Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
سماجی اور سیاسی مضامین

مسلم اور غیر مسلم تعلقات – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

by adbimiras دسمبر 15, 2021
by adbimiras دسمبر 15, 2021 0 comment

اللّٰہ رب العزت نے بنی نوع انسان کے لئے دین اسلام کا انتخاب کیا اور اس کا آخری اور مکمل ایڈیشن آقا ومولافخر موجودات سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم پرنازل کیا ، اور اعلان فرمادیا کہ محمد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول ہیں، ان کے بعد نہ تو کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول ،

زبان رسالت نے اعلان فرمایا’’ لانبی بعدی‘‘ اور اس بات کا بھی اعلان کروایا گیا کہ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہاں کے لئے رسول بناکر بھیجے گئے، علاقوں، قبیلوں کی تفریق باقی نہیں رہی او ر ہر قبیلہ اور ہر علاقہ کے لوگ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت قرار پائے ۔

آپ صلی اللّٰہ سے قبل جتنے بھی انبیاء ورسل بھیجے گئے ، انہیں کسی خاص علاقہ اور خاص قوم کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری دی گئی اور انہیں محدود وقت کے لئے احکام دئے گئے اور یہ سارے احکام آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد منسوخ ہو گئے اب مدار نجات اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین ماننے ، قرآن کریم پر عمل کرنے اور رسول خاتم کے طریقوں کو اپنانے میں مضمر ہے ، بغیر اس کے نجات ممکن نہیں ۔

پھر چونکہ اس امت کو قیامت تک باقی رہنا ہے اور طاغوتی طاقتیں راہ راست سے انسانوں کو بھٹکانے میں ہمیشہ لگی رہتی ہیں، اورابتدائے آفرینش ہی سے ابلیسی حربے کا م کرتے رہے ہیں ، اسی لئے دعوت وتبلیغ اور امت کو قیامت تک صحیح رخ اور سمت پرقائم رکھنے کا نبوی کام علماء کے ذمہ کیا گیا اورزبان نبوت نے علماء کے بارے میں انبیاء کے وارث ہونے کا اعلان کیا اور علماء کو زمین کا چراغ کہا گیا ، ’’العلماء ورثۃ الانبیائ‘‘ اور’’ العلماء مصابیح الارض‘‘کہہ کر یہ اعلان کر دیا گیا کہ قیامت تک، علماء امت وہ کام کرتے رہیں گے جوماضی میں کار نبوت رہا ہے ۔

دور رسالت میں اور اس کے بعد جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، ان کی حیثیت امت اجابت یعنی اللّٰہ کی وحدانیت اور رسول کے رسالت کو قبول کرنے والے کی ہو گئی ، یہ سب مسلمان کہلائے ، قرآن پاک میں انہیں خیر امت اور وسط امت کا لقب دیاگیا، ایک گروہ جس نے اس پیغام کو قبول نہیں کیا ، ان کی حیثیت امت دعوت کی رہی، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن تک دعوت پہونچانے کا کام ہر دو ر میں داعیان امت کا رہا ہے اور علماء اور مصلحین ا س فریضے کی ادائیگی میں غیر معمولی تندہی کا ثبوت دیتے رہے ہیں۔

اس طرح دیکھیں تو تمام غیر مسلم خواہ وہ کسی مذہب کو مانتے ہوں ، ان کی حیثیت مدعو قوم کی ہے ، اور مسلمانوں سے ان کا رشتہ داعی اور مدعو کا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ا مت ہونے میں وہ بھی شریک ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ اللّٰہ کے آخری دین کی دعوت ہمیں ان تک پہونچانی ہے ۔

داعی اور مدعو کا یہ رشتہ بڑا نازک ہوتا ہے اس کی اسا س اور بنیاد اس محبت اور تڑپ پر ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ لوگ دعوت دین قبول کر لیں ، یہ محبت ، یہ تڑپ اوریہ بے چینی کبھی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ آدمی اس فکر میں اپنے کو ہلاک کرڈالے گا۔

