شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ’’ مناظمہ‘‘ کاآن لائن پروگرام منعقد
میرٹھ14؍دسمبر2021
آج جو دس نظمیں پیش کی گئیں وہ سبھی نظم کے مختلف فارم میں مو جود تھیں۔سبھی نظمیں اپنے اپنے مو ضوع کے اعتبار سے اہم اور شاندار تھیں۔ آج پا بند نظم کے بجا ئے آزاد نظم لکھی جا رہی ہے اور اکثرو بیشتر آج کے شعرا بھی اسی جانب راغب ہیں۔ میں اس عمدہ پروگرام کے لیے پرو فیسر اسلم جمشید پوری اور ان کی ٹیم کو مبار باد پیش کرتا ہوں اور یقینی طور پر آج کا یہ منا ظمہ نظم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔یہ الفاظ تھے سابق صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پرو فیسرشہپر رسول کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’مناظمہ‘‘ پروگرام میں اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز فاروق شیر وانی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاںہزاری باغ سے ڈاکٹر فرحت حسین خوش دلؔ نے اپنی مترنم آواز میں نعت پاک پیش کی ۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی مہمان خصوصی کے بطورعالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر نواز دیوبندی نے آن لائن شرکت کی۔استقبالیہ کلمات ڈا کٹر ارشاد سیانوی،نظامت کے فرائض سیدہ مریم الٰہی اور فیضان ظفر نے جب کہ شکریے کی رسم فرح ناز نے ادا کی۔
پروگرام کا تعارف پیش کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ’’ ادب نما کی شروعات طلبہ و طالبات کو ایک عالمی سطح کا پلیٹ فارم دینے کے مقصد سے کی گئی ہے ۔ اس میں طلبا کے نصاب کے مطابق مختلف مو ضو عات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے اور طلبا اپنے سوالات بھی کرتے ہیں جس سے ان کی صلا حیتوں میں نکھار آ تا ہے۔آج منا ظمے کی شروعات در اصل میرٹھ کی نظم نگاری کی روا یت کا احیائ ہے۔ میرٹھ نے افضل جھنجھانوی، جعفر زٹلی، قلق میرٹھی،اسماعیل میرٹھی، رنج میرٹھی، بیان میرٹھی، افسر میرٹھی، ساغر نظا می،روش صدیقی، حفیظ میرٹھی، انجم جمالی، علا مہ سحر عشق آبادی اور موجو دہ شعرا میں سید اطہر الدین اطہر، طالب زیدی، وجیندر سنگھ پرواز، پا پولر میرٹھی، احمد علوی وغیرہ نے نظم کے احیائ میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ہمارا منا ظمہ شروع کر نے کا مقصد نظم کو دو بارہ سے استحکام عطا کرنا ہے۔
مناظمہ کے شرکا میں کرا چی پاکستان سے رو مانہ رو می نے اپنی دو نظمیں بعنوان ’’ سانسوں کو آزاد نہ کر تو‘‘،’’سال گذر گیا‘‘ ڈنمارک سے محترمہ صدف مرزا نے ’’محبت‘‘محترم عارف نقوی جرمنی نے ’’وطن ‘‘ اور ’’ ایک بچی کا سوال ہے مجھ سے ‘‘مصر سے ڈاکٹر ولا جمال العسیلی نے اپنی نظم’’ دریائے نیل‘‘ ، قطر سے مقصود انور مقصود نے’’ میرا وطن وہی ہے‘‘،میرٹھ سے ڈا کٹر یو نس غازی نے’’ مردِ مسلماں‘‘، دیو بند سے ڈا کٹر نواز دیوبندی نے اپنی نظم’’ محبت‘‘ سنا کر خوب دادو تحسین حاصل کی۔ان کے علاوہ علینہ عترت اور اظہر اقبال نے بھی اپنی نظمیں پیش کیں۔
اس مو قع پر ڈاکٹر آصف علی ،محمد شمشاد، ساجد علی، سعید احمد موجود رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

