مخطوطہ ایک تاریخ ،ایک کاغذی پیرا ہن ہے جس میں اقوام ملل،ملوک و سلاطین ،ادیان و بلدان ،علمی و ثقافتی اقدار،تہذیب و تمدن کے پیکر قرون و عہود کے آثار و اعلام نظر آتے ہیں ۔ایک مخطوطہ اور نسخہ اپنی جگہ ایک دنیا لئے ہوتا ہے۔
نسخہ شناسی میں کاغذ کو ایک بڑی اہمیت حاصل ہے۔ نسخہ شناسی ایک ایسا فن ہے جس کے لئے وسیع علوم کے مطالعہ کی ضرورت ہے ،پھر مختلف اقسام کے کاغذات کی پہچان بھی نہایت ضروری ہے۔ کاغذ اور روشنائی کا اس معاملہ میں بڑا اہم رول رہا ہے۔کون سا کاغذ کہاں اور کب تک ملتا رہا ، بانس کا کاغذ کب استعمال ہوتا رہا۔پھر ان کاغذوں کے بنانے کے کارخانے کہاں کہاں تھے، اس سے بھی بڑا فرق پڑتا تھا۔ ہندوستان میں کشمیری کا غذ اور کشمیری طلائی ،مینا کاری کا کافی رواج رہا۔ اس طرح دکنی ،دہلوی ،لاہوری،کاغذ کے خصوصیات اپنی جگہ مسلم تھے۔ ہندوستان کے باہر شیرازی ،دمشقی، بغدادی،ماوراء النہری کاغذ بھی اپنی جگہ اہمیت کے حامل تھے۔اس طرح مکتوبہ مرقوم نسخے کے کاغذ کی ساخت و پرداخت سے زمانوں اور عہدوں کا تعین کرسکتے ہیں اور اصلی وجعلی نسخوں کو بحسن و خوبی پہچان سکتے ہیں۔
کا غذ نہایت ہی باریک خستہ جو لکھنے یا چھپائی کے کام آتا ہے یہ عام طور پر لکڑی کے گودے پھٹے پرانے کپڑے یا کسی اور ریشہ دار چیز سے بنایاجاتا ہے۔یہ سفید بھی ہوتا ہے اور مختلف رنگوں کا بھی مثلاً سرخ، زرد،آل،کبود، زنگاری ،خودرنگ و کاہی، عودی، سبز، گلگوں، فریسہ و نارنجی وغیرہ۔کا غذ چھپائی کے علاوہ یہ اور کئی کاموں میں استعمال ہونے لگا ہے۔عام طورسے یہ خیال ہے کہ کاغذ ۱۰۵ میں چین میں ایجاد ہوا۔ یہاں سے کاغذ سازی کی صنعت ۶۱۰ میں جاپان اور ۷۵۱میں سمر قند پہونچی اور ۹۰۰ تک عرب ملکوں اور مصر میں پہونچی۔اور ۱۱۵۰ تک شمالی افریقہ ہسپانیہ ہوتی ہوئی یوروپ پہونچی گئی۔اور ۱۲۷۶ سے ۱۴۹۵کے درمیان ،اٹلی،فرانس، جرمنی اور انگلستان میں کاغذ بنانے کے کارخانے قائم ہوگئے۔
(یہ بھی پڑھیں عملی تنقید اور تفہیم شعروشاعری-پروفیسر کوثر مظہری )
اطلخ کی لڑائی میں چین کے جوقیدی اسیر بناکر سمر قند لائے گئے تھے پہلے پہل انہوں نے ۱۳۴ ھ ۷۵۱میں چین میں مروجہ طریقے کے مطابق کتان اور سن کے ریشوں سے کاغذ بنانے کی صنعت رائج کی اس زمانے میں کاغذ کی جو مختلف قسمیں تیار کی جاتی تھیں وہ حسب ذیل ہیں۔ (۱)کاغذ فرعونی: عربی تحریر کا سب سے پرانا کاغذ جو مصر میں دستیاب ہوا ہے۔ ۱۸۰ ھ تا ۲۰۰ ھ ؍ ۷۹۶ تا ۸۱۵ (۲)کاغذ سلیمانی: سلیمان بن رشید کے نام سے موسوم ہے جو ہارون رشید کے عہد میں خراسان کا خازن تھا۔(۳)کاغذ جعفری: جعفر برمکی وزیرہارون الرشید کے نام سے موسوم ہے اور مشہورہے۔ (۴) کا غذ طلحیی: طاہریہ خاندان کے دوسرے فرمانرواں طلحہ بن طاہر کے نام پر مشہورہے۔ (۵)کاغذ طاہری : اسی خاندان کے بادشاہ طاہر دوم کے نام پر ۔ (۶)کاغذ نوحی: اس میں سامانی بادشاہ نوح اول کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔
سمر قند کے کارخانے کے نمونے پر دوسرے مقامات پر بھی کاغذ بنانے کے کارخانے قائم ہوئے۔جعفر البرمکی کے بھائی الفضل نے جو ۱۷۸ ؍۷۹۴خراسان کا عامل تھا بغداد میں کاغذ بنانے کا کارخانہ قائم کیا۔اس کے علاوہ پوست آہو کو کاغذ میں تبدیل کیا۔تھوڑے ہی عرصہ میں تہام ہ،یمن، اور مصر میں کارخانے بن گئے۔جہاں کاغذنے آخرکار قرطاس(اوراق،بردی PAPYRUS) کا استعمال ختم کردیا۔اس طرح دمشق طرابلس،حماء، طبریہ ،المغرب، ہسپانیہ ایران اور ہندوستان میں بھی کاغذ بننے لگا۔آذر بیجان میں زنجان سے دو دن کی مسافت پر ’’خونج یا خونا‘‘ کے باشندوں نے اسی وجہ سے کاغذ کنان کا نام اختیار کرلیا تھااور وہاںبہترین کاغذ تیار ہوتا تھا۔مغلوں نے یہ مقام بالکل تباہ کردیا تھا تاہم انہوں نے وہاںایک نوآبادی مغلیہ کے نام سے قائم کی۔
جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ کاغذ کی ایجاد کا سہرا دراصل چین کے سر ہے اس ایجاد نے چین میں بہت جلد مقبولیت عام حاصل کرلی ۔یقین کیا جا تا ہے کہ تیسری صدی عیسوی تک کاغذ پر کثرت کتابیں لکھی گئی ہوں گی جو محفوظ نہ رہ سکیں ۔ریستان تبت کے ایک نخلستانی قطعہ’’لوپ نور‘‘سے کھدائی میں کچھ تحیریریں کا غذ پر بھی ملی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چین میں دوسری صدی عیسوی میں کاغذ عموماً لکھائی میں مستعمل تھا۔ترکستان میں ’’تن‘‘ ہوانگ مندر کی دیواروں میں مدفون کتابوں سے بھی اس کاثبوت بر آمدہوا ہے یہ تحریریں برطانوی میوزیم میں بیلوتھک نیشنل (فرانس)میں اور رائل لائبریری ’’’کوپن ہگلن‘‘میں محفوظ ہیں۔تقریباً سات سوسال سے زیادہ زمانہ تک چین نے کاغذ کی دریافت کا راز سر بستہ رکھا لیکن عرب ترکستانی علاقوں میں کچھ چینوںسے یہ راز معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور آٹھویں صدی عیسوی میں پہلا کاغذ کارخانہ عرب اسلامی تہذیب کی سرکردگی میں سمر قند میں قائم ہوا۔
لیکن یہ بات بھی محقیقین کی نظر سے پوشیدہ نہیں کہ ہندوستان کے باشندے کاغذ کے استعمال سے اور روئی سے کاغذ بنانے کے فن سے مسیحی دور سے بھی پہلے واقف تھے۔ اس بات کی تصدیق یونانی مصنف ’’نیرکوس‘‘کی تحریر سے ہوتی ہے کہ ’’نیرکوس‘‘ نے ۳۲۷ قبل مسیح ہندوستان کا درورہ کیا۔ اگرچہ ہندوستان میں کاغذ سازی تیسری صدی قبل مسیح میں ہی تھی لیکن اسے بطور سامان تحریر استعمال نہیں کیا جاتا تھا ۔کیونکہ دوسرے سامان تحیریر آسانی سے مہیا تھے مثلاً کھجور کی پتیاں اور بھوج پتر وغیرہ۔کاغذی تحیریروں کے ابتدائی نمونے وسطیٰ ایشیا کے ’کاشغر‘اور ’کوگیر‘ مقامات سے حاصل ہوئے ہیں ۔اس پر پانچویں صدی عیسوی کی گپتا طرز تحیریر مرقوم ہیں۔ان تمام شواہد سے یہ بات واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستان میں ۱۰۰۰ سے کاغذ برابر استعمال ہوتا رہا ہے۔پروفیسر’’کپاڈیا‘‘کے مطابق کاغذ سب سے پہلے گجرات میں کمار پال ۷۴۔۱۱۴۳ ء اور وستو پال کے عہد میں استعمال ہوا۔ ۱۴۰۰ میں ہندوستان میں بنگال اور دوسرے مقامات پر کاغذ بڑے پیمانے پر بنایا جاتا تھا۔کاغذ کے استعمال کو عہد مغلیہ میں ایسا عروج حاصل ہوا کہ اسے ’’کاغذی راج‘‘کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔
مغلیہ دورمیں عمدہ قسم کے کاغذ کشمیر، سیالکوٹ، لاہور ،راج گیر،اورنگ آباد اور احمدآباد میں تیار کیا جاتاتھا۔سیالکوٹ عمدہ قسم کے کاغذ م مثلاً’’مان سنگھی‘‘ اور ریشمی کاغذ کے لئے مشہورتھا جن کی ساخت اچھی تھی وہ زیادہ پائیدار ہوتا تھا۔مغل بادشاہ کشمیر کے بنے ہوئے عمدہ کا غذ کو بہت پسند کرتے تھے۔ کاغذبنانے کے ایسے بہت سے مرکز جن کو ’’ کاغذ پورہ ‘‘ کہا جا تا تھا مغل راجدھانیوں کے پا س ہی واقع تھے۔ مغلوں کے خاغذ کے استعمال نے کافی حد تک مراٹھوں کو متاثر کیا۔شیواجی کے خزانوں کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ گیارہ ہزارزرافشاں دستے یعنی سنہرے کاغذ کے ،بیس ہزار دستے بالا پوری کاغذ کے، دوہزار دستے دولت آبادی قسم کے کاغذکے ، اور بتیس ہزار دستے سفید کاغذ بنگال کے مختلف علاقوں میں بنتاتھا مثلاًکلکتہ،دیناجپور،پٹنہ ،گیا اور شاہ آباد یہ سلسلہ ۱۷۹۳سے ۱۸۳۳ تک جاری رہا۔گیا کے علاقے میں ’’اراول‘‘کا مقام عمدہ قسم کے کاغذ بنانے کے لئے مشہورتھا ۔جو تین چار روپے فی رم REAMکے حساب سے فروخت ہوتا تھا ۔سن اور پٹ یعنی جوٹ وغیرہ کاغذ بنانے کے خاص اجزاء تھے۔
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں سائنس جعل سازی کے بہت سے طریقے وضع کئے ہیں۔ آرکائیوز کی لیبوریٹری میں کسی تحریر کے کاغذات کو چانچ کر اس کی عمر مقرر کی جا سکتی ہے اور ساتھ جعل سازی کا پردہ فاش کیا جاسکتا ہے کہ یہ مخصوص کاغذ کا ایجاد کب ہوا اور جو تحریر اس کاغذ پر لکھی ہے۔اس کی کتابت کب ہوئی اگر صحیح نسخہ ہوگا تو یقینا اس کاغذ کے ایجاد کے بعد کا ہوگا۔ اسی طرح اگر اردو کے مخطوطات کسی ایسے چرمی یا ریشمی کاغذ یا پھر زرافشاں کاغذ پر دستیاب ہوجائے تو پھر اس میںجعل ہونے کا کافی حد تک ثبوت فراہم ہو جاتا ہے۔کیمیائی تجزیہ کرکے ہم کاغذ کے اصل ساخت اور سن اور مسودۃ کی اصل تاریخ تحریر کا پتہ لگا سکتے ہیں جعل سازی کا مقصد حاصل زر اور کسب شہرت ہوتا ہے اور قدیم مصنفین کے نام سے جعلی کتابیں تیار کر دیتے ہیں اردو میں بھی اس قسم کی کافی مثالیں دستیاب ہیں جو کہ اپنی صلاحیتوں کا نہ صرف غلط استعمال ہے بلکہ قارئین کے لئے ایک گمراہ کن دریچہ دستیاب کراتا ہے۔
مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں کاغذ سازی چینی ایجاد سے پہلے معروف تھی لیکن چند مشکلات کی وجہ سے اس کا استعمال اتنا عام نہ تھا۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ نسخہ شناسی یا مخطوطوہ شناسی کے لئے مطالعہ کی ضرورت ہے اور مختلف اقسام کے کاغذات کی پہچان بھی نہایت ضروری ہے تا کہ اصلی نسخہ اور جعلی نسخہ کی پہچان کی جاسکے۔مثال کے طور پر سترہویں اوراٹھارہویں کے اچھے مخطوطات کشمیری کاغذ پر لکھے گئے ہیں ۔آگرہ،بدایوں، دہلی، لاہور،اورنگ آباد، حیدرآباد ،برہان پور، جے پور،تھٹہ ،سندھ ، میں کاغذ بنانے کے بڑے کارخانے تھے۔ لیکن اُردو کے مخطوطات آگرہ ،دہلی،فیض آباد،لکھنؤ، پٹنہ اورحیدرآباد کے کارخانوں میں تیار ہوتے تھے۔اور سارے کاغذات کی شناخت مشکل امر ہے لیکن پھر بھی بہت سارے نمونوں کو دیکھنے کے بعد کاغذات کی پہچان کافی حد تک آسان ہو جاتی ہے مخطوطہ شناسی کے لئے مخطوطہ کے کاغذ کی اصلیت کے بارے میں جاننا بہت اہم ہے۔لہٰذا کسی بھی قدیم مخطوطہ کی شناخت اور اس کی حقیقت جاننے کے لئے کاغذ کی اصلیت اور قدامت نیز روشنائی اور طرزِ تحریر کا گہرا تجربہ لازمی ہے۔
ڈاکٹرعرفان رضا
مادھوپور سلطانپور، سیتامڑھی بہار
EMAIL: iraza3819@gmail.com
mob. 9891299930
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