مسلمان اسی انداز کا تعلق غیر مسلموں سے رکھتا ہے ، اس کی ہدایت یابی کے لئے کڑھتا رہتا ہے ، وہ اپنے مدعو سے نفرت نہیں کر سکتا ، اس لئے کہ نفرت کی بنیاد پر دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا ۔اگر کوئی کسی غیر مسلم سے نفرت کرتا ہے تو وہ دعوت کے کام کو صحیح طور پر نہیں کر سکتا ، نفرت کی چیز کفر وشرک ہے ، کافر ومشرک نہیں، بالکل اسی طرح جس طرح مریض قابل نفرت نہیں ہوتا، مرض قابل نفرت چیز ہوا کرتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ساتھ غیر معمولی برتاؤ کیا ، اور انہیں مختلف موقعوں پر عزت واکرام سے نوازا ۔ یہاں پر ہمیں اس بڑھیا کو یاد کرنا چاہئے جو اللّٰہ کے رسول کے ڈر سے بھاگی جا رہی تھی ، اوراسے گٹھری ڈھونے کے لئے کسی مزدور کی تلاش تھی، اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بڑھیا کی گٹھری اٹھا کر منزل مقصود تک پہونچا دیا ، آپ کے اس حسن اخلاق نے بڑھیا کو اسلام سے قریب کر دیا اور وہ کلمۂ ’’لا الہ الااللہ‘‘ پڑھ کر مسلمان ہو گئی۔گو محدثین کے نزدیک اس کی سند مضبوط نہیں ہے ۔

یہ اور اس قسم کے بہت سارے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ داعی کے حسن اخلاق نے دین کی دعوت کے کام کو لوگوں کے دلوں تک پہونچانے کا کام کیا ، یہ کام خوف وجبر سے نہ اس زمانے میں کیا جا سکتا تھا اور نہ آج یہ ممکن ہے، آخر قرآن کریم نے یوں ہی اعلان نہیں کر دیا کہ دین میں زبر دستی (کا فی نفسہ کوئی موقع )نہیں۔

اسلام نے داعی اور مدعو کے اس رشتے کی بنیاد کو پائیداری بخشی اور ان لوگوں کیلئے جو مسلمانوں کے درپئے آزار نہیں ہوئے اور مسلمانوں کیلئے مسائل نہیں کھرے کئے ان کے لئے واضح حکم دیا کہ :اللہ تم لوگوں کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کر تا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ۔ اللّٰہ تعالیٰ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔

اسلام کا یہ حکم رحمت ورافت اور حسن اخلاق کی تعلیم پر مبنی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان بر واحسان کا تعلق نہ صرف جائز  بلکہ مستحسن ہے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت اسماء بنت ابو بکر ؓ کی والدہ حالت شرک میں ان کے پاس پہونچیں ، انہوں نے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا ماں کے ساتھ اس حالت میں وہ حسن سلوک کر سکتی ہیں، تو  اللّٰہ کے رسول صلی ا للہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ہاں ! اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرو ۔

خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ کفار ومشرکین مکہ کے ایذائیں پہونچانے اور دعوت دین کے کام میں غیر معمولی رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود جب مکہ میں قحط پڑا اور لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تو آپؐ نے مکہ مال بھیجوایا تاکہ وہاں کے فقراء اور ضرورت مندوں میں اسے تقسیم کیا جائے ۔ اس معاملے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کا معمول بھی اپنے مشرک پڑوسیوں سے حسن سلوک کا تھا، ملک شام کی طرف جاتے ہوئے حضرت عمر بن الخطابؓ کا بیت المال سے مجوسی کو ڑھیوں کی مدد کرنا ثابت ہے، اسی طرح  حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ قربانی کے گوشت اپنے یہودی پڑوسیوں کوبھی دیا جائے، اس لئے کہ پڑوسیوں کا حق بہت ہے اور اس میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق نہیں کی گئی ہے ، اسی طرح اسلام نے یتامیٰ کی خبر گیری کے لئے مسلم اور غیر مسلم کی قید نہیں لگائی ، اس سے معلوم ہو تا ہے کہ غیر مسلموں کی مالی معاونت کی جاسکتی ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت بلا تخصیص مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو محض اللّٰہ کی رضا کے لئے کھانا کھلانے کو بہتر عمل اور اپنی رضا کا سبب بتا یا ہے ،جب کہ ایک دوسری جگہ یتیموں کی ناقدری اور مسکینوں کے معاملات سے صرف نظر کرنے کو اپنی ناراضگی کا سبب قراردیا ہے۔

