سلیم محی الدین کا شمارایسی شخصیات میں کیا جا سکتاہے جنھوں نے تنقید اور تخلیق دونوں میں تجسس اورتازہ کاری کا ثبوت دیا ہے۔ ان کی تخلیق جہاں ایک نئے تخیلاتی جزیرے کی جستجو کرتی ہے وہیں تنقید بھی نئے زاویے اور نئی جہتیں تلاش کرتی نظر آتی ہے۔ دونوں محاذ پر کامیابی کے ساتھ بہت کم لوگوں نے اپنا سفر طے کیا ہے۔ سلیم محی الدین خوش نصیب ہیں کہ ان کی دونوں مسافتیں کامرانی سے ہم کنار ہیں اور دونوں میں انھوں نے عمومی راہ و روش سے ممکنہ گریز کی کوشش کی ہے ۔ شاعری میں جہاں اس طرح کے شعر ملتے ہیں:
آسماں کی خبر نہیں رکھتے
ہاں زمینیں شمار کرتے ہیں
میں ہوائوں کے پر کترتا ہوں
راہ میں میری حادثے رکھنا
اپنے آپ کو ڈھونڈ رہا ہوں
دروازے پر لکھا جائے
سمٹتا جا رہا ہے گھر کا آنگن
انا دیوار ہوتی جا رہی ہے
نیند سے دشمنی تو قائم ہے
خواب تھا وہ جو ہم نے دیکھا تھا
اک ہتھیلی سوچ میں ڈوبی ہوئی
ایک چہرہ ذہن میں سوچا ہوا
وہیں ان کی تنقیدی تحریروں میں بھی اسی تازگی بھری شاعری جیسی کیفیت ملتی ہے۔ یہاں بھی انھوں نے وہی راہ اختیار کی ہے جو مطروق نہیں بلکہ نئی نئی رہ گزر سی لگتی ہے جو قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
سلیم محی الدین چاہتے تو اپنی تنقید و تحقیق کے لیے ان موضوعات کا انتخاب کرتے جن پر بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جاچکے ہیں۔ دہلی ،لکھنو اور عظیم آباد کے دبستان ِشعر و ادب کو وہ اپنا محور و مرکز بناتے اور پرانی اینٹوں پر اپنی تنقید و تحقیق کی بلند و بالا عمارت کھڑی کر دیتے مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ اس راہ پر چلنا انھیں منظور نہیں جس پر پہلے ہی ہزار پائوں پڑ چکے ہوں۔ اسی لیے انھوں نے ایک ایسی سر زمین کا انتخاب کیا جس سے وہ خود تو مانوس ہیں مگر اردو کی ایک بڑی آبادی کے لیے یہ علاقہ ہنوز اجنبی ہے اور ایسے علاقے کی تخلیقی روایت اور اس کے لسانی اور ادبی امتیازات سے عام اردو والوں کو واقف کرانا ایک نئے جزیرے کی سیر کرانے جیسا ہے۔ لکھنو اور دہلی اور دیگر دبستانوں کے فن کاروں سے ملاقاتوں اور آشنائیوں کی صورتیں توبہت سی ہیں، ڈھیروں تذکرے ہیں، سینکڑوں کتابیں ہیں، درجنوں تاریخیں ہیں مگر ان مشہور دبستانوں کے علاوہ بہت سی بستیاں اور علاقے ایسے ہیں جن سے شناسائی کی راہ کم ہی نکل پاتی ہے۔ اسی لیے جب ایسے مراکز سے دور حاشیائی علاقوں اور بستیوں کی بابت کوئی کتاب منظر عام پر آتی ہے تو کولمبس جیسا ذہن رکھنے والا قاری ایسی کتابوں سے اپنا رشتہ قائم کرتے ہوئے ایک عجب طرح کی مسرت محسوس کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس نے بھی کولمبس کی طرح ایک نیا علاقہ دریافت کر لیا ہے۔
مراٹھواڑہ میں اردو غزل‘ــ ـ‘ کے بجائے سلیم محی الدین کی یہ کتاب لکھنو ،دہلی میں اردو غزل جیسی ہوتی تو شاید یہ میری دلچسپی کا محور نہ بن پاتی کیوں کہ ان شہروں کے حوالے سے اتنی کتابیں دستیاب ہیں کہ ان کا شمار بھی مشکل ہے اور یہاں کے بیشتر شعرا تحقیق و تنقید (تحقید) کے مرکزی حوالوں میں بھی شامل رہتے ہیں۔ کسی نہ کسی وسیلے سے ان کا ذکر ہوتا رہتا ہے مگر مراٹھواڑہ مجھ جیسے قاری کے لیے بالکل نئی دریافت ہے اور اسی لیے مجھے یہاں کے تخلیقی تحیرات، تموجات اور تحرکات سے خاص دلچسپی پیدا ہوئی اور یوں بھی ہمیں ایک نئے ادبی نقشے کی تلاش کا عمل جاری رکھنا چاہیے کہ Franco Moretti نے Literary Geography کی جو ایک اصطلاح وضع کی تھی اس پر ہم نے توجہ نہیں دی اور ہم ایک ہی ادبی جغرافیے میں قید ہو کر رہ گئے جس کی وجہ سے ہماری ادبی زمینیں سمٹ کر مختصر ہوتی گئیں اور ہم ایک محدود مرکز میں محصور ہو گئے۔ اگراس طرح کی کتابیں نہ آتیں تو ادبی زمینوں کی زرخیزی، وسعت اور تازگی و تنوع کا ہمیں پتا بھی نہیں چلتا۔ حاشیائیت اور مرکزیت کے تصادم اور ادبی تحفظات اور تعصبات سے بھی واقف نہ ہو پاتے۔ ہمیں ایسی ہی کتابوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ چند دبستانوں کی مرکزیت کی وجہ سے دوسرے ادبی علاقے نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں اور وہاں کے فن کاروں کو ان کے حصے کی شہرت و مقبولیت سے بھی محروم رکھا گیا ہے جب کہ ان فنکاروں کے اندر مرکز جیسی قوت اور توانائی بھی ہے لیکن مراکز سے دور ہونے کی وجہ سے انھیں تنقیدی یا تحقیقی حوالوں میں شامل نہیں کیا جاتا شاید یہی وجہ ہے کہ آج علاقائی ادبی تاریخ لکھنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
سلیم محی الدین کی یہ کتاب تاریخ ادب اردو کی تکمیل کی کوشش کہی جائے گی کہ اس میں ایک بڑے اردو علاقے کے فن کاروں کے حوالے سے تنقیدی خیالات کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کے فکر و فن کو پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس علاقے کی کچھ ادبی شخصیات سے اردو کا باشعور قاری ضرور واقف ہے مگر ایک بڑی تعداد ا ایسے فن کاروں کی بھی ہے جن سے بیدار و باخبر حلقہ بھی شاید آگاہ نہ ہو۔
سلیم محی الدین کی یہ کتاب مطالعہ کا حصہ نہ بنتی آتی توناصر جنگ شہید ، میر یحییٰ عاشق ، فخرالدین ترمذی ، علی نقی خاں ایجاد، عاشق علی خاں ایما، خواجہ عنایت اللہ فتوت، مظہر عرفانی ، امام الدین یقین، سوزاں، قاضی سید حامد علی تنویر، احسن یوسف زئی ، عبدالرئوف عروج، اطہر جالنوی،مقتدر نجم، عروج احمد عروج، قمر اقبال، رئوف انجم، صغیر کوثر ، یونس فہمی ،سہیل احمد رضوی ، نذیر اختر، رئیس احمد خاں شاکر، فہیم احمد صدیقی، عبد الرحیم کوثر، فاروق شمیم، وحید کلیم، سجاداختر، فیروز رشید، جاوید امان، شمیم جوہر وغیر ہ وغیرہ ناموں سے شاید ہم واقف بھی نہ ہو پاتے اور ان فن کاروں کی فنی اور فکری تہہ داریاں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہی رہتیں ۔
سلیم محی الدین کی یہ کتاب مراٹھواڑہ کی اس سر زمین کی تخلیقی سائیکی اور ثقافت سے روشناس کراتی ہے جس کی ایک زریں تاریخ رہی ہے اور جو علم و فن کا ایک گہوارہ ہے۔ اس کی تہذیب و ثقافت کا ذکر قدیم تاریخی دستاویزوں میں ملتا ہے۔ اس سر زمین میں گو کہ مراٹھی جیسی مضبوط زبان رائج ہے مگر اردو کے لیے بھی یہ زمین زرخیز رہی ہے کہ یہاں کی زبان مراٹھی پر اردو کے بہت گہرے اثرات ہیں کہ جن سے اردو اور مراٹھی کی قربتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم محی الدین نے اس تعلق سے بہت اہم اشارہ کیا ہے کہ:
