ہر معاشرہ ایک تہذیبی کُرہ میں سانس لیتا ہے۔ ہر شاعر ایک معاشرے میں جیتا ہے یعنی شاعر بھی اپنے معاشرے کے کسی تہذیبی کُرے کا دال یعنی Signifier ہوتا ہے۔ کبھی کبھی معاشرت کو بھی تہذیب کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ تہذیب اور ثقافت، تہذیب اور تمدن تو مترادفات کے بطور ہماری زندگی کے Archetypal کلیدی الفاظ ہیں۔ کمال حیرت تو یہ ہے کہ اہل یوروپ تہذیب، ترقی اور مادیت کی تثلیث سے پیدا شدہ مرکب کو اہمیت دیتے تھے اور تہذیب کا لفظ مغرب کے لیے ہی مختص تھا۔ اپنی اس تہذیب کے علم کو لے کر اہل مغرب دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئے اور اسے نصب کرنے کی کوشش میں خوب خوب قتل و غارت گری ہوئی۔ خیر یہ ان کی باتیں تھیں، وہی جانیں۔
ہمارے ہندوستان میں ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی فرقوں میں عقیدے کو اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا اولیت بہرحال مذہب کو حاصل ہے۔ علامہ اقبال نے مغربی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھا پڑھا اور سمجھا تھا۔ وہ تسخیر فطرت کے لیے جدید علوم و فنون کے ساتھ ساتھ مذہب کو ضروری سمجھتے تھے۔ تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ میں بحث و تمحیص کے بعد آخری خطبہ ’’کیا مذہب کا امکان ہے‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’عصر حاضر کا انسان اگر پھر سے وہ اخلاقی ذمہ داری اٹھا سکے گا جو علوم جدیدہ کے نشو و نما نے اس پر ڈال رکھی ہے تو صرف مذہب کی بدولت۔ یوں ہی اس کے اندر ایمان و یقین کی اس کیفیت کا احیا ہوگا جس کی بدولت وہ اس زندگی میں ایک شخصیت پیدا کرتے ہوئے آگے چل کر بھی اُسے محفوظ و برقرار رکھ سکے گا۔ اس لیے کہ مذہب، یعنی جہاں تک مذہب کے مدارج عالیہ کا تعلق ہے، نہ تو محض عقیدہ ہے نہ کلیسا نہ رسوم و ظواہر۔‘‘ ۳؎
شاعر مشرق کے خیالات کی روشنی میں اگر بات کی جائے تو آج کی چکاچوند کرنے والی نئی تہذیب کو اپنانے کے لیے اور اس کی اخلاقی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اپنے مذہبی افکار کی طرف مراجعت لازمی ہے۔ لیکن یہاں ہم جس تہذیبی تناظر میں اردو نظم پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش کریں گے وہ صرف مذہبی اور عقیدے سے تعمیر شدہ تناظر نہیں ہوگا بلکہ ہندوستان کے مختلف النوع مذاہب اور طرز بود و باش اور آپسی لین دین، نیز طرز گفتگو سے تعمیر ہونے والا تہذیبی تناظر ہوگا۔ اس تہذیبی تناظر کی تشکیل میں اندرون ملک کے ساتھ ساتھ باہر سے آنے والوں کے ساتھ آنے والے مختلف عناصر تھے جو یہاں کے تہذیبی پانی میں گھُل مل گئے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے:
’’ہندوستانی ذہن کو زمانہ قدیم سے مختلف اور متنوع تحریکوں اور تہذیبوں کا سامنا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تہذیب تو وہ تھی جو یہاں قبل تاریخی زمانے سے موجود تھی۔ دوسرے وہ تہذیبی نظریات و اعتقادات جو باہر سے آنے والے خانہ بدوشوں، تاجروں اور حملہ آوروں کے ساتھ ہندوستان میں آتے رہے جنہوں نے یہاں کی زندگی میں رنگ بھرے۔ تیسرے وہ انقلاب آفریں فکری تحریکیں مثلاً بدھ مت، جین مت، شِواور وِشنو بھگتی، صوفی سنت فکر، اسلامی اثرات، نیز کرشن بھگتی، رام بھگتی، نِرگن بھگتی وغیرہ جو ہندوستان میں وقتاً فوقتاً وقوع پذیر ہوئیں اور ہندوستانی تہذیب کو جنہوں نے نہایت گہرے طور پر متاثر کیا۔ وسیع معنوں میں ہماری تہذیب ان سب اثرات کا مرکب ہے۔‘‘ ۴؎
