"مذہب سے میری مراد یہ مذہب نہیں، یہ دھرم نہیں جس میں ہم میں سے نناوے فیصد ی مبتلا ہیں . میری مراد اس خاص چیز سے ہے جو کہ انسان کو دوسرے انسانوں کے مقابلے میں جدا گانہ حیثیت بخشتی ہے. وہ چیز جو انسان کو حقیقت میں انسان ثابت کرتی ہے. لیکن یہ چیز کیا ہے؟”
مذکورہ خیالات کا اظہار سعادت حسن منٹو نے اپنے ایک افسانہ ‘سہائے’ میں کیا ہے اور اسی افسانے میں اس” خاص چیز” کو سہائے کے کردار میں اجاگر کیا ہے جو ان کے نزدیک انسان کو انسان ثابت کرتی ہے.دراصل اپنے بہتیرے افسانوں میں منٹو نے مذہبی رواداری، وسیع المشربی اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو بڑے احترام کے ساتھ پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک صحت مند سماج کی تعمیر و تشکیل کا خواب انہیں جذبوں کی بنا پر شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے. بالخصوص فسادات کے پس منظر میں لکھے گئے افسانوں میں منٹو نے انہیں نظریات کی تشریح کی ہے.
تقسیم وطن کے سبب ہونے والے فسادات میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی قوموں کے لوگ جس المیے سے دوچار ہوئے اس کو اردو کے قلمکاروں نے اپنے حوصلے اور اپنی قابلیت کے مطابق اپنے فن میں ڈھالا. ملک، مذہب اور نسل کے نام پر کئے گئے معصوم لوگوں کا قتل، بچوں اور بوڈھوں کی خوںریزی اور عورتوں کی عصمت دری کی کتنی ہی دردناک کہانیاں ہیں جو اردو کے افسانوی ادب کا اہم جز ہیں. لہٰذا منٹو نے بھی اپنے انداز نظر سے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا. اپنے افسانوی مجموعہ ‘شیاہ حاشیے’ میں منٹو نے وہ سب کچھ بیان کیا جو فسادات کا سہارا لے کر انسانوں نے روا رکھا. ‘شیاہ حاشیے’ میں شامل افسانوں کے علاوہ کئی دوسرے افسانے بالخصوص ‘ٹھنڈا گوشت’ اور ‘ کھول دو ‘میں بربریت کی ساری داستاں موجود ہےجو بٹوارے کی دین تھی. منٹو کے یہ سارے افسانے انسانی بربریت اور اس کی حیوانیت کے درپردہ یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ مذہب اور نسل کے نام پر اقتدار اور حکومت تو قائم کئے جا سکتے ہیں تاہم رواداری، انسان دوستی و ہمدردی اور اتحاد و اتفاق کے چراغ کو روشن نہیں رکھا جا سکتا جبکہ یہی چیزیں ہر مذہب کی روح ہوا کرتی ہیں. اسی لئے منٹو نے ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ، موذیل، رام کھلاون اور سہائے جیسے افسانوں کی تخلیق کر کے مذہبی رواداری اور انسانی ہمدردی کی عمدہ مثالیں پیش کیں. انہوں نے ان افسانوں میں پوری ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہو کر انسان کے سینوں میں چھپے ہوئے انسانیت کو ابھارا اور سفاکی اور حیوانیت کو روا رکھنے والے لوگوں کے سامنے ایسے کرداروں کو لا کھڑا کیا جن کے گفتار اور کردار سے انسانی ہمدردی کی شعائیں پھوٹتی نظر آتی ہیں. ‘سہائے، موذیل، رام کھلاون اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ایسے ہی کردار ہیں جن کی انسان دوستی اور انسانی ہمدردی مذہب و ملت، رنگ و نسل اور جغرافیائی حدود سے بالا تر ہے. ان کے دلوں میں مذہبی تعصب نہیں، کدورت نہیں بلکہ ہر مذہب سے اور ہر مذہب کے ماننے والوں سے پیار ہے، عقیدت ہے.
