اردو زبان کا دائرہ بتدریج وسیع ہوتا جارہاہے۔اس کا ثبوت ہندوستان کی وہ مختلف ریاستیں اور دنیا کی متعدد مملکتیں ہیں جہاں اردو بولی،سمجھی اور پڑھی جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض ان علاقوں میں اردو کا دائرہ سکڑتا ہوا نظرآرہا ہے جو کبھی اردو کے مراکز رہ چکے ہیں۔ یقینایہ صورت حال باعثِ تشویش ہے لیکن اردو کے حال و استقبال کے تعلق سے یہ بات کسی حد تک اطمینان بخش ہے کہ اب اردو کی نئی نئی بستیاں وجود میں آنے لگی ہیں اور دوردراز کے لوگ بھی اس کی جانب متوجہ ہونے لگے ہیں۔ گویاکہ اب اردوکی مثال اس دریا کی طرح ہے جو جاری و ساری ہے ، لیکن مقامات بدلتی رہتی ہے ۔کل کہیں اور بہتی تھی ، آج کہیں اور بہہ رہی ہے اور آئندہ کہیں اور بہے گی، مگر بہتی رہے گی۔
یہ ایک فطری امر ہے کہ جب کوئی زبان اپنے علاقوں سے نکل کر دوسرے علاقوں میں پہنچتی ہے تو اسے کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے او رمختلف النوع تبدیلیوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔کیونکہ دوسرے علاقوں کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، اپنی تہذیبیں وثقافتیں ہوتی ہیں ، زبانیں اور بولیاں ہوتی ہیں جو وہاں کے باشندوں کے مزاج اور خون میں شامل رہتی ہیں۔اس لیے خواہی نہ خواہی دوسرے علاقے سے آنے والی زبان پر ان علاقوں کی زبانوں اور بولیوں کے اثرات بھی پڑتے چلے جاتے ہیں۔اس طرح نووارد زبان تغیر پذیر ہونے لگتی ہے ۔یہی معاملہ اردو زبان کے ساتھ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ وہ دہلی، لکھنؤ ، رامپور، عظیم آباد اور حیدرآباد جیسے شہروں کی سرحدوں سے نکل کر ان شہروں و ملکوں میں جاپہنچی جہاں کی اپنی بولیاں اور مستقل زبانیں ہیں مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ وہ ان علاقوں یا ان علاقوں کے بہت سے باشندوں کے لیے زیادہ دیر تک اجنبی نہیں رہی۔ اس کی جہاں ایک وجہ یہ ہے کہ اردو کی کشش نے اجنبی لوگوں کو اپنی طرف کھینچا، وہیں دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ُاردو نے دوسری زبانوں کے بہت سے الفاظ کا استقبال کرتے ہوئے اپنے دامن میں انھیں جگہ دی ۔اس سے اردو کے الفاظ کے ذخیرے میں دن بہ دن اضافہ ہوا اورہورہاہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اردو نے جہاں دوسری زبانوں سے بلا جھجھک الفاظ لیے ،وہیں اپنے بہت سے پُرکشش الفاظ دوسری زبانوں کو دینے میں فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور لین دین کا یہ عمل ہنوزجاری ہے جو اردو کے زندہ زبان ہونے کا واضح ثبوت ہے ،لیکن اردو کے پھیلتے اس دائرے کے ساتھ لسانی سطح پر اردو کو نوع بہ نوع مسائل اور پیچیدگیوں سے بھی گزرنا پڑرہاہے جو ایک فطری بات ہے ، البتہ قدرے تشویش کی بات یہ ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جس طرح کی کوششوں اور اقدامات کی ضرورت ہے ،وہ سامنے کم ہی آرہے ہیں۔
فی زمانہ اردوزبان کو درپیش مسائل کی فہرست میں تلفظ کے مسئلہ کوضروران مسائل میں رکھاجاسکتاہے جو توجہ طلب ہیں ۔ اس لیے کہ اس بات سے کسی بھی صورت انکار نہیں کیاجاسکتاکہ وقت کے ساتھ تلفظ کے معاملے میں بے اعتدالیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف عوامی سطح پر ہے بلکہ خواص میں بھی معتد بہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جودرست تلفظ کی کماحقہ رعایت نہیں کرتے یا اس کی زحمت نہیں کرناچاہتے۔تلفظ کے معاملے میں بے احتیاطی ہی کی وجہ ہے کہ بہت سے اردوالفاظ کو اس طرح بولاجارہاہے کہ اصل الفاظ کی ہیئت تومتغیر ہوتی ہی ہے ،ساتھ ہی معانی ومفاہیم بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال کیوں رونما ہورہی ہے؟ اس کے اسباب کیاہیں؟ اور کس طرح تلفظ کے مسئلہ کو حل کیاجاسکتا ہے؟ (یہ بھی پڑھیں لوک ادب : تحفظ اور بازیافت- ڈاکٹر یوسف رام پوری )
مذکورہ سوالات کے جوابات کی جستجو سے قبل اس سوال کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا تلفظ واقعی کوئی مسئلہ ہے؟ اس سوال کا اٹھانا اور اس کے مختلف پہلوؤں کو زیرِ بحث لانا اس لیے ناگزیر ہے کہ اردو سے وابستہ کئی ماہرین تلفظ کو سِرے سے مسئلہ ہی نہیں مانتے ۔ان کا خیال ہے کہ جو جس طرح بول رہا ہے ، اسے آزاد چھوڑدیاجائے۔بعض اردو کے حروف تہجی سے ش، ع ، ق جیسے حروف کونکالنے کی بھی بات کررہے ہیں ، کیونکہ ان کے نزدیک یہ حروف زبان پر ثقالت رکھتے ہیں اور ان کا ادا کرنا مشکل ہوتاہے۔ش،ع ، ق جیسے حروف کی بابت ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ان حروف کی وجہ سے اردو کا دائرہ سکڑرہاہے اور یہ حروف اردوکے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس لیے کہ بہت سے غیر اردو والے جب ش، ع ، ق جیسے حروف کو ادا نہیں کرپاتے تو وہ دھیرے دھیرے اردو سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں۔اس کے برعکس اردو کے بہت سے ادباایسے بھی ہیںجن کی رائیں مختلف ہیں۔وہ تلفظ کو اہم سمجھتے ہیں اور کسی بھی صورت میں اردو کے تلفظ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مذکورہ دونوں نظریات کو نہ پوری طرح سے خارج کیاجاسکتا ہے اور نہ پوری طرح قبول کیا جاسکتا ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اگر کسی سے اردو کے الفاظ کا تلفظ قدرے غلط ہوجائے تو اسے خطرناک مجرم قرار دے دیاجائے اور اس کے لیے اردو بدری کا فرمان صادر کردیاجائے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اردو الفاظ کے تلفظ میں بڑی بڑی پے درپے غلطیاں کی جائیں اور اس عمل کو قطعی درست ٹھہرایاجائے۔ش، ع ، ق ،ض وغیرہ کو اردو حروف تہجی سے خارج کردینے کی بات سے بھی اتفاق نہیں کیاجاسکتا۔کیونکہ اس صورت میں بہت سے اردو الفاظ ’’زبانِ اردو‘‘ سے خارج کرنے پڑیں گے اور اگر’ ش‘ کو’ س‘ سے ’ع‘ کو’ الف‘ سے ،’ غ‘ کو’ گ‘ سے ،’ ض‘ اور’ظ‘ کو’ ز‘ سے اور’ ز‘کو ’ج‘ سے بدل دیاجائے تو اردو کو بے شمار پرکشش الفاظ سے محر وم ہونا پڑے گا اور بہت سے غنائیت سے پُر الفاظ کھردرے اور سپاٹ ہوجائیں گے۔ ش، ع ، ق جیسے حروف کے خاتمے سے یہ تو ممکن ہے کہ غیر اردو طبقے کے کچھ افراد جو مذکورہ حروف کی ثقالت کے سبب اردو سے قریب آنے سے گریز کرتے ہوں ، وہ اردو کے ساتھ جڑجائیں گے ، مگر دوسری طرف اس کا بڑا نقصان یہ ہوگا کہ اردو اپنی وہ خصوصیت ضرور کھودے گی جس کے سبب اسے ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے اور جس کی وجہ سے غیر اردو والے بھی اس میں کشش محسوس کرتے ہیں۔غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ جب اردو میں کشش ہی نہ رہے گی تو وہ لوگ اس کی طرف کیوں آئیں گے جن کے پاس اپنی زبانیں اوربولیاں ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ حروف کو اردو زبان سے خارج کرکے اردو کا دائرہ وسیع نہیں ہوگا بلکہ اور زیادہ محدود ہوجائے گا۔ (یہ بھی پڑھیں اُردو رباعی کا سفر (عہدِرفتہ سے عہدِ موجودہ تک) – ڈاکٹر یوسف رامپوری )
