شاعری جو کہ ادب کی دنیا میں نزاکت و لطافت کو پرونے کا ایک بہترین ذریعہ ہے جب بھی اس کی بات کی جائے چاہے وہ سرمحفل ہو یا کہیں خود اپنی ذات کے اندر تو ایک جلترنگ کا احساس پیدا ہوتا ہے بےشک شاعری احساسات ذات کے اظہار کا ایک بہترین ذریعہ ہے شاعر اپنے اضطراب و کیفیت اور حاصل حیات اور زندگی کے متعلق اپنے نظریات کو اپنی شاعری میں سمونے کا ہنر رکھتے ہیں وہ نہ صرف اپنے جذبات کو بلکہ عوامی زندگیوں کو اپنی شاعری کا محور بناتے ہیں ادب میں صنف شاعری کی حیثیت بالکل ویسی ہی ہے جیسے لفظوں کے کوزے میں احساس کے ساگر کو سمونے کی کوشش کرنا ۔ شاعری میں عناصر ہستی کو علامات و استعارات تشبیہات سے مزین کرنے کا فن بدرجۂ اتم پایا جاتا ہے یہ اپنی مختصر بیانی میں ہی اپنے مافی الضمیر کی بخوبی ترجمانی کر دیتی ہے ۔
شاعری ایک ایسا فن ہے جو فطری صلاحیت و لیاقت سے نمو پاتا ہے اور اسی راستے پہ چل کے عروج کو پہنچتی ہے ہر چند کہ school of thought کے ذریعہ بھی لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جو کہ قابلِ ستائش ہے لیکن یہ ایک بڑا سچ ہے کہ ایک عظیم ، شاہکار سدا فطرت کی آغوش میں ہی پروان چڑھتا ہے
اور جب بات شاعری کی ہورہی ہو تو موجودہ دور میں تذکیر و تانیث کے درمیان ہم کوئ حد فاصل نہیں پاتے کہتے ہیں کہ اردو تاریخ کی شاعری میں سب سے پہلی شاعرہ ہونے کا خطاب میر تقی میر کی بیٹی کو حاصل ہوا تھا جنہوں نے شاعری کی بساط پہ اپنی صلاحیتوں کے انمٹ نقش ڈالے جو کہ ان کی ایک الگ پہچان بنا گیا اس کے بعد متعدد شاعرات نے اپنے فن کو ایک قابل تحسین جہت دی ان میں پہلی خاتون شاعرہ جنہوں نے اپنا دیوان مرتب کیا وہ چندا ماہ لقا تھیں ان کے علاوہ بےشمار شاعرات نے آہستہ آہستہ ترقی کی منزلیں طے کیں ان میں ایک نام جو کہ غزل و شاعری کی دنیا میں کسی بھی طرح محتاج تعارف نہیں ان کے جتنی شہرت بہت ہی کم شاعرات کو ملی وہ ہیں خوشبو کی تخلیق کار پروین شاکر صاحبہ۔
اردو شاعری کو ایک نیا احساس اور منفرد ردھم دینے میں پروین شاکر کا کلیدی کردار رہا ہے شاعری کے تئیں ان کے جذبوں کی فسوں خیزی اور اخلاص کا گواہ ان کا ہر قاری ہے انھوں نے بہت کم عمری میں انکشاف ذات کا تجربہ کیا اس بارے میں وہ خود خوشبو کے دیباچہ میں لکھتی ہیں …” انھیں چاند کی تمنا کرنے کے عمر میں ذات کے شہر ہزار در کا اسم عطا کردیا گیا .شہر ذات ــ کہ جس کے سب دروازے اندر کی طرف کھلتے ہیں اور جہاں سے واپسی کا کوئی دروازہ نہیں ” بےشک انھوں نے ایک بار شہر ذات کے دریچے میں قدم رکھا تو ساری زندگی رمز احساس کا دامن تھامے رکھا اور اپنے لفظوں کو روایتوں کا زنگ نہیں لگنے دیا پھولوں کی پنکھڑیاں چنتے چنتے وہ اس قدر بےخود ہوتی گئیں کہ انھیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ کب تلخ تجربات کے کانٹوں نے ان کے ہاتھوں کو لہو لہان کردیا ۔ زندگی اپنی تمام تر روپ میں ان پر آشکار ہوتی گئی اور وہ آئینہ در آئینہ اپنے آپ کو ڈھونڈتی گئیں یہاں تک کہ خودی کی جستجو میں انھوں نے خود کو فراموش کر دیا ان کے شعروں میں سادگی اور بے ساختگی کا گہرا رنگ جا بجا بکھرا ہوا ملتا ہے انھوں نے اپنے محبوب کے تئیں اپنی محبت و التفات کو کبھی پس پردہ نہیں رکھتیں ان کے جذبات کا انعکاسان کے ہر لفظ سے ہو رہا ہوتا ہے وہ خود کہتی ہیں جذبے کا حسن اس کی سچائی ہے اور اظہار کی دلکشی اس کا اعتماد ہے .. سو یہ لڑکی جب بھی آپ سے بات کرے گی تو اس کی پلکیں بےشک بھیگی ہوئی ہوں گی … لیکن ذرا غور سے دیکھئے گا …. اس کا سر اٹھا ہوا ہے ۔