تہذیبی تناظر کے لیے اتنی تمہید کافی ہے۔ اب ہمیں اردو نظم کے حوالے سے تہذیبی عناصر پر گفتگو کرنی ہے۔ اگر ہم ہندوستانی موسموں، تیوہاروں، میلوں ٹھیلوں،رسم و رواج، لباسوں، آداب و اطوار یہاں تک کہ طوائفوں سے رسم و راہ بڑھانے سے لے کر سوزخوانی اور عزاداری پر غور کریں تو ان کے نقوش اردو شاعری میں قلی قطب شاہ سے لے کر ملا وجہی اور ان کے ہم عصروں تک ملتے ہیں۔ اسی طرح شمالی ہند میں شاہ حاتم، فائز دہلوی، قائم چاند پوری، مضمون، شاکر ناجی، آبرو، یک رنگ وغیرہ سے لے کر نظیراکبرآبادی، میر درد، میر اثر، سودا، میر حسن، مصحفی، پھر مومن اور ذوق و غالب سے لے کر ترقی پسند تحریک تک ہندوستانی تہذیبی عناصر کی چھان پھٹک کی جاسکتی ہے۔ یہ نقوش غزلوں میں، مثنویوں اور قصائد کے ساتھ ساتھ نظم کی اس صنف میں بھی ملتے ہیں جس کی صنفی شناخت بعد میں قائم ہوئی۔
تمام تہذیبی عناصر پر گفتگو ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کچھ اہم اور واضح عناصر کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی۔ راکھی بندھن سے لے کر ہولی، دیوالی، شب برات اور عید پر نظمیں کہی گئیں۔ اردو شاعروں میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ خوبی کی بات یہ ہے کہ دونوں فرقوں سے متعلق اردو شاعروں نے مشترکہ ہندوستانی تہذیب کو اپنی نظموں میں پیش کیا۔ فائز دہلوی نے ’’ہولی‘‘ کے عنوان سے ایک قطعہ کہا ہے۔ اسی طرح حاتم کی ’’مثنوی بہاریہ‘‘ میں ہولی اور دیوالی دونوں کا بیان کیا گیا ہے۔ فائز کے قطعے سے یہ حصہ دیکھیے:
سب کے تن میں ہے لباس کیسری
کرتے ہیں صدبرگ سوں سب ہمسری
چاند جیسا ہے شفق بھیتر عیاں
چہرہ سب کا از گلال آتش فشاں
ناچتی گا گا کے ہوری دم بہ دم
جیوں سبھا اِندر کی در باغ ارم
از عبیر و رنگ کیسر اور گلال
ابر چھایا ہے سفید و زرد و لال
جوش عشرت گھر بہ گھر ہے ہر طرف
ناچتی ہیں سب تکلف برطرف ۵؎
ہولی پر میر نے جرأت نے اور دوسرے کئی قدیم شعراء نے نظمیں کہی ہیں لیکن نظیر اکبرآبادی کی نظم میں جو فطری پن اور جو ایک طرح کی کشش ہے وہ دوسروں کے یہاں مفقود ہے۔ نظیر کی نظم پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ نظیر اس ہولی کھیلنے والوں کی جماعت میں خود بھی شامل ہیں۔ ان کی لفظیات بھی بے تکلفانہ استعمال ہوئی ہیں۔ ساتھ ہی جُزیات پر ان کی خاص نظر ہوتی ہے۔ صرف ایک بند دیکھیے:
ہر جاگہ تھال گلابوں سے خوش رنگت کی گلکاری ہے
اور ڈھیر عبیروں کے لاگے سو عشرت کی تیاری ہے
ہیں راگ بہاریں دکھلاتے اور رنگ بھری پچکاری ہے
منھ سرخ سے ہیں گل نار ہوئے تن کیسر کی سی کیاری ہے
یہ روپ جھمکتا دکھلایا یہ رنگ دکھایا ہولی نے
اسی طرح اگر عبدالحلیم شرر کی تصنیف ’’گزشتہ لکھنؤ‘‘ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ تعزیہ داری کی رسم میں ہندو مسلم سب شریک ہوتے تھے۔ اس کی مثالیں ہماری اردو نظم میں بھری پڑی ہیں۔ ان ہندو شعراء کا ذکر یہاں چھوڑتا ہوں جنہوں نے شہدائے کربلا کے حوالے سے مرثیے کہے یا پھر خوبصورت نعتوں کے نمونے چھوڑے۔ یہ سب ہماری ملی جلی طرزِ زندگی کی نشانیاں ہیں۔ آج کے عہد میں اس فضا کی باز آفرینی اگر ممکن ہو تو ہندوستان کی شوریدگی کچھ کم ہوسکے گی۔
تہذیب کے ذیل میں رسوم کا ذکر بھی آتا ہے۔ سید احمد دہلوی نے لکھا ہے کہ:
’’مسلمانوں کی عورتوں اور ان کے سبب ان کے مردوں میں جس قدر رسمیں مروج ہیں وہ تقریباً سب کی سب ہندوانی رسمیں ہیں جن میں سے بہت سی رسمیں تو جوں کی توں ہیں۔ بعض کے نام تو وہی ہیں مگر طریقے بدل گئے ہیں۔ بعض میں برائے نام فرق کردیا ہے۔ بعض کو مذہبی امور میں بہ تغیر نام شامل کرلیا۔ مثلاً رسم تیجا ہندوؤں میں، فاتحہ، سوم یا پھول مسلمانوں میں۔‘‘ ۶؎
رسم و رواج کے ساتھ میلے ٹھیلے بھی ہندوستانی تہذیب کا حصہ رہے ہیں۔ پھول والوں کی سیر، میلہ بہتہ، چھڑیوں کا میلہ، عیش باغ کا میلہ، قیصر باغ کا میلہ، آگرہ کا میلہ۔ اس طرح پتنگ بازی اور تیراکی جیسے شوق اور مشغلوں کا ذکر اردو شاعری میں ملتا ہے۔