حسن سلوک کا ہی ایک طریقہ مریضوں کی عیادت ہے ، اسلام میں مریضوں کی عیادت کا حکم مسلم اور غیر مسلم سب کے لئے ہے ، امام بخاری نے روایت نقل کی ہے کہ ایک یہودی غلام اللّٰہ کے رسول کے پاس خدمت میں رہتا تھا ،جب وہ بیمار ہوا تو آپ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس کی عیادت کی۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کی عیادت کی اور ان پر اسلام پیش کیا، ابن حجرؒ نے ان روایتوں سے مشرکین کی عیادت کے جواز پر استدلال کیا ہے ، صاحبؒ بحر الرائق نے اسے بر واحسان کے ذیل میں رکھتے ہوئے جواز کے قول کو ترجیح دیا ہے ،امام احمد بن حنبلؒ کی بھی یہی رائے ہے۔

حسن سلوک کے ذیل میں ہی تعزیت کا معاملہ آتا ہے ، فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے ، البتہ ایسے کلمات سے اجتناب کا حکم دیا ہے جس سے شرک کی عظمت کسی درجہ میں بھی سامنے آئے، بعض فقہاء نے اسے بعض شرطوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے ، لیکن واقعہ یہ ہے کہ بر وتقویٰ کی عمومیت سے حکم عام ہی نکلتا ہے ۔

ہم ہندوستان میں رہتے ہیں اور بہت سارے ممالک وہ ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ، ان حالات میں غیر مسلموں سے تجارتی لین دین ایک سماجی اور معاشی ضرورت ہے ، اس ضرورت کے تحت مشرکین وکفار کے ہر اس معاملات میں شرکت کی جا سکتی ہے ، جو حلال ہو اور سود نیز دوسرے ممنوعات سے پاک ہو ، روزمرہ کی خرید وفروخت ، اجارہ ، رہن اور اس قسم کے دوسرے امور مالیہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے غیر مسلموں سے کئے جاتے رہے ہیں اور آج بھی ان کی اجازت ہے ، البتہ سود ، دھوکا دہی، خمر وخنزیر کے معاملہ میں ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ان معاملات میں شریک ہونا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہو گا ، مسلمان غیر مسلموں سے عاریت کا معاملہ بھی کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس کے پاس امانتیں رکھی جا سکتی ہیں اور جان ومال کی سلامتی کا یقین ہو اور احوال اس کے متقاضی ہوں توبعض صورتوں میں ان سے پناہ بھی چاہی جا سکتی ہے ۔فقہاء نے غیر مسلم والدین کا نان ونفقہ بھی ضرورتاً دینے کو جائز کہا ہے ، بعضوں کا قول اس مسئلے میں وجوب کا بھی ہے۔

صفوان بن امیہ سے یوم حنین کے موقع پر بنی قینقاع کے یہود اور خزاعہ کے ایک فرد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعانت طلب کرنا، احادیث وسیر میں مذکور ہے، اسی بنیاد پر احناف اور شوافع کے یہاں اس کے جواز کا قول منقول ہے ، اور مالکیہ میں ابن عبد اللہ اور حنابلہ کی رائے اس کے مطابق ہے ۔ تاریخ کا یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے یہودیوں سے معاہدہ کیا اور نبوت سے قبل کی جانے والی حلف الفضول میں ا پنی شرکت پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا بلکہ فرمایا کہ اگر آج بھی مجھے اس قسم کے معاہدہ کے لئے بلا یا جائے تو میں اس کے لئے راضی ہوں ، اس قسم کے واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ مصالح کے پیش نظر آج بھی اس قسم کے معاہدے کئے جا سکتے ہیں ۔

