ناظمؔ داؤد نگری اور تحفۂ رمضان /ساحر داؤد نگری – ڈاکٹر داؤد احمد
شاعری قدرت کا عطا کردہ بہترین عطیہ اور حسین تحفہ ہے ۔بعض افراد کے یہاں شاعری ان کی گھٹی میں ہوتی ہے۔قدرت کے حسین و دلکش مناظر، اس کی خلاقی، چاند، سورج،آسمان،آبسار، کوہسار،سبزہ زار سے جہاں ایک طرف شعرا مسحور ہوتے ہیں وہاں دوسری طرف سماجی خوشیوں ،غم بے ثباتی عالم سے وہ شدید طور پر متاثر بھی ہوتے ہیں۔شعرا اپنے ان احساسات و جذبات کو شعری قالب میں ڈھالتے ہیں ۔بعض شاعروں کے یہاں یہ عمل فطری انداز سے ہوتا ہے،جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں ،ان کی آنکھیں جو دیکھتی ہیں اور دل و دماغ جن چیزوں کو قبول کرتا ہے وہ سب غیر فطری طور پر شعر میں ڈھل جاتا ہے۔ ایسے ہی فطری شاعر ناظمؔ داؤد نگری بھی ہیں ۔ شاعری سے انھیں عشق ہے بالخصوص اردو شعر و ادب کے وہ دلدادہ ہیں اور اس زبان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔
اورنگ آباد کے جانے پہچانے قصبہ داؤدنگر کی ایک تاریخی حیثیت ہے۔ بہار کے ادبی مراکز میں عظیم آباد ،پٹنہ، دربھنگہ،سہسرام اور گیا کا شمار ادبی حلقوں میں کیا جاتا رہا ہے۔داؤد نگر اور اورنگ آباد دراصل گیا مرکز کا ہی ایک حصہ ہے۔داؤدنگر کی سرزمین نے کئی نامور ہستیاں پیدا کیں،جن میں مشہور و معروف طنز ومزاح نگار اکبر الہٰ آبادی،ڈاکٹر بختیار نواز،ڈاکٹر عرفان آصف،ڈاکٹر محی الدین انصاری،حیرت داؤد نگری،ڈاکٹر اعجاز داؤدنگری اور ساحر داؤد نگری جیسے باکمال شعرائ و ادبائ نے قریہ قریہ ،بستی بستی شعر و سخن کی ایسی فصل اگائی جو آج خوب سر سبز بھی ہے اور لہلہا بھی رہی ہے۔سرزمین داؤد نگر جہاں ایک طرف نوابوں کا شہر رہا ہے وہیں دوسری طرف علم و ادب کے شہسواروں میں ایک نام ناظمؔ داؤد نگری کا بھی ہے جن کا تعلق ایک ایسے علمی خانوادے سے تھا جس نے داؤد نگر میں علم و ادب کی شمع جلائی اور آج تک اس خانوادے سے اردو کی خدمت جاری و ساری ہے۔
زیر تبصرہ کتاب ’’ ناظمؔ داؤد نگری اور تحفۂ رمضان‘‘میں ناظمؔ داؤد نگری کی شاعرانہ شخصیت اور رمضان المبارک کی فضیلتوں اور عظمتوں پر مبنی نظمیں شامل ہیں۔ناظمؔ داؤد نگری کی دینی خدمات اور حسن اخلاق احاطۂ تحریر سے بالاتر ہیں،حقیقت تو یہی ہے کہ فرزندان اسلام اور شعار دینی کی خاطر آپ نے حق ایثار و قربانی سے کام لیا ہے۔آپ کی شعر و شاعری نے بالخصوص رمضان المبارک کے فضائل و شمائل نیز سحری و افطار کے متعلق جو اشعار حوالۂ قلم کیے ہیں ان پرفرزندان توحید جس قدر بھی فخر و مباہات سے کام لیں نہایت ہی کم ہے۔ان کے یہاں اخلاقی اور اسلامی نظام کا ایک سلیقہ ہے ۔وہ ماہ رمضان کی فضیلت کو سمجھتے بھی ہیں اور اس کا اعتراف اپنے اشعار میں کرتے ہیں ۔ انھوں نے دنیاوی مسائل اور دنیاوی حقائق سے زیادہ اسلامی حقائق پر گہری نظر رکھی ہے جو ان کے عروج کی شناخت بن کر ابھری ہے۔کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں :
روزہ رکھتا ہے جو شخص ارمان سے
اجر پائے گا محشر میں رحمٰن سے
کرو سنت ادا اے مصطفٰی کے چاہنے والو
اٹھو وقت سحر گر صائمو ایمان باقی ہے
جنت الفردوس کا حقدار بننا ہو ا گر
ہر برائی سے بچو روزے رکھو رمضان میں
کسی شاعر کی مقبولیت اور پذیرائی کا راز اس میں مضمر ہے کہ وہ کس قدر اپنے دلی جذبات و احساسات کی ترجمانی اور عہد حاضر کے مسائل کی عکاسی کرتا ہے ۔فنکار کا تخلیقی شعور اس وقت اپنی بلندیوں پر ہوتا ہے جب وہ ان اوصاف سے متصف ہو۔ناظمؔ داؤدنگری ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقات میں اپنے احساسات و جذبات اور اپنے عہد کی بھر پور ترجمانی کی ہے۔ ان کی شاعری کا اختصاص یہ ہے کہ ان کے افکار و خیالات میں پیچیدگی یا لفظی نقل کا کہیں کوئی دخل نہیں ۔ وہ عام فہم ،سبک اور سلیس اسلوب میں شاعری کرتے ہیں، انھوں نے اپنے جذبات و احساسات کو پورے خلوص کے ساتھ شعری پیکر عطا کیا ہے جو عوام کو اپنے دل کی آواز محسوس ہوتے ہیں۔
ناظمؔ داؤدنگری اسم بامسمٰی ہیں۔خلوص و اخلاق موصوف کی شاناخت ہے۔ایسا شخص جب اپنے دل کے جواہر پارے صفحۂ قرطاس پر بکھیرتا ہے تو وہ تابندہ سے تابندہ تر نظر آتے ہیں۔’ تحفۂ رمضان‘ ناظمؔ داؤدنگری کے کلام کا مجموعہ ہے جسے معروف ادیب و شاعر ساحرؔ داؤدنگری نے حافظ خورشید عالم اور ایوب انصاری کے نام معنون کیا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب میں شامل نظمیں’’ محشر میں‘‘’’حق کی آزمائش‘‘’’جاگ جاؤ‘‘’’جگانے کو آیا‘‘’’نہ گھبراؤ مسلمانوں‘‘’’رولا کر چلا‘‘’’غافل رہتے ہیں‘‘’’جنت کے دروازے‘‘’’اٹھو سحری کھالو‘‘’’مبارک وقت‘‘’’وقت سحر‘‘’’حق کا فرمان‘‘’’نبی کی عجب شان ہے‘‘ ’’صدمہ الم‘‘’’الوداع‘‘’’واحسرتا‘‘’’مشکل ہوا جینا‘‘’’رخصت ہوا ماہ رمضاں‘‘’’ وقت سحر منھ دھو لو‘‘’’ہلال عید دیکھ کر‘‘ ایسی نظمیں ہیں جو انسانی اخلاق و کردار کو سنوارنے ،راہ مستقیم پر چلنے ،اطاعت الٰہی و اطاعت رسول کا پیغام دیتی ہیںجس سے حیات و کائنات کے رموز و نکات کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
’’شعر گوئی ایک ایسا فن ہے جس میں بالیدگی نظر اور گہرائی فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اچھا شاعر اپنے گرد و نواح کے خد و خال کو بھی دیکھتا ہے اور وہ اپنی شعوری دنیا کی وادیوں میں بھی گشت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔اس کا ذہن نہایت وسیع اور کشادہ ہوتا ہے ۔ اس کا دماغ روشن اور تابناک ہوتا ہے ۔ وہ ہر شے کو اپنی نگاہوں کے سامنے چمکتے ہوئے سورج اور پر نور چاند کی طرح دیکھنا چاہتا ہے۔ایک شاعر کی باطنی صلاحیت اس وقت آشکارا ہوتی ہے جب وہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ نہایت ہی ہوشمندی اور چابکدستی سے کرتا ہے اور اپنی حساس طبیعت کا استعمال بھی صحیح طور سے کرتا ہے‘‘۔(علامہ صابر قادری : ناظم داؤد نگری اور تحفۂ رمضان،صفحہ۔۱۷)
زیر تبصرہ کتاب ناظم داؤدنگری کے نظموں کا ایسا مجموعہ ہے جس کے مطالعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موصوف ایمان اور یقین کو گرمانے اور روزہ کی فضیلت و عظمت کو نہایت خوبی سے بیان کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔سماجی شعور اور اسلامی تعلیمات کے سبب ان کی شاعری صلابت فکری اور شعری بصیرت کا نمونہ نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں بلا کی چاشنی ہے جو دلکش دینی فضا قائم کر دیتی ہے :
یہ کیا دل میں ابھی تک آرزو ارمان باقی ہے
مسلمانوں کرو خدمت ابھی رمضان باقی ہے
تمھاری زندگی باقی سراپا جان باقی ہے
خدا کا ذکر باقی دیکھ لو قرآن باقی ہے
حساب زندگی باقی سوال قبر باقی ہے
نہ گھبراؤ مسلمانوں ابھی رمضان باقی ہے
(نہ گھبراؤ مسلمانوں)
ہے وہی حقدار جنت کا سنو اے مومنو!
روزے رکھ کر شوق سے جو مر گیا رمضان میں
ایک دن روزہ نہ ناغہ ہوتا ہے ان کا کبھی
جس نے روزے کی فضیلت دیکھ لی قرآن میں
جنت الفردوس کا حق دار بننا ہو اگر
ہر برائی سے بچو روزے رکھو رمضان میں
(غافل رہتے ہیں)
مو منو آخری ماہ رمضان ہے
دیکھو میرے نبی کی عجب شان ہے
ان پہ نازل ہوا حق کا قرآن ہے
ہم مسلماں کا بس دین و ایمان ہے
جس نے جانا وہ پکا مسلمان ہے
اس مہینہ کی عظمت کروں کیا رقم
وصف لکھنے میں عاجز ہوا جب قلم
کیا کرے کوئی تعریف حق کی قسم
جب کہ مداح خود حق سبحان ہے
( نبی کی عجب شان ہے)
مسجدیں گونجتی ذکر قرآن سے
لوگ پڑھتے تراویح تھے ارمان سے
تھا یہ لطف و کرم خاص رحمٰن کا
الوداع کہہ کے رمضان جانے لگا
فرض رحمان کا السلام و علیک
ذکر قرآن کا السلام و علیک
السلام و علیک ماہ غفران کا
الوداع کہہ کے رمضان جانے لگا
( واحسرتا)
امت احمد مختار مبارک باشد
عید کا چاند یہ دیدار مبارک باشد
جس کا وعدہ ہے کیا تم سے خدائے قدوس
خلد کا وہ تمھیں گلزار مبارک باشد
روزہ داروں کو مزہ خلد میں بیشک ہوگا
بس خدا وند کا دیدار مبارک باشد
(ہلال عید دیکھ کر)
زیر تبصرہ کتاب ’’ ناظم داؤد نگری اور تحفۂ رمضان‘‘ اردو کے سرمائے میں ایک قیمتی اضافے کی حیثیت رکھتی ہے ۔یہ کتاب پڑھنے والے کا سر عقیدت سے جھکا دیتی ہے اس پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ ساحرؔ داؤد نگری نے بہت جذب سے اس کوترتیب دیااور شائع کیا ہے ۔وہ لائق مبارکباد ہیں ، ان کا یہ عمل لائق تحسین ہے ۔زبان کے علاوہ ظاہری اعتبار سے کتاب بہت ہی عمدہ اور پر کشش ہے ۔سر ورق سادگی کے باوجود حد درجہ جاذب نظر اور خوبصورت ہے۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والوں کے لیے بہترین تحفہ ہے۔
ڈاکٹرداؤد احمد
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو،
فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج
محمودآباد، سیتاپور(یو۔پی)261203
Email: daudahmad786.gdc@gmail.com
Mob. 8423961475
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