پھول والوں کی سیر کے حوالے سے بہادر شاہ ظفر نے نوبند کا ایک مخمس لکھا تھا۔ ایک بند ملاحظہ کیجیے:
رنگ کا جوش ہے ماہی سے ز بس ماہ تلک
ڈوبے ہیں رنگ میں مدہوش سے آگاہ تلک
آج رنگیں ہیں رعیت سے لگا شاہ تلک
زعفراں زار ہے اک باغ سے درگاہ تلک
دیکھنے آئی ہے اس رنگ سے خلقت پنکھا
اسی طرح پتنگ بازی، مرغ بازی، بیٹر بازی، کبوتر بازی وغیرہ کی بھی ایک زمانے میں تہذیبی حیثیت تھی۔ میرتقی میر نے لکھنؤ کی ٹوٹتی بکھرتی تہذیبی بساط کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان کی مثنوی ’’مرغ بازاں‘‘ کے یہ حصے دیکھیے:
مرغ بازوں کو ہے قیامت جوش
جس کو دیکھو تو مرغ در آغوش
مرغ لڑتے ہیں ایک دو لاتیں
سینکڑوں ان سفیہوں کی باتیں
ان نے پر جھاڑے یہ پھڑکنے لگے
ان نے کی نوک یہ کڑکنے لگے
وہ جو سیدھا ہوا تو یہ ہے کج
ساتھ اس کے بدلتے ہیں سج دھج
ایک کے منہ میں مرغ کی منقار
ایک کے لب پہ نا سزا گفتار
کھانچے سر پر بغل میں مارے مرغ
لے گئے جیتے ہارے سارے مرغ
پتنگ بازی کے حوالے سے بھی لکھنؤ، دہلی اور آگرے کا ذکر آتا ہے۔ نظیراکبرآبادی نے اور غالب نے بھی پتنگ بازی کو شعری جامہ عطا کیا ہے۔ اس زمانے کے معاشرے میں ان مشاغل کی تہذیبی حیثیت تھی۔ ایسے موضوعات پر نظمیں کہنے کا ملکہ نظیر کو سب سے زیادہ تھا۔ پتنگ بازی قلعہ معلی میں بھی ہوا کرتی تھی۔ ’مرقع زبان و بیان دہلی‘ میں ذکر ہے کہ خود بہادر شاہ ظفر لطف اندوز ہوتے تھے اور کبھی کبھی خود اس میں شریک ہوتے تھے۔ آگرے کی پتنگ بازی کے حوالے سے نظیر کی نظم کا ایک بند ملاحظہ کیجیے:
یاں جن دنوں میں ہوتا ہے آنا پتنگ کا
ٹھہرے ہے ہر مکاں میں بنانا پتنگ کا
ہوتا ہے کسرتوں سے منگانا پتنگ کا
کرتا ہے شاد دل کو اڑانا پتنگ کا
کیا کیا کہوں میں شور مچانا پتنگ کا
نظیر اکبرآبادی کے بارے میں پروفیسر آل احمد سرور نے لکھا ہے:
’’ان کی نظموں میں نہ صرف اس دور کی ساری تہذیبی زندگی کا عکس نظر آتا ہے بلکہ آدمی نامہ، ہنس نامہ اور بنجارہ نامہ جیسی نظموں میں اس تہذیب کی انسان دوستی، اخلاقی نقطۂ نظر اور رواداری کا بھرپور عکس بھی۔‘‘ ۷؎
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس کی اپنی ایک تہذیبی و ثقافتی پہچان بھی ہوتی ہے۔ اوپر جن عوامل یا رسوم یا مشاغل کا مختصراً ذکر ہوا ہم سب ان سے واقف ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا ذکر بالتفصیل یہاں ممکن بھی نہیں۔ حقّہ پینے سے لے کر پان پیش کرنے اور پتنگ بازی اور کبوتر بازی تک، یہ سب ہمارے معاشرے کے تہذیبی نشانات ہیں۔ ہندو مسلم کی مشترکہ تہذیبی روایات بھی آپس میں ضم ہوگئی ہیں۔ کہیں کہیں ایک دوسرے کی تہذیب کو ایک دوسرے نے اضافی طور پر اپنے یہاں شامل کرلیا ہے۔ دکن کی مثنویوں سے لے کر شمالی ہند کی مثنویوں میں اپنے اپنے عہد کے تہذیبی عناصر ملتے ہیں۔
۱۸۵۷ء کی ناکام جنگ آزادی کو ہندوستانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے ایک موڑ سمجھنا چاہیے۔ اس کے بعد زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہوتا ہے۔ جو احساس کمتری پیدا ہوا تھا، اس سے نکلنے کے لیے کوششیں ہونے لگیں۔ ہندو مسلم دانشوروں اور اکابرین نے اس طرف توجہ کی۔ سرسید احمد خاں سے پہلے بھی کوششیں ہوئیں مگر ان کے زمانے میں اصلاح کی جہتیں زیادہ واضح اور وسیع ہوگئی تھیں۔
