ گزر جانے والے وقت اور مکر جانے والے شہر یارمرزا نے اسے درد کے ساحل کا خوگر بنا دیا ہے۔ لہٰذا وہ خود کو انارکلی کے روپ میں منقلب پاتی ہے:
’’ساری تفصیل سن لی آپ نے….. وہ کوئی اور نہیں،میں ہوں نادرہ۔ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے حرم کی ایک لونڈی، جو انارکلی کہلائی۔
یہ نام سن رکھا ہے نا آپ سب نے….. کتنے سال ہوگئے، میں چیخ چیخ کر بتا رہی ہوں کہ I am sufferer of male chauvinism ایک سو چھبیس سال ہوگئے۔ مجھے میری قبر سے بے دخل کردیا گیا، اللہ کا گھر آباد کرنے کے نام پر…… گوری چمڑے والوں نے پورے چالیس سال میرے مقبرے کو کیتھڈرل چرچ بنائے رکھا۔ اب تو گوری چمڑے والے حاکم نہیں رہے….. چار سو اٹھارہ سال پرانے میرے بوسیدہ ڈھانچے کو نکالو اور میڈیکولیگل کروالو….. کرلو تسلی۔ ثابت ہوجائے گا کہ مری ناک اور کان کاٹے گئے….. میری موت دم گھٹنے سے ہوئی۔‘‘
اور پھر ’’دیکھتے ہی دیکھتے لیڈی پولیس آفیسرنے شازی کو اپنے حصار میں لے لیا اور ایک لیڈی کانسٹیبل کی مددسے اسے اپنے بازوؤں میں بھرکر پولیس وین میں بٹھا لیا۔‘‘پھر شہریار مرزا نے دیکھا، — شازی ٹیلی ویژن والوں کے سوالات کے جواب دے رہی ہے:
’’1852 میں گوری چمڑی والوں نے اللہ کے نام پرمظلوم انارکلی کی قبر چھین لی۔ ایک سوپچیس سال ہوگئے، انارکلی اپنی قبر سے محروم ہے۔ خدا کے لیے لوٹا دو اس کی قبر—‘‘… مقبرہ انارکلی کے صدر دروازے کے بائیں ہاتھ میں ایک برجی کے نیچے اب بھی دفن ہے انارکلی۔ میں کروں گی نشان دہی….. ‘‘
جب شازی کو گھیر کر کھڑے ہجوم میں باتوں کی بھنبھناہٹ دم توڑ گئی تو سیڑھیوں پر ذرا ہٹ کر کھڑے شہریار مرزانے قدرے بلند آوازمیں استفسار کیا۔
’’مس حیات! کیا انار کی کلی کی بائیں کلائی پر داغ اب بھی دکھائی دے جائے گا، جس میں سیاہ راکھ بھری ہے۔‘‘
’’شہریار مرزا کی آواز سن کر شازی سناٹے میں آگئی….. اس کے ہاتھ میں تھامی ہوئی فائل پر سختی سے جمی انگلیوں میں خفیف سی لرزش ہوئی، لیکن وہ جس رخ پر دیکھ رہی تھی،اس طرف دیکھتی رہی، آواز کدھر سے آئی، اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ تامل کیا پھر لرزیدہ آوازمیں بولی—‘‘
’’….. ہاں ایک تھا، جو انارکی کلی کی بائیں کلائی پر ان مٹ سیاہ داغ کی صورت باقی رہ گیا….. ‘‘
اور پھر اس کے ساتھ جڑ کر کھڑی خاتون وکیل سے بولی۔
"Sonia, Nothing is better than the Sound, of heavy rain while you are asleep.”
یہ ناول مردانہ ظلم، بلکہ شاہانہ جبر و استبداد کی ایک ایسی داستان ہے جو آج سے سینکڑوں سال پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے،اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ لیکن ہمیں سنائی نہیں دیتی، کیونکہ جب بھاری بارش ہوتی ہے، اس کے شور میں ساری چیخیں گم ہوجاتی ہیں۔ جیسے بارش برساتے ہوئے بادل کے پیچھے آسمان! مگر مرزا حامد بیگ کے اس ناول میں مظلوم چیخیں، بارش کے شور کو چیرتی ہوئی سماعت تک پہنچ رہی ہیں اور حساس دلوں کو جگانے کی کوشش کررہی ہیں۔
ISHRAT ZAHEER
"Malaz” New Colony
New Karim Ganj
Gaya – 823001
Mob: 9801527481
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ناول پر تبصرہ اچھا لگا۔ خاص طور پر یہ سطریں
"مرزا حامد بیگ کے اس ناول میں مظلوم چیخیں، بارش کے شور کو چیرتی ہوئی سماعت تک پہنچ رہی ہیں اور حساس دلوں کو جگانے کی کوشش کررہی ہیں۔”