نظم جدید کی کروٹیں:وزیر آغا – مہر فاطمہ
ڈاکٹر وزیر آغا نے اردو ادب میں جدید نظم کی راہ ہموار کرنے اوراس کی فضا پیدا کرنے میں جو قابل قدر کوششیں کی ہیں وہ لائق ستا ئش ہیںبیسویں صدی کے نصف آخر میں انہوں نے جدید نظم نگاروں کے فکر ا و ر فن پر جو مضامین ماہنامہــــــ’ادبی دنیا‘میں شائع ہوئے تھے ان کو یکجا کر کے کتابی شکل دی جو’’نظم جدیدکی کروٹیں‘‘کے عنوان سے شائع ہوئی۔جو کئی اعتبار سے نہا یت اہم ہے۔
اس کتاب کا پیش لفظ صلاح الدین احمدکا تحریر کردہ ہے۔جس میں مصنف کے کام کو کافی سراہتے ہوئے اہم پہلو کی طرف روشنی ڈالی گئی ہے:
ؔ’’ مقام شکرکہ مولف نے اس میں کوئی ایسے رنگ نہیں بھرے جن کی شوخی آنکھوں کو تکلیف دے یا جن کا دھیماپن نگاہوں پر بار ہو بلکہ
اس نے اپنے ہر موضوع کی گہرائی میں غواصی کی ہے اور تہ میں سے وہی موتی نکالا ہے جو اس کی مرکزی خصوصیت کی جھلک مارتا ہے
پھر اسی مرکزی خصوصیت کے قلب سے اپنی تنقیدی قوتوں کو آگے بڑھایا ہے اور ایک نہایت متوازن طرق کار سے اپنی ہم جوئی اور
ناظر کے جذبہ یافت کو تسکین دی ہے۔‘‘
پیش لفظ کے بعد ’’نظم اور اس کا پس منظر ‘‘کے عنوان سے پینتیس(۳۵) صفحات پر مشتمل بھر پور مقدمہ صاحب کتاب نے رقم کیا ہے۔جس میں اس کے متعلق تمام پہلووں کا احاطہ کیا گیاہے یعنی اس کے مطالعہ سے نظم جدید کے خد و خال نمایاں طور پر اجاگر ہوتے ہیں جس سے قاری کا ذہن اس تعلق سے بالکل صاف ہوجاتا ہے۔
اس عمدہ مقدمہ کے بعد مضامین کا سلسلہ ہے جس میں سے پہلا مضمون شاعر مشرق کی نظم نگاری پر ہے جس کا عنوان انہوں نے ’’ فطرت کی ایک مثال ‘‘قائم کیا ہے۔اس حقیقت بھی انکا ر ممکن نہیں کہ مظاہر فطرت پر قلم اٹھانے والوں میں اقبال سر فہرست ہیں ۔اور نہ صرف سر فہرست ہیں بلکہ اس میدان میں بھی اپنا لوہا منواتے نظر آتے ہیں۔مصنف نے بھی اس پر بات کی ہے اور ان کا بھی مانناہے کہ اول اول اقبال کے ذوق جمال کا غالب میلان فطرت پرستی کی طرف رہا۔انہو ں اس دعوے کے اثبات میں ہمالیہ،کہسار،مسجد قرطبہ،موج دریا،ایک آرزو،ستارے اور نوید صبح کے اشعار بطور مثال پیش کئے ہیں۔
دوسرا مضمون ’’بغاوت کی ایک مثال ‘‘کے عنوان سے ن،م،راشد کی نظم نگاری کے تعلق سے ہے۔یہ مضمون جداگانہ رنگ و آہنگ کا حامل ہے۔اس میں انہوں نے روایت سے ہٹ کر یا پہلی راشد کی شاعری کے موضوع و مطالب کو بالکل منفرد اندازسے پیش کیا ہے۔جبکہ اس سے قبل کی تنقیدیں راشد کی شاعری میں ہیئت و اسلوب کے جدت کی تحسین و تردید کی محدود چلی آرہی تھیں ۔وذیر آغا کا خیال ہے کہ راشد کا دور انتشار اور افراتفری سے عبارت تھا۔جس کے باعث انسانی ذہن خلفشار اور فردیت کا شکار ہوا اور باغی ذہنیت افسوسناک حد تک انسان کے حواس پر چھا گئی۔
تیسرا مضمون ’’میراجی‘‘کی شاعری کے حوالے ہے۔جس کا عنوان انہوں نے ’’دھرتی پوجا کی ایک مثال ‘‘قائم کیا ہے۔اس میں وذیر آغا نے سر زمین ہند سے میراجی کی شدید وابستگی ،میراجی کے عشق اور ثنااللہ ڈار سے میراجی تک کے سفر کو اجتماعی لاشعور کے آئینے میں دکھایا ہے۔وزیر آغا میراجی کے بودلیئر یا ملارمے سے متاثر والی بات کے خلاف نظر آتے ہیں اور انہوں اس بات کی صاف تردید کی ہے۔ان کا ماننا ہے کہ میراجی نے یہ اثرات اسی سر زمین سے قبول کئے وغیرہ۔لہذا یہ مضمون میراجی اور ان کی فکر و فن کو سمجھنے کے لئے نہایت اہم اور کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔
چوتھا مضمون ’’اردو نظم میں انجماد کی ایک مثال ‘‘ کے عنوان سے فیض احمد فیض کی نظم نگاری کے حوالے سے ہے۔فیض صاحب کی نظریاتی استقامت کو وزیر آغا انجماد سے تعبیر کرتے ہیں۔یہاں پر وہ فیض صاحب کے نظریاتی موقف کی افادیت اور عالمگیریت کا اعتراف کرنے کے باوجود ان کی نظریاتی استقامت کو ان کے فنی اور ارتقائی راہ کا سب سے بڑا سنگ گراں قرار دیتے ہیں۔
پانچواں مضمون ’مجید امجد‘کی نظم نگاری پر’’ توازن کی ایک مثال‘‘کے عنوان سے ہے۔اس میں انہوں لکھا ہے کہ مجید امجد کی نظموں میں معاشی ابتری کے احساس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مطالعہ بھی موجود ہے۔ان میں زر کی غیر مساوی تقسیم کے خلاف احتجاج بھی ہے۔پھر ان ہوں مجموعی تاثر یہ اخذ کیا ہے کہ شاعر کسی ایک نقطہ نظر کا رسیا نہیں ہے اور اس کی نظموں میں قریبی اشیا کے وجود کا گہرا احساس ہے مثلا کلس،گلیاں،پان،چائے،کھڑکیاں،آنگن،پیالی، دھوپ اور کھلیان وغیرہ
اگلا مضمون ’’حرکت و حرارت کی ایک مثال‘‘کے عنوان سے ’یوسف ظفر ‘کی شاعری سے متعلق ہے جس کے بارے میں وزیر آغا نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کے مطالعے سے ذہن معا زرتشت کی انوار پرستی اور برگساں کے نظریہ تحرک کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔یوسف ظفر کے یہاں حرارت ایک وسیع کیفیت جس میں آنچ،نور،تمازت اور رنگ سب کچھ ہے اور ان کی نظمیں چاند ،سورج،تارے،آگ اور آگ کے شعلوں سے لبریز ہیں۔
ساتویں مضمون کا عنوان ’’افسردہ دلی کی ایک مثال ‘‘ہے جو ’قیوم نظر ‘کے تعلق سے ہے۔وذیر آغا کا خیال ہے کہ قیوم نظرنظموں میں افسردہ دلی اور غم کی ایک برقی رو دوڑتی ہے اور اس پر ایک احساس محرومی مسلط ہے:
ابھی جیسے کل کی یہ بات ہے لب جوخرام بہار تھا
یہ نفس نفس جو ستم کش غم جاں ہے جام بہار تھا
وہ خیال و شوق کی مستیاں نہ شمار تھا نہ شعور تھا
یہ ہوا جو محض ہوا ہے اب کہاں اس کی روح رواں گئی
کہاں ذوق و شوق نمو مٹا کہاں دل گیا کہاں جاں گئی
مجھے یاد مجھے یاد ہے کبھی اس ہوا میں سرور تھا
۔۔۔۔یہ ہوا
(نظم جدید کی کروٹیں،ص۱۲۳)
اسی طرح آگے کے پانچ اورمضامین ہیںجو راجہ مہدی علی خاں،اخترالایمان،ضیا جالندھری،بلراج کومل اور شہاب جعفری کی نظمیہ شاعری کے تعلق سے ہیں۔اور ان کو بھی ایک خاص عنوان کے تحت لکھا گیا ہے جو درج ذیل ہیں:
راجہ مہدی علی خاں ۔۔۔۔۔مسرت و بہجت کی ایک مثال
اخترالایمان۔۔۔۔۔۔مراجعت کی ایک مثال
ضیا جالندھری۔۔۔۔۔’’پر آشوب لمحہ‘‘کی ایک مثال
بلراج کومل ۔۔۔۔۔’’متحرک لمحہ‘‘کی ایک مثال
شہاب جعفری ۔۔۔۔سورج پوجاکی ایک مثال
ا؎س طرح سے کل پندرہ(۱۵)شاعروں کو اس کتاب میں شامل کیا گیا اور ا ن کی شاعری کے مطالعہ سے حاصل یا مجموعی تاثر کی بنا پر ایک خاص عنوان قائم کیا گیا جس کو ثابت کرنے کے لئے دلائل بھی پیش کئے گئے ہیں۔اسی طرف صلاح الدین صاحب کا اشارہ تھا کہ مولف نے اس میں کوئی ایسے رنگ نہیں بھرے جن کی شوخی آنکھوں کو تکلیف دے یا جن کا دھیماپن نگاہوں پر بار ہو بلکہ انہوںنے اپنے ہر موضوع کی گہرائی میں غواصی کی ہے اور تہ میں سے وہی موتی نکالا ہے جو اس کی مرکزی خصوصیت کی جھلک مارتا ہے ،پھر اسی مرکزی خصوصیت کے قلب سے اپنی تنقیدی قوتوں کو آگے بڑھایا ہے اور پھر اسی مرکزی خصوصیت کے قلب سے اپنی تنقیدی قوتوں کو آگے بڑھایا ہے اور ایک نہایت متوازن طرق کار سے اپنی ہم جوئی اور ناظر کے جذبہ یافت کو تسکین دی ہے ۔