تو بدلتا ہے تو بے ساختہ آنکھیں میری
اپنے ہاتھوں کے لکیروں سے الجھ جاتی ہیں
ان کی غزلوں کا محور ان کا محبوب ہی رہا باقی دوسرے احساس دوسری صف میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔
انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعہ ‘خوشبو’ میں نوعمر لڑکیوں کے احساس کی بخوبی ترجمانی کی ہے انھوں نے اپنے زخموں کے آئینے میں ہر زخمی دل کے کرب کا عکس اترتے دیکھا ہے یوں ان کی شاعری میں کہیں لطافت بیانی کو سمویا گیا ہے تو کہیں ان کے تیور میں سختئ جاں کا ادراک ہوتا ہے کیوں کہ انھوں نے نہ صرف اس عمر میں اپنے احساسات کو محسوس کیا بلکہ اپنے جذبات و احساسات کی کینوس پہ اپنی صنف کے ہر دھڑکتے دل کی کیفیت کو اپنے حواس خمسہ سے جیتے ہوئے بہت خلوص و دلجمعی سے ایک فنکار کی طرح اس کو ہر پہلو سے منعکس کیا ہے ان کا ایک شعر ان کی اس حساسیت کا گواہ ہے ۔
لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
ان کے شعری مجموعوں کا اگر بغور مطالعہ کرو تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ہر لفظ سوز و گداز کے خمیر سے گندھے ہیں وہ محبت کے اظہار کے معاملے میں اپنی نیاز مندی کو بے نیازی کے ریشمی غلاف سے چھپائے ہوئے ہیں جو کہ صنف نازک کی ایک ادا تسلیم کی جاتی ہے پروین شاکر سے ایک انٹرویو میں سوال پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک محبت کس احساس کا نام ہے تو انھوں نے بہت ہی سادگی اور ملائمت سے جواب دیا کہ جب ہم اس کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرنے لگیں تو سمجھ لیں یہ محبت ہی ہے …اور محبت جب ہر طرح کے تقاضوں کی شرط سے رہا ہو جائے تو پھر وہ ہر قید و بند سے آزاد ہو جاتی ہے پھر وہ الہام کی صورت دل میں اترتی ہے اور اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے
ان کا پہلا مجموعہ خوشبو محبت کی قبا پہ لکھی گئ ہے جہاں پہ ان کی محبت نے ان کے لفظوں کی آغوش میں سانس لی پھر لڑکھڑا چلتے ہوئے پورے وقار کے ساتھ سر اٹھا کر جینا سیکھا ان کی محبت تکمیل کی چاہ سے بے نیاز تھی محبت ایسی فضائے بسیط کی طرح ہے جس کا کوئ کنارہ نہیں ہم فضاؤں میں تیرتے رہتے ہیں اور اس کی وسعتوں کو دراز ہوتا دیکھتے رہتے ہیں محبت قدرت کا ایک انعام ہے ورنہ زندگی محبت کے بغیر ماہئ بے آب کی طرح ہے جس کا سکون اور پہلوئے حیات اس کی دسترس سے دور کردیا گیا ہو ۔
پروین شاکر محبت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر پیدا کسی بھی احساس کی نفی نہیں کرتیں چاہے وہ درد ہجر ہو یا گردش دوراں کی اذیت ہو یا سماجی تلخی کا اثر ہو اگر چہ وہ رنج و غم کا میلہ لگانے کے حق میں نہیں لیکن بہت ہی سادہ لفظوں کو اپنی درد بیانی کے لئے یوں چنتی ہیں جیسے نرم نازک پنکھڑیوں کو چھو کر محسوس کیا جاتا ہے بیشتر جگہوں پہ انھوں نے استعارات و تشبیہات و کنایات کی شکل میں کہیں برجستہ اپنے خیالات کو بیان کیا ہے ان کے کلام میں ایک ایسی کسک پائی جاتی ہے جو پڑھنے والے کے تجسس کو سوا کرتی ہوئی انھیں ان کی غزلوں کی طرف مزید ملتفت کردیتی ہے
یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں
ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں
۔
ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگے
ابھی تو چاک مرے زخم کے سلے بھی نہیں
پروین شاکر کی غزلوں میں فطرت کی عکاسی بالکل فطری انداز میں پائ جاتی ہے اور نتیجے میں ایک ایسی فضا وجود میں آتی ہے جس میں ایک طرف اگر خوشگوار لمحے ہیں تو وہیں دوسری طرف فکر و غم و اندوہ صف باندھے کھڑے نظر آتے ہیں وہ ایک امتزاج کی حسین ڈور میں بندھے ہوتے ہیں
یہ کیا کہ میں تری خوشبو کا صرف ذکر سنوں
تو عکس موجہء گل ہے تو جسم و جاں میں اتر
گئے دنوں کے تعاقب میں تتلیوں کی طرح
ترے خیال کے ہمراہ کر رہی ہوں سفر
ترا خیال ہے کہ تارِ عنکبوت تمام
مرا وجود کہ جیسے کوئی پرانا کھنڈر
ایک غزل کا فنکار جب اپنے حالات اور ماحول کے پس منظر کو لفظوں کی قطار میں لا کھڑا کرتا ہے تو وہ ایک فن پارہ بن جاتا ہے سچے احساس کی تہہ سے ابھرنے والی تخلیق ہی وقت کے قرطاس باقی رہ پاتی ہے ایسے ہی لمحات میں پروین شاکر نے اپنے شہ پارے کی تخلیق کی ان کے یہ یہاں انتہا پسندی نہیں ملتی بلکہ اپنی ظاہری نفاست کی طرح بڑے دھیمے انداز میں انھوں نے اپنی خلوت و جلوت کے لمحات کو قلمبند کیا ہے جیسے وہ لکھتی ہیں
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی
کو بہ کو پھیل گئ بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
اس نے جلتی ہوئے پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آگئ تاثیر مسیحائی کی
پروین شاکر کی غزلوں میں ایک معصومیت اور مزاح کا بھی رنگ ملتا ہے
بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے
بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشہ دیکھوں
سب ضدیں پوری کروں اس کی میں ہر بات سنوں
ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں
تانیثی فکر ان کی شاعری میں بہت واضح انداز میں نظر آتی ہے ان کی غزلیں ایک عورت کے احساس کے مختلف پرتوؤں کو حصار لفظ میں لیتے نظر آتی ہیں صنف نازک کے جذبات کی عکاسی کرنے میں انھیں ملکہ حاصل ہے ایک لڑکی جن سارے نشیب و فراز کے مدارج سے گذرتی ہے اس سفر میں جس سرشاری و رنج و کلفت کا تجربہ ہوتا اس کا اظہار وہ بڑے فنکارانہ لیکن عام فہم اسلوب میں کرتی ہیں
احمد ندیم قاسمی کی انگلی پکڑ کر انھوں نے جس سفر کا آغاز کیا تھا انھوں نے تادم مرگ اس کی آبرو رکھی پروین شاکر اپنے زندگی کے تخلیقی سفر میں جذبے احساس ، شعور کے فاصلے طئے کرتے ہوئے اپنے شعری فن پاروں کو خوشبو، صدبرگ، خودکلامی، انکار، کف آئینہ کا نام دیتے ہوئے شعری مجموعوں کی حیثیت سے ادبی دنیا کے اسٹیج پر پیش کیا کف آئینہ ان کا آخری شعری مجموعہ ہے جو ان کی وفات کے بعد مرتب کیا گیا تھا