اردو تلفظ کو غیر اہم اس لیے بھی نہیں کہاجاسکتا ہے کہ اردو کا حسن اس سے دوبالا ہوتا ہے۔اگر اردو الفاظ کو صحتِ ادائیگی کے ساتھ بولا جاتاہے تو وہ پُرکشش اور جاذب معلوم ہوتے ہیں اور کانوں میں رس گھولتے ہیں لیکن اگر انہی الفاظ کو تلفظ کی سطح پرغلط ادا کیاجاتاہے تو وہ بڑے بھدّے لگتے ہیں۔مثال کے طورپر اگر ’خوشی‘ کو ’کھوسی‘، ’خاص‘ کو ’کھاس‘، ’خیر‘ کو ’ کھیر‘ ،’زبردست ‘کو ’جبردشت‘، ’نزدیک‘ کو ’نجدیک‘ ، ’معذور‘ کو ’ماجور‘’عذر‘ کو اُجر‘،’فرشتہ ‘ کو ’پھرستہ‘، ’جاوید ‘ کو ’زابید‘، ’نغمہ کو ’نگمہ‘،’ جاہل‘ کو ’زاہل‘،بازارکو ’باجار‘’ناظم‘ کو ’ناجم‘، ’وزیر ‘ کو ’بجیر‘ذمہ داری کو ’جمے واری‘بولاجائے گاتو زبان کا مزہ یقینا جاتا رہے گا۔ جولوگ اردو جانتے ہیں ان کے چہروں پر شکنیں پڑجائیں گی اور اگران کے سرمیں درد ہونے لگے تو بھی کوئی حیرت کی بات نہیں۔جولوگ اردو سے واقف نہیں ہیں ، وہ چاہے صحیح اورغلط کے درمیان فرق نہ کرپائیں ،لیکن اتناضرور ہے کہ الفاظ میں کوئی جاذبیت و غنائیت انھیں بھی محسوس نہ ہوگی۔
زبان کے لیے’ تلفظ‘ کی اہمیت صرف اردو زبان میں ہی نہیں ہے بلکہ دوسری زبانوںمیں بھی ہے۔مثلاً عربی میں الفاظ کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کرنا ضروری خیال کیاجاتاہے ،حالانکہ بہت سے عربی الفاظ میں حروف کو حلق کی گہرائی سے نکالنا پڑتا ہے مگر عربی والے پوری احتیاط سے ان کی ادائیگی کرتے ہیں ۔ع، غ، ق جیسے حروف کو وہ ان کے مخارج کے ساتھ تو بولتے ہی ہیں ، ساتھ ہی ذ،ز ،ض،ظ اور س، ث، ص جیسے حروف کواس طرح اداکرتے ہیں کہ ان کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔اگر عربی حروف کو درست مخارج کے ساتھ نہیں نکالاجاتا تو ان کے نزدیک یہ ایک معیوب بات ہے۔اگر ہم انگریزی کی بات کریں تو تلفظ (Pronunciation)پر توجہ اس زبان میں بھی دی جاتی ہے۔ انگلینڈ اور امریکہ کے باشندے انگریزی کے بہت سے الفاظ کو مختلف تلفظ کے ساتھ برتتے ہیں جس کے یہاں جو تلفظ رائج ہے ، وہ اس پر قائم رہتا ہے۔انگریزی کی لغت کی کتابوں میں بالعموم لفظ کے معنی بیان کرنے سے پہلے تلفظ کودرج کیاجاتاہے۔ یہاں تک کہ اس بات کو بھی رقم کیاجاتاہے کہ لفظ کے کو نسے حصے کے اوپر زور(Stress) دیاجانا ہے ۔ ڈکشنری کے شروع میں ان علامتوں کو رقم کردیاجاتاہے جن کی مدد سے تلفظ کی تفہیم آسان ہوجاتی ہے یعنی انگریزی والے یہ چاہتے ہیں کہ انگریزی زبان کے الفاظ کو درست تلفظ کے ساتھ بولاجائے ۔ بعض ڈکشنریوں کے ساتھ سی ڈی بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ سی ڈی کے ذریعہ الفاظ کو سن کر صحیح تلفظ کرسکیں۔انٹرنیٹ پر انگریزی کی متعدد ایسی ڈکشنریاں موجود ہیں جن میں تلفظ تو لکھا ہی گیا ہے مگر سننے کے لیے آڈیو بھی دے دیاگیا ہے تاکہ قاری اس لفظ کے تلفظ کو سن بھی سکیں۔کیونکہ لفظ کو بسا اوقات سن کر بہتر طورسے ادا کیاجاسکتاہے۔ تلفظ کا اس درجہ اہتمام اس بات پر دال ہے کہ انگریز ی والے اس بات کے آرزومند ہیں کہ ان کی زبان کو دوسرے لوگ بھی صحیح تلفظ کے ساتھ بولیں۔دیکھنے میں آتا ہے کہ جب انگریزی کو کسی انگریز یا ایسے فرد سے سنا جاتاہے جو تلفظ اورلب ولہجہ کی رعایت کرتے ہوئے بولتا ہے تو وہ بڑی خوبصورت لگتی ہے اور سننے کو جی چاہتا ہے لیکن جب اسے غیر انگریزی والا درست تلفظ کی رعایت کے بغیر بولتا ہے تو انگریزی صرف کِٹر پِٹر لگتی ہے اور اس کی گفتگو سے کانوں میں چوٹ پڑتی ہے۔یہی معاملہ عربی کا بھی ہے کہ اگر عربی کے الفاظ کو صحتِ ادائیگی کے ساتھ بولاجاتاہے تو اس کے سننے میں لطف آتاہے۔جب کہ برعکس صورت میں عربی بھی کشش سے محروم نظرآتی ہے جیساکہ ہم جب ایسے غیر اہل عرب کو عربی میں بات کرتے ہوئے سنتے ہیں جنھیں عربی تلفظ کاکوئی علم نہیں ہوتا تو ان کی عربی میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی ۔بات صرف عربی یا انگریزی کی ہی نہیں بلکہ دوسری اور بھی بہت سی زبانو ں کی یہی صورتِ حال ہے اور ان کا حسن تلفظ سے قائم ہے۔تلفظ کی مثال اس خوبصورت لباس سے دی جاسکتی ہے کہ جس کو زیب تن کرکے شخصیت اور زیادہ پُرکشش ہوجاتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اُردو رباعی کا سفر (عہدِرفتہ سے عہدِ موجودہ تک) – ڈاکٹر یوسف رامپوری )
غلط تلفظ کی صورت میں بعض اوقات الفاظ کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ اردو میں ایسے بہت سے الفاظ ہیں کہ اگر ان کو زبر ، زیر اور پیش کے فرق کے ساتھ بولاجائے تو اس کے معنی دوسرے ہوجائیں گے ۔ جیسے لفظ ’احد‘ کو الف پر زبر کے ساتھ پڑھاجائے گا تو اس کے معنی ایک کے ہوں گے اور اگر اسے الف کے پیش کے ساتھ پڑھاجائے گا تو اس سے مراد اایک پہاڑ ہوگا جو سعودی عرب میں واقع ہے۔ ایسے ہی ’اعلام‘ ہے۔ الف کے زبر کے ساتھ ا س کے معنی جھنڈوں کے ہیں،کیوں کہ یہ عَلَم کی جمع ہے اور اگر الف کے زیر کے ساتھ اس کا تلفظ کیاجائے گا تو اس کے معنی ’اعلان‘ کے ہوں گے ۔اسی سے ’اعلامیہ‘ ہے۔لفظ ’اعراب‘ کی حالت بھی کچھ اسی طرح کی ہے ۔ایسے ہی لفظ’ بن‘ بھی ہے جس کے تلفظ میں تبدیلی یا غلطی سے اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ جیسے ’ب‘ پر زبر لگائیں گے تو اس کے معنی جنگل کے ہوں گے ، اگر’ ب‘ پر زیر پڑھیں گے تو اس کا مطلب ’بِلا‘یا’ بنا‘ہوگااور اگر’ بُن‘ کہاجائے تو اس کے معنی کسی چیز کو بُننے کے ہوجائیں گے اور یہ فعل امرہوگا۔لفظ ’سن‘ بھی اسی قبیل سے ہے ۔اس پر اعراب کے بدلنے سے معنی بدل جاتے ہیں’سَن ‘ بمعنی سال ، برس،سِن بمعنی عمر، سُن بمعنی بے حس وحرکت۔لفظ ’ حکم‘ بھی ایسا ہی لفظ ہے کہ اس کے تلفظ کے فرق سے معنی بدل جاتے ہیں کیوںکہ ’حُکم‘ بمعنی فرمان ، آرڈر’ حَکم‘بمعنی ثالث یا منصِف اور حِکَم حکمت کی جمع ہے ۔
