اگر کوئی کہتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک جمہوری پلیٹ فارم یا ہتھیار ہے تو وہ یا تو بے خبر اور بھولا ہے یا وہ اس پلیٹ فارم سے کچھ بیچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کچھ سال پہلے امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی اور سی آیی اے کے ذریعے کئے جا رہے وسیع پیمانے پر سرویلنس کا پردہ فاش کر جلاوطنی کی زندگی جی رہے ایڈورڈ اسنوڈین نے ڈھائی سال پہلے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ لوگوں کی ذاتی معلومات اکٹھا کرنے اور بیچنے کا کاروبار کرنے والی کمپنیاں کسی اور دور میں سرویلنس کمپنیاں کہلاتی تھیں۔ اب وہ سوشل میڈیا بن گئی ہیں، اور کبھی محکمہ جنگ کا نام بدل کر محکمہ دفاع کرنے کے دھوکے کے بعد یہ سب سے کامیاب چال بازی ہے۔
اس وقت کیمبرج اینالیٹیکا کے ذریعے فیس بک سے اکٹھا کئے گئے ڈیٹا کا امریکی انتخابات اور بریگزٹ ریفرنڈم میں غلط استعمال خبروں میں تھا۔ اسنوڈین نے واضح طور پر کہا تھا کہ فیس بک خواہ کوئی بھی بہانہ بنائے، سچ یہ ہے کہ وہ اس میں ملوث ہے۔ پچھلے سال اسنوڈین نے اس افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ہمارے وقت کی سب سے طاقتور تنظیموں کی جواب دہی سب سے کم ہے۔
سوشل میڈیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کا ڈیٹا کی چوری اور سرویلنس مسئلے کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کا ایک اہم حصہ لوگوں کے غصے، نفرت اور منفی رویے کو ہوا دے کر اپنے دھندے کو چمکانا ہے۔ حساب سیدھا ہے۔ لوگوں میں جتنی زیادہ منفیت ہوگی اور وہ ایک دوسرے پر جتنا زیادہ چیخیں گے، اس پلیٹ فارم پر انگیجمنٹ بڑھتا رہے گا اور اسے زیادہ ڈیٹا ملے گا اور وہ اس طرح زیادہ اشتہار، خاص کر ٹارگٹڈ اشتہار، دھکیل سکے گا۔
اکثر یہ کمپنیاں اپنی چمڑی بچانے کے لئے کہتی ہیں کہ ان کے لئے تمام متنازعہ یا خطرناک سرگرمیوں پر نظر رکھنا ممکن نہیں ہے، پھر بھی انہوں نے ضابطے بنائے ہیں اور وہ ان کے مطابق کارروائی بھی کرتی ہیں۔ اس تناظر میں ہمیں کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا کمپنیوں کا جھوٹ ہے۔ مثال کے طور پر امریکی انتخابات کا ایک واقعہ دیکھتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اور سابق نائب صدر جو بائیڈن کے بارے میں جھوٹا اشتہار فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل پر چلایا تھا۔ جب بائیڈن کی ٹیم نے شکایت کی تو فیس بک نے کہہ دیا کہ یہ اشتہار کمپنی کی پالیسیوں کے خلاف نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں، فیس بک کی عالمی انتخابات کی پالیسی کی سربراہ کیٹی ہربتھ نے بائیڈن کی مہم کو خط لکھ کر کہا کہ فیس بک آزادی اظہار پر بنیادی یقین رکھتا ہے، اس میں جمہوری عمل کا احترام ہے۔
تب سینیٹر ایلیزابیتھ وارن بھی صدارتی امیدواری کے لیے میدان میں تھیں اور ان کا ایک انتخابی وعدہ یہ بھی تھا کہ فیس بک اور گوگل جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کو تقسیم کیا جائے کیونکہ ان کا سائز اور اثر و رسوخ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ وارن نے لگاتار فیس بک کو اپنی اشتہاری پالیسی کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے تنبیہہ کی تھی، لیکن اس کمپنی نے اس پر توجہ سے احتراز کیا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ انتخابات میں سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی خبریں پھیلانے اور مبینہ طور پر روسی مداخلت کا موقع فراہم کرنے کے الزام میں فیس بک چرچہ میں رہا تھا اور اس نے یقین دلایا تھا کہ کمپنی مستقبل میں مستعد رہے گی۔
ایسے میں وارن کی مہم نے فیس بک کی تیاری کو جانچنے کے لیے ایک کمال کا آئیڈیا نکالا۔ اس نے ایک اشتہار بنایا، جس میں یہ جھوٹی بات کہی گئی تھی کہ فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی ہے۔ اسے خبر کی شکل میں بنا کر اور ٹرمپ اور زکربرگ کی تصاویر کے ساتھ فیس بک پر بطور اشتہار لگا دیا گیا۔ اس اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ زکربرگ نے ٹرمپ کو اپنے پلیٹ فارم پر جھوٹ پھیلانے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے اور بدلے میں پیسے لے کر فیس بک اس جھوٹ کو امریکی ووٹرز کو پروس رہا ہے۔ مزے کی بات دیکھئے، فیس بک نے اس جھوٹے اشتہار کو بھی چلانے دیا۔ ایسا کر وارن نے صاف دکھا دیا کہ فیس بک کے لیے کمائی سب سے اہم ہے اور وہ کسی طرح کی ذمہ داری نبھانا نہیں چاہتا ہے۔