اردو شاعری پر غزل کا نشہ طاری تھا۔ انگریزی شعر و ادب سے استفادے کی طرف نظر گئی۔ اس کام میں ’’انجمن پنجاب‘‘ کا سب سے اہم رول رہا ہے۔ اس انجمن کا قیام محکمۂ تعلیم، لاہور کے ڈائریکٹر کرنل ہالرائڈ کے ایما پر ۲۱؍ جنوری ۱۸۶۵ء کو عمل میں آیا۔ واضح ہو کہ اس کے صدر پنڈت من پھول تھے جنہوں نے اس کا نام رکھا تھا ’’انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب‘‘ انگریزی میں لکھا جاتا تھا "Society for the diffusion of useful knowledge in Panjab” لیکن یہ ادارہ صرف انجمن پنجاب سے مشہور ہوا۔ اس انجمن سے مولوی محمد حسین آزاد کا بھی تعلق تھا۔ انھوں نے محسوس کرلیا تھا کہ نئی تہذیب کی سواری شاہانہ چلی آرہی ہے۔ اس بات کا ذکر انھوں نے ۱۸۶۷ء میں انجمن کے ایک جلسے میں اردو نظم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا۔ ان بزرگوں کے پیش نظر معاشرے کے مسائل بھی تھے۔ دہلی کے اجڑنے اور سلطنت کے بکھرنے کی تصویریں ہمیں مختلف شاعروں کے یہاں ملتی ہیں۔ منیرشکوہ آبادی کو پہلی جنگ آزادی کی پاداش میں کالا پانی بھیجا گیا تھا۔ ان کی غزل ’داغ غم‘ سے چند شعر دیکھیے کہ تہذیب بساط کس طرح الٹ جاتی ہے:
مسجدیں ٹوٹی پڑی ہیں صومعہ ویران ہیں
یاد حق میں ایک دو دلہائے سوزاں ہوں تو کیا
خانقاہیں منہدم ہیں مے کدے آباد ہیں
رنج میں ہیں اہل دیں خوش اہل عصیاں ہو تو کیا
بیگمیں شہزادیاں پھرنے لگیں خانہ خراب
سب چڑیلیں صاحبان قصر و ایواں ہوں تو کیا
منعم و فیاض ہیں محتاج نان خشک کے
خاک روبوں کو میسر خوان الواں ہوں تو کیا
یہ صرف دلّی کی تباہی نہیں تھی بلکہ اس عہد کی تہذیبی بساط تھی جو کہ الٹ رہی تھی۔
نظم نگاروں کی فہرست میں آزاد، حالی، شبلی، سرور جہان آبادی، چکبست، اقبال، جمیل مظہری، احسان دانش وغیرہ میں سے صرف حالی اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ شاعروں میں سے بھی سبھوں کو چھوڑتے ہوئے اسی عہد کے مشہور نظم نگار اخترالایمان کی شاعری میں تہذیبی عناصر دیکھیں گے۔ اس کے بعد میرا جی کی نظموں سے بحث کریں گے۔ سردار جعفری، فیض احمد فیض، مجاز، مخدوم، ساحر لدھیانوی بھی بجا طور پر زیر بحث آسکتے تھے لیکن طوالت کے خوف سے حالی کے بعد میں نے صرف اخترالایمان اور میراجی کو منتخب کیا ہے۔
آزاد اور حالی نے نئی تہذیب کی نئی روشنی پر سرسید کی طرح لبیک کہا۔ ذہنوں میں ایک طرح کی تبدیلی پیدا ہورہی تھی۔ شاعری کس طرح معاشرے کو متاثر کرتی ہے اس کا اندازہ ان اکابرینِ ادب کو خوب تھا۔ جھوٹ اور مذاق فاسد پر مبنی شاعری سے پورے معاشرے کی تہذیبی فضا مکدر ہوچکی تھی۔ آل احمد سرور نے لکھا ہے:
’’برکھا رت اور حب وطن سے اردو شاعری میں ایک نئے راگ کا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ راگ بالکل نیا تو نہ تھا کیونکہ اس سے پہلے نظیراکبر آبادی بھی اسے الاپ چکے تھے، مگر ان کی آواز کسی نے بھی نہ سنی۔ حالی نے جب یہ نغمہ چھیڑا تو اس کا اثر ہوا اور ان کی اور آزاد کی کوششوں سے مقامی رنگ، منظرنگاری، وطن کی محبت اردو شاعری میں اپنی بہار دکھانے لگی۔‘‘ ۸؎
الطاف حسین حالی نے اپنی فکر پر التباس کی چادر نہیں ڈالی۔ ’زمزمۂ قیصری‘ جو کہ ایک انگریزی نظم کے تین حصوں میں سے ایک حصے کا منظوم ترجمہ ہے، اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کہیں کہیں اس میں اپنی فکر کا اضافہ بھی کیا ہے۔ اس میں قدیم آریہ تہذیب، ہندوستان پر محمود غزنوی کے حملے، مسلم تہذیب، ہندوستان کے ٹوٹنے بکھرنے کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مجموعہ نظم حالی میں اس نظم سے پہلے نوٹ لگاتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ مصنف نے بعض مسلم بادشاہوں پر نکتہ چینی بھی کی ہے۔ ۳۵ بند کی اس طویل نظم سے ایک بند ملاحظہ کیجیے:
اے مقدس آریہ ورتھ آئی کیا تجھ پر بلا
جس نے بزمِ یک دلی کو تیرے برہم کردیا
تو کہاں اور اہل مغرب کے بھلا حملے کہاں
ہاں مگر نااتفاقی کی ملی تجھ کو سزا
گر تری اولاد میں ہوتا سلوک اور آشتی
