نہاں دلوں کی کیفیت سے باخبر حضور ہیں
میدنی نگر: ۲۰ جولائی: ڈالٹن گنج میں گذشتہ چندبرسوں سے کامیابی کے ساتھ ادبی سنسارکے زیرِ اہتمام طرحی نعتیہ مشاعرے کا انعقاد ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس سلسلے کا پندرہواں مشاعرہ مسلم نگر واقع جناب شاہین اختر کے دولت کدہ پرمنعقد کیا گیا ۔ اس مشاعرے کی صدارت شہر کے معروف شاعر الحاج شمیم ؔرضوی نے فرمائی اورمرزا خلیل بیگ طاہرؔ نے نظامت کی ذمّہ داری ادا کی۔مہمانِ خصوصی کے طَور پر جی ایل اے کالج کے شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر تسلیم عارف شریکِ محفل ہوئے۔مشاعرے کے کنوینر معروف شاعر ایم جے اظہرؔ نے مہمانوں کا استقبال کیا۔
حافظ معراج عالم نے مشاعرے کا آغاز کلامِ پاک کی بہترین قرأت کے ساتھ کیا۔مشاعرے میں تقریباً بیس شعراے کرام نے حصہ لیا اور مشاعرے میں سامعین کی تعداد بھی اچھی خاصی رہی۔ تین مصرعۂ طرح اس مشاعرے کے لیے شعراے کرام کو دیے گئے تھے اور سبھی غیر مسلم شعرا کی نعت سے اخذ کیے گئے تھے۔ تینوں مصرعۂ طرح یوں تھے:
الف۔ میں نے قرآن چھوا، ہاتھ سے خوش بو آئی(مہندر سنگھ اَشکؔ)
ب۔ مدینے کے سپنے سجانے لگے ہیں (پریم ناتھ بسملؔ)
ج۔ جدھر جدھر بھی دیکھیے، ادھر ادھر حضور ہیں (شنکر کیموری)
اکثر شعراے کرام نے ’مدینے کے سپنے سجانے لگے ہیں‘ کے مصرعۂ طرح پر گرہیں لگائیں اور بہترین کلام پیش کیا۔ ساتھ ہی اس مصرعے کی جو تضمینیں پیش کی گئیں ، اس نے بھی سامعین کو کافی محظوظ کیا۔اس طرح یہ مشاعرہ ایک کامیاب مشاعرہ رہا۔ مشاعرے کے اختتام پر مولانا مہتابؔ عالم ضیائی نے اجتماعی دعا کے ذریعے اس محفل کا ثواب بارگاہِ رسالت اور تمام مومنین تک پہنچانے کی خداے پاک سے گزارش کی۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے کچھ منتخب اشعار پیشِ خدمت ہیں:
مقدّر غریبوں یتیموں کے وللہ
نبی آئے تو مسکرانے لگے ہیں (الحاج شمیمؔ رضوی)
آگئے سرورِ دیں مِری لحد میں جس دم
قبر کی نوربھری رات سے خوش بو آئی(مولانامہتابؔ عالم ضیائی)
زمانے کی ہر آرزواِک طرف، ہم
مدینے کے سپنے سجانے لگے ہیں (تسلیم عارفؔ)
شہہِ انبیا کی بہ دولت شمیمیؔ
رضاے خدا ہم بھی پانے لگے ہیں (قاری جسیم الدین شمیمی)
یہ شہرِ طیبہ کی رہ گزر ہے، نہ چل نگاہیں اُٹھا اُٹھا کر
یہاں فِرشتے بھی آتے جاتے ہیں اپنی پلکیں جھکا جھکا کر(قیوم رومانیؔ)
مدینے کے سپنے سجانے لگے ہیں
تصور میں ہم آنے جانے لگے ہیں (پروفیسر نسیم ریاضیؔ)
ٓیہ عاشقی کا راز ہے نظر نظر حضور ہیں
نہاں دلوں کی کیفیت سے باخبر حضور ہیں(امین رہبرؔ)
اک اشارے سے قمرؔ چاک ہوا تھا جس دم
کیوں نہ پھر ایسے کمالات سے خوش بو آئے(ارشد قمرؔ)
درودوں سے ہم فیض پانے لگے ہیں
نصیب اپنا بگڑا بنانے لگے ہیں (ایم جے اظہرؔ)
پھول جھڑتے تھے لبوں سے یہ سُنا ہے میں نے
جو کہا آپ نے اُس بات سے خوش بو آئی (ڈاکٹر انتخاب اثرؔ)
جنھیں عشقِ احمد ہے وہ راہِ حق میں
دل و جان سب کچھ لٹانے لگے ہیں (نو شاد احمد خاں)
زمیں، فلک، شجر ،ہجر ، عرب ، عجم کی قید کیا
جدھر جدھر اُٹھی نظر اُدھر اُدھر حضور ہیں (مولانا صدام حسین پروازؔ)
شہہِ انبیا ہیں ہمارے معالِج
جنھیں دردو غم ہم سنانے لگے ہیں (علائ الدین شاہ چراغؔ)
پیامِ خدا ہے پیامِ محمد
سبھی کو یہ باتیں بتانے لگے ہیں(عمران شاد)
مشاعرے کے لیے عظیم انصاری اور شاہد انور صاحبان نے بھی طرح میں نعتیہ کلام ارسال فرمایا ۔ فاروق احمد ، حسنین خاں وغیرہ نے طرح سے الگ نعتیہ کلام پیش کیا۔مشاعرے میں یہ اہم اعلان بھی کیا گیا کہ ادبی سنسار کا آیندہ ہونے والا پروگرام مسالمہ رہے گا جو محرم الحرام کے مہینے میں منعقد کیاجائے گا جس کے لیے طرحیں تقسیم بھی کی گئیں۔مشاعرے کے اختتام پر ادبی سنسار کے کنوینر ایم جے اظہرؔ نے تمام شرکاے بزم کا شکریہ ادا کیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