غورکیاجاسکتاہے کہ’ حکم‘ کے تلفظ بدل جانے سے کس طرح مفہوم بدل گیا۔ ایسے ہی لفظ ’بلا ‘ہے کہ اس کے تلفظ میں غلطی واقع ہونے سے اس کے معنی ومفہوم بدل جاتا ہے ۔کیوں کہ اگر اسے بَلّاکہہ دیا گیا تو اس سے مراد وہ آلہ لیا جاسکتا ہے جس سے گیند کھیلتے ہیں ، لیکن اگر کسی نے اسے بَلَا پڑھ دیا تو اس کے معنی مصیبت ہوجائیں گے، بِلا کہنے کی صورت میں اس کے معنی بجز، بغیر کے ہوجائیں گے اور بُلا کہنے پر اس کے مدعوکرنے ، آواز دینے ،وغیرہ کے ہوں گے۔لفظ ایک ہی ہے لیکن زبر ، زیر ،پیش کے فرق سے معنی میں زمین آسمان کا فرق ہورہا ہے۔’خاتم‘ کا تلفظ بگڑنے کی صورت میں بھی معنی بدل جاتے ہیں۔’کیوں کہ خاتَم‘ بمعنی انگوٹھی ہے اور خاتِم بمعنی ختم کرنے والاہے۔’صفر میں بھی تلفظ کی غلطی سے معنی بدل جائیں گے ۔صفر کا مطلب زیرو ہے لیکن صَفر کہنے یا پڑھنے کی صورت میں ذہن اس مہینے کی طرف جائے گا جو ماہ محرم الحرام کے بعد آتاہے۔دل کے دال پر اگر زبرپڑھتے ہیں تو اس کے معنی پارٹی ، جماعت وغیرہ کے ہیں اور اگر دال پر زیر لگادیا جائے تو اس سے مراد دِل ہوگا جوسینہ میں بائیں جانب دھڑکتا ہے ۔عالَم بمعنی دنیا، عالِم بمعنی جاننے والا ہے،۔ محقق کے معنی تحقیق کرنے والا ہے ، لیکن اگر کوئی اس کاتلفظ مُحقَّق کرتا ہے تو اس سے مراد وہ چیز یا بات ہوگی جس کی تحقیق کرلی گئی ہو۔مُخاطِب اور مُخاطَب ، مرتِّب اور مرتَّب، مُوَلِّف اور مُولَّف میں بھی تلفظ کی نزاکت موجود ہے۔یہاں بطور مثال چند الفاظ پیش کیے گئے ، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ُاردو میں سیکڑوں الفاظ ایسے ہیں جن میں تلفظ کے فرق سے لفظ کے اصل معنی بدل جاتے ہیں۔گویاکہ تلفظ صرف خارجی شے نہیں بلکہ داخلی چیز بھی ہے۔ تلفظ سے الفاظ کا حسن نکھرتا ہے اور اس کے معنی کا بھی تحفظ ہوتاہے۔
تلفظ کی اہمیت وضرورت پر تفصیلی بحث کے بعداب اس بات کااجمالی جائزہ لینا ناگزیر معلوم ہوتا ہے کہ فی زمانہ اردومیں تلفظ کی کیا صورتِ حال ہے؟ تلفظ کی سطح پر اردو والے کتنی بے اعتدالیاں کر رہے ہیں ، کس نوع کی غلطیاں اردو الفاظ کو بولتے ہوئے کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی حتمی بات کرنے سے قبل یہ جان لینا ضروری ہے کہ اردو بولنے والوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ایک وہ جن کی مادری زبان اردو ہے اوردوسرے وہ جن کی مادری زبان کوئی اور ہے مگران کا اوڑھنا بچھونا اردو ہے۔ تیسرے وہ جو اردو کے اساتذہ ، مصنف ، مولف ، اسکالر،شاعر وغیرہ ہیں ۔چوتھے وہ لوگ جن کا تعلق تو اردو سے ہے لیکن وہ اُردو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے ، یا پھر کم جانتے ہیں ۔ پانچویں وہ غیر اردو والے جو اردو الفاظ کو اپنی زبان میں استعمال کرتے ہیں۔ایک قسم ان لوگوں کی بھی ہے جو اوسط درجہ کی اردو جانتے ہیں۔اردو سے وابستگی رکھنے والوں میں ایک قسم ان افراد کی ہے جن کا تعلیمی پس منظر مدرسہ ہے اور ایک قسم ان افراد کی ہے جن کا تعلیمی بیک گراؤنڈ اسکول ہے۔
سب سے پہلے ان لوگوں کے تلفظ پر بات کرلیتے ہیں جن لوگوںکی مادری زبان اردو ہے ۔ ان کے گھروں ، محلوں ، گلی کوچوں، بازاروں، محفلوں اور مجلسوں میں اردو بولی جاتی ہے۔جیسے لکھنؤودہلی کے بعض علاقے،بہارکے مختلف علاقے، اترپردیش کے متعدد شہرجیسے رامپور،مرادآباد،امروہہ، بجنوراور سہارنپور کے کچھ خطے و بستیاں،وغیرہ۔ یہاں کے باشندوں کا تلفظ نسبتاً درست ہوتاہے۔ اگریہ لوگ اردومیں اپنی تعلیم کو آگے تک جاری رکھتے ہیں تو یہ اردو الفاظ کوآسانی کے ساتھ بولتے ہوئے نظرآتے ہیں اور بالعموم ان سے تلفظ کی غلطیاں کم ہوتی ہیں، ہاں ایسے الفاظ کا استثناکیاجاسکتاہے جن کا انھیں علم نہ ہو۔جو لوگ اردو نہیں جانتے لیکن ان کی مادری زبان اردو ہوتی ہے اور ان کے ماحول میں اردو بولی جاتی ہے ، وہ بھی ان الفاظ کا صحیح تلفظ کرتے ہیں جو عام بول چال میں رائج ہیں ، البتہ علمی وادبی الفاظ جو کتابوں میں مستعمل ہیں یا علمی وادبی حضرات بولتے ہیں ، وہ ان کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ایسے الفاظ میں ان سے غلطی ہوجاتی ہے مگر یہ کم علمی پر موقوف ہے ۔ اس لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔جب انھیں ان الفاظ کا علم ہوجاتاہے تو وہ اس کو صحیح بولنے لگتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں عہدِ نبویؐ کے چند اہم شعراء – ڈاکٹر یوسف رامپوری )
وہ افراد جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے لیکن ان کا میدان اردو ہے۔وہ اردو کتابیں ،رسائل واخبارات وغیرہ پڑھتے ہیں، اردو پڑھاتے ہیں، اردو لکھتے ہیں ، اردومیں شاعری کرتے ہیں اور اردوہی میں اپنے تمام کام انجام دیتے ہیں ۔ان کا تلفظ اس لیے بہتر ہوتا ہے کہ وہ محنت ومجاہدے سے اپنے تلفظ کو درست کرلیتے ہیں مگر اس کے باوجود ایسے بہت سے اردو والے نظرآتے ہیں جو بہت سے الفاظ کا تلفظ غلط کرتے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اساتذہ سے جو سنتے ہیں ، اسے اپنی زبان پر لے آتے ہیں، یا لغت کی کوئی کتاب دیکھ لیتے ہیں یا پھر اپنے ذہن کے مطابق تلفظ کرلیتے ہیں۔ جب کہ کئی بار اساتذہ بھی متعدد الفاظ کا تلفظ غلط کرجاتے ہیں اور لغت کی کتابوںمیں بھی کئی لفظوں کا تلفظ غلط لکھا ہوتا ہے اور کبھی کبھی محض اپنا قیاس بھی درست نہیں ہوتا۔مثال کے طورپر بہت سے پڑھے لکھے لوگ مُعزَّز کو مُعَزِّز ، اَصناف کو اِصناف، موجِد کو مُوَ جِّد یا مُوَجَّد،مُثْبَت کو مَثبت کہتے ہیں۔ اس طرح کے سیکڑوں الفاظ ہیں جن کا تلفظ بہت سے پڑھے لکھے لو گ بھی غلط کرتے ہیں ۔ جو لوگ اوسط درجے کی اردو جانتے ہیں۔یعنی اردو کی آسان کتابیں پڑھتے ہیں،اخبار بھی کسی حد تک پڑھ لیتے ہیں اور آسان اردو لکھ بھی لیتے ہیں، ان کے یہاں اردو الفاظ کے تلفظ کو اطمینان بخش نہیں کہا جاسکتا۔اگر ان کی مادری زبان اردو ہوتی ہے تو تلفظ کی غلطیاں کم واقع ہوتی ہیں لیکن اگر ان کی زبان مادری نہیں ہے اور نہ ہی ماحول اردو کا ہے تو ایسے لوگ تلفظ کی خوب غلطیاں کرتے ہیں۔