لڑکھڑا جاتے قدم غیروں کے ہنگامِ دغا
حالی نے نشاط امید، برکھارت، حب وطن اور مناظر رحم و انصاف جیسی نظمیں ’انجمن پنجاب‘ کے نظمیہ مشاعرے کے لیے کہی تھیں۔ ان میں مضمون آفرینی اور صفائی و تازگی ملتی ہے۔ انسانی تہذیب کی مختلف جہتیں ہوتی ہیں۔ اگر آپ ’’مناجات بیوہ‘‘ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ حالی نے خالص ہندوستانی تہذیب کے پس منظر میں ایک بیوہ عورت کے احساسات کو کس نزاکت سے پیش کیا ہے۔ نظم یوںشروع ہوتی ہے:
اے دین و دنیا کے مالک
راجا اور پرجا کے مالک
میں لونڈی تیری دکھیاری
دروازے کی تیری بھکاری
اپنے پرائے کی دھتکاری
میکے اور سسرال پہ بھاری
ہندو تہذیب میں بیوہ کی شادی آج بھی معیوب سمجھی جاتی ہے۔ یہ طنزیہ اشعار سنیے کہ حالی نے کس طرح سے ایک بیوہ کے داخلی کرب کو ملفوظ کیا ہے:
اپنے بڑوں کی ریت نہ چھوٹے
قوم کی باندھی رسم نہ ٹوٹے
ہو نہ کسی کو ہم سے ندامت
ناک رہے کنبے کی سلامت
جان کسی کی جائے تو جائے
آن میں اپنی فرق نہ آئے
عبدالماجد دریابادی نے تو یہ تک کہا تھا کہ حالی نے بجز بیوہ کی مناجات کے اگر ایک شعر بھی نہ کہا ہوتا تو بھی ان کے لیے یہی ایک نظم دنیا و عقبیٰ کے لیے کافی تھی۔ صالحہ عابد حسین نے بھی ’’یادگار حالی‘‘ میں اس نظم پر کچھ اس طرح اپنا تاثر پیش کیا:
’’مجھے مناجات بیوہ پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ حالی باوجود مرد ہونے کے ایسا درد آشنا، ایسا حسّاس، اتنا نازک دل کہاں سے لائے جس نے کمسن بدنصیب بیوہ عورتوں کے صحیح جذبات و احساسات کو اس طرح محسوس کیا۔‘‘ ۹؎
حالی کو جدید نظم کا نقطۂ آغاز کہا جاسکتا ہے۔ سرسید تحریک کی روشنی سے حالی بہت متاثر تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مسلم قوم نئی تہذیب اور نئی تعلیم سے خود کو آراستہ کرے۔ ان کی نظمیں فلسفۂ ترقی، انجمن حمایت اسلام، چپ کی داد، مدرسۃ العلوم، مسلمانوں کی تعلیم پڑھتے ہوئے آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اسی طرح ان کی مقبول ترین نظم ’’مدو جزر اسلام‘‘ بھی امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں تہذیب کی مذہبی جہت زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ پھر قوم کی کٹی پھٹی تصویر بھی ابھرتی ہے جو تہذیبی اخلاقی، مذہبی اور علمی و معاشی تنزل کو ظاہر کرتی ہے۔ اقبال کی بہت سی نظموں میں امت مسلمہ کی عظمت کی تلاش میں ہمیں حالی ہی کی آواز بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مسدس کا ایک بند پیش کیا جاتا ہے:
گھٹا سر پہ ادبار کی چھا رہی ہے
فلاکت سماں اپنا دکھلا رہی ہے
نحوست پس و پیش منڈلا رہی ہے
چپ و راست سے یہ صدا آرہی ہے
کہ کل کون تھے آج کیا ہوگئے تم
ابھی جاگتے تھے ابھی سوگئے تم
حالیؔ کے حوالے سے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے بجا طور پر یہ لکھا ہے کہ:
’’تہذیب اور تاریخ کا پورا سواد اعظم حالی نے اپنی آنکھوں کے سامنے مسمار ہوتے دیکھا تھا اور اس کھنڈر پر حالی بے پایاں انسانی ہمدردی، دردمندی اور غیرت قومی کے ساتھ کھڑے اپنے ساتھیوں کی غفلت اور خفیف الحرکاتی پر آنسو بہاتے ہیں۔‘‘ ۱۰؎
یوں تو اختر الایمان کی نظموں کا حاوی میلان ماضی اور وقت ہے، لیکن کمال فن کاری یہ بھی ہے کہ انھوں نے ماضی کے نقوش کو تہذیب کے نشانات کے طور پر پیش کیا ہے۔ ماضی کو حال کے پردے پر دیکھنے کے عمل کو جیمس جوائس (James Joice) نے Epiphany سے موسوم کیا ہے۔
ان کی نظم ’پرانی فصیل‘ کو اگر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ فصیل کسی کیمرے کی آنکھ بن گئی ہے جو اپنے عہد کی تصویریں پیش کررہی ہیں۔ وقت کو ’پرانی فصیل‘ میں اخترالایمان نے ایک فعال کیمرے کی صورت میں نصب کردیا ہے، نظم پڑھتے ہوئے زمانوں اور تہذیبوں کا ایک مدور سفر سامنے آتا ہے۔ سولہ بند کی اس نظم کے کچھ حصے پیش کیے جاتے ہیں:
