نام کتاب : رموز تحقیق/ ڈاکٹر سید شاہد اقبال
مبصر : داؤد احمد، (E-mail: daudahmad786.gdc@gmail.com)
ڈاکٹر سید شاہد اقبال اردو کے ایک قابل فخر مورخ،ناقد و محقق ہیں جن کی تخلیقات اردو کے مختلف اخبارات و رسائل میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کے گلہائے رنگارنگ فکر وخیالات سے مزین تحقیقی مجموعہ ئ مضامین” رموز تحقیق“ میں شامل مضامین ملک و بیرون ملک کے رسائل و جرائد میں شائع ہوکر داد و تحسین پا چکے ہیں۔صاحب فکر سامعین اور دیگر احباب گرامی کی فرمائش پر انھوں نے ان مضامین کو یکجا کرکے ایک کتابی شکل میں پیش کیا ہے جونہایت دیدہ زیب،فکر انگیز، ظاہری ومعنوی اعتبار سے لائق ستائش ہے۔اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب پہلی بار 2015میں منظر عام پر آئی۔ محض دو برسوں میں اس کا دوسرا اڈیشن(نیا اڈیشن) بازار میں آچکا ہے۔ اس کتاب کی وجہ تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر سید شاہد اقبال رموز تحقیق کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
” زیر نظر تحقیقی مضامین کا مجموعہ’رموز تحقیق‘ میرے تحقیقی مزاج کی آئینہ دار ہے“۔(رموز تحقیق، اشاعت دوم،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی، 2017، صفحہ 15)
ڈاکٹر سید شاہد اقبال نہایت خلیق،ملنسار،شگفتہ مزاج،حلیم الطبع، مجسمہ خلق و مروت اور اپنے دل میں خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والے ایک اعلیٰ صفات سیرت و شخصیت کے حامل ہیں اور یہی جملہ اعلیٰ ترین صفات ان کے مضامین میں بھی نظر آتی ہیں جس کو انھوں نے اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں صفحہئ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ نیز اپنے فکر انگیز جذبات اور احساسات کو خوبصورت الفاظ سے مزین کرکے نہایت دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب” رموز تحقیق“ ڈاکٹر سید شاہد اقبال کی ادبی،علمی وتحقیقی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔موصوف ایک عرصے تک سینئر استاد گورنمنٹ سینئر سکنڈری اسکول (حکومت بہار) کے عہدے پر فائز رہے۔مبارکباد کے مستحق ہیں ڈاکٹر سید شاہد اقبال صاحب جنھوں نے تحقیق جیسے خشک موضوع پر قلم اٹھا کر اپنی صلاحیت اور قابلیت کو دنیائے ادب کے سامنے پیش کیا۔پروفیسر عبد المنان طرزی نے کتاب کے ابتدا میں ڈاکٹر سید شاہد اقبال اور ان کی تحقیقی کاوش کا منظوم تعارف پیش کیا ہے :
معنوی گنجینہ ہے یہ شاہد اقبال کا
روشنی تحقیقی لفظوں پر ہے ڈالی برملا
ان کی تحقیقات کی یہ ایک خوبی ہے بڑی
گوہر مقصد کی خاطر کرتے ہیں غوطہ زنی
کاوش مطبوعہ کی فہرست پر ڈالیں نظر
مختصر مدت میں پورا کر گئے لمبا سفر
خادم اردو ہیں یہ اعزاز بھی کچھ کم نہیں
جلوہئ محبوب سے کچھ پاکے روشن ہے جبیں
زیر نظر کتاب ”رموز تحقیق“ مشہور و معروف محقق ڈاکٹر سید شاہد اقبال کے مختلف تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں مختلف اوقات میں لکے گئے وہ مضامین ہیں جو بین الاقوامی ہند و پاکستان کے مقتدر رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوا ہے جس میں مصنف نے کتاب کی نوعیت اور مقصد بیان کی ہے۔ستائیس(27) مضامین کے اس مجموعے میں چند مضامین ایسے ہیں جن میں اردو ادب کے بلند پایہ ادیبوں اور شاعروں کے فکر و فن سے بحث کی گئی ہے۔ان مضامین میں ڈاکٹر سید شاہد اقبال نے با معنی اور دلچسپ بحث اس انداز سے کی ہے کہ لطف آجاتا ہے۔انھوں نے مولانا فضل حسین مظفر پوری،مولانا عبد الغفار نشر مہدانوی،حکیم سید اولاد علی کاہش جونپوری،حکیم سید عابد علی کوثر خیرآبادی،مرزا نادرشاہ خاں شوخی رام پوری،شانتی رنجن بھٹاچاریہ،امیر چند بہار،کالیداس گپتا رضا اور قاضی عبد الودود کی بعض تحریروں کو تحقیقی نقطہئ نظر سے دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کی ہے۔