ظاہر ہے کہ اس سے انکار ممکن نہیں کے انہوں نے ان شعرا کے حوالے سے روایت سے ہٹ کر بالکل مختلف انداز میں سوچا اور اس کے پیرایہ اظہار میں بھی جدت پیدا کی۔بیسویں صدی میں نظم اور خاص کر جدید نظم کا رجحان ہوا،اس پر بہت باتیں کی گئیں ،نئے نئے تجربات ہوئے۔غرضیکہ یہ ایک اہم موضوع کی صورت میں ابھرا۔اس میں وزیر آغا کا نام پیش پیش ہے اور اس کتاب نے بھی خوب دھوم مچائی اور اس کتاب پربھی کئی اعتراضات کئے گئے جن کا ذکر مصنف نے بھی کیا ہے مثلا :
ٌٌٌٌ٭فلاں فلاں شاعر کو اس کتاب میں شامل نہیں کیا گیا یا شاعر نے صرف انہی شعرا کو جدید نظم گو شاعر مانا ہے
٭مثال پہلے وضع کر لی گئی ہے اور پھر اس کا اطلاق کسی ایک پسندیدہ شاعرپر کر دیا گیا
٭اس کتاب میں ہر شاعر کے محض ایک میلان کا ذکر ہوا ہے اور شاعر کے باقی میلانات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے
وغیرہ وغیرہ
ان اعتراضات کا مصنف نے بھی بڑی خوبصورتی سے جواب دیا ہے۔میری بھی ذاتی رائے یہ کہ یہ بالکل فضول اور بے معنی سی باتیں ہیں۔پہلی بات مصنف نے اہم شعرا پر بات کی ہے اگرتمام کا احاطہ کرتے تو کسی کے چھوٹنے پر اعتراض جائز ہوتا۔دوسری بات جب ہم کسی موضوع پر کتاب یا مضمون لکھتے ہیں تو اس کے تمام پہلو کا بغور مطالعہ کر چکے ہوتے ہیں۔اس مطالعہ کی بنا پر کوئی پہلو یا کوئی عنوان قائم کرتے ہیں۔یعنی مضمون کا مکمل خاکہ ذہن میں میں پہلے ہی بن چکا ہوتا ہے پھر وہ تحریر ی شکل میں آتا ہے۔کسی نے اپنے مطالعہ کے بنا پر اپنے مضمون کا کیاعنوان قائم کیا یہ سراسراس کا اپنا معاملہ ہے ۔ہاں آپ کو اس سے اتفاق یا اختلاف کا حق حاصل ہے۔کسی بھی شاعر کی بنیادی یا مرکزی جہت دریافت کرنا مشکل اور بڑا مرحلہ ہے۔جیسا کہ ظاہر ہوا کہ اس کا اس کتاب میں خاص خیال رکھا گیا ہے اور ساتھ ساتھ اس کے تمام پہلووں پر بھی بات کی گئی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں ایک حد تک اختصار سے بھی کام لیا ہے۔انہوں خود اس کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ :
اب جی نہیں چاہتاکہ جو بات پانچ لفظوں میں بیان ہوسکے اس پر بلا وجہ سات لفظ صرف کئے جائیں ۔
کفایت کا یہ رجحان جدید دور کا امتیازی وصف ہے۔اولا اس لئے کہ آج کا ذہن نسبتا آسانی سے بات
تک پہنچنے کے قابل ہوثکا ہے۔ثانیا اس لئے کہ اب بات سے لذت اخذ کرنے کے لئے ’’دراز تر گفتم‘‘
کا عمل تضیع اوقات کے مترادف قرار پایا ہے۔بہر کیف میں نے بھی نظر ثانی میں کفیت کے اس عمل کو ملحوظ
رکھاہے۔
غرضیکہ اس کے مطالعہ سے نہ صرف نظم جدید اور جدید نظم گو شعرا کے فکر و فن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ شاعری پر کس طرح بات کی جائے؟ کس طرح کسی شاعر کا مطالعہ کریں؟ شاعروں کی جہت کیسے منتخب کریں؟اوراختصار کے ساتھ کیسے اپنی پوری بات سامنے رکھیں اس کی بھی رہنمائی کرتی ہے بلکہ یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ چودہ طبق روشن کرتی ہے ۔۔۔۔۔
طالب علم کے کسی مشعل راہ سے کم نہیں ۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