مری تنہائیاں مانوس ہیں تاریک راتوں سے
مرے رخنوں میں ہے الجھا ہوا اوقات کا دامن
مرے سائے میں حال و ماضی رک کر سانس لیتے ہیں
زمانہ جب گزرتا ہے بدل لیتا ہے پیراہن
خراب و شور آلودہ زمیں خاموشی رہتی ہے
یہاں جھینگر نہ جانے کس زباں میں بات کرتے ہیں
یہاں چوہے متاع زندگی سے سرخرو ہوکر/ مہذب بستیوں میں جاکر اکثر لوٹ آتے ہیں
پروفیسر خلیل الرحمن اعظمی نے لکھا ہے کہ:
’’پرانی فصیل اس دور کی اہم نظموں میں سے ہے۔ یہ نظم اس بحرانی دور کا مکمل اشاریہ ہے جس میں اخترالایمان اور ان کے ہمعصر شعراء نے آنکھ کھولی۔‘‘ ۱۱؎
رشتوں کی شکست و ریخت ہمارے معاشرے کا ایک اہم رجحان رہا ہے۔ اس کا اظہار غزلوں اور نظموں دونوں میں ہوا ہے۔ اس سائنسی اور مشینی عہد میں دنیا جس تیز رفتاری سے آگے کی طرف بڑھتی جارہی ہے، ہمیں ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر باتیں کرنے کی فرصت تک نہیں رہی۔ اس سے ہماری تہذیبی زندگی کیسے متاثر ہوتی ہے اس کو اخترالایمان نے اپنی تخلیقی بصیرت کا حصہ بنایا ہے۔ چھوٹی سی نظم ’تبدیلی‘ کا موضوع اور اس کا کرافٹ دونوں لائق توجہ ہیں۔ روابط اور رشتوں کو جو انسانی تہذیب کے بہت ہی مستحکم اور واضح نشانات ہیں، انھیں اس نظم میں دیکھ سکتے ہیں:
اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیں/ جو مجھے راہ چلتے کو پہچان لے
اور آواز دے ’’او بے او سرپھرے‘‘/ دونوں اک دوسرے سے لپٹ کر وہیں
گرد و پیش اور ماحول کو بھول کر/ گالیاں دیں، ہنسیں، ہاتھاپائی کریں
پاس کے پیڑ کی چھانو میں بیٹھ کر/ گھنٹوں اک دوسرے کی سنیں اور کہیں
اور اس نیک روحوں کے بازار میں/ میری یہ قیمتی بے بہا زندگی
ایک دن کے لیے اپنا رخ موڑ لے
انسانی رشتوں کے بگڑنے یا اخلاقی تنزل سے تہذیبی فضا مکدر ہوتی ہے۔ انسان کی پیدائش اور اس کے ارتقائی مراحل میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ان کا ذکر اخترالایمان نے اپنی نظم ’کوزہ گر‘ میں کیا ہے۔ مصلحت پسندی اور اجارہ داری سے رِشیوں اور رسولوں کے بنائے ہوئے راستے مسخ ہوگئے ہیں۔ اخترالایمان کسی طرح کی تقسیم کے بھی خلاف ہیں۔ وہ بغیر کسی تخصیص کے ایک انسانی تہذیب کو اہمیت دیتے ہیں۔ نظم ’’کوزہ گر‘‘ کے یہ حصے دیکھیے جس میں اخترالایمان کا ایک خاص تیور بھی نمایاں نظر آتا ہے:
میں اُس شخص کو ڈھونڈھتا ہوں جو بانیٔ شر ہے
جو رشیوں رسولوں کی محنت کو برباد کرتا رہتا ہے
اسے ڈھونڈھتا ہوں میں جس نے ہر اک خوان نعمت پہ پہرے لگائے
زمیں کو زمیں سے الگ کردیا سینکڑوں نام دے کر
اجارہ کی بنیاد ڈالی، کیا جاری پروانۂ راہ داری
یہاں تھوڑی دیر رک کریہ کہا جاسکتا ہے کہ اخترالایمان کی نظموں میں بھی اصلاح معاشرہ کا جذبہ نظر آتا ہے۔ دراصل حالی نے اپنے عہد کے مطابق اور پھر اپنے میلان طبع کے تناظر میں شاعری کی تو بہت سوں نے ناپسند کیا لیکن وہی مقصد اور اصلاح کا جذبہ اخترالایمان کی نظموں میں کچھ رنگ روپ بدل کر آیا تو ہم نے اسے خوش آمدید کہا۔ اگر میں یہاں اپنا ایک بیان دے دوں کہ اخترالایمان کی پوری شاعری بیانیہ، مقصدی اور اصلاحی ہے تو کئی ترقی پسند یا جدیدیت کی عینک سے دیکھنے والے حضرات کو حیرت ہوسکتی ہے۔ میں تو یہ تک کہہ کر رسک لینے کو تیار ہوں کہ آج تک کوئی شاعری اس روئے زمین پر نہیں ہوئی جس کا کچھ مقصد یا کوئی اصلاحی پہلو نہ ہو۔ خیر چھوڑیے ان باتوں کو۔