جو لوگ غیر اردو داں ہیں مگر وہ اردو سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اردو بولنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے یہاں اردو الفاظ کے تلفظ کی صورتِ حال بڑی عجیب وغریب ہوتی ہے۔وہ الفاظ کوصحیح بولنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر اپنی کم علمی کی وجہ سے اکثر غلطیاں کرجاتے ہیں ۔وہ اکثر سن کر الفاظ بولتے ہیں لیکن محض سن کر تمام الفاظ کا صحیح تلفظ آسان بات نہیں ہے ، خاص طورسے ان لوگوں کے لیے جن کی زبان کوئی اور ہو۔پھر بھی ا ن کے اس جذبے کی ضرورقدر کی جاسکتی ہے کہ وہ اردو سے محبت کرتے ہیں، اردو بولنے ، سننے اور سمجھنے کی سعی کرتے ہیں۔اگر وہ باضابطہ طورسے اردو کے ساتھ جڑجائیں گے تو ایسے راستے کھلے ہوئے ہیں جن پر چل کر ان کی اردو بہترہوجائے گی اور وہ الفاظ کاصحیح تلفظ کرسکیں گے ۔ اس بابت ہم آگے چل کر قدر تفصیل سے بحث کریں گے۔
اب رہی بات ان لوگوںکی جن کا تعلیمی پس منظر مدرسہ رہا ہے توان کے تعلق سے یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ تلفظ کی سطح پر ان کی کارکردگی خاصی بہترہوتی ہے۔وہ اردو حروف کو بھی درست طورپر نکالتے ہیں اوراردو کے ایسے الفاظ کا تلفظ بھی آسانی سے کرلیتے ہیں جنھیں دقیق خیال کیاجاتاہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ ان حروف کو صحیح مخارج کے ساتھ پڑھ کرآتے ہیں جن کی وجہ سے قدرے ثقیل الفاظ کا تلفظ ان کے لیے آسان ہوجاتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ ان کا تعلق عربی زبان سے ہوتاہے ، اس لیے وہ عربی الفاظ سے خوب مانوس ہونے کی وجہ سے انھیں ٹھیک اداکرلینے پر قادر ہوتے ہیں ۔وہ نہ صرف ان الفاظ کے معانی سے واقف ہوتے ہیں بلکہ ان الفاظ کے مصادر اورمشتقات سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔ اگرکوئی عربی لفظ اردومیں ان کے سامنے آتا ہے تو انھیں بالعموم اس کے معنی جاننے کے لیے نہ لغت کا سہارالینا پڑتاہے اور نہ ہی اس کی تفہیم و تلفظ سے واقفیت کے لیے انھیں اساتذہ سے رجوع کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ اس کے تلفظ کو دیکھنے کے لیے بھی انھیں لغت کی کتابوں کی ورق گردانی نہیں کرنی پڑتی۔ مدارس کے فارغ التحصیل طلبا میں سے بہت سے ایسے ہیں جواچھی اردو بولتے ہیں، اردومیں مضامین لکھتے ہیں، کتابیں تصنیف کرتے ہیں ، بڑے بڑے قلمکاروں کی اردو کتابیں پڑھتے ہیں اور ان سے استفادہ بھی کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے پاس کوئی اردو کی لغت تک نہیں ہوتی۔بہت کم مدارس کے فارغ التحصیل طلبا ایسے ہوں گے جن کے پاس اردو کی کوئی ڈکشنری ہو۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انھیں الفاظ کے معنی یا تلفظ دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔مدارس کے طلبا فارسی سے بھی کسی حدتک واقفیت رکھتے ہیں کیوں کہ وہ درس نظامی میں شامل فارسی کی ابتدائی کتابوں کے علاوہ ’گلستاں، بوستاں، کریما، پندنامہ ،وغیرہ باضابطہ استاد سے پڑھ کر آتے ہیں ۔بہت سے فارسی کے مصادر بھی ا نھیں یاد ہوتے ہیں اور فارسی کی گردانیں بھی انھیں ازبر ہوتی ہیں، اس لیے فارسی کے وہ الفاظ جو اردو میں استعمال ہوتے ہیں ان کے لیے بالعموم اجنبی نہیں ہوتے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مدرسہ والوں کے درمیان اردو الفاظ کے تلفظ میں اختلافات نہیں ہیں۔ تقریباً تمام اہل مدارس الفاظ کا ایک ہی طرح سے تلفظ کرتے ہیں ۔ سبھی مُعَزَّز ، مُثبَت، مُسْتَجاب ، مُنْحَصِر ہی بولتے ہیں۔ مدرسے کے اساتذہ ہوں، مقررین ہوں یا طلباہوں۔ سب کے یہاں الفاظ کا تلفظ ایک جیسا ہوتاہے۔ اس لیے اہلِ مدارس کے یہاں اردو تلفظ کوئی پریشان کن مسئلہ نظر نہیں آتا۔
اہلِ مدارس کی اردو زبان سے خاصی واقفیت کا مطلب یہ بھی نہ نکالاجائے کہ تلفظ میں ان سے بالکل غلطیاں نہیں ہوتیں۔ یقینا ہوتی ہیں بلکہ بعض غلطیاں ان کے یہاں ایسی ہوتی ہیں جن سے اردو کے پُرکشش الفاظ بھی بڑے بھَدّے معلوم ہوتے ہیں۔ جیساکہ وہ اردو بولتے ہوئے ع اور ق اتنا گاڑھا کرکے نکالتے ہیں کہ اچھا محسوس نہیں ہوتا۔جیسے عالی، قاری، عمدہ ، اعزاز وغیرہ۔عربی زبان میں ع، ق کو حلق کی گہرائیوں سے ضرور نکالاجاتاہے ، مگر اردومیں اتناگاڑھا کرکے نکالنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بعض حضرات تو ث، س اور ص جیسے حروف کو بھی ان کے مخرج کے فرق کے ساتھ اردومیں بولتے ہیں۔ جیسے اثبات میں حرف ’ث‘ کا مخرج زبان کی نوک ہے ، وہ اس کو زبان کی نوک کا استعمال کرتے ہوئے ہی بولیں گے اور کوشش کریں گے کہ س کے مخرج سے اسے ادا نہ کیاجائے۔ایسے ہی حرف ’ص‘ کو زبان کی دونوں کروٹوں کا سہارالیتے ہوئے اسی طرح ادا کریں گے جو اس کا عربی میںمخرج ہے۔’ص‘ کی ادائیگی کے ساتھ ان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ’ س‘ یا’ ث‘ کی آواز اس میں نہ آپائے۔
اردو الفاظ کو اس طرح اداکرنا مناسب نہیں بلکہ غیر مناسب ہے۔ ایسے ہی اہلِ مدارس کے یہاں اردو کے صوتی مزاج کے خلاف بھی بہت سے الفاظ کا تلفظ ملتا ہے۔ جیساکہ لفظ’ تحقیق ‘،مدرسہ کا پس منظر رکھنے والے طلبا بالعمو م اس لفظ کو ’ت ‘ کے زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔حالانکہ ’ت‘کو زیر (مجہول )کے ساتھ پڑھااور بولا جائے گا تو اس کا اردو تلفظ درست ہوگا ۔بعض مدرسے والے ’ح‘ کو بھی خوب حلق سے نکالتے ہیں اور ق کو بھی حلق کی گہرائیوں سے اداکرتے ہیں۔اگر عربی عبارت میں یہ الفاظ آئیں تو اس طرح تلفظ بہتر ہے لیکن جب ان کو اردوالفاظ کے ساتھ برتا جائے تو نہ’ ح‘ کو اتنا زیادہ حلق سے نکالنے کی ضرورت ہے اور نہ ’ق‘ کو ۔اگرچہ عربی زبان میں لفظ تحقیق ’ت ‘کے زبر کے ساتھ ہے ’تفعیل‘ کے وزن پرمگر اردو کے صوتی مزاج نے ’ت‘ کے زبر کو زیر میں اس طرح تبدیل کردیا کہ زیر کو مجہول کے ساتھ اداکیاجائے ۔جیساکہ لفظ ’احمد‘ ہے۔اردو میں الف کے زیر اور مجہول آواز کے ساتھ بولا جاتاہے۔حالاں کہ اصل لفظ اَحمدہے۔عربی بولتے ہوئے اس لفظ کو اَ حمدالف کے زبر کے ساتھ ہی پڑھاجائے گا، مگر جب اردومیں احمد بولاجاتا ہے تو اردو کے صوتی مزاج کو سامنے رکھ کر اس کو زیر کے ساتھ مجہول آواز کے ساتھ ادا کیاجاتا ہے ۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے الفاظ ہیں۔اگر اربابِ مدارس اردو کے صوتی مزاج کو سامنے رکھیں اور ع ، ق کو ذرا کم گہرائی کے ساتھ ادا کریں اور اردو کے صوتی مزاج وآہنگ کو اردوبولتے وقت برتیں اور عربی کے آہنگ کو خلط ملط نہ کریں تو ان کا تلفظ اور بہتر ہوجائے گا۔ مدرسے والے تلفظ کے حوالے سے اپنی اس کمی کو کیسے دور کرسکتے ہیں۔اس بابت ہم آگے چل کر اجمالاً بیان کریں گے۔
جن اردو والوں کا تعلیمی پس منظر مدرسہ نہیں ، اسکول ہوتا ہے ، ان کے ساتھ اردو الفاظ کا تلفظ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگرچہ بہت سے اسکول کے طلبا آگے چل کر جب وہ اردو زبان وادب میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں، ریسرچ اسکالر بن جاتے ہیں، یا اساتذہ ، مصنف، شاعروغیرہ ہوجاتے ہیں تو اردوالفاظ کا تلفظ درست کرنے لگتے ہیں،لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا یہ مسئلہ زندگی بھرتعاقب کرتا رہتا ہے اور ان کا پیچھانہ اس وقت چھوڑتاہے جب وہ ریسرچ اسکالر ہوتے ہیں، نہ اس وقت جب وہ استاد ہوجاتے ہیں،یا مصنف ومحقق بن جاتے ہیں۔ ریسرچ اسکالروں کے تلفظ کی صورتِ حال کا اندازہ ان ادبی سیمناروںمیں ہوجاتا ہے جن میں انھیں مقالے پڑھنے کاموقع دیاجاتاہے۔بہت سے ریسرچ اسکالرز مقالوں کی قرأت کے دوران اتنی غلطیاں کرتے ہیں کہ بعد میں اسٹیج پر تشریف فرما صدور حضرات کو اپنے صدارتی کلمات میں تلفظ پر بات کرنی پڑتی ہے ۔واضح رہے کہ تلفظ کے حوالے سے صدور حضرات مجبوری میں گفتگو کرتے ہیں کہ جب پانی سر سے اونچا ہوجاتاہے اور وہ برداشت نہیں کرپاتے ، ورنہ تو کتنی غلطیوں کو تو وہ نظراندازبھی کردیتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ تلفظ پر محنت کرنے کے باوجود ریسرچ اسکالروں سے غلطیاں کیوں سرزد ہوتی ہیں؟دراصل معاملہ یہ ہے کہ اردو کے وہ الفاظ جو عربی اور فارسی زبان سے آئے ہیں ، وہ ان کے لیے مشکلات پیداکرتے ہیں۔ ان کا تلفظ کرتے ہوئے انھیں عموماًدوسروں پر تکیہ کرنا پڑتاہے۔یا تو وہ اساتذہ کی نقل کرتے ہیں،یا کسی مشہورشخصیت کے تلفظ کی پیروی کرتے ہیں یا پھر وہ لغت کی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں ، مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات مذکورہ تمام ذرائع بھی لفظ کے صحیح تلفظ کی نشاندہی میں بے بس ثابت ہوتے ہیں۔ ظاہرہے کہ ایسی صورت میں غلطیاں تو واقع ہوںگی ہی ۔
جہاں تک ان حضرات کا تعلق ہے جو دانش گاہوں میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں ،یا کتابیں لکھ رہے ہیں یا شاعری کررہے ہیں وغیرہ ،تو تلفظ کے حوالے سے ان کے ساتھ مسئلہ اس لیے کھڑا ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ اردومیں مستعمل عربی الفاظ کی اصلیت اور ہیئت سے واقف نہیں ہوتے اور صرف لغت دیکھ کر یا کسی بڑے استاد سے سن کر ان کا تلفظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب وہی لفظ دوسرے انداز میں سامنے آتا ہے تووہ اپنے قیاس کی کسوٹی پراسے پر کھتے ہوئے بولتے ہیں مگرایسی صورت میں اکثر ان سے غلطی واقع ہوجاتی ہے ۔ مثال کے طورپر ایک لفظ’’ عمیق ‘‘ ہے۔اس کے معنی اور اس کے تلفظ سے سبھی لوگ واقف ہیں مگر جب یہی لفظ اپنی ہیئت بدلتا ہے اور’’ تعمق ‘‘کی شکل میں سامنے آتاہے تو غیر عربی والے شخص کو اس کے صحیح تلفظ کا اندازہ کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے۔اب وہ اردو کی ڈکشنری اس لفظ اوراس کے تلفظ کو تلاش کرے گا ،ممکن ہے کہ یہ لفظ وہاں بھی موجود نہ ہو ،اب وہ لاچارومجبور کسی سے معلو م کرکے اس کے درست تلفظ ومعنی تک پہنچنے کی کوشش کرے گا ، لیکن جس سے معلوم کیاجارہا ہے ، ہوسکتا ہے کہ اس کی بھی صورتِ حال یہی ہو، تب اس کے لیے قیاس سے کام لینا مجبوری بن جاتاہے۔ محض قیاس کی بنیادپر اس لفظ کو ’تَعمَق‘بھی پڑھا جاسکتا ہے، اسے تُعمُق بھی سمجھاجاسکتاہے اور’تَعمِق‘ بھی ، لیکن اگر یہی لفظ عربی سے واقف کار شخص یا طالب علم کے سامنے آئے گا تو وہ بالکل بھی پریشان نہ ہوگا ، وہ نہ کوئی ڈکشنری دیکھے گا ، نہ کسی سے معلومات کرے گا بلکہ پہلی نظر میں اس کو ’’تَعَمُّق‘ پڑھے گا‘کیوںکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ عربی میں باب تَفَعُّل موجو د ہے جس کے وزن پر یہ لفظ ہے۔اس وزن پر اور بھی بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو اردومیں مستعمل ہیں۔ جیسے تکبر، تنوع ، توسع۔ اگر لفظ ’عمیق ‘’ عمق‘ کی شکل میں سامنے آتا ہے تو عربی سے ناواقف طلبا کے لیے اس کے صحیح تلفظ تک پہنچنے کے لیے یا تو استاد کی مدد لینی پڑے گی یا پھر لغت کی، لیکن عربی داں طالب علم کو اس لفظ کے صحیح تلفظ تک پہنچنے کے لیے یہاں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔آگے چل کر یہی لفظ جب ’اعماق‘ کی صورت اختیار کرتا ہے توپھر وہی الجھن سامنے آکھڑی ہوتی ہے کہ یہ کیا لفظ ہے؟ اَ عماق ہے یا اِعماق۔ ظاہر ہے کہ عربی سے واقفیت رکھنے والا پہلی نگاہ میں بنا سوچے اس کے اصل تلفظ تک رسائی حاصل کرلے گا ۔ کیوںکہ وہ سمجھ جائے گا کہ یہ باب اِفعال کے وزن پر ہے۔ دراصل عربی میں مصد ر کو یا لفظ کے مادے کو مختلف ابواب میں لے جانے کا پورا نظام موجود ہے جس کے تحت لفظ کے مادے کو الگ الگ ابواب میں لے جایاجاتاہے ، جس سے لفظیات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے اور مختلف مفاہیم کو اداکرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ جیساکہ ایک لفظ ’نظر‘ہے یعنی ن ظ ر۔اس مادے سے اردو کے مختلف الفاظ بنتے ہیں ۔ جیسے منظر، مناظرہ، تناظر، انتظار۔ یہ چاروں الفاظ یوںہی نہیں وجود میں آئے بلکہ اصول وقواعد کے مطابق بنائے گئے ہیں، منظر مَفْعَل کے وزن پرہے ،’ مناظرہ ‘مفاعلۃ کے وزن پر ہے ۔عربی میں یہ ایک مستقل باب ہے ۔ ’تناظر‘ تفاعل کے وزن پر ہے ۔یہ ثلاثی مزیدکا ایک باب ہے ۔انتظار باب اِفْتِعال سے ہے۔ ان تمام ابواب کے بارے میں عربی طلبا اچھی طرح واقف ہوتے ہیں ۔یہاں تک کہ ان ابواب کی خصویات بھی ان کے سامنے ہوتی ہیں۔ چنانچہ عربی لفظ کو ئی بھی شکل اختیار کرلے ، وہ ان کی گرفت میں آجاتاہے اور اس کے معنی یا تلفظ کو سمجھنے میں انھیں پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑتا۔ (یہ بھی پڑھیں حسّان ؓبن ثابت اور محسن کاکوروی کی نعتیہ قصیدہ گوئی :ایک تقابلی مطالعہ- ڈاکٹریوسف رامپوری )
