پیٹھن (اورنگ آباد) 28/جنوری
تاریخی شہر پیٹھن میں عورتوں نے قائم کی بچوں کی پہلی لائبریری… مشن مریم مرزا محلہ لائبریری کی 26 ویں لائبریری کا افتتاح. حلقہ خواتین جماعت اسلامی ہند پیٹھن ، راہِ للہ فاؤنڈیشن، اور ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے سعدیہ فنکشن ہال پیٹھن میں شاہین دارالکتب کا افتتاح عمل میں آیا۔
اس دارالکتب (لائبریری ) کے آغاز کا سہرا محترمہ ڈاکٹر الماس مقامی ناظمہ پیٹھن کے سر جاتا ہے۔ اس کوشش میں محترمہ کے خاوند سید انظار قادری(صدر راہ للہ فاؤنڈیشن) نے بھرپور ساتھ دیا۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کو کامیابی بنانے میں ایڈوکیٹ شاہین اور ایڈوکیٹ عمران کا بھی تعاون رہا۔ دارالکتب کے افتتاحی پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ عمران کے درس قرآن سے ہوا ۔افتتاحی کلمات مقامی ناظمہ ڈاکٹر الماس صاحبہ کے تھے۔ دارالکتب کی اہمیت اور طریقہ کار پر ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کے صدر مرزا عبدالقیوم ندوی نے طلباء و والدین کی مؤثر رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ ایک سال کے عرصے میں اورنگ آباد شہر کے گلی محلوں کے بچوں کے لیے 26 لائبریریاں قائم کی گئی ہیں.. ملک کی لاکھوں لائبریریوں کو اگر زندہ رکھنا ہے تو ہمیں پرائمری اور ہائی اسکول کے طلباء میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنا ہے اور انہیں ابھی ہی سے لائبریریوں سے کتابیں حاصل کرنے کا شوق پیدا کرنا ہوگا.. مرزا نے یہ بھی کہا کہ عام شکایت و بات ہے کہ بچے پڑھتے نہیں جبکہ یہ سراسر بچوں پر الزام ہے دراصل ہم انہیں پڑھنے کے مواقع و ماحول فراہم نہیں کرتے آج بڑی خوشی کی بات ہے کہ 26 جنوری کو مشن مریم مرزا کی چھبیسویں لائبریری کا افتتاح ہورہا ہے اور وہ بھی خواتین کے اشتراک و تعاون سے وہ پر امید ہے کہ پیٹھن شہر میں مزید لائبریری شروع کرنے کی طرف سامعین کی توجہ مبذول فرمائی ۔ ناظم ضلع جماعت اسلامی ہند اورنگ آباد توفیق صاحب نے حاضرین کی رہنمائی کرتے ہوئے بڑے مؤثر انداز میں موجودہ دور میں معاشرے میں جاری خرابیوں کا خصوصاً شادی بیاہ، نکاح و طلاق کے معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے منظم انداز میں اس سنگین معاشرتی مسائل کو حل کرنے کی کئی تجاویزات پیش کیں. درشہوار نے مسلم معاشرے میں تعلیم کی حالتِ زار اور لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔ پروگرام میں مولانا قاری مرزا صادق،مولانا سراج الدین اشرفی رشیدی نے مطالعہ کی اہمیت و ضرورت پر بڑے عالمانہ اور مدلل تاریخی حوالوں کے ساتھ حاضرین کی رہنمائی فرمائی ، ذاکر سر، شائستہ نے شرکت کی۔شکریہ ذاکر سر نے ادا کیا..
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