اپنے دھندے کو چمکانے کے لئے سوشل میڈیا جس انسانی جذبات کا استحصال کرتا ہے، وہ ہے ناراضگی اور نفرت۔ اس بارے میں بہت سی تحقیقیں ہو چکی ہیں۔ یہی جذبہ کسی پوسٹ یا ٹویٹ کا وائرل ہونا ممکن بناتا ہے اور اس کی تشہیر کرکے پلیٹ فارم اپنی انگیجمنٹ بوسٹ کرتے ہیں۔ اور کھلاڑی اسے نمبر کہتے ہیں۔
صلاح کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو اشتعال یا غصے سے بچنا چاہیے، لیکن اس مختلف النوع اور منقسم دنیا میں ایسا تحمل ممکن نہیں۔ جوش و خروش وبائی ہوتا ہے۔ وہ شراکت داروں میں مضبوط ہونے کا جھوٹا اعتماد دیتا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ وہ ایک بڑی تحریک یا عمل کا حصہ ہیں اور اپنے حساب سے دنیا کو بدلنے یا بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ لیکن اصل میں یہ سب نمبروں کا کھیل ہے۔
تین سال قبل دی گارڈین میں چھپے ایک مضمون میں ظ. ولیمز نے معرکہ کی بات کہی تھی کہ جو بزنسس ماڈل توجہ حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اس کے پاس معروضیت، باریکی اور مہارت کے لیے نہ تو وقت ہے اور نہ ہی انکا کوئی استمعال ہے۔ ولیمز کی التجا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم سبھی غصّے میں ہیں، لیکن ہم دوسروں کی ناراضگی کو سننے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔ صلاح تو ٹھیک ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ناراضگی کی زبان اتنی سخت، بے ہودہ اور جارحانہ ہے کہ سننے کی شروعاتی کوشش ہی کسی انسان کو یا تو مشتعل یا مایوس کر سکتی ہے یا پھر بیمار بنا سکتی ہے۔ یہ سننا بھی ایک ٹریپ ہو سکتا ہے- اس سلسلے میں نیو یارک یونیورسٹی کے پروفیسر سکوٹ گیلووے کا میڈیم پر دو سال پہلے آیا مقالہ زیادہ مددگار ہو سکتا ہے- وہ صاف-صاف اس سچ کا اظہار کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا ناراضگی سے چلتا ہے اور آپ چاہے جو کر لیں، آپ اپنے بچوں کو اس سے بچا نہیں سکتے-
چونکہ سوشل میڈیا کمپنیاں کاروبار ہیں، وہ بعض اوقات اپنے کاروبار کی حفاظت کے لیے نفرت یا جھوٹ کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ پروفائل، ہینڈل، پوسٹ، چینل، اور ویڈیو ہٹانے کے جو معاملے سامنے آتے ہیں، وہ اسی طرح کی کارروائی ہوتے ہیں۔ اس لئے کسی انتہائی دائیں بازو یا بی جے پی کے ایم ایل اے کے پیج کو ہٹا دینے پر مطمئن ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ آپ جس بھی پلیٹ فارم پر چلے جائیں، ایسے میٹریل بڑی مقدار میں مل جاینگے۔ اس کی منطق بھی وہی ہے کہ انتہائی دائیں بازو یا وحشتناک انتہا پسند یا ٹھس دقیانوسی کنٹینٹ لوگوں کو مخالف خیموں میں متحرک ہونے کو یقینی بناتا ہے۔ سوشل میڈیا کی یہ نوعیت اور کردار انٹرنیٹ کے شروعات سے ہی ہے، جب گمنام پروفائل چیٹ بورڈ پر اپنی مایوسی کی قے یا جھوٹ کی سڑاندھ پھیلاتے تھے۔ ویب سائٹس کے کمینٹ سیکشن میں اسکے نمونے آج بھی بکثرت دیکھے جا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست کے باہمی تعاون کے بارے میں میرا مضمون تدبھو کے صحافت کے خصوصی شمارے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس موضوع پر میرے کچھ اور مضامین مختلف ویب سائٹس پر بھی ملیں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بعض پوسٹس پر احتجاج کرنے اور سوشل میڈیا کے ضابطے کو بہتر بنانے کی بیکار کوشش کے بجائے اس خوفناک مسئلے کے مختلف سروں کو سمجھا جائے۔
تکنیکی ماہر مایلے گویٹ نے فاسٹ کمپنی میں لکھے ایک تازہ مضمون میں تفصیل سے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں کس طرح اس صورتحال میں دھکیل رہا ہے جس کا تصور جارج آرویل نے 1984 میں کیا تھا۔ اس ناول میں ایک رسم چلتی رہتی ہے – نفرت کے دو منٹ۔ اس میں سبھی لوگ اپنا کام دھام ملتوی کر سکرین کے سامنے کھڑے ہو کر دشمنوں کی لعنت-ملامت کرتے تھے اور بگ برادر کی شان میں نعرے بلند کرتے تھے۔ دشمن بدلتے رہتے تھے، رسم وہی رہتی تھی- سکرین کے سامنے جمع لوگ قاتلوں کی بربر بھیڑ بن جاتے تھے- سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ہمارے دور میں یہ دو منٹ کی رسم چوبیس گھنٹے کا مشغلہ بن چکا ہے۔
ہیل زکربرگ!
پراکاش ک. رے (پی ک رے.بلوگ )
(اردو ترجمہ: رضی الدین عقیل)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