تعلقات کی استوای اور مدارات ومواسات میں ہدیہ کے لین دین کی بھی اپنی اہمیت ہے ، اس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے ’’تھادووتحابو‘‘ کہا گیا ہے ، اس سلسلے میں اسلام میں اتنی وسعت ہے کہ ہدایے دئے بھی جا سکتے ہیں اور قبول بھی کئے جا سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک ایلاء کا ہدیہ قبول کیا اور اس چادر کو زیب تن کیا ، اسی طرح دومۃ الجندل میں خیمہ کا ہدیہ قبول کیا اور اس نے باندی کا ہدیہ دیا تو اسے بھی قبول کر کے اس کی عزت افزائی کی، حسن سلوک ہی کے طور پر اسلام نے اس بات پر زور دیا کہ غیر مسلم مہمانوں کا اکرام بھی کیا جائے ،خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بارے میں عمل غیر معمولی تھا ،وہ واقعہ تو تاریخ کا سبھی کو یاد ہے کہ ایک غیر مسلم آپ کے یہاں مہمان ہوا ، آپ نے ضیافت کا غیر معمولی اہتمام فرمایا، کھانا بھی اس نے بھر پور کھایا اور بستر کو گندہ کر دیا ، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اسے دھویا ، اسی اثناء میں وہ اپنی بھولی ہوئی تلوار لینے آیا تو بھی آپ نے کچھ نہیں فرمایا اور اسے شرمندگی سے بچالیا ، اس واقعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ کو اکرام ضیوف کا کتنا خیال تھا ۔

غیر مسلموں کے ساتھ اس قسم کا سلوک انہیں مسلمانوں سے قریب کرے گا، انکی تالیف قلب ہوگی ، جس سے دفع ضرر بھی ہوگا ، اور دین کا قبول کرنابھی ان کے لئے آسان تر ہو جائے گا ، شریعت چاہتی ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے آپسی تعلقات کو بڑھا یا جائے اور دنیاوی مفاد اور مال ودولت کے حصول سے بے نیاز ہو کر محض دینی بنیاد وں پر اسے تقویت دی جائے ۔ فقہاء نے ان مقاصد کو شرط کے طور پر ذکر کیا ہے ، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مداراۃ و مواساۃ کے قبیل کے ان کاموں کا لازمی نتیجہ وہی ہوگا ، جس کا ذکر اوپر کیا گیا ۔

ایک مسئلہ سیاسی شرکت کا بھی ہے ، حکومتیں اب جمہوری انداز میں تشکیل پا رہی ہیں، ان حکومتوں کا مزاج یقینا غیر اسلامی ہے ، چاہے ملوکیت ہو یا جمہوریت، دونوں حکومت الٰہیہ کی فکر اسلامی سے متصادم ہیں ، اور یقینی طور پر وہاں اللہ کی حاکمیت کا تصورہر سطح پر ناپید ہے ، ایسے میں کیا مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہو گا کہ وہ اس طاغوتی نظام کے دست وبازوبنیں۔

اس سلسلے میں ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری نمائندگی جس قدر عوامی اداروں میں بڑھے گی ، امکانات اس بات کے قوی سے قوی تر ہوں گے کہ ہم حکومت میں اپنی باتیں منوا سکیں اور سارا کچھ تو نہیں بہت کچھ منظو رکر والیں ، ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کی بقا کی ایک وجہ یہ بھی ہے، نفقہ مطلقہ کی دستوری لڑائی میں ہماری کامیابی کا راز بھی یہی ہے ،پارلیامنٹ میں ہمارے ایسے نمائندے موجود تھے ، جنہوں نے ہماری بھر پور وکالت کی اور باہر میں ہم نے عوامی دباؤ بنا یا اور حکومت کو اس کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