مارچ 1987ء کے آخر میں دہلی میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا اس مشاعرے کی سب سے اہم خصوصیت پاکستان کی نوخیز شاعرہ پروین شاکر کی شرکت تھی پروین شاکر نے اپنی وہ مشہور غزل سنائی جس کا مطلع ہے …
پابہ گل ہیں سب رہائی کی کرے تدبیر کون
دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
غزل ختم ہوئی تو بشیر بدر نے کہا کہ محترمہ آپ نے ایسی مردانہ غزل سنائی کہ ہمیں چوڑیاں پہن لینی چاہیے اس پر پروین شاکر نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو اب لیں آپ کو زنانہ غزل سناتی ہوں تاکہ آپ ہاتھوں کی چوڑیاں اتار لیں وہ ایک بذلہ سنج اور خوشبو طبع خاتون تھیں خاموش پسند لیکن برجستگی سے وہ ہم مقابل کو لاجواب کر دیتی تھیں
ان کی شاعری دنیائے ادب کے لئے متاع بے بہا ہے تاابد ان کے اشعار کو لوگ اپنی محبت و احساس کے اظہار کے لئے یاد رکھیں گے ۔ بارش کے بھیگتے لمحوں میں بھاپ اڑاتی چائے کی سپ لیتے ہوئے بالکنی میں کھڑے ہو کے آج بھی ہم ان کے شعری نغمگی سے محظوظ ہوتے ہیں
نوید
سماعتوں کو نوید ہو کہ
ہوائیں خوشبو کے گیت لیے کر
دریچہء گل سے آرہی ہیں
۔
کھلی آنکھوں سے سپنا جاگتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے
میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
غمزدہ لمحوں میں کبھی ہم پڑھتے ہیں
۔
ہتھیلیوں کی دعا پھول لے کے آئی ہو
کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حنائی ہو
کوئ تو ہو جو مرے تن کو روشنی بھیجے
کسی کا پیار ہوا میرے نام لائ ہو
جب ذاتی کیفیات فکر و فن کا پیراہن زیب تن کرتی ہے تو وہ ایسے پھول کی خوشبو بن جاتی ہے جو ہر راہگیر کے قدموں کے گرد زنجیر بن جاتی ہے پھر وہ احساسات و الفاظ پروین شاکر کے ہی نہیں رہتے بلکہ عوام الناس کے بھی ہو جاتے ہیں اپنے فکر و رنج کو انھوں نے کیا خوبصورت اسلوب دیا ہے
سچ تمھارے ساتھ کڑوے تھے مگر اچھے لگے
پھانس بن کر رہ گیا بس ایک افسانہ مجھے
اجنبی لوگوں میں ہو اور اتنی دور ہو
ایک الجھن سی رہا کرتی ہے روزآنہ مجھے
جب احساس اپنے منتہائے کمال پہ ہو اور دریں اثنا ملال اپنی گھٹاؤں کا دائرہ بڑھانے لگے تو سوز غم اور نکہت نشاط سے آرستہ اشعار جنم لیتے ہیں
دل پہ اک طرفہ قیامت کرنا
مسکراتے ہوئے رخصت کرنا
کون چاہے گا تمھیں میری طرح
اب کسی سے نہ محبت کرنا
گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے
وقت مل جائے تو زحمت کرنا
قرطاس ادب پر فطری حسن اور نسائی جذبات کی ترجمانی کا اگر ذکر کیا جائے تو پروین شاکر ان شاعرات میں سرفہرست ہوں گی جنھوں نے اس کا حق ادا کردیا ہے
شہ نشیں پہ چاند نکلا اک پرانی یاد کا
دل میں پرچم سا کھلا کس قریہء برباد کا
ایک ان دیکھی خوشی رقصاں ہے برگ و بار میں
باغ ہستی میں مرے موسم ہے ابر و باد کا
میں تو اڑنا بھول جاؤں زندگی بھر کے لئے
بھر گیا ہے دل مگر مجھ سے مرے صیاد کا
علیزے نجف
سرائے میر اعظم گڈھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