افسانہ ‘سہائے’ بنیادی طور پر دو حصے میں بیان ہوا ہے. پہلے حصہ میں افسانے کے ایک کردار ممتاز کے پاکستان روانگی کی وجوہات کو بیان کیا گیا ہے اور جس کے تحت جگل، برج موہن، ممتاز اور واحد متکلم یعنی راوی کو فسادات اور اس کے درپردہ کام کرنے والے محرکات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے. دوسرے حصہ میں افسانے کے مرکزی کردار یعنی سہائے کے ایثار، خلوص اور اس کی انسانی دردمندی کو پیش کیا گیا ہے. افسانے کے یہ دونوں حصے ایک دوسرے سے اس قدر مربوط ہیں کہ انہیں الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا. دراصل منٹو سہائے کے کردار کو پر اثر بنانے کے لئے پہلے اس مذہبی تعصب کا ذکر کیا ہے جس کے تحت جب انسان کے سر پر مذہبی جنون سوار ہوتا ہے تو کس طرح دوست و احباب بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے خطرہ محسوس کرنے لگتے ہیں. واضح ہو کہ افسانے کے پہلے حصہ میں ممتاز کے پاکستان جانےکی وجہ فسادات ہی ہے. کیونکہ جگل کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ لاہورمیں اس کا چچا مارا گیا ہے تو اسے بہت صدمہ ہوتا ہے. اور ایک دن باتوں ہی باتوں میں اپنی اندرونی کیفیات کا اظہار کرتے ہوئے ممتاز سے یہ کہتا ہے کہ اگر محلے میں فساد شروع ہو جائے تو میں تمھیں مار ڈالوں گا.ہرچند کہ جگل کو اس بات کا بہت افسوس ہوا کہ اس نے ایسی بات کیوں کہی. تاہم جگل کی پشیمانی ممتاز کے یقین اور اعتماد کو بحال نہ کر سکی. حالانکہ ممتاز کے نزدیک فسادات کو سمجھنے کا دوسرا ہی نظریہ تھا. وہ جگل سے کہتا ہے.
"لاہور میں تمھارے چچا کو ایک مسلمان نے مار ڈالا. تم نے یہ خبر سنی اور مجھے قتل کر دیا. بتاؤ تم اور میں کس تمغے کے مستحق ہیں؟ اور لاہور میں تمھارا چچا اور اس کا قاتل کس خلعت کا حقدار ہے………… مذہب، دین، ایمان، یقین، دھرم، عقیدت یہ جو کچھ بھی ہے جسم کے بجائے روح میں ہوتا ہے جو چاقو اور گولی سے فنا نہیں کیا جا سکتا. ”
(افسانہ – سہائے، کتاب،منٹو شخصیت اور فن – مرتبہ پریم گوپال متل، نئی دہلی 1980 – صفحہ – 288)
افسانے کے اس اقتباس پر ہم غور کریں تو دو باتیں واضح طور پر ابھرتی ہیں. اول یہ سمجھنا کہ انسانوں کو قتل کر کے کسی مذہب کو ختم کیا جا سکتا ہے ایک ذہنی خرافات اور کم عقلی کے سوا کچھ نہیں ہے. اور دوسرے انسان کا مذہب، اس کا ایمان، اس کا یقین، اس کا دھرم اور اس کی عقیدت کا اظہار ان عوامل سے قطعی نہیں ہوتا جو انسانیت سے متبائن ہو. اسی لئے ممتاز اپنے دوستوں سے کہتا ہے کہ مذہب سے مراد یہ مذہب نہیں جس کے نام پر لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے. بلکہ مذہب سے مراد یہ ہے کہ اس کے اندر انسان ایک دوسرے پر مہربان ہو، ایک دوسرے کا ہمدرد ہو اور سب سے اہم بات یہ کہ جو انسان کے ضمیر کو روشن کرے. پھر ممتاز انہیں ایک ایسے روشن ضمیر انسان کی روداد سناتا ہے جس کا نام سہائے تھا. پر چند کہ سہائے عورتوں کا دلال تھا تاہم اس کا دل انسانی ہمدردی کا خزینہ ہے اور روشن ضمیر کا مالک ہے. منٹو اس کی تعریف ممتاز کی زبانی یوں کراتے ہیں –
"وہ کٹر ہندو تھا. پیشہ نہایت ہی ذلیل. لیکن اس کے باوجود اس کی روح کس قدر روشن تھی؟ مجھے حیرت ہےکہ وہ کیسا انسان تھا. اور زیادہ حیرت اس بات کی ہے وہ عرف عام میں ایک بھڑوا تھا. عورتوں کا دلال. لیکن اس کا ضمیر بہت صاف تھا…. اس کا پورا نام مجھے یاد نہیں. کچھ سہائے تھا. بنارس کا رہنے والا – ”
(افسانہ ‘سہائے’ کتاب منٹو شخصیت اور فن – مرتب پریم گوپال متل – دہلی- 1980 ،صفحہ -229)
اس میں کوئی شک نہیں نہیں کہ سہائے لڑکیوں کا دھندا کرتا ہے. لیکن اس ذلیل پیشے کو اختیار کرنے کے باوجود اس کا سینہ انسانی ہمدردی سے معمور ہے. وہ خود ایک کٹر ہندو ہے لیکن احمدآباد کی ایک ہندو لڑکی کی شادی ایک مسلمان سے کرا دیتا ہے.اس کا یہ عمل اس کے سیکولر کردار کو اجاگر کرتا ہے. سہائے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ دھوکہ اور فریب نہیں کرتا. حالانکہ جس پیشے سے وہ جڑا ہے اس میں ایسی باتوں کی گنجائش بہت کم ہوا کرتی ہے. لیکن سہائے کی بلند کرداری اور اس کی عظمت کا راز یہی ہے کہ وہ اوروں سے مختلف ہے. کیونکہ اس کے قول و فعل میں کوئی بعد نہیں ہے. اگر کسی لڑکی کو کوئی بیماری ہے تو وہ گاہکوں سے پوشیدہ نہیں رکھتا. اتنا ہی نہیں اس نے ہر لڑکی کے نام پر ڈاک خانے میں سیونگ اکاونٹ کھول رکھا ہے.اور دس بارہ لڑکیوں کے کھانےکا خرچ اپنی جیب سےادا کرتا ہے.
سہائے مذہب کی سچی روح کو بھی بخوبی سمجھتا ہے. اگر وہ اپنے مذہب کا پکا ہے تو ایسا نہیں کہ وہ دوسرےمذہب کے ماننے والوں کو کمتر سمجھتا ہے بلکہ دوسروں کے مذہبی آداب و لحاظ کا بھی پورا خیال رکھتا ہے. وہ خود گوشت نہیں کھاتا لیکن دوسروں کو ایسا کرنے سے منع نہیں کرتا. اس کی اس وسیع النظری کو ممتاز اپنے دوستوں سے یوں بیان کرتا ہے.
"ایک دن میں اس کے یہاں گیا. تو اس نے مجھ سے کہا امینہ اور سکینہ چھٹی پر ہیں. ہر ہفتے ان دونوں کی چھٹی دے دیتا ہوں تاکہ باہر کسی ہوٹل میں جا کر ماس وغیرہ کھا سکیں. یہاں تو آپ جانتے ہیں سبھی ویشنو ہیں.”
(افسانہ ‘سہائے’ کتاب – منٹو شخصیت اور فن – مرتب پریم گوپال متل – دہلی-1980 صفحہ 229)
دراصل سہائے مذہب کے ظاہری ڈھکوسلوں پر اعتبار نہیں کرتا. اس کے نزدیک مذہب سے اصل مراد یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آوے اور ایک دوسرے کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھے. مذہب کی بنا پر آپسی رنجس یا کدورت کو وہ مزہب کے منافی سمجھتا ہے. لہٰذا بھنڈی بازار میں جب وہ فرقہ پرستوں کی بہمیت کا نشانہ بن کر فٹ پاتھ پر جان دیتا ہے اس وقت بھی اس کے دل میں کوئی مذہبی رنجس پیدا نہیں ہوتی اور وہ سلطانہ کو زیورات اور بارہ سو روپئے دینے کی ذمہ داری کو فراموش نہیں کرتا. حالانکہ وہ یہ جانتا ہے کہ کسی مسلمان نے ہی اسے زخمی کیا ہے. لیکن تھوڑی دیر کے لئے بھی اس کے ذہن میں مسلمانوں سے نفرت کرنے کا خیال پیدا نہیں ہوتا. سہائے کی بلند کرداری کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی کے بالکل ہی آخری لمحات میں جبکہ وہ آخری سانسیں گن رہا ہے تب بھی اسے سلطانہ اور اس کے پیسے اور زیورات کا خیال ہے. وہ کسی صورت سے بھی سلطانہ کی اس امانت کو اس کے حوالے کر دینے کا متمنی ہے. اس کے ارادے میں کوئی کمی نہیں آتی. ممتاز سے وہ یہ نہیں کہتا کہ دیکھو مسلمانوں نے مجھے مارا مجھےزخمی کیا بلکہ وہ اس کے ہاتھوں میں وہ ساری رقم سلطانہ تک پہنچانے کے لئے دے دیتا ہے. وہ مر رہا ہے لیکن اس کا اسے کوئی غم نہیں ہے فکر ہے تو صرف یہ کہ سلطانہ کے روپے اسے مل جائیں.
انہیں صفات میں سہائے کی بلند کرداری اور اس کی عظمت چھپی ہوئی ہے اور وہ ایک گرے ہوئے پیشہ کو اپنا کر بھی اپنے ضمیر اور اپنی روح کا سودا نہیں کرتا. لڑکیوں کا دلال ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے سینے میں ایک ہمدرد دل چھپائے ہوئے ہے. منٹو نے سہائے کی اسی ہمدردی کو اعلیٰ انسانی قدروں کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے. جہاں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سہائے ہندو نہیں، بھڑوا نہیں بلکہ ایک ہمدرد انسان ہے. اسے ہر مذہب سے پیار اور ہر انسان سے ہمدردی اور محبت ہے.
سہائے کی طرح ‘موذیل’ بھی ایک کرداری افسانہ ہے اور مشہور افسانہ ہے. یوں تو اس افسانے کا تانا بانا فسادات کے پس منظر میں تیار کیا گیا ہے. تاہم یہاں فسادات کا ذکر ثانوی حیثیت رکھتا ہے. کیونکہ کہانی کا اصل مقصد موذیل کے اخلاق، اس کی انسانی ہمدردی اور اس کے سیکولر ذہن کو پیش کرنا ہے.
سعادت حسن منٹو نے ‘موذیل’ میں نام نہاد مذہب اور تہذیب و اخلاق کی دہائی دینے والوں کے دل و دماغ پر پڑے ہوئے فرسودگی کے غلاف کو اتار کر ان کی قلعی کھولنے کی کوشش کی ہے. کیونکہ منٹو کے نزدیک مذہب اور اخلاق کے معنی مروجہ معنوں سے مختلف ہیں. منٹو کا ماننا تھا کہ اخلاق اور انسانی ہمدردی کسی کی جاگیر نہیں ہوتی. یہ پورے طور پر فرد کا ایک ذاتی معاملہ ہوتا ہے. لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ انسانی زندگی کی ان قدروں کی پاسداری یا ان کا تعین ایک مخصوص طبقہ ہی کر سکتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سماج کے گرے ہوئے ذلیل اور بد کردار کہے جانے والے بھی اپنا ایک اخلاقی تصور رکھتے ہیں. موذیل ایک ایسے ہی کردار کا نام ہے.
منٹو نے موذیل کی جو تعریف بیان کی ہے اس کے مطابق وہ ایک ایسی آوارہ یہودن لڑکی ہے جو بہت سے نوجوانوں کے ساتھ عشق کا ناٹک رچاتی ہے. موذیل کی حرکتوں سے ایسا لگتا ہے کہ اخلاق ومروت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں. لیکن معاملہ بالکل برعکس ہے. کیو نکہ ظاہری طور پر دکھنے والی موذیل جو کچھ بھی نظر آتی ہے وہ اس کے باطن سے بالکل مختلف ہے. اور موذیل کا باطن ہی اس کی شخصیت کی اصل پہچان ہے.
موذیل اپنے عاشق ترلوچن کے جذبات کو اکثر ٹھکڑا کر دوسرے کے پہلو میں چلی جاتی ہے. لہٰذا ترلوچن موذیل سے شادی کرنے کا ارادہ ترک کر کے اپنے گاؤں کی ایک سکھ لڑکی سے شادی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے. لیکن اسی بیچ بمبئی میں فساد کی آگ بھڑک اٹھی تو کرپال کور کی جان خطرے میں پڑ گئی کیونکہ وہ ایک ایسے محلے میں رہتی ہے جہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے. ترلوچن اسے کسی صورت سے بچا کر اپنے پاس لانا چاہتا ہے لیکن وہ اس قدر خوفزدہ ہے کہ اس کی ہمت وہاں تک جانے کی نہیں ہوتی.