پس اس معاملہ میں ہمیں قواعد فقہیہ’’ الضرر یزال ، الضرورات تبیح المحظورات ، المشقۃ تجلیب التیسیر‘‘ وغیرہ کو سامنے رکھنا چاہئے اور ہمارے نمائندوں کو استطاعت بھر پوری قوت کے ساتھ ایوان نمائندگا ن میں ان صالح قدروں کی ترویج وبقا کے لئے کوشش کرنی چاہئے جو اسلام کو مطلوب ہیں ، اس سلسلے میں اسلام نے جو یسر کا فلسفہ پیش کیا ہے اور تشدید وتغلیظ سے اجتناب کی تلقین کی ہے اس سے ہماری اس رائے کو تقویت ملتی ہے ۔ نصوص کی حد تک دیکھیں تو حضرت یوسف علیہ السلام کا وزیر خزانہ بننا بلکہ اس کا مطالبہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ غیر مسلم حکومت میں ضرورت کی وجہ سے عہدے بھی قبول کیے جاسکتے ہیں۔ فقہاء نے بعض حالات میں منصب قضا کے قبول کرنے کی بھی اجازت دی ہے تاکہ ظلم وشرک وعدوان سے عوام الناس کو بچایا جا سکے ۔ یہ در اصل اھون البلتین کو قبول کرنے کے مترادف ہے اور بڑے ضرر وشرکے مقابلے چھوٹے ضرر کو قبول کرنے کا فطری اور فقہی عمل ہے ۔

مسلمانوں کے اس قسم کے معاملات کی بنیاد نہ توتقیہ ہے اور نہ منافقت ، بلکہ یہ سب اسلام کی ان تعلیمات کا حصہ ہیں جو اکرام واحترام آدمیت کے ذیل میں آتے ہیں اور جن کے بغیر مذہب اور عمرانیت کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔لیکن ہماری اس تحریر کا مطلب قطعا یہ نہیں ہے کہ جو قومیں مسلمانوں سے متحارب ہیں اور جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے ، ان کے ساتھ بھی یہی سب سلوک کیا جائے ، دنیا کی تاریخ میںہر دور اور ہر مذہب میں ایسے لوگوں کا معاملہ جدا رہا ہے ، جو متحارب رہے ہیں۔

ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم سے تعلقات کی ایک خاص قسم جسے موالاۃ کہتے ہیں وہ جائز نہیں ہے، موالاۃ کے مختلف معنی مفسرین نے لکھے ہیں، ان میں ایک معنی یہ بھی ہے مسلمان اپنے اس تعلق میں غیر مسلم کے کفر اور اعمال کفریہ سے راضی نہ ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر کی تصویب بھی کفر ہے اور کفر سے راضی رہنا بھی کفر کے مترادف ہے۔

ان ابحاث کا حاصل یہ ہے کہ غیر مسلموں کی مدد مسلمانوں کے مقابل کرنا اور ان سے ایسا تعلق قائم کرنا جس سے مسلمانوں کے ملی رازان تک پہونچ جائے اور ملی کاز کے لئے نقصان دہ ہو ، مطلقادرست نہیں ہے ۔

لیکن جو محارب نہیں ہیں، بچے بوڑھے اور عورتیں ان کو نقصان نہ پہونچایا جائے ۔ یہ انسانیت کے خلاف ہے کہ جو آپ سے نہیں لڑ رہا ہے اور خاموشی سے گوشہ نشیں ہے اس کو قتل کر دیا جائے ، کیونکہ انسان کا خون معصوم ہے اسے دفع ضرر اور رفع شر کے علاوہ نہیں بہایا  جا سکتا __

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نظم کے فروغ میں آج کا مناظمہ اہم کردار ادا کرے گا  :پرو فیسرشہپر رسول
اگلی پوسٹ
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجیے – ڈاکٹر معید الرحمن

یہ بھی پڑھیں

صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:...

جون 1, 2025

لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –...

دسمبر 4, 2024

معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد...

نومبر 30, 2024

دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –...

نومبر 30, 2024

باکو میں موسمیاتی ایجنڈے کا تماشا – مظہر...

نومبر 24, 2024

سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور مدارس اسلامیہ...

نومبر 8, 2024

مسلمانوں کے خلاف منفی رویہ: اسباب اور حل...

اکتوبر 3, 2024

وقف کی موجودہ صورت حال اور ہندوستانی حکومت...

اکتوبر 1, 2024

مدارس اسلامیہ کا خود کفیل ہونا مفید یا...

جولائی 31, 2024

نہ سنبھلوگے تو مٹ جاؤگے – مفتی محمد...

جون 2, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں