ممتاز شاعر سلطان اختر نے کسی جگہ رونق شہری کے بارے میں لکھا ھے کہ” نئی ترکیبیں، غیر مستعمل تشبیہات و استعارات کی لا شعوری کوشش آورد سے کہیں زیادہ آمد کی معنویت کو چھوتی ھے”.
یہاں پھر آمد اور آورد کی بحث چھڑنے کا محل ہے۔ رونق شہری کی نئی تشبیہات کی کوشش بالکل شعوری ہے۔ وہ سوچ سمجھ کر لفظ کو استعمال کرتے ہوئے اس کی نئی معنوی جہتیں تلاش کرتے ھیں ۔ میرے خیال میں کوئی شعر آمد کا ہوتا ہی نہیں۔ ہر شعر آورد کے خانے میں جانا چاہئے۔
جسے آمد کا سمجھتے ھیں وہ اپنی فوری تشکیل اور برجستہ اظہار کی وجہ سے آمد کا بے جا دعویٰ کرتا ہے۔ورنہ و ہی خیال مہینوں اور بعض اوقات برسوں ذھن میں کروٹیں لیتا، روپ بدلتا اپنی تشبیہات استعارات لفظیات تلاش کرتا رہتا ہے اور جیسے ہی کوئی مطلوبہ ہئیٹ ( غزل کی صورت میں ردیف قافیہ کا التزام ) سامنے آئے ، اس کی موزونیت کے قریب پہنچے، وہ شعر کے سانچہ میں ڈھل کر فوری نمودار ہو جاتا ھے ۔ یہ آمد ہے؟ نہیں۔ آورد ہے۔
رونق شہری کے یہاں نئی ترکیبوں اور نئے استعارات کی جلوہ ساما نی انکی شعو ری کوشش کا ثبوت ہے۔
رونق شہری کو ذرا اور دور سے دیکھا جائے۔
اُن کا تعلق شعر و ادب میں سرگرم جس نسل سے ہے وہ جدیدیت کے غلغلہ کے بیچ سرگرم _ سخن ہو ئی۔ جدید ناقدین اپنی فکر کو فروغ دینے والے اور پیروی کرنے والوں کی آبیاری، شناخت، تقویم اور قیام میں مصروف تھے۔ نئے لوگ صرف پیروی کیلئے دباؤ میں تھے۔ یہ پوری نسل جدیدیت، تیسری آواز ما بعد جدیدیت کی تھوپ تھاپ کے عذاب میں مبتلا رہ کر آخر کو خاموش ، کنارہ کش، اور فراموش ہو گئی۔۔احتشام اختر، مدحت الاختر، شاھد کبیر، سبتگین اخگر، را ہی فدائی، سا غر جیدی سب اپنے حصہ کا برا بھلا کہ کر اہل _ محفل کا شکریہ ادا کر کے واپس اپنی عافیت گاہوں میں چلے گئے مگر رونق شہری اور اُن کے کچھ اور ہمجولی آج بھی سرگرم ہیں اور اپنے سرمایہ املاک میں آنے کیلئے منتظر مضمون کی تلاش میں اب بھی سرگرداں ہیں۔
جدیدیت کو فروغ دینے والے ناقدین اس نسل کے لکھنے والوں کو سراہتے نہیں تھے۔ غیر جدید یا آ زاد تنقید کی روپ ریکھا طے تھی نہ معینہ خط نہ پہچان۔ فاروقی اور نارنگ کے بر خلاف کھڑے ہونے کو جرات بھی کسی میں نہیں تھی۔ سن خاموشی سے فکر و فن کا زیاں دیکھتے ر ہے۔
رونق شہری کا مطالعہ جس نسل کے ناقدین کو کرنا تھا وہ نسل آندھی سرنگ میں راہ تلاش کرتی رہی ۔ جدیدیت ناقد اساس متن پر زور دیتی رہی اور ما بعد جدیدیت قاری اساس تنقید پر اور اردو کا آزاد فکر شاعر اپنی زبان، اپنے لہجے اور اپنی لفظیات میں اپنے عہد کے جبر کی دیانت دارانہ دستاویز بندی کرتا رہا۔ ان دیانتداروں میں رونق شہری کا نام شامل ہے ۔
رونق کی کئی کتابیں منظر عام پر آئی ھیں۔ گدی گھرانے پر انکی کتاب تنقیدی بصیرت کا نمونہ ہے مگر غزلوں نظموں پر مشتمل مجموعے میں جھلکتی ہوئی تخلیقی جلوہ ساما نی میری نگاہ میں ہے۔
رونق شہری کے موضوعات وہی ہیں جو ہندوستانی مسلم دانشوری کو اپنی طرف راغب کرتی ھیں۔ جبر، تضاد، بے اما نی، عدم سلامتی، فریب، عناد، حسد اور دیگر موضوعات اُن کو کھینچتے ہیں مگر اُن کے یہاں مسائل کو دیکھنے کی آنکھ تھوڑی جداگانہ ہے۔ چیزوں کو برتنے کے انداز میں انفراد ہے۔
چپکے چپکے مرا گاؤں داخل ہوا
روپ اپنا بدلتے ہوئے شہر میں
کانٹوں کو پھول جان کے رکھنا فضول ہے
پیش آئیں گے جو خا ر ہیں وہ خار کی طرح
دونوں آنکھیں نکال کر رکھ دیں
میز پر اس نے میز بانی میں
رونق شہری نے اپنے عہد کے مسائل کو سمجھنے اور انکو برتنے کیلئے سیاسی عینک کا استعمال نہیں کیا بلکہ اپنے فہم و ادراک، عقل و عمل کی رہنمائی میں خار زار طے کئے۔
پڑے ہیں آپ رونق جی بڑے ہی دھرم سنکٹ میں
مخاطب خود سے ہونا اور کتا بولتے رہنا۔
یہ بالکل نیا شعری تجربہ اور تکلیف دہ اظہار ہے لیکن یہ خود کلامی غُصہ کی اس انتہا کو چھونے کی منزل ہے جس کا لمس ملتے ہو فرد غصّہ کے عملی اظہار میں چلا جاتا ہے۔ پورا ہندوستان اس وقت جس ہیجان میں ہے اس میں غُصہ کا اعتبار بڑھا ہے اور یہ دھرم سنکٹ صرف نیکی کا تصور ہے۔ خود سے مخاطب ہو کر مسلسل کتا بولتے رہنے کا تجربہ بار بار دہرایا نہیں جا سکتا۔ ایک بار کا ہی تجربہ ایک بڑا مرحلہ بن جاتا ہے۔
وہ کہیں کہیں بہت خوب صورت شاعری بھی کر لیتے ہیں۔ نازک شعر وں سے ان کا دامن خالی نہی رہے ۔ کچھ شعر بہت خوب صورت کہتے ہیں۔
حصار_ کشمکش سے میں نہ نکلا
تُجھی میں ہوں مگر تُجھ سے پرے میں
اُن کے یہاں بہت سے دل پذیر اشعار قاری کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ کچھ شعروں میں سماجی جبر کی نشاندہی ہے۔ اس کے خلاف احتجاج ھے۔ کچھ میں زندگی کی رعنائیوں کا اعتراف اور تشکر بھی ہے۔ نمایاں بات یہ ہے کہ اپنے عہد کے دیگر بیشتر اردو قلمکاروں کی طرح رونق شہری مذہب بے زار بھی نہیں لہذا ان کے سماجی رویہ میں زمہ داری کا عنصر زیادہ ھے۔
کون سا لمحہ گراں بار نہیں تھا مجھ پر
تو محافظ هے اسی اس نے زندہ رکھا
اُن کے کچھ شعر سرسری مطالعہ میں بھی دامن پکڑ لیتے تھیں۔
کہیں نہ ابر کا ٹکڑا اُسے نکل جائے
ذرا سی روشنی میں ہی میں مگن ستارہ ہے
ہزار بار کی دیکھی ہوئی یہ دنیا ہے
ہر ایک بار ہی دھوکہ اٹھا چُکے ہیں ہم
خود اپنی شرط پہ جیتے رہے نہیں سوچا
قدم خلاف _ زمانہ اٹھا چُکے ہیں ہم
جڑے ہیں نقل_ مکانی کی ہم روایت سے
طبیعتن بھی یہاں لوگ مہاجر بنے ہیں
بہ حیثیت مجموعی رونق شہری ایک زندہ غزلیہ روایت کے ایسے دیانت دار آمین ہیں جو اس امانت کو مقدور بھر پر امارت بنائے رہنے میں مصروف ھے۔
***************
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