موذیل کو جب اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ کرفیو کی خلاف ورزی کر کے کرپال کور کو بچانے کے لئے نکل پڑتی ہے. حالانکہ موذیل یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ کرپال کور کا محلہ مسلمانوں کی آبادی سے بھرا پڑا ہے. جہاں ان حالات میں جانا اپنے آپ کو موت کے منھ میں ڈالنا ہے. تاہم موذیل کو اپنے مرنے کا کوئی غم نہیں ہے. اور اپنی اسی ہمت کی بنا پر وہ کرپال کور کو بچا بھی لیتی ہے. لیکن جب وہ بلوائیوں کو چکما دے کر زینے پر چڑھ رہی ہوتی ہے کہ اس کا پاؤں پھسل جاتا ہے اور وہ بری طرح زخمی ہو جاتی ہے. حتیٰ کہ زخموں کی تاب نہ لا کر وہیں دم توڑ دیتی ہے. اور اس طرح مذہب و ملت کی قیود سے بالاتر ہو کر وہ محض انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایک ایسا اخلاقی فریضہ انجام دیتی ہے جس پر ہر مذہب ناز کر سکتا ہے.یہاں ایک امر غور طلب ہے کہ مرتے دم تک وہ مذہب کے روایتی تصور سے نفرت کا ہی اظہار کرتی ہے. کیونکہ ترلوچن نے اس کے ننگے جسم کو اپنی پگڑی سے ڈھانپ دیا تو اس کا ردعمل نہایت تلخ اور ترش تھا. وہ کہتی ہے.
"موذیل نے اپنے بدن پر سے ترلوچن کی پگڑی ہٹائی” لے جاؤ اس کو، اپنے مذہب کو. اور اس کا بازو اس کے کی مضبوط چھاتیوں پر بے حس ہو کر گر پڑا. ”
(افسانہ ‘موذیل’ مجموعہ – منٹو کے نمائندہ افسانے – مرتبہ – ڈاکٹر اطہر پرویز، علی گڑھ ،1977،صفحہ- 44)
ظاہر ہے کہ افسانے کے اختتام پر موذیل کا یہ ردعمل سماج کے مروجہ اخلاقی اور مذہبی قدروں سے مختلف ہے. دراصل موذیل کے نزدیک ظاہری مذہب، لباس یا فرسودہ اخلاقی اصولوں کی پابندی کوئی معنی نہیں رکھتی. انسانی دردمندی اور ہمدردی ہی اس کا مذہب اس کا اخلاق ہے. ڈاکٹر محمد حسن موذیل کے کردار کے متعلق لکھتے ہیں –
"موذیل تمام تر سماجی قدروں کی باغی ہے. اسے مذہب و اخلاق کی قدروں سے واسطہ نہیں. لیکن اس میں انسانیت دوستی کی وہ شمع روشن ہے جو انسان کو انسان سے ملاتی ہے.”
(ڈاکٹر محمد حسن – ادبی تنقید —1954 – صفحہ – 119)
بلاشبہ جو جذبہ انسان کو ایک دوسرے سے قریب کرے، اس کے دلوں کو ملائے وہ جذبہ یقیناً اخلاق اور آدرش کا ایک روشن ستارہ ہے جس کی روشنی محبت، خلوص، رواداری اور وسیع القلبی جیسے اعلیٰ اقدار حیات کو تاریکیوں کے بھنور میں ڈوبنے نہیں دیتی ہے. خلاصہ یہ ہے کہ ان افسانوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ منٹو نے انسانی فطرت اور اس کے تہہ دار پہلوؤں کو کنگھال کر اس کے اندر چھپے ہوئے مذہب کے ان مثبت پہلوؤں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے جو اخلاقی تصور کو ایک نئے فکری تناظر میں دیکھنے کا تقاضا کرتی ہے.
**************************
DR. Md Shahnawaz Alam
Assistant Professor
Deptt.of Urdu
Millat College, Darbhanga
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