اخترالایمان کے ایک پیش لفظ کے اس اقتباس پران کی نظموں میں تہذیبی عناصر کی جستجو کو فی الوقت موقوف کرتا ہوں کہ سلسلہ دراز ہوسکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’آج کا معاشرہ کیا ہے، اگر اس کا ایک سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ عقائد کی شکست و ریخت جتنی پچھلی نصف صدی میں ہوئی ہے، شاید پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ جس ماحول میں ہم آج سانس لے رہے ہیں وہ صرف ایک نراجی ماحول ہے۔ بے قابو، بدحواس بکھرا ہوا۔‘‘ ۱۲؎
میرا جی ہمارے ادبی کُرے کا ایک ایسا نام ہے جو خود بھی ایک اسطور بن گیا ہے۔ ان کی شاعری اردو نظم نگاری میں موضوع، ہیئت اور ڈکشن کے لحاظ سے ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جو اس سے پہلے نہیں تھی۔ انھوں نے ہندو دیومالائی عناصر کو اور جنسی عوامل کو ہندوستانی تہذیب کا حصہ بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔ وہ جنسی عمل کو اور اس کے متعلقات کو نعمت اور راحت کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ سماجی بندھنوں کو بے معنی اور فضول جانتے ہیں۔ کرشن اور رادھا کے عشق میں انھیں طمانیت کا عنصر نظر آتا ہے۔ جنسی عمل میں انھوں نے سماجی بندشوں اور اصولوں کو نظرانداز کردیا ہے۔ ان کی نظم ’’حرامی‘‘ کا یہ ٹکڑا دیکھیے:
قدرت کے پرانے بھیدوں میںجو بھید چھپائے چھپ نہ سکے/ اس بھید کی تو رکھوالی ہے
یہ سکھ ہے، دکھ کا گیت نہیں کوئی ہار نہیں کوئی جیت نہیں
جب گود بھری تو مانگ بھری/ جیون کی کھیتی ہوگی ہری
جو چاہے ریت کی بات کہے ہم پیت ہی کے متوالے ہیں
میراجی کا تصور افزائش نسل کی طرف مائل ہے۔ افزائش نسل انسانی تہذیب اور معاشرے کا لازمی عمل ہے۔ ’’گود بھری جانے‘‘ کا استعارہ عورت کو دھرتی کے مشابہ قرار دینے کا عمل بھی ہے۔ جب عورت کی گود بھری جاتی ہے تو تہذیب انسانی مسکراتی ہے۔ میرا جی کا قصور یہ ہے کہ وہ اس جنسی عمل اور اس کی نموپذیری میں ناجائز روش کو بھی سراہتے ہیں بلکہ ان کے یہاں جا بہ جا اس کی ترغیب بھی ملتی ہے۔ ان کی نظم ’’تو پاربتی میں شو شنکر‘‘ کا مطالعہ کیجیے یا ’’ترغیب‘‘ کا، ان باتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ ’’ترغیب‘‘ کا یہ حصہ دیکھیے:
رسیلے جرائم کی خوشبو/ مرے ذہن میں آرہی ہے
رسیلے جرائم کی خوشبو/ مجھے حدادراک سے دور لے جارہی ہے
نگاہوں میں ہے میرے نشے کی الجھن
کہ چھایا ہے ترغیب کا پیرہن آج ہر اک حسیں پر
رسیلے جرائم کی خوشبو مجھے آج للچا رہی ہے
قوانینِ اخلاق کے سارے بندھن شکستہ نظر آرہے ہیں
یوں کہا جاسکتا ہے میرا جی کا تہذیبی تناظر جنسی عوامل کے بغیر نامکمل ہے۔
(یہ بھی پڑھیں عملی تنقید اور تفہیم شعروشاعری-پروفیسر کوثر مظہری )
میرا جی کے یہاں لباس اور پیرہن کا ذکر بہت ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ان ملبوسات کا ذکر اپنا مخصوص شعری تناظر تشکیل دینے کے لیے کیا ہے۔ بلکہ اس سے ایک مخلوط تہذیبی تناظر بھی خلق ہوتا ہے۔ گجراتی لہنگے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی ساخت سیدھی ہے، کمر سے ٹخنوں تک ایک جھول سا ہلکی ہلکی لہروں کا ایک نازک جھرمٹ جسے دیکھ کر میری نگاہوں میں پہننے والی تو ایک لچکتی ہوئی ٹہنی بن جاتی ہے اور لباس جھیل یا دریا کی سطح، جس پر ہلکی ہلکی لہریں کبھی جھوم اٹھتی ہوں کبھی ٹھہر جاتی ہوں۔ راجپوتانہ لہنگے کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ یہ ایک سمندر کی سی حیثیت رکھتا ہے، ایک طوفانی شے ہے جس میں جنگل کا گھنا گرم جادو موجود معلوم ہوتا ہے۔ ساڑی کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ اس میں ٹھہراؤ ہی ٹھہراؤ ہے۔ ایک ایسا ٹھہراؤ جو کسی بگولے کی حیثیت سے ہوسکتا ہے۔ ساڑی پہنے ہوئے کوئی نسائی پیکر میرے ذہن میں لٹکے ہوئے پردے یا چھائے ہوئے دھندلکے کا تصور لاتا ہے۔ ۱۳؎
