جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ دنیاوی زندگی میں بہت سارے ایسے دن آتے ہیں جسے انگریزی زبان میں ہم لوگ "ڈے” کے نام سے پکارتے ہیں اور یہ "ڈے” اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ہم لوگ اسے اردو میں "ایام” کہتے ہیں اور انہیں ایام میں سے ایک "یوم” ایسا بھی آتا ہے جسے ہماری جدید زبان میں بلکہ کہہ لیجیے کہ چلتی پھرتی بولی میں "ٹیچرز ڈے” کہتے ہیں –
بولی کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کہ سب کی زبان پر بس یہی جاری و ساری ہوتا ہے کہ آج” ٹیچرز ڈے” ہے اور ہاں!! یاد رہے کہ یہاں زبان سے مراد اہلِ زبان والی زبان مراد نہیں ہے بلکہ وہ زبان مراد ہے کہ جب ہم غصے میں ہوتے ہیں یا کسی سے "حقیقی یا غیر حقیقی” جھگڑا ہو رہی ہوتی ہے تو انگریزی زبان میں انگلش والی زبردست گالی دے کر "عذوبت لسان” کا شکار ہو کر "رطوبتِ زبان” سے مستفیض ہوجاتے ہیں –
اب صرف "یوم اساتذہ” بولا جائے یا "ٹیچرز ڈے ” بھی کہا جائے تو اس درمیان اہل ادب اور یاد رہے کہ یہاں بھی اہل ادب سے مراد اردو والے اہل ادب ہیں نہ کہ انگلش والے، کیوں کہ ان (انگریزی والوں) کے یہاں اس امر میں اختلاف ہی نہیں پایا جاتا کہ آیا "یوم اساتذہ” بولنا چاہیے یا نہیں – کیوں کہ وہ تواتر سے اور پوری یکسوئی سے اپنی زبان میں؛ اپنے منھ کی تیڑھی اور بظاہر سیدھی زبان سے "ٹیچرز ڈے” ہی بولتے آئے ہیں اور آتے آتے اس حد تک آ گئے ہیں کہ اہلیانِ اردو ادب اس امر میں عجیب و غریب اور وسعت بھرا اختلاف کر بیٹھے کہ ایک طبقہ "یوم اساتذہ” کا قائل ہوگیا تو دوسرا طبقہ "ٹیچرز ڈے” کا قائل ہی نہیں ہو رہا ہے – ایک تیسرا طبقہ بھی موجود ہے، جو ہر اس چیز کا قائل ہے جس پر اس کے قائلین چلنے کی کوشش میں گڑ پڑ رہے ہیں اور نہ ماننے کی کوشش میں جوق در جوق گر رہے ہیں –
یہاں خامہ فرسائی بس پہلے گروہ سے ہے جو کہ اردو زبان میں انگریزی الفاظ کے اندراج کو متشددين کی صفوں میں شامل ہو کر غیر مناسب حد تک غیر ضروری سمجھتا ہے – حالانکہ یہ "غیر مناسبین” یا کہہ لیجیے کہ "مشددين اعظم گروہ” اپنی تقریروں اور خطبوں میں انگریزی الفاظ اتنی شدت سے استعمال کرتا ہے کہ اس بات میں حد فاصل مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ اردو زبان میں انگریزی بول رہے ہیں یا انگریزی زبان میں اردو الفاظ کا وحشیانہ اندراج کر کے اپنے دانتوں کو مزید گِھسوا رہے ہیں –
بہر کیف ہمیں اس بات میں کیا پڑنا کہ اردو میں صرف "یوم اساتذہ” ہوتا ہے یا "ٹیچرز ڈے” بھی ہوتا ہے – کیوں کہ یہ اہل زبان کا کام ہے کہ وہ انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے یوم اساتذہ بولیں یا اردو میں خطاب کرتے وقت "ٹیچرز ڈے” –
یہاں سب سے بڑی بات جو مقصود طلب ہے، وہ یہ ہے کہ بڑے لوگوں کو "چمچہ صفات حضرات” کی طرف سے یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ جو چاہیں جیسے چاہیں کریں اور بولیں تبھی تو ان کے چاول اور دال گلتے ہیں – مستزاد یہ کہ دوسرے بڑے لوگوں یعنی متشددين کے مخالفین یا یہ کہہ لیجیے کہ معترضین کو بہت بڑا یہ حق پہونچتا ہے کہ وہ شہریار کی شعری زبان میں ببانگ دہل پکار اٹھیں کہ *”ہر طرف غبار ہی غبار ہے” -*
سچی بات تو یہ ہے کہ آج کے نام نہاد جدید اہل زبان کی مشام جاں میں ایسا "غبار” اترا ہے کہ ان کا بس چلے تو وہ "شہریار” اور "شعری” لفظ کو ایک جملے میں استعمال نہ کرنے کا فتویٰ صادر کردیں جیسا کہ کچھ نام نہاد پڑھاکو قرآن و احادیث اور اثر کا سرسری اور اپنی نظر میں غیر سرسری مطالعہ کرکے عجیب و غريب مائل بہ خرافات فتویٰ لگا دیتے ہیں اور یہ لگانا اتنا سختی سے ہوتا ہے کہ کبھی کبھار آدمی” اسلام” اور "غیر اسلام” کے درمیان معلق ہو کر رہ جاتا ہے اور یہ رہنا بھی اتنا عجیب ہوتا ہے کہ آدمی نہ "گھر” کا رہتا ہے اور نہ "گھاٹ” کا یعنی مجموعی طور سے کہیں کا نہیں رہ جاتا اور جب کہیں کا نہیں رہتا تو پھر حالی یاد آتے ہیں کہ :