ان مضامین کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے کتاب کی فہرست پر نطر ڈالنا ضروری ہے کہ یہ مضامین کتنے اہم موضوعات پر مشتمل ہیں۔ کتاب کا پہلا مضمون ’آغاحشر کاشمیری کا ورود عظیم آباد‘ ہے جس میں آغاحشر کاشمیری کے قیام عظیم آباد سے متعلق چند ادبی کاوشوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔آغا حشر کے دو(۲) ڈرامے ” ایک دن کی بادشاہت“ اور ”لیلیٰ مجنوں“ کے اسٹیج کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
کتاب کا دوسرا مضمون ”علامہ اقبال اور مشاہیر بہار“ کے عنوان سے ہے جس میں چند مشاہیر بہار’ سر علی امام‘ پروفیسر اقبال حسین،شاد عظیم آبادی،شاہ سلیمان پھلواروی،علامہ سید سلیمان ندوی،ڈاکٹر عظیم الدین احمد اور پروفیسر عبد المنان بیدل عظیم آبادی کا ذکر ہے جن سے علامہ اقبال کو عقیدت خاص تھی۔ بابائے اردو کے رفیق کار پروفیسر محمد معین الدین دردائی پروفیسر رشید احمد صدیقی کے عزیز شاگرد اور ڈاکٹر ابو للیث کے ہم جماعت تھے جو بابائے اردو مولوی عبد الحق کے معتمد خاص بھی رہے۔ بابائے طب ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی جنھوں نے اپنی پوری زندگی طب یونانی کی تحقیق میں صرف کردی۔ ان ہی کی ایجاد کردہ مرکبات میں دماغین اور سنکارا وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے اعلیٰ کارناموں کا ذکر بڑی خوش اسلوبی سے کیا گیا ہے۔
کتاب کا اگلا مضمون ”بنگلہ دیش میں اردو کا ایک گجراتی خادم: خوشتر منگرولی“ ہے۔ سر زمین گجرات کا وہ عظیم شاعر ہے جس کی پذیرائی نہ ہوسکی۔ ان پر پہلی بار تحقیقی مضمون سید شاہد اقبال کا بے بہا کارنامہ ہے۔” ٹونک میں بہار کے دو علما“ کے حوالے سے مولانا محمد عبد اللہ دیسنوی اور مولانا سید برکات احمد میر نگری کا تفصیلی ذکر خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔” خواجہ حالی کا ایک بہاری شاگرد: ولی عظیم آبادی“ کو بہار میں خواجہ حالی کے واحد شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہے اور مولانا وحید الدین سلیم پانی پتی کا بہار سے رشتہئ تلمذ اور ان کی علمی و ادبی خدمات قارئین کے لیے مشعل راہ ہے۔
تذکرہ شعراکے سلسلے میں ہریانہ کے چند گمنام شعرا اور عظیم آباد کے مضافاتی شعرا،گیا کے مضافاتی شعرا،تذکرہ شعرائے ارول کے ساتھ ساتھ گجرات اور راجستھان میں اردو کے بہاری خادم کی خدمات کا تفصیلی ذکر بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ اس کے علاوہ آثار قدیمہ اور تعمیرات سے متعلق مضامین جن میں ’بہار کے قدیم منادر‘ اور ’بہار میں راجہ مان سنگھ کی تعمیرات‘ جیسی تحریریں شامل ہیں ان میں یادگار عمارتوں کا تاریخی اور تعمیراتی پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ’بنگال کے صوفیائے کرام،بہار میں اردو افسانے کے ابتدائی نقوش اور منیر شریف و بہار میں ورود اسلام جیسے علمی،تہذیبی و تاریخی مضامین بھی شامل ہیں۔
کتاب کے آخر میں مشاہیر اہل قلم کی آراء اور مصنف کا سوانحی خاکہ پیش کیا گیا ہے جس سے موصوف کی علمی،ادبی، تحریری اور تحقیقی کارناموں کا پتہ چلتا ہے۔ پوری کتاب میں نقد و تحقیق کے معیار ووقار کو جس طرح برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے وہ بھی قابل توجہ ہے۔
ڈاکٹر سید شاہد اقبال نے جو بھی لکھا ہے وہ دلائل کے ساتھ لکھا ہے،حوالوں کے ساتھ لکھا ہے۔ان کے تحریر کردہ ہر مضمون میں ایک نیا پن محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے انھوں نے جس شخص پر بھی قلم اٹھایا اسے ایک نئی شناخت دے دی اور ان کی یہی انفرادیت انھیں دیگر قلم کاروں سے ممتاز کرتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب معیاری ہے اور گھسے پٹے عام موضوعات سے اجتناب برتا گیا ہے۔ ڈاکٹر سید شاہد اقبال قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے اپنے مضامین کو ایک جگہ جمع کردیا ہے تاکہ قارئین اس سے استفادہ کر سکیں۔ امید ہے کہ یہ کتاب اردو دنیا میں ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔

