1۔ نظریہ سازی کے عمل نے اردو میں عملی تنقید کا بیڑہ غرق کردیا۔
2۔ تاثراتی تنقید نے عملی تنقید کو قعرضلالت میں پہنچادیا۔
میرے مضمون کے پہلے جملہ سے بہت زیادہ دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ عملی تنقید بھی دراصل نظریہ سازی ہی کا تتمہ ہے۔ کسی بھی عمل کے لیے پہلے تھیوری کا ہونا ضروری ہے۔ بغیر کسی تھیوری کے کوئی سائنٹسٹ دارالعمل میں بیکر، فلاسک، ایسڈ یا کسی دھات کو چھوتا تک نہیں۔ یہ اردو ادب جس کی عمر بہت کم ہے(دوسری کئی زبانوں کے مقابلے میں) وہاں نظریہ سازی ہی نظریہ سازی ہے، عملی طور پر کچھ کرنے اور ادب پارے کو پرکھنے کی کاوشیں کم ہوئیں ہیں۔ میں نے جہاں تک غور کیا ہے،اس کی بنیاد پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اردو لسانیات اور عملی تنقید سے بہت کم شغف دیکھا گیا ہے۔ پروفیسر کلیم الدین احمد نے اس طرف توجہ کی، مگر ان کا خاکہ بھی نامکمل ہی رہا۔کیونکہ انھوں نے کوشش کی تھی کہ پہلی جلد میں غزل، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، منظومات وغیرہ، دوسری جلد میں ناول، افسانہ، تنقیداور دیگر اصناف نثر اور جلد سوم میں اصول تنقید کا مکمل احاطہ کیا جائے۔ پہلی جلد کا پہلا حصہ شعروغزل پر مشتمل تو منظرعام پر آیا مگر بقیہ کام تشنہ تکمیل ہی رہا۔ اگر وہ حیات ہوتے تو یہ کام ضرور پایۂ تکمیل کو پہنچتا۔
انگریزی میں بھی عملی تنقید پر سب سے پہلی اور بنیادی کتاب آئی اے رچرڈز کی ہے۔ انھوں نے اپنی اس کتاب کو Record of a piece of field workکہاہے۔ میرے خیال سے اردو میں کسی فن پارے یا تنقید پارے کے ضمن میں field workکا یہ تصور حیرت انگیز ہی تصور کیا جائے گا۔ فیلڈورک کا مطلب ہے رائے عامہ (Public opinion) ہموار کرنا۔ لیکن رچرڈز نے Contemporary opinions لکھا ہے یعنی ہم عصروں کی آرا کا اجتماع۔ عقائد ونظریات کا اجتماع اور پھر خود اپنی تنقیدی سوچ اور شعور تخلیق سے ادب پارے کی چھان پھٹک کرنا اور اس کی ترسیل کے تمام ممکنہ دروازوں کو وا کردینا— عملی تنقید کا منصب اور مقصد میرے نزدیک یہی ہے۔ تقابل، توازن اور تناظر— ان تینوں کو سامنے رکھتے ہوئے عملی تنقید وجود پذیر ہوتی ہے۔
اوپر جیسا کہ ذکر ہوا کہ رچرڈز نے اپنی کتاب کو فلڈورک کہاہے، اگراس نوعیت سے دیکھا جائے تو اردو میں مشاعرے کا چلن ایک طرح سے ’’فلڈورک‘‘ کا ہی کام انجام دیتا ہے۔ وہاں اچھی خاصی رائے عامہ ہموار ہوتی ہے۔ یہ مشاعرے کا چلن انگریزی میں موجود نہیں،اس لیے وہاں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے دوسرا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ اردو مشاعرے میں جس طرح شاعر کو دادوتحسین سے نوازا جاتاہے اور جیسے جیسے بے تکے، مہمل اور بے سروپا اشعار پر سامعین کلمہ ہائے ستائش اور واہ واہ کی صدائیں بلند کرتے ہیں،اگر اسے ہی ہم عملی تنقید کی کسوٹی تسلیم کرلیں تو اردو میں تنقید کی رہی سہی روایت کا ستیاناس ہونے میں کیا وقت لگے گا۔ شعرکو سمجھنا اور اس کے تعمق میں اتر کر اس کے سیاق وسباق اوراس میں پیش کردہ تجربے سے آگاہی— یہ ایک سنجیدہ عمل ہے جو سنجیدگی سے اور غور وفکر کے بعد ممکن ہوتاہے۔ مشاعرے میں تو محض سرسری رائے زنی یا تاثر کے سبب کلمہ تحسین بلند ہوتا ہے مگر فراق گورکھپوری جیسے شاعر اور نقاد اسے بھی بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ محض فوری تاثرات اور وجدان کا تعلق سنجیدہ تنقید سے نہیں ہوسکتا۔ اگر فراقؔ کی کتاب ’’اندازے‘‘کا مطالعہ کیجیے توایسی ہی تذکراتی، تاثراتی وجذباتی تنقید ملتی ہے۔ فراق نے لکھا بھی ہے کہ میں اس بات سے بہت کم متفق ہوں کہ مشاعروں کی تعریف یا شعروشاعری کی صحبتوں کی تعریف تنقید نہیں ہے۔ بسا اوقات یہ تنقید بہت پتے کی ہوتی ہے۔ فراق کی تنقید عملی تنقید کی کسوٹی پر بالکل پھسپھسی ٹھہرتی ہے۔ لیکن ان کی شعری تفہیم پر سوالیہ نشان قائم نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل وہ تنقید کے آدمی تھے بھی نہیں۔ لکھتے ہیں:
’’میری غرض وغایت اس کتاب میں یہ رہی ہے کہ جو فوری وجدانی اضطراری اور مجمل اثرات قدما کے کلام کے میرے کان،دماغ،دل اور شعور کے پردوں میں پڑے ہیں انھیں دوسروں تک اس صورت میں پہنچادوں کہ ان تاثرات میں حیات کی حرارت وتازگی قائم رہے،میں اس کو خلاقانہ تنقید یا زندہ تنقید کہتا ہوں۔‘‘ ۲۲؎
فراق انگریزی شعروادب سے گہری واقفیت رکھتے تھے، تاہم ان کے اندر تنقید کی کرنیں کم تھیں۔ ذاتی تاثر کو ’’’زندہ تنقید‘‘ سے موسوم کرنا ایک پختہ ذہن کا ناپختہ اشاریہ ہے۔ انگریزی میں بھی 19ویں صدی میں تاثراتی تنقید کا چرچا عام ہوا مگر اب اس کا نام لینا اپنی قوت تفہیم پر سوالیہ نشان لگانا ہے۔ کسی شعری فن پارے پر اگر کسی محفل میں فوری طور پر دادوتحسین مل گئی تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس میں صرف توصیفی عناصر ہیں۔ حالانکہ ڈی ایچ رالنسن (D.H. Rawlinson) نے توصرف دس لوگوں کی موجودگی کو عملی تنقید کے لیے ضروری تصور کیا، البتہ استثنائی صورت سے وہ باخبر بھی نظر آتے ہیں، لکھتے ہیں:
"Ideally, practical criticism should be done with groups of up to ten people, but this is an ideal few will be able to realise.” 23
میں نہیں سمجھتا کہ عملی تنقید کے لیے دس،بیس یا سیکڑوں آدمی کی آرا کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ محض ایک شخصی طریقہ کار ہوسکتا ہے آفاقی کلیہ نہیں کیونکہ اس میں بڑی خرابیاں راہ پاسکتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عملی تنقید میں فن پارے یا ادب پارے کی تفہیم کے ذیل میں کن باتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے یا رکھا جانا چاہیے۔ میں نے اپنی گفتگو شاعری کے حوالے سے کرنا طے کیا ہے۔ اگر شعر یا شاعری کی تفہیم اور کچھ شعری فن پاروں کے تقابل وتوازن سے کسی خاص شعرپارے کی تفہیم وترسیل میں مدد ملتی ہے تویہی تنقید یا عملی تنقید کا منصب ہے۔
شاعری یا شعر کے معنیاتی نظام تک رسائی کے لیے جواصولی Devicesہوسکتے ہیں ان میں اہم ترین استعاراتی بنت تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ شعرپارے کو دیکھنا کہ اس کا Theme واضح ہے کہ گنجلک؛ جو بات کہی گئی ہے وہ پیش یا افتادہ ہے کہ تازہ کار، پھر یہ بھی کہ نفس مضمون طبع زاد ہے کہ ماخوذ، غلط ہے کہ راست— اور پھر یہ دیکھنا کہ اس کا استعاراتی نظام کیسا ہے۔ ان تمام باتوں کی چھان پھٹک کرنا اور پھر شعر، نظم یا ادب پارے کی تفہیم کے لیے کوشش کرنا ایک مثبت اقدام ہے۔ شاعری کو آئی اے رچرڈز نے Typical denizen of this world کہاہے۔ پھر یہ بھی لکھا ہے کہ:
Poetry itself is a mode of communication. What it communicates and how it does so and the worth of what is communicated form the subject matter of criticism. 24
شاعری میں جس چیز کی ترسیل ہوتی ہے اور جس طرح سے ہوتی ہے۔ دراصل وہی موضوع تنقید بنتی ہے۔ اس ترسیل کے مسئلے کوزیر بحث لانا ضروری ہے۔ موضوع اور نفس مضمون کی ترسیل پر اگر گفتگو کی جائے اور یہ مسئلہ حل ہوجائے تو کیا شعریت کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا؟ میرے خیال سے دونوں بالکل دوباتیں ہیں۔ آئیے پہلے دیکھیں کہ شاعری میں جب استعارے کا استعمال ہوتا ہے تو معنیاتی نظام پر کیا اثر پڑتاہے۔ استعارے کا جورول ہوتاہے اس کی طرف رچرڈز نے اس طرح اشارہ کیا ہے:
"From the technical point of view indeed the poet’s task in constantly (though not only) that of finding ways and means of controlling feeling through metaphor.” 25
شاعر کا کام ہے کہ اپنے احساس وجذبہ کو شعری استعارے کی نکیل سے اپنی دسترس میں رکھے۔ صرف یہی ایک کام نہیں ہے مگر یہ کام ہمیشگی سے شاعری میں انجام پاتاہے۔ البتہ شعری استعارے میں اور عام صرفی استعارے میں فرق ہوتاہے۔ دونوں کا دائرئہ کار جداگانہ ہوتا ہے۔ مجاز، کنایہ، اشارہ، استعارہ یہ سب باہم دگر جڑے ہوئے ہیں بلکہ مترادفات کہے جائیں تو بھی غلط نہیں۔ عملی تنقید میں چونکہ شعرپارے کا تجزیہ کیاجاتا ہے اس لیے جب تک متن کی صحیح اور مناسب قرأت نہیں ہوتی معانی کی پرتیں نہیں کھلتیں۔ تجزیے کے بعد دراصل ان باتوں تک یا اس معنیاتی نظام تک رسائی حاصل کرنا جو عام قاری سے اوجھل ہے،یہی عملی تنقید کا مقصد ہونا چاہیے۔ تجزیہ وہ نہیں کہ سطحی معانی پر تقریر فرمادی گئی، اور بس! وہاں تک تو مشاعرے کے نابالغ اور نااہل سامعین بھی پہنچ جاتے ہیں۔ اندرون متن میں اترنے کا راستہ استعاراتی نظام سے ملتا ہے۔ تجزیہ نگاری سے ہی عملی تنقید کو روشنی ملتی ہے۔ یہ عملی تنقید ایک طرح کا تخلیقی عمل ہے کیونکہ نقاد ایک بار اسی جہان تجربات ومعانی کا سفر کرتاہے جس کے سفر سے لوٹ کر تخلیق کار واپس آیا ہوتاہے۔ ایف آرلیوس تجزیہ کے بارے میں کہتاہے:
Anolysis in the process by which we seek to attain a complete reading of a poem…a reading that approaches as nearly as possible to the perfect reading…Analysis is not a dissection of something that is already and passively there. What we call analysis is, of course, a constructive or craetive process. 26
دراصل شعر یا نظم کو پڑھتے ہوئے لفظوں اور ترکیبوں کے نظام کو سمجھنا،ان کے واضح اور مبہم تناظرات کی جستجو کرنا اور پھران کی تشریح وتعبیر کے لیے اپنے خزانہ الفاظ سے مناسب الفاظ کی تلاش کرنا، ایک ایسا عمل ہے کہ کبھی کبھی معانی کی رسّی ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے اور جب الفاظ مل جاتے ہیں تودوسری پیچیدگیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس لیے تجزیے کا عمل یا پھر عملی تنقید کا عمل (دونوں مترادفات قطعی نہیں) جوکھم کا کام ہے۔ پھر یہ کہ معاملہ صرف استعارے کا نہیں ہے بلکہ یہاں تو پیکر، تمثال (Imagery)،لہجہ (Tone)، آہنگ (Rhythm)، تصویر کشی (Visualisation)، محاکات(Depiction)،ارکان وبحور (Metre)، اسلوب (Style)اورنہ جانے کتنے ہی عروض وبلاغت کے عوامل شعر یا نظم کی زیریں سطحوں میں موجود ہوتے ہیں اور یہ صرف موجودنہیں ہوتے یعنی یہ محضPassivelyموجود نہیں ہوتے بلکہ ان کا Active Role بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان سب عوامل وامور کے باوجود معانی کی تلاش میں استعاراتی نظام کی تفہیم سب سے زیادہ موزوں وکارآمد ہوتی ہے۔ اچھا، اس کے باوجود کوئی ضروری نہیں ہے کہ معانی کی تمام پرتیں کھل جائیں۔ یہاں پروفیسر گوپی چند نارنگ کی بات مناسب حال ہے:
’’معنیاتی نظام انتہائی مبہم اور گرفت میں نہ آنے والی چیز ہے۔ بحث ومباحثہ کی سہولت کے لیے اسے چند الفاظ میں مقید توکیا جاسکتا ہے لیکن تمام معنیاتی کیفیات کا احاطہ نہیں کیاجاسکتا۔ اس بحث میں الفاظ کو محض اشاریہ سمجھنا چاہیے اُس کلی نظام کا جو ان گنت استعاراتی اورایمائی رشتوں سے عبارت ہے اور لامحدود امکانات رکھتا ہے جنھیں تخلیقی طورپر محسوس تو کیا جاسکتا ہے، لیکن منطقی طور پر دو اور دوچار کی زبان میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔‘‘ 27
مذکورہ بالااقتباس کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ کسی شعر پارے کا معنیاتی نظام انتہائی مبہم اور گرفت میں نہ آنے والی چیز ہے۔ حالانکہ اسی گرفت میں نہ آنے والی چیز کے تئیں ساری تعبیریں اور تشریحی نکات خرچ کیے جاتے ہیں۔ انھوںنے اسے تخلیقی طور پر محسوس کیے جانے کی بات بھی کہی ہے، یہ بات بالکل صحیح ہے کہ معانی کو سائنس کے فارمولے پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر فلابیر کے قول کوسچ تسلیم کرلیاجائے کہ ہرلفظ ایک ہی معنی رکھتا ہے تو پھرادب بھی سائنس کی طرح اپنی لچک (Elasticity)جیسی صفت سے محروم ہوجائے گا۔ اگر متعین معنی کے علاوہ ادب میں (بالخصوص شاعری میں) الفاظ وتراکیب میں عہدبہ عہد معانی کے پیرہن بدلنے کی صلاحیت نہ ہوتی تو پھر علامات واستعارات کی معنویت ہی ختم ہوجاتی۔ تنقید اور تخلیق کا جو رشتہ ہے وہ کچھ اتنا گہرا اور خطرناک ہے کہ اس رشتے کونبھانا بہت مشکل ہے۔ میں نے جو اوپر ذکر کیا کہ سائنس سے ادب الگ ہوتا ہے، یہ تنقید بھی سائنس نہیں،ہاں سائنسی نقطہ نظر سے کام ضرور لیاجاسکتا ہے۔ لیکن یہ خالص سائنس کا شعبہ نہیں ہوسکتا۔ ادب میں کوئی ضروری نہیں کہ توجیہات (Reasons)کا بیان ہو۔ اس کے امکانات ہوسکتے ہیں مگر چونکہ شعروادب میں محسوسات کی دنیا آباد ہوتی ہے لہٰذا یہاںReasonsکی حیثیت ثانوی ہوجاتی ہے۔ ایک مشہور تخلیق کار ڈی ایچ لارنس کی رائے تنقید کے سلسلے میں دیکھئے:
"Criticism can never be a science; it is, in the first place, much too personal, and in the second, it is concerned with values that science ignored. The touchstone is emotion, not reason. A critic must be able to feel the impact of a work of art in all its complexities and force. A man with a patry impudent nature will never write anything but paltry, impudent criticism.” 28
ایک ناقدمیں آرٹ یا فن کے نمونے کے اثرات کو اس کی تمام تر پیچیدگیوں اور قوت کے ساتھ محسوس کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ لارنس نے دوالفاظ Paltryاور Impudent استعمال کیے ہیں۔ یعنی بیکار اور بے مغز۔ بھلا ایسا آدمی میدان تنقید میں کیا سرمغزی کرے گا؟ سارا راز تو محسوسات یعنی Feelingمیں پوشیدہ ہے اور یہی وہ Valuesاور اقدار پنہاں ہیں جن سے سائنس چشم پوشی کرتی ہے۔ اس کی طرف آئی اے رچرڈز نے اپنی مشہور کتاب Practical criticismمیں Four kinds of Meaningکے ذیل میں توجہ کی ہے، جو اس طرح ہیں: Sense، Feeling، Tone، Intention۔ ظاہر ہے کہ تمام تر جذبات خواہ منفی ہوں کہ مثبت، تمام خواہشات منفی ہوں کہ مثبت گویا زندگی کے دونوں پہلو خوشی اور غم اسی Feelingکے تحت آتے ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے جو بغیر میلان طبع یا بغیر کسی فکر کے بھی ابھر کر سامنے آجاتی۔ یہ معصوم ہوتی ہے اور اپنا اثر کبھی دانستہ اور کبھی نادانستہ طور پر ڈالتی ہے۔ لارنس دراصل اسی کی تہہ میں اتر کر تنقید لکھنے والے کو ناقد تسلیم کرتا ہے ورنہ جس میں یہ صلاحیت نہیں ہے، اس کے لیے وہ Paltryاور Impudentکی صفت استعمال کرتا ہے۔
اردو میں کاشف الحقائق میں یہ بات نظر آتی ہے۔ امدادامام اثر عملی تنقید اور تقابلی تنقید سے باخبر نظرآتے ہیں۔ امدادامام اثر کی روایت کو پھر کسی نے آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔ آئندہ چل کر حال میں اکادکا نام نظرآتے ہیں۔ پروفیسرکلیم الدین احمد، پروفیسرگوپی چندنارنگ اور شمس الرحمن فاروقی۔ان تین ناموں سے پہلے شبلی کا نام نہ لینا بددیانتی ہوگی۔ حالانکہ ان کا موازنہ جانبدارانہ ہے۔ چونکہ ان کی نظر میں میرانیس اور ان کی شاعری عظیم ترین تھی اس لیے موازنہ اورمقابلہ کے باوجود بے چارے دبیر حاشیے میں نظرآتے ہیں۔ مگرپھر بھی شبلی نے یہ کیا کہ ایک مستحکم روایت قائم کی کہ ایک ہی فن یاصنف کے دوشعرا کے کلام کا موازنہ پیش کرکے عملی تنقید کی راہ ہموار کی۔ انھوں نے ’’موازنہ‘‘کی ’’تمہید‘‘ میں ہی لکھ دیا ہے: ’’میرانیس کا کلام شاعری کی تمام اصناف کا بہتر سے بہتر نمونہ ہے۔‘‘ شبلی نے ’’شاعری‘‘ پر بھی اپنی تنقیدی رائے پیش کی ہے۔ یہاں بھی بیشتر باتیں جذبات اور محسوسات سے تعلق رکھتی ہیں، جن کا ذکر ابھی اوپر ہوا۔ ان کے بقول: ’’شاعری کے دوجزو ہیں، مادہ وصورت۔ یعنی کیا کہنا چاہیے اور کیوں کر کہنا چاہیے۔ انسان کے دل میں کسی چیز کے دیکھنے،سننے یا کسی حالت، یا واقعہ کے پیش آنے سے، جوش ومسرت، عشق ومحبت، درد ورنج، فخروناز، حیرت واستعجاب، طیش و غضب وغیرہ وغیرہ کی جو حالت پیدا ہوتی ہے اسی کو جذبات سے تعبیر کرتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ شرط ہے کہ جو کچھ کہا جائے اس انداز سے کہا جائے کہ جوشاعر کے دل میں ہے وہی سننے والوں پر بھی چھاجائے یہ شاعری کا دوسرا جز یعنی صورت۔۔۔ (موازنہ— تمہید،ص:3)
لیکن اس کے آگے جو کچھ فرماتے ہیں وہ اگر مفروضے ہیں تو اُن کی یہ پوری کتاب متضاد رویوں کی شکار تصور کی جائے گی۔ لکھتے ہیں: ’’باقی خیال بندی، مضمون آفرینی، دقت پسندی، مبالغہ، صنائع وبدائع، شاعری کی حقیقت میں داخل نہیں، اگرچہ بعض جگہ یہ چیزیں نقش و نگار اورزیب وزینت کا کام دیتی ہیں۔ (ایضاً،ص:۳)
بھلا بتائیے کہ اب تک میں اپنی اس گفتگو میں تشبیہ واستعارے یا دوسرے صنائع یا انگریزی کے حوالے سے Feeling، Sense، Tone، Image، Metaphor یا پھر تجسیم (Personification)کا ذکر کرتا آیاہوں وہ کس کام کا؟ لیکن صاحب خودشبلی جب انیس ودبیر کے کلام کا موازنہ پیش کرتے ہیں تو انھیں صنائع وبدائع، مبالغہ، استعارہ وتشبیہ، مضمون بندی اور خیال، مناظر قدرت، بلاغت اور اس کی مثالیں— یہ سب چیزیں اس ’موازنہ‘ میں موجود ہیں بلکہ ان کی حیثیت اساسی ہے جس پر شبلی نے اپنی تنقیدی بصیرت کو استحکام کے ساتھ قائم رکھا ہے۔ کہیں ایسا تونہیںکہ شبلی مذکورہ بالا اقتباس میں کچھ اور کہنا چاہتے ہیں اور مجھے التباس ہوگیا ہو۔ اگر ایسا ہے تومجھے رجوع کرنے میں چنداں کوتاہی یاشرمندگی نہیں ہوگی۔
استعارہ میں توایک معنوی دنیا آباد ہوتی ہے۔ بقول شمس الرحمن فاروقی:
’’استعارہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ ہم ایک ہی معنی کو کئی طریقے سے بیان کرسکتے ہیں۔۔۔ استعارہ فی نفسہٖ معنوی امکانات سے پُر ہوتا ہے۔۔۔ 29
ٹھیک یہی کچھ شبلی نے موازنہ میں لکھا ہے کہ استعارات وتشبیہات حسن کلام کا زیور ہیں۔ (ص:۹۵) شبلی نے انیس ودبیر میں سے اپنا ہیرو انیس کو بنایا اور عہدحاضر کے نقاد جناب شمس الرحمن فاروقی کے ہیرو میر اور غالب میں سے میر ہیں۔ شبلی کا کام کم وبیش 350 صفحات میں چل گیا مگر فاروقی صاحب کو بے حد محنت شاقہ کرنی پڑی اور تقریباً 2736صفحات سیاہ کرنے پڑے کہ انھیں غالب جیسے نابغہ روزگار اور عظیم شاعر سے معاملہ کرنا پڑا تھا۔ بہرحال یہاں اس بات کا ذکر بھی کھلے دل سے کیا جانا چاہیے کہ شعرشورانگیز عملی وتقابلی تنقید کی راہ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس فنی اور تنقیدی بصیرت کے ساتھ میر کو کھنگالا گیا ہے اوران کے کلام کے ساتھ ان کے ہم عصروں کی شاعری اورجدید شعرا کے شعری نمونوں کی باہمی تعبیریں وصراحتیں پیش کی گئی ہیں وہ بڑے دل گردے کا کام تھا۔
بہرحال معنی کی بلاغت ہی اصل بلاغت ہے جسے شبلی نے تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے دوسری جگہ الفاظ کی بندش کو معانی پر ترجیح بھی دی ہے۔ اس بحث کو یہیں چھوڑ کر عملی تنقید سے کچھ باتیں کرتے چلیں۔ کچھ مثالیں پیش کرتے چلیں۔
کلیم الدین احمد اپنی کتاب عملی تنقید میں ایک ساتھ چند اشعار لکھ دیتے ہیں اور پھر ان کے حوالے سے الگ الگ صراحت و تنقیدی بصیرت کی روشنی میں گفتگو کرتے ہیں۔ کسی شعر پر مختصر، کسی پر قدرے تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں۔ معانی کی پرتوں کو کھولتے ہیں۔ صرف ایک شعرکی روشنی میں ان کے طریقہ تنقید کو پیش کیاجاتا ہے۔ فانی کا شعر ہے:
میں نے فانی ڈوبتے دیکھی ہے نبض کائنات
جب مزاج دوست کچھ برہم نظر آیا مجھے
لکھتے ہیں:فانی نبض کائنات کو ڈوبتے دیکھتے ہیں۔ ’’نبض کائنات‘‘ ایک استعار ہ ہے۔ ہماری نبض ڈوب جاتی ہے تو ہم مرجاتے ہیں، ہماری نبض ڈوبنے لگتی ہے تو موت قریب آجاتی ہے۔ نبض کائنات کا ڈوبنا، کائنات کا درہم برہم ہونا ہے۔ فانی کہتے ہیں کہ نبض کائنات ڈوبتے دیکھی ہے۔ جب کبھی مزاج دوست برہم ہوا، نبض کائنات ڈوبنے لگی۔ اب سوچئے کہ فانیؔ کیا کہنا چاہتے ہیں:
(۱) ستارے بنتے اور بگڑتے ہیں۔ ’’اک جہان مٹتا ہے، اک جہان بنتا ہے۔‘‘ یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کی کوئی ابتدا نہیں اور کوئی انتہا بھی نہیں۔ مزاج دوست برہم نہیں ہوتا تو دنیا بنتی ہے۔ مزاج دوست برہم ہوتا ہے تو دنیا فنا ہوجاتی ہے— اس کی نبض ڈوب جاتی ہے۔ جس نے یہ نظارہ دیکھا ہے وہ فانی نہیں۔ ’’میں‘‘ آفاقی شعور ہے جس نے یہ بننا بگڑنا دیکھا ہے۔
(۲) دوست=خالق کائنات اور کائنات=کرہ کائنات۔ یہ درست ہے کہ خالق کائنات کا مزاج درہم برہم ہوتو نبض کائنات ڈوبنے لگے گی۔ لیکن برہمیٔ مزاج کا ثبوت کیاہے۔طوفان، زلزلہ، وبا، جنگ عظیم۔ ایٹمی طاقت کا غلط استعمال۔ پتہ نہیں فانی کو کیسے معلوم ہوا کہ مزاج دوست برہم ہے۔ پھر نبض کائنات کے ڈوبنے کا ثبوت کیا ہے۔ طوفان اٹھے، زلزلے ہوئے، وبائیں آئیں، دوعظیم جنگوں نے تخریب کی لیکن نبض کائنات نہیں ڈوبی۔ البتہ اب یہ خیال عام طور سے ملتا ہے کہ ایٹمی طاقت کی روک تھام نہ کی گئی تو شاید اس کرہ خاک پر زندگی ختم ہوجائے گی۔ یہ کرئہ خاک بھی ختم ہوجائے گا لیکن کائنات ختم نہ ہوگی۔ نبض کائنات نہیں ڈوبے گی۔
(۳) دوست=معشوق— مزاج دوست کچھ برہم ہوا تو فانی کی نبض ڈوبنے لگی۔ فانی کی نبض ڈوبی تو کائنات کی نبض بھی ڈوبنے لگی یعنی دنیا اجاڑاجاڑ سی معلوم ہونے لگی۔۔۔ کہہ سکتے ہیں کہ کائنات کی زندگی فانی کی زندگی سے وابستہ ہے۔ کائنات فانی کے شعورمیں زندہ ہے۔
(۴) …یہ برہمی صرف فانیؔ کو نظر آئی یا اور کسی کو بھی نظر آئی؟ سبھوں کو نظر آئی؟ یہ برہمی تھی یا صرف نظر آئی؟واقعی تھی یا خیالی۔۔۔’میں‘ اور ’مجھے‘ سے شاید ظاہر ہوتا ہے کہ مزاج دوست برہم نظر آیا تو صرف فانی کواور نبض کائنات کو ڈوبتے بھی صرف فانی نے دیکھا— اور نہ شاید مزاج دوست برہم تھا اور نہ نبض کائنات ڈوبنے لگی تھی— یہ سب ایک وہم تھا۔
اس پر اور بھی روشنی ڈالتے ہوئے میر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں:
کوئی ہو محرم شوخی ترا تو میں پوچھوں
کہ بزم عیش جہا ں کیا سمجھ کے برہم کی
یہاں نبض کائنات نہیں ڈوبتی۔ میرنے ’’بزم عیش جہاں‘‘ کو برہم ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اور وہ اس برہمی کی وجہ شوخی کو قرار دیتے ہیں۔ برہمیٔ مزاج دوست کو نہیں،شاید فانی بھی کچھ اسی قسم کی بات کہنا چاہتے تھے۔۔۔‘‘ (عملی تنقید: کلیم الدین احمد،ص97-99)
کلیم صاحب نے فانی کے اس شعر کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔ مزاج دوست کے برہم ہونے کی توجیہہ کو نبض کائنات ڈوبنے کے لیے انھوں نے کمزور سمجھا ہے۔ یوں بھی’بزم عیش جہاں‘ میں ’جہان‘ کی وسعت پر ’کائنات‘ کی وسعت فوقیت رکھتی ہے۔پھر یہ کہ کوئی ہو محرم سے کیا مطلب؟ کیا ثبوت ہے کہ اس شوخی کا محرم میر بھی ہو؟ پھر یہ کہ اگر میر محرم ہیں بھی تو دوسرے سے کیا پوچھتے پھریں گے؟ یہ بھی ہے کہ محبوب کی شوخی سے اگر شوخی عیش برہم ہوجاتی ہے تو بلا سے، محبوب سے کیا مطلب؟ اُسے اس کی بھلا کیا پروا ہوسکتی ہے؟ محبوب یہ کام کسی منصوبہ کے تحت تو کرتا نہیں۔ فانی کے شعر میں ازخود سارا عمل انجام پارہا ہے۔ مزاج دوست کی برہمی سے پوری کائنات تاریک ہوگئی یانبض کائنات ڈوب گئی۔ اس میں شعریت وادبیت کی بھرپور چاشنی ہے۔ ’’نبض کائنات کا ڈوبنا‘‘ یوں بھی اتنا زیادہ اور درخشاں استعارہ ہے کہ میر کا پورا شعر اس کے آگے بونا نظر آتا ہے۔ کلیم الدین احمد کی بہت سی تشریحیں عملی تنقید میں بے سروپار کی ہیں۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ قصداً شاعر کا بالخصوص غزل گو کا کبھی بلاواسطہ اور بالواسطہ مذاق اڑاتے ہیں۔
پروفیسرگوپی چندنارنگ نے سوغات میں فیض پر جو مضمون لکھا تھا اور پھر جو طویل مضمون ’’فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام‘‘ کے نام سے (ان کی کتاب ’’ادبی تنقید اور اسلوبیات‘‘ 2001و1989 میں شامل ہے) دونوں عملی تنقید کے ذیل میں آتے ہیں۔ فیض کو جس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ نارنگ صاحب نے اپنے اس چالیس صفحے کے مضمون میں کھنگالا ہے،اس کی مثال شاید تشریحی اور عملی تنقید کی نوعیت سے تلاش کرنا مشکل ہے۔ نظم اور غزل ہر دواصناف کے لیے انھوں نے نظام فکرکے ساتھ ساتھ استعاراتی ومعنیاتی نظام کی تشکیل کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ وتراکیب کی بھی چھان پھٹک کی ہے۔ اس کام کے لیے فلسفۂ لسان اور صرفی ونحوی رموز ونکات سے واقفیت کا ہونا ضروری ہے۔ نارنگ صاحب نے اس کام کو خوش اسلوبی سے اس لیے انجام دیا ہے کہ یہ ان ہی کے دائرہ کار میں تھا۔ جمالیاتی قدروں اور سیاسی وسماجی بصیرتوں کو بھی انھوں نے فیض کی شاعری میں تلاش کیا ہے۔ فیض کے انقلابی موضوعات کے ساتھ نرم رو اور سجل وشیریں اسلوب پر انھوں نے کھل کر باتیں کی ہیں۔ ایک طرح سے یہ مضمون فیض کو اپنے ہم عصروں میں سب سے نمایاں اور شاعری کے ارتفاعی منصب پر متمکن کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ شاعری اور تنقید کی تخلیقی ہم آہنگی سے فیض کا شعری وفنی حسن نکھر گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ انھوں نے نئے اظہاری پیرائے وضع کیے، اور سیکڑوں، ہزاروں لفظوں، ترکیبوں اور اظہاری سانچوں کو ان کے صدیوں پرانے مفاہیم سے ہٹاکر بالکل نئے معنیاتی نظام کے لیے برتا۔۔۔‘‘ ۳۰؎
اس معنیاتی نظام کو تفصیل سے پرکھنے کے لیے پروفیسر نارنگ کے نزدیک اٹھارہ بنیادی ساختیے (فیض کے حوالے سے) ہیں۔ یہاں پر انھوں نے چھ سیٹ (6 sets)تیار کیے ہیں۔ ان کے تحت فیض کی شاعری کے موضوعات عاشقانہ، متصوفانہ اور سیاسی وسماجی سب آجاتے ہیں۔ ان کلیدی الفاظ وعوامل کوملاحظہ کیجیے:
1۔
عاشق
معشوق
رقیب
(مجاہد/انقلابی)
(وطن/عوام)
(سامراج/سرمایہ داری)
2۔
عشق
وصل
ہجر، فراق
(انقلابی ولولہ/جذبہ حریت)
(انقلاب/آزادی/حریت)
سماجی تبدیلی
جبر،ظلم/استحصال کی حالت/یا انقلاب سے دوری
3۔
رند
شراب، میخانہ، پیالہ، ساقی
محتسب، شیخ
(مجاہد/انقلابی/باغی)
(سماجی اور سیاسی بیداری کے ذرائع)
(سامراجی نظام/سرمایہ دارانہ نظام/عوام دشمن حکومت/رجعت پسندانہ نظام/ظلمت پسند یا زوال آمادہ ذہنیت
4۔
جنون
حسن، حق
عقل
(سماجی انصاف/انقلاب کی خواہش/تڑپ
(سماجی انصاف/انقلاب/سماجی سچائی)
(مصلحت کوشی/منفعت اندیشی/جابر نظام/دفتر شاہی، یا عسکری نظام سے سمجھوتہ بازی)
5۔
مجاہد
زنداں، دار و رسن
حاکم
(مجاہد آزادی/انقلابی)
(سیاسی قید/پھانسی/جان کی قربانی)
سامراج/سرمایہ داری/تاناشاہی/عسکری نظام)
6۔
بلبل، عندلیب
گُل
گلچیں، قفس
(جذبۂ قومیت/حریت سے سرشار شاعر، انقلابیٌ
سیاسی آدرش/نصب العین)
(سیاسی نصب العین کے حصول میں رکاوٹ/یا رکاوٹ ڈالنے والے عوامل)
بقول نارنگ فیض کی شعری کائنات ان ہی اٹھارہ ساختیوں پر اپنی اساس رکھتی ہے۔ انھوں نے کئی نظمیں اور غزلیں پیش کی ہیں جن کے تجزیے نے ان کے قائم کردہ مفروضے کو سچ کردکھا یا ہے۔ مگر پھر بھی گفتگو آگے بڑھانے کی گنجائش رہتی ہے۔ ادب میں لچک اور تنقیدمیں Flexibilityہونے کا یہی مطلب بھی ہوتاہے۔ یہاں نارنگ صاحب کے ذریعہ پیش کیا گیا نظم ’’ملاقات‘‘ (ماخوذ از’’زنداں نامہ‘‘ کا تجزیہ دیکھیے۔ پہلے نظم لکھتا ہوں پھر تجزیہ:
یہ رات اس درد کا شجر ہے/جو مجھ سے، تجھ سے عظیم تر ہے
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں میں لاکھ مشعل بکف ستاروں
کے کارواں، گھر کے کھوگئے ہیں
ہزار مہتاب، اس کے ساتھ میں اپنا سب نور، رو گئے ہیں/یہ رات…
رات،دردوغم یا ظلم وبے انصافی کا استعارہ ہے اور صبح کا روشن افق فتح مندی کی نشانی ہے… رات اور صبح کا سماجی سیاسی تصور دنیا بھر کی شاعری میں ملتا ہے اور معنیاتی اعتبار سے غیرمعمولی نہیں۔۔۔اگرچہ ان علائم میں جن پر اس نظم کی بنیاد ہے کوئی ندرت نہیں، لیکن نظم کے اظہاری پیرائے اور معنیاتی نظام میں ندرت ہے۔۔۔ شاعر نے رات کو ’درد کا شجر‘کہاہے جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے۔ عظیم تر اس لیے کہ اس کی شاخوں میں لاکھوں مشعل بکف ستاروں کے کارواں، گھر کے کھوگئے ہیں۔ نیز ہزاروں مہتاب اس کے سائے میں اپنا سب نور روگئے ہیں۔ رات، درد اور شجر پرانے لفظ ہیں لیکن رات کودرد کا شجر کہنا نادر پیرایہ اظہار ہے۔ چنانچہ رات کا شجر،ستاروں کے کارواں اور مہتاب سے مل کر جو امیجری مرتب ہوتی ہے وہ حد درجہ پُرتاثیر ہے۔ نیز ستاروں کے کاروانوں کا کھوجانایا مہتابوں کا اپنا نور روجانا استعاراتی پیرایۂ اظہار ہے جو درد کی کیفیت کوراسخ کرتا ہے۔۔۔
نظم کے دوسرے حصے کو دیکھیے:
مگر اسی رات کے شجر سے
یہ چندلمحے کے زرد پتّے گرے ہیں، اور تیرے گیسوؤں میں
الجھ کے گلنار ہوگئے ہیں اسی کی شبنم سے خامشی کے
یہ چند قطرے، تری جبیں پر برس کے ہیرے پرو گئے ہیں۔۔۔
لکھتے ہیں:
’’لمحوں کو زرد پتے کہنا واضح طور پر مغربی شاعری کا اثر ہے جو فیض کی امیجری میں جگہ جگہ دکھائی دیتا ہے، لیکن گیسو، گلنار، شبنم، قطرے، جبیں، ہیرے، سب کے سب اردو کی کلاسیکی روایت سے ماخوذ ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے، پہلے بند کی امیجری کو دوسرے بند کی امیجری سے آمیز کرکے فیض نے جس معنیاتی فضا کی تخلیق کی ہے، کیا وہ ذہن کو نئی جمالیاتی کیفیت سے سرشار نہیں کرتی؟۔۔۔‘‘ 31
آگے کی تفصیل چھوڑتاہوں۔ پروفیسر نارنگ نے جن اٹھارہ عناصر کا (بلکہ یہ عناصر استعاراتی و معنیاتی نظام کی اساس بناتے ہیں) ذکر کیا ہے ان سے بہت روشنی ملتی ہے۔ امیجری، لہجہ اور استعارے کی مدد سے شعری جہان جس طرح نکھرتا ہے اس سے کسی کو انکار نہیں۔ عملی تنقید میں ذمہ داری اسی لیے بڑھ جاتی ہے کہ یہاں ناقد کو تخلیق کار کا روپ دھارن کرنا پڑتا ہے یعنی ان محسوسات کی دھاروں(streams of feelings)سے اور چپ وراست کے گردابوں سے گزرنا پڑتا ہے جن سے ہوکر تخلیق کار آیا ہوتا ہے۔ یہ کوئی لعب صبیان ہے کیا؟ چونکہ یہاں تقابل کا عمل بھی ضرورتاً ساتھ ساتھ چلتا ہے، گوضروری نہیں کہ ان کا ذکر تحریری طورپر بھی ہو، بلکہ ذہن میں دوسرے فن پارے اسی صنف کے موجود ہوتے ہیں— اس لیے یہ ایک بہت ہی ذمہ داری کا عمل ہے۔ پھر یہ کہ جہاں استعاراتی نظام کو سمجھنے اور سمجھانے کی بات ہو تو وہاں ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ نظم یا شعر پارہ اسی نظام کی تہوں میں اپنے جہان معانی کو چھپائے رکھتا ہے۔ جان گریگر (Jan Gregor)اپنے ایک مضمون میں کہتا ہے:
"It is a language in which metaphors have been enlisted to give us the sense of the poem or the novel as object.” 32
فاروقی صاحب کے سامنے انگریزی اور فارسی ادب کے نمونے متحرک طور پر موجود ہوتے ہیں سو نظیرپیش کرنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ تقریباً شعرشور انگیز کی چاروں جلدوں میں اس کی مثالیں مل جائیں گی۔ ایک شعر کے حوالے سے جو گفتگو کی گئی ہے س سے اقتباس ملاحظہ کیجیے۔شعرہے:
جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میرؔ ز بس
اُن نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے
فاروقی لکھتے ہیں:
ہم میں سے اکثر کو شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے Macbethکا وہ منظر یاد ہوگا جہاں لیڈی میک بیتھ نیند میں اٹھ کر اپنے ہاتھوں کو ملتی ہے اوران پر سے خون کے دھبے چھڑانے کی کوشش کرتی ہے۔ اپنی شدت تاثر اور خوف انگیزی کے باعث یہ منظر دنیا کی ڈرامائی ادب میں بلند مقام کا حامل ہے۔۔۔ میر کے شعر میں قاتل معصوم اور نوعمر ہے،اس لیے وہ خون کے دھبے چھڑانے میں ناکام ہونے پر ’’رورودیتا ہے‘‘۔ ’’ان نے رورودیا‘‘کا فقرہ مجبوری اور بے چارگی کی تصویرکھینچ دینے کے ساتھ ساتھ قاتل کی ناتجربہ کاری اور نوعمری کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔۔۔ جس طرح میر کے شعر میں متکلم (یا اس منظرکاراوی) منظر سے الگ بھی ہے اور اس سے منسلک بھی، اسی طرح شیکسپیئر نے بھی کمال ڈرامائیت کے ساتھ منظر کو دوسروں کی نگاہوں سے ہمیں دکھایا ہے۔ میر کے طرح شیکسپیئر نے بھی وقوع کوروزانہ زندگی سے قریب لانے کے لیے زمانی حوالہ استعمال کیا ہے۔۔۔ شیکسپیئر کے یہاں بھی لیڈی میک بتھ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ وہ خود کہتی ہے کہ ملک عرب کی تمام خوشبوئیں بھی اس ننھے سے ہاتھ کو خون سے پاک نہیں کرسکتیں اسی طرح میرکے شعر میں بھی وقوعہ نامکمل رہتا ہے اور ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ معشوق کے ہاتھ سے خون کے دھبے بالآخر چھٹے کہ نہیں۔۔۔ خود میر نے یہ مضمون خان آرزو سے مستعار لیا ہے:
داغ چھوٹا نہیں یہ کس کا لہو ہے قاتل
ہاتھ بھی دکھ گئے دامن ترا دھوتے دھوتے
میر کا شعرخان آرزو سے بہت بلند ہے۔ مضمون چونکہ استعارے پر مبنی ہوتا ہے اور استعارے کا عام اصول یہ ہے کہ وہ اس حقیقت سے بڑا ہوتا ہے جس کو بیان کرنے کے لیے اسے لاتے ہیں (یعنی مستعارلہٗ کے مقابلے میں مستعار منہ قوی تر ہوتا ہے)۔۔۔غالب کو یاد رکھیے کہ ان کا مضمون بھی خان آرزو اور میرؔ ہی سے شروع ہوتا ہے :
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
(شعرشورانگیز:ص358-363)
شعرشورانگیز جلد۶۰میں فاروقی صاحب نے ایک مضمون کے حوالے سے میر کے کئی اشعار پیش کیے ہیں۔ساتھ ہی غالب کا ایک فارسی شعر بھی اسی مضمون پر مبنی پیش کیا ہے۔ عاشق کا استخواں (ہڈی) ہمیشہ اندر کی آگ سے جلتا اور پگھلتا رہتا ہے لیکن اس کا مصرف میر کو زیادہ معلوم تھا۔ وژن کی بات ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:
ان جلتی ہڈیوں کو شاید ہُما نہ کھاوے
تب عشق کی ہماری پہنچی ہے استخواں تک
(دیوان سوم)
ان جلتی ہڈیوں پر ہرگز ہُما نہ بیٹھے
پہنچی ہے عشق کی تب اے میر استخواں تک
(دیوانِ ششم)
کیا میل ہو ہُما کی پس از مرگ میری اور
ہے جائے گیر عشق کی تب استخواں کے بیچ
(دیوانِ چہارم)
ان ہڈیوں کا جلنا کوئی ہُما سے پوچھو
لاتا نہیں ہے منہ وہ اب میرے استخواں تک
(دیوانِ دوم)
دیر رہتا ہے ہُما لاش پہ غم کشتوں کی
استخواں ان کے جلے کچھ تو مزا دیتے ہیں
(دیوانِ چہارم)
فاروقی صاحب نے اتنے سارے اشعار ایک ہی مضمون کے جمع کردیے ہیںکہ ہڈیوں کے جلنے کی بوسی آرہی ہے۔ یہ میر جیسا ہی شاعر ہی تھا کہ استخواں کے اس قدر جلتے رہنے کے باوجود زندہ رہا اور اپنے اشعارمیں توانائی برقرار رکھی۔ یہ اشعار اگر کلیم الدین احمد کو ہاتھ لگ جاتے توپھر سمجھئے کہ ان کا حشر کیا ہوتا۔ اس درجہ Repeatationجس شاعر کے یہاں پایا جاتا ہو اس کے یہاں مضامین کی حد تک تنگی وفقدان کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ غالب نے اسی کے تنبع میں یہ شعر کہا:
دور باش از ریزئہ ہائے استخوانم اے ہُما
کاین بساط دعوت مرغان آتش خوار است
اس میں ایک طرح کی جدت طرازی ہے۔ ہُما کو دور رہنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ اپنے استخواں کو مرغان آتش خوار کے لیے بساط دعوت تصور کیا ہے۔ یہ بات میر کے یہاں نہیں۔ میر نے ہُما کو اس قدر ہڈی کھلانے یا نہ کھلانے کی بات کی ہے کہ شعریت اور شعر کی لطافت مجروح ہوتی معلوم ہونے لگتی ہے۔ مضمون کا جیسے قحط پڑ گیا ہو۔ اگر قحط والا معاملہ نہیں ہے توپھر میر میں انتخاب کلام کی صلاحیت موجود نہیں تھی۔ جو کچھ بھی کہا دیوان کی زینت بنالیا۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ میر میں تنقیدی صلاحیت کمزور تھی ورنہ وہ بھی مرزا غالب کی طرح اپنے کئی دیوان کا تنقیدی جائزہ لے کر ایک ہی اچھا سا دیوان اردوادب کو سونپتا۔ میر تو خود کہتا تھا : مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ بھلا وہ ایک بار جو شعر کہہ دے پھر اسے رد کردے؟ یہ تواس کے میلان طبع کے خلاف ہی تھا۔ جبکہ بائرن، ورڈزورتھ یا اردو میں راسخ وغیرہ ایسے شعرا تھے جو اپنے کلام کو باربار تنقیدی نظر سے دیکھتے اور کاٹتے چھانٹتے رہتے تھے۔ اس طرف بہت تفصیلی روشنی ڈالنے کی یہاں گنجائش نہیں۔ عملی تنقید میں فاروقی صاحب نے یہ اچھا کام کیا ہے کہ ایک ہی مضمون کے اشعار ایک جگہ جمع کردیے ہیں۔تھوڑی دیر کو سوچیے کہ اگر ہمُااور ہڈی کے درمیان کے رشتے سے قاری یا سامع واقف نہیں تواس کے لیے ایسے اشعار معمے بن جائیں گے یا پراسرار یا پھر بے معنی۔ تنقیدنگار جب تجزیہ کرتاہے یا اس کے متن میں اترتا ہے تو اس کی سوچ اور ایسے اشعار میں پیش ہوئے مضمون کے مابین تصادم ہوتا ہے پھر جاکر کہیں ایک مفہوم ہاتھ آتا ہے۔ عملی تنقید تو بس Lab میں کیے جانے والے تجربے کی سی مثال ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے اگر تنقید کو اضافی عمل تصور کرلیاجائے تو یہ بات بہت مستحکم ہوسکتی ہے کہ تخلیق کی بالادستی عام ہوجائے گی۔ ہر ایک قاری اپنی استعداد اور اپنی ذہنی ورزش کے مطابق اوراپنی قوت تفہیم سے متن کے معانی تک رسائی حاصل کرے گا۔ درمیان سے ’’نقاد‘‘ غائب۔ تخلیق کارحضرات بہت خوش ہوں گے کہ چلویار ایک بلا تھی کہ ٹل گئی۔ حالانکہ بہ نظرغائر دیکھیں گے توسمجھ میں آئے گا کہ اس درمیانی شخص (کسی اور معنی میں اسے نہ لیاجائے) کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ واقعی تخلیق کے چہرے پر پڑے ہوئے بہت سے جالے عملی تنقید سے متعلق نقاد ہی صاف کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی، یہ دعویٰ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ شاعری یاادب کو نظریوں کی بنیاد پر سمجھا جاسکتا ہے۔ شعر وادب تو انجذاب کے عمل سے ہماری روح میں اترتا ہے۔ کبھی کبھی بغیر معنی ومطلب کا شعر بھی دل کو چھوجاتا ہے۔ مشاعرے میں یہ منظر خوب خوب دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسی لیے یوروپ میں بہت سے نقادوں اور دانشوروں نے شعر یا ادب پارے میں معانی کی جستجو کو بے معنی خیال کیاتھا۔ خود ہمارے عہد میں (ہندوستان سے باہر، پھربعد میں یہاں بھی) Dadaism، Surrealism یا پھر Absurdityسے متعلق حضرات بھی زندگی کی بے معنویت کے ساتھ ساتھ ادب وشعر کو بے معنی تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ تلاش معنی کی تحریک کے نزدیک یہ سارے نظریے بے معنی سے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ زندگی کبھی بے معنی تھی اور نہ کبھی شعروادب بے معنی رہا۔ کہنا چاہیے کہ Absurdity میں بھی ایک طرح کی معنویت پنہاں ہوتی ہے۔ شعورنقد کی بالیدگی کے لیے غور وفکر اور مطالعہ ہی اہم نہیں بلکہ کبھی کبھی اپنے نظام فکر کو مہمیز بھی کرنا پڑتا ہے۔ گویا بندھے ٹکے کلیشے(Cliche)سے متصادم ہونا پڑتا ہے۔ عرفی کے نزدیک حسن شعر کے لیے معنی کا ہونا ضروری ہے:
بدون معنی اگر حسنِ یوسفی داری
ز صحبت تو زلیخا بود دل افسردہ
اوراگر معنی کی اہمیت نہ ہوتی یا یہ کہ اس کی حیثیت ثانوی ہوتی تو مرزا غالب کے بصد انداز وناز یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی:
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آئے
پروفیسر حامدی کاشمیری کا معاملہ بھی شعرمیں محض معنی کی تلاش بیکار سی بات ہے، والا ہے۔ یعنی کسی لفظ کا معنی مخصوص نہیں ہوتا۔ لکھتے ہیں:
’’تسلیم کہ شعر معنی کے بغیر متصور نہیں ہوسکتا، لیکن عام طور پر غلطی سے معنی سے مفہوم یا مدعا مراد لیا جاتا ہے، ظاہر ہے شعر کو اس سے دور کا واسطہ بھی نہیں، اس ڈائلما کو یہ ذہن میں رکھ کر حل کیا جاسکتا ہے کہ شاعر دم تخلیق کسی معنی سے سروکار نہیں رکھتا بلکہ وہ ایک کشف پذیر تخیلی صورت حال کی تخلیق میں مصروف ہوجاتا ہے۔۔۔ رہا، شعر سے معنی کی کشید کا مسئلہ، سو وہ ثانوی حیثیت رکھتا ہے، یہ تدریسی اور توضیحی عمل ہے جو بنیادی طور پر تنقیدی عمل سے بلاواسطہ یا براہ راست تعلق نہیں رکھتا۔۔۔ شعر کثیر المعنی ہوتا ہے اوراس کے معانی اس کی علامتی پرتیں ہیں۔ لہٰذا تخلیق کی علامتی ساخت کی دیدودریافت نہ کہ مدعا طلبی، نقاد کا اصلی کام ہے۔‘‘ 33
’’کثیرالمعنی‘‘ ہونا ایک کلیشے توہوسکتا ہے مگر مصدقہ حقیقت نہیں۔ یہ بھی سراسر غلط ہے کہ ’’شاعر دمِ تخلیق کسی معنی سے سروکار نہیں رکھتا۔‘‘ شاعر کبھی لفظوں سے توکٹ سکتا ہے مگر اپنے معانی سے نہیں۔ معانی اگر بطن شاعر میں نہ ہوں تو جولانیٔ طبع ماند پڑسکتی ہے۔ وہ ’’معانی‘‘ ہی ہوتے ہیں جو اپنے مطابق الفاظ وتراکیب تلاش کرتے ہیں۔ معانی کی موت لفظوں کی موت ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ لفظوں کے استعاراتی نظام اور علامتی استعمال سے ایک ہی لفظ کے مختلف معانی مختلف Textمیں ہوسکتے ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی ایک ہی Textمیں ایک لفظ کی کئی تعبیریں ممکن ہوسکتی ہیں۔معانی سے ہم مدعا ومفہوم تک بھی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ البتہ یہ سچ ہے کہ معنی ہی مفہوم یا مدعا نہیں۔ پروفیسرحامدی کاشمیری نے اپنی بیشتر تنقیدی تحریروں میں (مثلاً اقبال اور غالب، حرف زار، اقبال کا مطالعہ، کارگہہ شیشہ گری، میر کا مطالعہ وغیرہ) ’’اسی کشف پذیر تخلیقی صورتِ حال‘‘ (اس کا مطلب ایمانداری سے پوچھیے تو میری سمجھ میں بالکل نہیں آیا) سے بحث کی ہے۔
اس مضمون کو اوربھی بہت آگے بڑھانے کی گنجائش ہے۔ میرا یہ ارادہ ہے کہ تقریباً دس نقادوں کے تجزیاتی مضامین سے اقتباسات چھانٹ کر ان کی روشنی میں اپنی باتیں آگے بڑھاؤں۔کئی مشہور نقادوں کی چیزیں ابھی رہ گئی ہیں جن کے بغیر بات آگے نہیں بڑھائی جاسکتی۔ محمدحسن عسکری، سلیم احمد،آل احمدسرور، مجنوں گورکھپوری، شمیم حنفی، وزیرآغا وغیرہ۔ حمیدنسیم کی دوکتابیں جو ادھر منظرعام پر آئی ہیں۔ ’’پانچ جدیدشاعر‘‘ اور ’’کچھ اور ہم شاعر‘‘ دونوں اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ان کے یہاں جو طریقۂ تشریح ہے وہ بھی عملی تنقید کی نوعیت کا ہے۔ واضح رہے کہ صرف سرسری تشریح عملی تنقید نہیں ہوسکتی بلکہ یہاں زبان، صرف ونحو، عروض وبلاغت اور معانی ومطالب ان سب پر ایک گہری نظر ہونی چاہیے۔ اس مضمون میں زیادہ تر تنقیدی عمل کے لیے استعارے تک رسائی کے حوالے سے باتیں کی گئی ہیں۔ یعنی Metaphorsکی اہمیت شعر پارے میں کیا ہوتی ہے اور اس سے معنیاتی نظام کس طرح بنتا بگڑتا ہے۔ تصورات بنتے بگڑتے ہیں، نظریات بھی بنتے بگڑتے ہیں۔ اگر یہ تخریب کا عمل جاری نہ رہے تو معانی پر انجماد وتعطل کی پرتیں پڑ جائیں گی۔ کلیم الدین احمد، گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمن فاروقی کے تین تنقیدی نمونوں( یعنی طریقہ تشریح وتعبیر) کی روشنی میں یہاں باتیں کی گئی ہیں۔ لیکن سیاق وسباق میں جو کچھ بھی ضمنی باتیں آتی گئی ہیں وہ بھی ایسی شعاعیں ہیں جو تنقید کے ظلمت خانوں کو منور کرنے کا کام انجام دیتی ہیں۔
(استعارہ، دہلی 8-9: 2002)
حواشی
1۔ The Reading Process: a Phenomenological approach, By Wolfgang Iser, Ref. Modern Criticism & theory Ed. by David Lodge, Nigel Wood, 2000, Longman, Singapore, PP. 189
2۔ جدید اور مابعد جدید تنقید، انجمن ترقی اردو، پاکستان دسمبر 2004، ص: 181
3۔ ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات: گوپی چند نارنگ، ص: 291، 2004، دہلی
4۔ Modern Criticism & theory, p.197, Ed. David Lodge- 2000
5۔ بحوالۂ جدید اور مابعد جدید تنقید: ناصر عباس نیر، 2004، صفحہ: 182
6۔ جدید ادبی تھیوری اور گوپی چند نارنگ: ڈاکٹر مولا بخش،2009، ص: 124-125
7۔ ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات: گوپی چند نارنگ، 2004، ص: 295
8۔ Course in Gen. Linguistics, Tr. by Wade Baskin, New York, 1966, p.67
9۔ Criticism and Ideology: A study in Marxist, Literary Theory, 1976, p-70
10۔ بحوالہ: اکتشافی تنقید کی شعریات: حامدی کاشمیری، نومبر 1999، ص: 79، کمپیوٹر سٹی راج باغ سری نگر، کشمیر
11۔ S. Stewart on longing : Narration of the miniature. The Gigantic, the Souvenir, the collection, 1993, p-14
12۔ شعر شورانگیز، حصہ اول، 1997، قومی کونسل، نئی دہلی، ص: 59
13۔ Of Grammatology: Derrida, 1976, p-158
14۔ ترجیحات: از عتیق اللہ، 2002، ص: 146
15۔ Principles of Literary Criticism, By: I.A Richards, 1999, p-99
16۔ تحریر اساس تنقید: قاضی افضال حسین، 2009، ص: 53، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ
17۔ مابعد جدیدیت: مضمرات و ممکنات: وہاب اشرفی، ایجوکیشنل، دہلی، 2003، ص: 62
18۔ Anatomy of Criticism: Northrop Frye, pp-271,272
19۔ Feeling and form, p-250, By: Susanne Langer, Ref. from: Myth, Truth and Literature; By Colin Falck, Combridge University Press, 1994, pp-60
20۔ مغرب کے تنقیدی اصول: سجاد باقر رضوی، ص: 205، کتابیات، لاہور 1966
21۔ علم شرح،تعبیر اور تدریس متن: مرتبہ پروفیسر نعیم احمد، شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، 1995، ص: 148
22۔ ادارہ انیس اردو، الہ آباد، 1959، ص: 9
23۔ The Practice of Criticism, 1968, P-6
24۔ Practical Criticism, 1982, P-11
25۔ Practical Criticism
26۔ From : Education & the University By : F.R. Leavis
27۔ ادبی تنقید اور اسلوبیات: پروفیسر گوپی چند نارنگ، ص187
28۔ D.H. Lawrence : Essay on Galsworthy
29۔ شعرشورانگیزحصہ اول: شمس الرحمن فاروقی، ص:64
30۔ ادبی تنقید اوراسلوبیات:پروفیسر گوپی چند نارنگ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی 1989، ص179
31۔ ادبی تنقید اور اسلوبیات: گوپی چند نارنگ، 1979، ص: 179-180
32۔ Article: The Approach through reading Ref. Book: "Contemporary Criticism” Stratford-upon-Avon Studies 1975
33۔ جدید شعری منظرنامہ: حامدی کاشمیری، ص24
(بحوالہ قرأت اور مکالمہ۔ پروفیسر کوثر مظہری)
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں اردو کے استاد ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


3 comments
پروفیسر کوثر مظہری کی تنقید میں سنجیدگی اورتعمق پائی جاتی ہے. گوپی چندنارنگ ,فاروقی ,ابوالکلام قاسمی,قاضی افضال حسین,عتیق اللہ کےبعد موجودہ اردوتنقید میں جو دوروشن نام نظر آتے ہیں ان میں ناصر عباس نیر اور کوثرمظہری کے علاوہ کوئی تیسرانام نظر نہیں آتا ہے اور میں یہ بات بہت ذمہ داری کےساتھ کہہ رہا ہوں.ان کے علاوہ ہمارےعہد کے زیادہ تر ناقدین سیلف پروجیکشن میں لگے ہوئے ہیں یا تو اوروں کوپروجیکٹ کرنے میں.
رغبت شمیم ملک
[…] تحقیق و تنقید […]
[…] تحقیق و تنقید […]