’’مراٹھواڑہ کی مراٹھی پر اردو کے شدید اثرات آج بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ اسی لئے مراٹھواڑہ کی مراٹھی بولی کو ’مراٹھواڑی بولی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ معروف مراٹھی نقاد پروفیسر ناگناتھ کوتاپلے کے مطابق: عربی، اردو کے بے شمار الفاظ مراٹھی میں شامل ہوگئے۔ لیکن اس کا تناسب مراٹھواڑی کی مراٹھی میں کہیں زیادہ ہے۔ مثلاً الماری، دفتر، پچھتاوا، آمدنی، بیع نامہ، معائنہ، مہربانی، اندرون، واپس، حلال، تائیت، (بمعنی تعویذ)، برکت، روٹی وغیرہ وغیرہ۔ ڈاکٹر کوتاپلے کے مطابق مہاراشٹر کے کسی بھی علاقے کی بولی جانے والی مراٹھی سے زیادہ اردو عربی الفاظ مراٹھواڑہ کی بولی میں پائے جاتے ہیں اور مراٹھواڑی بولی کی صحیح طاقت اور خوبصورتی اس کے اسی ذخیرہ الفاظ میں مضمر ہے۔‘‘ (ص 21)
لسانیاتی نقطہ نظر سے بھی یہ کتاب ایک نئے زاویے سے روشناس کراتی ہے کہ اس سرزمین نے ایک نئی زبان اور ایک نئی لسانی تہذیب کو جنم دیا ہے اور یہی وہ زمین ہے جہاں سے ولی کا تعلق ہے جنہوںنے غزل کو ایک نیا رنگ و آہنگ دیا۔ یہیں سے حسن شوقی کا رشتہ ہے جنھیں اردو کا پہلامراٹھواڑہ نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے اور یہیں کے خواجہ محمد دہدار فانی ہیں جنھیں مراٹھواڑہ کی غزل کا نقش اول سمجھا جاتا ہے اور اسی سرزمین کے آفتاب سراج اورنگ آبادی بھی ہیں جن کی غزل ’خبر تحیر عشق سن ، نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘ بہت مشہور ہے اور یہیں سے چمنستان شعرا کے مصنف لالہ لچھمی نارائن شفیق اور’ تذکرہ گل عجائب‘ کے مصنف اسد علی خاں تمنا کا تعلق ہے۔ ان کے علاوہ اور بہت سارے شعرا ہیں جو مرکزی تنقیدی حوالوں میں شامل ہیں مثلاً سکندر علی وجد،وحید اختر، بشر نواز، حمایت علی شاعر، عصمت جاوید،شاہ حسین نہری، سحر سعیدی، اسلم مرزا، جاوید ناصر، عتیق اللہ ، ڈاکٹر صادق، عارف خورشید وغیرہ ۔ ان لوگوں کے حوالے سے کچھ تنقیدی تحقیقی مقالوں میں اشارات ضرور مل جاتے ہیں۔ مختلف نظریات اور تحریکات سے تعلق رکھنے والے شعرا کی موجودگی رہی ہے جس کی وجہ سے تمام تحریکات کو اس سرزمین پر فروغ ملا مگر ارضیت یہاں کی ایک اہم خصوصیت رہی ہے ۔
ڈاکٹر سلیم محی الدین نے مراٹھواڑہ میں اردو غزل کی روایت پر گفتگو کرتے ہوئے بہت سے اہم نکتوں کی طرف اشارے کیے ہیں جن پر غزل کے ناقدین اور محققین کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’وہ صنف جسے شمال میں ریختہ یا ریختی کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا اور جو ابتذال کی انتہا کو چھو رہی تھی اس صنف کو غزل کے نام سے موسوم کرنے کی پہلی شہادت حضرت شاہ اشرف بیابانی جالنوی (م۔1528) کے کلام میں ملتی ہے۔ یعنی 1528 سے قبل مراٹھواڑہ میں غزل کو ایک باوقار مقام حاصل ہو چکا تھا۔ شاہ اشرف بیابانی کے بعد اردو غزل کے پہلے باضابطہ شاعر حسن شوقی (م1633) اور خواجہ محمد دہدار فانی (م1607) بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وہی حسن شوقی ہے جس کے چراغ سے چراغ جلا کر ولی نے اردو غزل کو آسمان پر پہنچایا— غزل کے آغاز و ارتقا کے بابا میں مراٹھواڑہ کی قدامت اس لیے بھی مسلم ہے کہ انیسویں صدی کے اختتام تک بھی اہل شمال ولی کو اردو غزل کا باوا آدم قرار دیتے رہے جو ولی کو اردو غزل کا باوا آدم قرار دیتے ہیں ظاہر ہے کہ ان کی پہنچ خواجہ محمد دہدار فانی، حسن شوقی اور اشرف بیابانی تک نہیں تھی۔‘‘ (ص306)
سلیم محی الدین کی یہ بات تسلیم کر لی جائے تو اردو غزل کی پوری تاریخ ہی بدل جائے گی اور اس باب میں مراٹھواڑہ کو اولیت کا تاج پہنانا پڑے گا۔ تحقیق اسی نوع کے انکشاف سے عبارت ہے۔ ڈاکٹر سلیم محی الدین نے ایک نئی تحقیق پیش کرکے ہمارے تنقید نگاروں اور محققین کو از سر نو شعر و ادب کی تاریخ لکھنے کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ المیہ ہی ہے کہ قومی سطح کی جو ادبی تاریخیں لکھی گئی ہیں ان میں مراٹھواڑہ کے فنکاروں کا ذکر بہت کم یا نہیں کے برابر ملتا ہے۔ جب کہ یہ علاقہ غزل کے باب میں بہت ہی زرخیز ہے۔
سلیم محی الدین رقمطراز ہیں:
’’غزل کے باب میں اس قدر خوش نصیب اور زرخیز خطہ زمین شاید ہی کوئی ہو جیسا کہ مراٹھواڑہ ہے۔ اس علاقے میں اردو غزل کے آغاز ہی سے ایک مستحکم روایت کے آثار ملتے ہیں۔ یہ روایت ولی تک پہنچتے پہنچتے کافی ترقی پاچکی تھی۔ اسی بنا پر ولی کو ولی بننے میں زیادہ دیر نہیں لگی اور اسی لیے اہل شمال ولی کا کلام دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔ ولی سے سراج، تمنا، عاجز، شفیق سے ہوتی ہوئی یہ روایت صفی اورنگ آبادی اور اقدس اورنگ آبادی تک پہنچتی ہے۔ صفی اور اقدس کے ہمراہ یہ روایت بیسویں صدی میں داخل ہوتی ہے اور یہاں مراٹھواڑہ میں کلاسیکی غزل کا آخری پڑاؤ وجد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ وجد کا دورمراٹھواڑہ میں کلاسیکی روایت کے عروج کا دور ہے ساتھ ہی اس دور میں ترقی پسند تحریک بھی اپنے شباب پر نظر آتی ہے۔ وجد کے ساتھیوں میں رائے ہریش چندر دکھی جالنوی تصوف کی دنیا آباد کیے ہوئے ہیں تو یعقوب عثمانی دبستان لکھنؤ کی رعنائیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ شمال سے بغرض ملازمت اورنگ آباد میں مقیم شعرا میں درد کاکوروی، صدق جائسی، غلام طیب، اور متین سروش روایتی غزل کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ وہیں مولانا عمر صدیقی اطہر جالنوی، حکیم خان حکیم، اختر الزماں ناصر، مظہر عرفانی، محمد اشرف الدین فاروقی فیضی، غوث محی الدین سوزاں، نظام الدین، وحید ہنگولوی اور حامد علی تنویر (دیگلوری) وجد کے ہمراہ کلاسیکی غزل کی آبیاری میں مصروف ہیں۔ 1936 کے آس پاس ترقی پسند شاعری کا غلبہ ہوا۔ مراٹھواڑہ کے بھی کئی شعرا اس تحریک سے متاثر ہوئے۔ جس کے پہلے اثرات لالہ بنداپرساد سریواستو خیال(ویجاپوری) کی غزل میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جب کہ امام الدین یقین کو مراٹھواڑہ کا پہلا باضابطہ ترقی پسند شاعر قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کا کلام از اول تا آخر ترقی پسند شاعری کا آئینہ دار ہے۔‘‘ (ص309)
سلیم الدین محی الدین کی اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سرزمین کی ایک مضبوط شعری روایت رہی ہے جس کے بغیر اردو کی شعری روایت اور اس کے تسلسل سے آگہی ممکن نہیں کیوں کہ اس سرزمین نے اسالیب اور موضوعات کے اعتبار سے اردو شاعری کی ثروت میں گراں قدر اضافہ کیا ہے اور کئی باکمال شعرا ہیں جنھوں نے غزل کو نیا رنگ و آہنگ اور نیا طور و طرز اختیار کیا ہے۔ ایسے فنکاروں کا اعتراف نہ کیا جانا تحفظ اور تعصب ہی کہلائے گا ۔ اس علاقے کی تاریخ و تہذیب اور تخلیق کو اردو کی مجموعی روایت سے جوڑے بغیر ہماری ادبی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ سلیم محی الدین کی یہ کتاب ہماری ادبی تاریخ کا ایک تکملہ ہے اور تاریخ ادب اردو کو اس طرح کے مزید تکملوں کی ضرورت ہے۔
٭٭٭
Haqqani Al-Qasmi
Mob.: 9891726444
Email.: haqqanialqasmi@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
فکرانگیز مضمون۔۔۔ مبارک باد