ان کے یہاں ملبوسات کے حوالے سے بہت سی نظمیں موجود ہیں۔ وہ پیرہن کے جمالیاتی پہلو کو بھی سراہتے ہیں اور ان سے فطری آزادی بھی چاہتے ہیں۔ مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط کو وہ فطری تصور کرتے ہیں۔ کئی نظمیں اس تصور کے ذیل میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ یہاں ان کی نظم ’’دور کرو پیراہن کے بندھن کو‘‘ کا یہ حصہ پیش کیا جاتا ہے:
دور کرو پیراہن کے بندھن کو اپنے جسموں سے
دوری حاصل کرلو بندی خانے کے اُن لمحوں سے
جن میں فطرت کو قیدی کررکھا ہے تہذیبوں نے
جن میں کلیوں کو کھلنے سے روکا ہے انسانوں نے
فطرت کا مذہب کیا ہے؟ آزادی ہی آزادی ہے
میرا جی کا ذہنی میلان اس تہذیب سے ہم آہنگ نظر آتا ہے جہاں کسی طری کی پابندی نہیں۔ وہ قدیم رسوم اور عقیدوں یا دیومالائی تلازموں سے اپنی شعری کائنات کو اسی لیے ہم آہنگ کرنے میں خود کو زیادہ At ease تصور کرتے ہیں۔ غار، مندر، تنہائی یا تاریکی میں کھوجانے کا عمل بھی اسی قدیم دیومالائی تہذیب کی طرف مراجعت کی ایک صورت ہے۔ وہ ہندوستان کی اس دھرتی پوجا کی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں جو شو اور پاربتی یا رادھا اور کرشن کے تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک نظم ’’آخری سنگار‘‘ ہے جس میں جدائی کے کرب کو پیش کیا گیا ہے۔ عورت کی زبان میں فطری پن ہے، ساتھ ہی یہ نظم بارہ ماسہ کے قریب بھی معلوم ہوتی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
سوامی اپنے دیس سدھارے میں برہا کی ماری
لیکن رادھا بھی جائے گی جہاں گئے گردھاری
صندل کی ہے چتا بنائی اور پھولوں سے سنواری
سولہ سنگاروں سج کر آتی ہے تیری پیاری
پہلے برہا کی اگنی میں رات ہوئی تھی جل کر
پھر سکھ سیج کی راتیں دیکھیں گود میں تیری مچل کر
لیکن تونے بات نہ رکھی چھوڑ گیا یوں پیچھے
جیسے ساون رت بھادوں کے نیر کی جھڑیاں چھوڑے
میرا جی کی نظموں میں جو عورت ہے وہ گوشت پوست کی ہے اور وہ صرف گھر کی شوبھا بڑھانے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا فریضہ افزائش نسل بھی ہے اور میرا جی اسی کو اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن ان کا آزادانہ طرزِ اختلاط کا رویہ ہندوستانی تہذیب کے صرف ایک پہلو کو سامنے لاتا ہے ورنہ ہماری تہذیب میں حیاداری اور ناموس معشوق بھی اہمیت رکھتی ہے۔
اخیر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حالی، اخترالایمان اور میراجی کی نظموں میں جو تہذیبی نقوش ابھر کر سامنے آئے ہیں وہ ایک دوسرے کے قریب بھی ہیں اور کہیں کہیں مخالف بھی۔ دراصل ہماری پوری زندگی کسی نہ کسی تہذیبی کرے میں گزرتی ہے۔ پروفیسر عتیق اللہ کے اس موقف پر اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ:
’’تہذیبی مطالعہ، روز مرہ زندگی، تہذیبی اعمال اور کارگزاریوں، اقتصادیات، سیاسیات، جغرافیہ، تاریخ، نسل، طبقہ، نسب و نژاد، نظریہ و عمل، جنس و صنف، جنسیات اور طاقت وغیرہ پر محیط ہے۔‘‘ ۱۴؎
نوٹ: مضمون نگار شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں پروفیسر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


4 comments
بہت اہم مضمون ہے عماما مضمون نگار میراجی تک آ کر ہانپنے لگتے ہیں شکر خدا کہ اخترالایمان تک آ گئے یہ ایک خوش آئند علامت ہے اب جو کچھ بھی امید ہے ان نئے تازہ کار کوثر مظہری جیسے نقادوں سے ہے
اس کے حوالہ جات آپ نے مینشن کیے ہوئے ہیں لیکن اس کے حوالے دیے نہیں ہیں کیا اس مقالے کے حوالے مل سکتے ہیں
اس مقالے میں آپ نے حوالہ جات کے نمبر مینشن کیے ہوئے ہیں لیکن اس کے حوالے دیے نہیں ہیں کیا اس مقالے کے حوالے مل سکتے ہیں
شکریہ اس کو کل تک درست کرلیا جائے گا۔