*یہ ہے عالموں کا ہمارے طریقہ*
*یہ ہے ہادیوں کا ہمارے سلیقہ*
"کہیں کا نہ رہنے” کی بات ہو رہی ہے تو شومیِ قسمت کے مارے وہ لوگ یاد آ گئے جو زندگی کو سب سے بڑا استاد بتاتے لگے ہیں اور یہ بات برملا کہتے ہیں کہ "زندگی سے بڑا کوئی استاد نہیں” – ایسی باتیں منظرِ عام پر لانے والوں کی اکثریت "انداز ہائے صنف نازک” کے گراں قدر اور حساس موضوعات کے بوجھ تلے دبی ہوتی جس کے سبب سے ان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ ان کا سابقہ اساتذہ سے کم کم اور "نا آشنائے خرد” سے ہمیشہ پڑا ہوتا ہے اور یہ سابقہ اتنا شدید پڑا ہوتا ہے کہ” خود زندگی کو سب سے بڑا استاد بتانے والے” اور "نا آشنائے خرد ” دونوں سابقہ و لاحقہ” کی شکل اختیار کرکے ایک دوسرے کے لیے "فوائد غیر نافعہ” بن جاتے ہیں اور ان کا واسطہ کبھی بھی” آشنائے خرد سے” نہیں پڑتا جس کی وجہ سے ایسے لوگ دنیاوی زندگی میں "حقیقی زندگی اور غیر دائمی زندگی” اور اس کے علاوہ کوئی بھی” ڈے” یا” دن” اور سب اہم بات کسی بھی” دین” کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتے ہیں – تبھی تو ایسے لوگ رند کے بوتل کے کاگ کی طرح ہوا میں اڑا دیئے جاتے ہیں اور یہ ساری زندگی یونہی اس طرح اڑتے رہتے ہیں کہ ان کی ساری امیدیں بیوہ کے آنسوؤں کی طرح سوکھ سوکھ جاتی ہیں – جس کے سبب سے ہردم ان کے ” مزاج گرامی” اکھڑے اکھڑے رہتے ہیں اور یہ کسی کے مزاج پر نہیں اترتے – جس کے سبب سے یہ زندگی کو ہی سب سے بڑا استاد بتانے لگتے ہیں پھر استادی اور شاگردی کا رشتہ اس حد تک پختہ ہوچکا ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ زندگی استاد کے مربیانہ خلوص کا مجموعہ ہو کر ترتیب پاتی ہے اور دم بہ دم، قلم اور قدم کے ہمراہ دھیرے دھیرے آگے بڑھتی ہے – اگر یہ کہا جائے تو غیر مناسب نہیں ہوگا کہ آدمی کو انسان بننے کے لیے جہاں باپ کا جوتا، ماں کی شفقت چاہیے ہوتی ہے وہیں استاد کا ڈنڈا اور "ٹھونک بجا "بھی ضروری ہوتا ہے کیوں کہ جس طرح سماج بغیر انسانوں کے تشکیل نہیں پاتا ٹھیک اسی طرح بن استاد کوئی ذہن اور کوئی وفور و شعور نہیں آتا – اس لیے اس بحث سے پرے کہ اردو والا "یوم اساتذہ منایا جائے یا انگلش والا” ٹیچرز ڈے” منایا جائے تو ہم اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی” شریفانہ عزت” کرتے ہوئے یہ بات مان لیتے ہیں کہ استاد کا دن” ہر دن” ہوتا ہے اور کوئی دن بنا استاد کے نہیں ہوتا کیوں کہ ایک استاد صرف ایک معلم نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک استاد معلم کے ساتھ ساتھ ہماری بگڑی اور سوکھی روح کا "روحانی مربی” ہوتا ہے، تجربوں کی آماجگاہ ، ذہن و فکر کا ملجا و ماویٰ، حسین اور غیر حسین صدمات کا آلہء کار بھی ہوتا ہے جس سے اس کے شاگرد حسب ضرورت یا غیر حسب ضرورت اور کچھ محبت آمیز بندگان غیور بلا ضرورت کام لیتے ہوئے اپنے سیاہ و سفید جوہر کو نکھارنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور کچھ اس حد تک اپنے آپ کو نکھار لیتے ہیں کہ وہ محبوب کے چہرے کی طرح چمکنے لگتے ہیں جب کہ اپنے آپ کو نہ نکھارنے والوں کا محروم شدہ طبقہ حالی کی زبان میں ماتم بہ کناں ہوجاتا ہے کہ :
*کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں*
*مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں*
بی اے آنرز اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی
*8960449658*
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