عربی زبان سے ناواقف کار ، یا اسکولی پس منظر سے آنے والے حضرات کے لیے یہ کام نہایت مشکل ہے۔ کیوں کہ وہ اس نظام سے واقف نہیں ہیں۔ اس لیے اگر کوئی لفظ یا لفظ کا مادہ جب دوسری شکل اختیار کرکے سامنے آتا ہے تو ان کے لیے اس کے معنی اور تلفظ تک رسائی کا مسئلہ قدرے پیچیدہ ہوجاتا ہے ۔ ان کے سامنے چند راستے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اساتذہ سے رجوع کریں یا لغت کی کتابوں میں انھیں تلاش کریں۔ اگر اساتذہ کا تعلق اسکول کا پس منظر رہا ہے اور ان کے سامنے بھی وہ لفظ پہلی بار آیا ہے تو ان کے لیے بھی دشواری کی بات ہے۔ اب رہی بات لغت کی تو تمام لغت کی کتابیں صحیح تلفظ کی نشاندہی کردیں ، یہ ضروری نہیں ہے۔ ایسی صورت میں قیاس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں دکھائی دیتا۔ ظاہرہے کہ جب اصول معلوم نہ ہو تو قیاس میں غلطیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ جیساکہ اس کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ اردو والوں نے اپنے قیاس سے الفاظ کو بولا اور غلطیاں کیں۔یہ الگ بات ہے کہ بعد میں وہ اس بات پر مُصِر نظرآئے کہ جو کچھ انھوں نے تلفظ کیا ہے ، وہی درست ہے ۔کیوں کہ وہ اردو والے ہیں اور اردووالوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہیں ،دوسری زبان سے آنے والے الفاظ کے تلفظ کا تعین کریں۔یہاں یہ سوال قائم ہونا لازمی ہے کہ کیاان کی یہ دلیل کسی لفظ کے تلفظ کو بدلنے کے لیے مناسب ہے؟
اگر کسی دوسری زبان کے لفظ کو اپنی زبان میں لے کر اسے مستقل اپنی زبان کا لفظ بنایاجائے اور اس کے تلفظ کو اپنی زبان کے مزاج کے مطابق ڈھال لیاجائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ دوسری زبانوںمیں بھی اس کا رواج موجود ہے، خاص طورسے عربی میں ایسا خوب دیکھنے کو ملتاہے۔ اہلِ عرب انگریزی زبان کے بہت سے الفاظ اور اصطلاحات کو عربی کے مطابق بنالیتے ہیں۔یہاں تک کہ اشیاء کے ناموں تک کو وہ تبدیل کردیتے ہیں۔اردومیں بھی اگر ایسا کیا جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی جرم ہے۔ اردو میں دوسری زبانوں کے ایسے کتنے الفاظ ہیں جن کے اصل تلفظ کو ختم کرکے نئے تلفظ وضع کرلیے گئے ہیں۔جیسے مشاعرہ ۔ اصل میں یہ لفظ ’’مشاعرہ‘‘ ہے ’ع‘ پر زبر کے ساتھ ’مفاعَلۃ‘ کے وزن پرلیکن اسے مشاعَرہ کوئی نہیں کہتا ہے۔ ’مشاعرہ‘ عین کے زیر کے ساتھ مجہول کرکے بولا جاتا ہے۔ موازنہ ، یہ اپنی اصل کے اعتبار سے ’’مُوازَنہ‘‘ میم پر پیش اور ’ز ‘پرزبر کے ساتھ ہے ، مگر اس کو مَوازْنہ‘ میم پر زبراور ’ز ‘پر جزم یا سکون کے ساتھ بولا جاتاہے۔’مقابلہ‘ اصل میں مُقابَلَۃٌ ہے مگر اس کو اردومیں’ ل‘ پر جز م کے ساتھ تلفظ کیاجاسکتاہے۔ گویاکہ اردومیں بھی دوسری زبانوں کے الفاظ کے تلفظ کوبدلنے کا رواج موجود ہے، لیکن الفاظ کو تبدیل کرنے کا کوئی باضابطہ نظام اردو میں نظرنہیں آتا۔ چنانچہ بہت سے الفاظ میں تلفظ کی تبدیلیاں اس وجہ سے ہوئیں کہ عوام نے ان الفاظ کو بدل کر بولا۔جب یہ تبدیلی رائج ہوگئی تو اسی پر مہر لگادی گئی۔
بعض الفاظ ایسے ہیں جن کے تلفظ میں خواص نے تبدیلی کی۔خواص سے مراد ادبا، علما اور زبان وادب سے گہرا تعلق رکھنے والے افراد ہیں مگر الفاظ کے تلفظ میں ان کی جانب سے ہونے والی بہت سی تبدیلیاں ان کے اپنے قیاس کے مطابق ہوئیں ، کسی اصول و ضابطے کے تحت نہیں ہوئیں۔ اسی لیے ایک ہی لفظ کو مختلف انداز سے بولنے کے واقعات ہمارے یہاں خوب ملتے ہیں۔مثال کے طورپر لفظ ’مطالعہ‘ کو لے لیتے ہیں۔کوئی شخص اس کو ’مطالِعہ ‘پڑھتا اور بولتا ہے ، کوئی اسے مُطالَعَہ پڑھتاہے، کوئی اسے مطالہ ، ع کو حذ ف کرکے پڑھتا ہے ۔ایسے ہی لفظ ’مقالہ‘ ہے ، کوئی اسے مَقالہ‘ کہتاہے تو کوئی مُقالہ، تو کوئی مُکالہ ۔ ایک اور لفظ ’’مناظرہ‘‘ کو دیکھیں۔ یہ بھی عربی لفظ ہے ۔بعض اسے مُناظْرہ‘ کہتے ہیں ، بعض ’مُناظَرَہ‘ بعض ’مُناظِرہ‘، کچھ لو گ اسے مَناظرہ بھی کہہ دیتے ہیں۔لفظ ’اعتبار‘ جو عربی زبان کا لفظ ہے، اسے بعض لوگ ’اِعتَبار‘ بولتے ہیں، بعض اعتِبار زیر معروف کے ساتھ اور بعض اعتِبار زیر مجہول کے ساتھ اس کا تلفظ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ مُسلَّم کو بعض مُسَلِّم کہتے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار الفاظ ہیں جن کے تلفظ میں اختلاف پایاجاتاہے۔ اگرعربی ، فارسی یا کسی بھی دوسری زبان کے لفظ کے تلفظ کو بدل لیاجائے تو اس میں کوئی قباحت کی بات نہیں مگر سوال اس وقت قائم ہوتاہے جب کہ ایک ہی لفظ کو مختلف انداز سے بولا جائے یا ایک ہی لفظ میں تبدیلی درتبدیلی کی جائے اور جس کا جو جی چاہے ،اس کا تلفظ کرے۔کیا تلفظ میں اس نوع کی تبدیلیاں مناسب ہیں؟کیا یہ زبان کے لیے نقصان دہ نہیں ؟ اگر یوںہی بلا قاعدہ و بنااصول ہر ایک کو تلفظ میں تبدیلی کا اختیار دیاجائے توآگے چل کر کیازبان عجیب شکل نہیں اختیار کرلے گی؟ لفظ ’ مُسلّم‘ کو لوگ آگے چل کر ’مُسْلم‘ بھی کرسکتے ہیں، مِسْلَم‘ بھی پڑھ سکتے ہیں مُسْلَم بھی کہہ سکتے ہیں ، مَسَلِّم بھی بول سکتے ہیں اور نہ جانے کیا کیا کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح کی تبدیلیاں جب اردو کے بہت سے الفاظ میں ہوجائیں گی تو پھر اردو کی اگلی شکل کیا ہوگی ، تصورکیجئے۔تلفظ میں الفاظ کی تبدیلی قواعد کے تحت ہو ، یا پھر مستند ماہر ینِ اردو ایک ساتھ بیٹھ کر اردو کے مزاج کے مطابق الفاظ کے تلفظ کو طے کریں اور اس پر اتفاق کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی لفظ کے دوتلفظ نہیں ہوسکتے، بالکل ہوسکتے ہیں مگر ان کو بھی طے کیاجائے کہ فلاں لفظ کے یہ دویا اس سے بھی زائد تلفظ ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ایک لفظ کو مختلف طریقوں سے کیوں بولاجاتاہے ، یاپھر تلفظ میں تبدیلی درتبدیلی کا عمل کیوں جاری ہے ؟ اس کی دووجوہات ہیں۔ایک تو یہ کہ امتدادِ زمانہ کے باعث عوام الناس کے درمیان الفاظ کا تلفظ بتدریج بدلتا رہتا ہے ۔دوسری وجہ الفاظ کی اصل سے لاعلمی ہے۔تلفظ میں اس طرح کی کیفیت زیادہ تر عربی الفاظ میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔کیوں کہ عربی زبان سے کم ہی لوگ واقف ہوتے ہیں۔ اگر عربی کے ان الفاظ سے گہری واقفیت ہو ، جو اردو میں مستعمل ہیں ، تواردو والے اس کا تلفظ غلط نہیں کریں گے ، ہاں اردو کے مزاج کے مطابق اسے ضرور ڈھال لیں گے۔ اس کو یوں سمجھاجاسکتاہے کہ عربی میں بہت سے الفاظ باب ’ مُفَاعَلَۃٌ‘ سے آئے ہیں۔جیسے مناظرہ، موازنہ، مشاعرہ، مقابلہ، محاصرہ، مشاہدہ، مطالعہ، مناقشہ، مجاہدہ، ملاحظہ، مشارکت ، معاشرہ وغیرہ۔ اس باب کے وزن پر آنے والے الفاظ کو اگر قاعدے کے مطابق ڈھالا جاتا تو سب کا وزن ایک ہوتا ، مگر ایسا نہیں ہے ۔مذکورہ الفاظ کو اس طرح بولا جاتا ہے۔ مُنَاظْرہ ’م‘کے پیش اور’ ظ‘ کے سکون کے ساتھ ،مَوازْنہ’ م‘ کے زبر کے ساتھ اور’ ز‘کے سکون کے ساتھ ، مُشاعِرہ’ م‘ کے پیش کے ساتھ اور’ ع‘ کے زیر(مجہول)کے ساتھ ، مُشاہَِدہ ’ ہ‘ کے زبر، زیر، اور سکون کے ساتھ، مطالعہ’ ل‘ کے زیر اور زبر کے ساتھ، ’مُعاشرہ ‘ کو بعض لوگ ’م‘ کے پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور بعض ’م‘ کے زبر کے ساتھ مَعاشرہ، وغیرہ ۔ مذکورہ الفاظ میں اس قدر اختلاف نہیں ہونا چاہئے تھا۔اگر ان الفاظ کو عربی سے ان کی اصل کے ساتھ لیا جاتا تو سب کے میم پر پیش ہوتا اور الف کے بعد آنے والے حرف پر(یعنی عین کلمہ پر) زبر ہوتا۔ لیکن اگر ان الفاظ کو اردو کے صوتی مزاج کے مطابق قاعدہ کی رعایت کرتے ہوئے ڈھالا جاتا توتمام مذکورہ الفاظ کا میم پیش کے ساتھ اور الف کے بعد آنے والا حرف زیر مجہول کے ساتھ ہوتا۔کیوںکہ اردوکے صوتی مزاج کے مطابق بہت سے الفاظ میں زبر کو زیر (مجہول ) کے ساتھ بولا جاتاہے۔جیسے اَ حمد، رَحمۃ وغیرہ لیکن اردو میں سبھی لوگ اِحمد Ehmadاور رِحمتRehmatبولتے ہیں ۔یہ اردو کا صوتی مزاج ہے ، چنانچہ اس صوتی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے باب مفاعلۃ کے ’فا‘کے بعد آنے والے حرف’ ع‘ کے زیر کے ساتھ مجہول آواز مجہول آواز میں بولا جاسکتاہے۔ مُشاہِدہ (Mushaaheda)، ملاحِظہ (Mulaaheza) ، مطالِعہ(Mutaale’a)، مناظِرہ(Munaazera) وغیرہ۔ لیکن ایک ہی وزن کے الفاظ کو الگ الگ حرکات کے ساتھ پڑھنا نہ قاعدے کے مطابق ہے اور نہ اردو کے صوتی مزاج کے مطابق ۔ ظاہرہے کہ اس اختلاف کی بنیادی وجہ الفاظ کی اصل شکل سے نا واقفیت ہے ،چنانچہ جس کی جو سمجھ میں آیا ، اس نے ویسا ہی تلفظ کرلیا اور ایک ہی انداز کے الفاظ کو مختلف شکلیں دے کر تلفظ کے معاملے کو پیچیدہ بنادیا۔ اس صورت میں کسی غیر زبان کے الفاظ کے تلفظ میں احتیاط سے کام لیا جانا اور اس کو بولنے سے پہلے اس کے تلفظ کو جانچنا پرکھنا ضروری ہے۔ فقط اپنے انداز وقیاس پر اس کا تلفظ متعین کرلینا مناسب عمل نہیں ہے۔
کئی بار ایسا بھی دیکھاجاتا ہے کہ اردووالے بعض لفظوں کا تلفظ بدل دیتے ہیں جب کہ اس کا اصل تلفظ اردو کے مزاج کے مطابق بھی ہوتا ہے اور زبان پر آسان بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر ایک لفظ ’بین الاقوامی‘ ہے۔ بین کے’ ن‘ پر زبر ہے مگر اردو کے اکثر لوگ بین کے ’ن‘ پر پیش پڑھتے ہیں۔بنیادی طورپر یہ عربی لفظ ہے ۔ بین کے نون پر زبر ہے اور یہ نون ایسا ہے کہ عربی میں کسی بھی صورت میں تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اسے’ مبنی برفتحہ‘ کہتے ہیں ، لیکن اردو سے وابستہ متعددافراد نے ’ن‘ پر پیش لگادیا جب کہ ایسی صورت میں یہ لفظ زبان پر قدرے مشکل بھی ہوگیا۔ اس طرح کی غلطیوں کے پیچھے بھی لاعلمی کارفرما ہوتی ہے۔ کیوںکہ اردومیں الفاظ پر اعراب لگانے کا رواج نہیں ہے۔ چنانچہ جب کہیں’بین الاقوامی‘ لکھا دیکھا تو ان لوگوں نے جو اس لفظ کی اصلیت سے واقف نہیں ، سوچا کہ نون پر کیا پڑھیں ؟چنانچہ کسی نے اپنے اندازے کے مطابق بین کے ’ن‘ پر پیش پڑھ دیا اور کسی نے زبر ۔اس طرح کی غلط فہمیاں عام طورپر عربی کے ان الفاظ میں ہوتی ہیں جو اسم فاعل یا اسم مفعول ہوتے ہیں۔ ثلاثی مزید اور رباعی مجرد کے اسم فاعل اور اسم مفعول والے الفاظ میں ہیئت کے اعتبار سے تھوڑا فرق ہوتا ہے اوروہ یہ کہ اس کے درمیانی حرف جسے عربی میں عین کلمہ کہا جاتاہے، اس پر حرکت تبدیل ہوتی ہے۔اسم فاعل پر زیر اور اسم مفعول پر زبر ہوتاہے۔ مُصنِّف اور مُصنَّف ، مصوِّر اور مصوَّروغیرہ۔یہاں زبر زیر کے معمولی فرق سے معنی تبدیل ہوجاتے ہیں۔
کئی بار غیر عربی داں حضرات کے لیے عربی کے الفاظ کی جمع اور مصد ر کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا ہے، چنانچہ غیر عربی داں اردو کے طالب علم جمع کو مصدر اور مصدر کو جمع بناکر معنی میں فساد پیدا کردینے کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔جیسے اَعلام اور اِعلام ۔ عربی میں اور بھی متعدد اوزان ایسے ہیں جن پر بہت سے الفاظ ملتے ہیں۔لیکن یہاں بھی وہی لاعلمی کار فرما ہوتی ہے ۔ جیسے: اجتناب ،اعتبار، انقلاب، انضمام وغیرہ۔ بعض لوگ ان الفاظ کواِجْتَناب ، اعتَبار،انقَلاب اور انضَمام پڑھتے ہیں ۔ یہ تلفظ غلط ہے۔کیونکہ اجتناب اور اعتبار افتِعال کے وزن پر ہیں ۔ باب افتعال مستقل عربی میں ایک باب کا نام ہے اور انقلاب ، انضمام باب انفِعال سے ہیں، چنانچہ انقلاب میں ’ق‘ کے نیچے زیراور انضمام میں ’ض‘ کے نیچے زیر پڑھاجانا چاہئے۔یہ الگ بات ہے کہ اردو کے صوتی مزاج وآہنگ کے مطابق زیر کو مجہول پڑھاجائے۔ اس کے اور بھی اوزان ہیں۔ اگر ان اوزان یا ابواب سے تھوڑی واقفیت ہو تو ان کا تلفظ کچھ مشکل نہ رہے گا۔
اردومیں مستعمل عربی الفاظ کے تلفظ پر گرفت حاصل کرنے اور ان کے معانی کو آسانی سے سمجھنے کا بہترین اور آسان طریقہ یہ ہے کہ اردو کے وہ طالب علم جنھیں اردوکے میدان کو سر کرنا ہے ، انھیں عربی کے صرف ونحوکے بنیادی وضروری قاعدے پڑھ لینے چاہئیں۔ وہ یہ اساتذہ کی مدد سے بھی پڑھ سکتے ہیں اور بعض کتابوں کی مدد سے بھی۔اس طرح وہ عربی کے نحووصرف سے واقفیت حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے اگر وہ روزانہ ایک گھنٹے کا وقت نکالیں گے تو ایک دوسال میں عربی کے اس قدر نحووصرف سے ضرور واقف ہوجائیں گے کہ اردو میں عربی الفاظ کے معانی اورتلفظ کو سمجھنے میں انھیں آسانی ہوجائے گی اور ان کی اردو زبان پر خاصی حد تک گرفت بھی ہوجائے گی۔اگروہ عربی کے الفاظ کے تلفظ اور معانی کو لغات کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں گے تو سالہاسال کے بعد بھی انھیں اردومیں مستعمل عربی الفاظ پر عبور حاصل نہ ہوگا اور بہت سے الفاظ کے تلفظ کو لے کر شک و شبہ میں مبتلا رہیں گے ، بار بار لغت کی کتابوں کے اوراق پلٹتے رہیں گے ۔ پورے طورپر مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوگا۔یہی صورت حال ان فارسی الفاظ کی بھی ہے جو اردومیں استعمال کیے جاتے ہیں۔ فارسی سے عدم واقفیت کی وجہ سے اردو والے بہت سے فارسی الفاظ کے تلفظ میں بھی غلطی کرجاتے ہیں ۔مثلاً لفظ ’خود کشی‘ کو لے لیجئے ۔بعض لوگ اسے خود کُشی پڑھتے ہیں اور بعض خود کَشی۔حالانکہ اصل لفظ خود کُشی ہے ۔’تیز رو‘ کو بعض لوگ تیز رٗو کہتے ہیں حالانکہ اصل لفظ ’تیز رَو‘ہے۔جولاں کو بعض لوگ جٗولاں پڑھتے ہیں حالانکہ اصل لفظ ’جولاں‘ ہے بمعنی روانی،’ ج‘ پر پیش کے ساتھ۔ جولاں کے معنی بیڑی کے ہیں۔یہ غلطی اس وقت ہرگز نہ ہوتی جب کہ فارسی کے مصادر کو پڑھ اور یاد کرلیاجاتا۔اس عمل سے اردو بھی مضبوط ہوجاتی اور اس نوع کی غلطیوں سے بھی بآسانی نجات مل جاتی۔لہٰذا اردو والوں کے لیے یہ بڑی اہم بات ہے کہ وہ فارسی کی ابتدائی کتابیں بھی پڑھ لیں ۔ اس سے ان کی زبان میں بڑا سُدھار ہو گا۔ فارسی الفاظ کے معنی تک رسائی آسان ہوگی اور ان کا تلفظ بھی مشکل نہ رہے گا۔اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ اردو میں عربی اور فارسی کے الفاظ اس طرح پیوست ہوچکے ہیں کہ ان کو جانے بغیر چارۂ کار نہیں ہے۔ ان الفاظ کو اردو سے خارج بھی نہیں کیاجاسکتا۔کیوں کہ وہ اردو کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس لیے کیا ہی بہتر ہو کہ عربی و فارسی الفاظ کے تلفظ اور ان کے معانی تک بآسانی رسائی کے لیے عربی اور فارسی زبان کی چند ابتدائی کتابیں پڑھ لی جائیں ۔
اردوالفاظ کا درست تلفظ کرنے کے لیے اردو کے صوتی مزاج سے گہری واقفیت ناگزیر ہے۔اس کے بغیر اردو تلفظ کودرست نہیں کیاجاسکتا۔ غیر اردو والوں کے لیے اردو کے صوتی نظام سے ہم آہنگ ہوناقدرے مشکل ہوتاہے، لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بہت سے اردو والے بھی اردو کے صوتی مزاج سے واقف نہیں ہیں یا اس کی رعایت نہیں کرتے، اس لیے بہت سے اردووالوں کی اردو گفتگو میں وہ مٹھاس دکھائی نہیں دیتی جو ہونی چاہئے۔یہاں تک کہ بہت سے مدارس کے فارغ التحصیل طلبا جو اردو زبان پر قدرت رکھتے ہیں ، بہت سے الفاظ اردو کے صوتی مزاج کے مطابق نہیں بولتے ، بلکہ عربی کے مطابق بولتے نظرآتے ہیں، جب کہ اردواور عربی کے صوتی مزاج وآہنگ میںنمایاں فرق ہے۔ عربی میں اَ اِاُ کی آوازیں ہیں۔یہ آوازیں معروف ہوتی ہیں یعنی سیدھی نکلتی ہیں کھینچنے والی آوازوں میں آ،اُوْ، اِیْ ہیں جب کہ اردومیں جہاں یہ آوازیں موجود ہیں ،وہیں مجہول آوازیں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ مجہول آوازیں اردو کا خاص صوتی آہنگ رکھتی ہیں۔ اسی لیے بالعموم ان آوازوں کا خیال رکھ کر بولنے کا رواج عام ہے۔ مثلاً ’کہ‘ Keہندی والے Ki بنا کھینچے بولتے ہیں لیکن اردو میں کہkeتلفظ کیاجاتاہے۔ جیسے استِحکام میںteپڑھناtiکے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے، وغیرہ۔
اہلِ مدارس کے یہاں اردوکے صوتی مزاج کی رعایت کم ملتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں حروف تہجی کو اس طرح پڑھایاجاتاہے : ب (با) ت(تا)ث(ثا) ح(حا ) خ(خا) جوکہ عربی کے مطابق ہے۔ دوسری طرف اردومیں حروف تہجی کو اس طرح اداکراتے ہیںب(بے) ت(تے) ث(ثے) ح(حے) خ(خے) ۔ ر(رے) ڑ(ڑے) وغیرہ۔ یہاں سے ہی صوتی مزاج کی بنیاد پڑتی ہے۔ مدرسے والے اردو کو بھی عربی کے حروف تہجی کی طرح پڑھ کر اردوکے صوتی مزاج سے کٹ جاتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے طلبائے مدارس ’تَحقیق‘Tahqeequeکہتے ہیں جب کہ اردو کے صوتی مزاج کا تقاضہ ہے کہ اس کو Tehqeeque پڑھا جائے۔اردو میں رَحمت کوRehmat اسی لیے بولتے ہیں کہ یہ اردو کے صوتی مزاج کے مطابق ہے ورنہ تو اصل لفظRahmatہے ۔اردوصوتیات میں بے اعتدالی صرف مدرسے والوں سے ہی جڑی ہوئی نہیں ہے بلکہ دوسرے پس منظر سے آنے والے طلبا واساتذہ کے یہاں بھی اس نوعیت کی بے اعتدالیاں موجود ہیں اور صوتیات کا پورا خیال ان کے یہاں بھی نہیں پایاجاتا،البتہ جو لوگ خواہ وہ مدارس کے ہوں یا اسکولز وکالجز کے اردو کواس کے صوتی مزاج کے مطابق بولتے ہیں ان کی زبان بڑی پرکشش ہوتی ہے۔
اردومیں تلفظ کا مسئلہ ان لوگوں کے یہاں زیادہ پیچیدہ نظرآتاہے جو دوردراز کے خطوں ، صوبوں اور ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کی زبان میں اردو کے حروف تہجی سرے سے نہیں ہوتے یا ان کی مادری زبان میں اردو کے بعض حروف تہجی کی آوازوں کا بالکل استعمال نہیں ہوتا۔مثال کے طورپر کشمیر کے لوگ ’ق‘ ادا نہیں کرپاتے، اس لیے تمام ان الفاظ میں جہاں ’ق‘ آتا ہے وہ ’ک‘ کی آواز نکالتے ہیں جو کم از کم اہل زبان کو اردو کے عالموں کو اچھا محسوس نہیں ہوتا۔ مثال کے طورپر اقبال کو اکبال ، قائم کو کائم ، مستقل کو مستکل، طریقہ کو طریکہ، مقالہ کو مکالہ وغیرہ ۔ بہار کے لوگ ’ڑ‘ کو ’ر ‘پڑھتے اور بولتے ہیں ۔کیونکہ ان کی زبان سے ’ڑ ‘کی ادائیگی دشوار ہوتی ہے۔اس لیے وہ الفاظ جن میں ’ڑ‘ حرف شامل ہوتا ہے ان کی زبان پر پھینکے اور بدنما محسوس ہوتے ہیں۔ جیسے بہار کے اکثر عوام ’گھوڑا ‘کو ’گھورا‘، ’گھڑی کو ’گھری‘، ’پڑا‘ کو پرا، ’موڑ‘کو ’مور‘ بولتے نظرآتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت حا ل کا بھی کوئی حل ہے۔ کیا وہ اس طرح کا تلفظ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ کیاانھیں اصل تمام حروف تہجی کو درست بولنا چاہئے وغیرہ ؟
جن لوگوں کے لیے بعض حروف کی ادائیگی ناممکن یا بہت زیادہ دشوار ہوتو یہ ایک مجبوری ہے ، اس لیے اسے نظرانداز کیا جاسکتاہے۔ مگر وہ جو اردو کے باضابطہ طالب علم ہیں، ریسرچ اسکالر ہیں یا استاد ہیں تو انھیں ضرور ان حروف کی مشق کرلینی چاہئے جن کی ادائیگی ان کے لیے مشکل ہو۔کوشش اور مشق سے یقینا وہ ان حروف کی بھی صحیح ادائیگی پر قادر ہوجائیں گے۔اس لیے کہ انسان کو من جانب اللہ جو صلاحیت عطا ہوئی ہے اس کی بنیادپر وہ تمام حروف کو ادا کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ماحول کی وجہ سے بعض حروف یا آوازوں کا استعمال بعض لوگ پوری زندگی میں نہیں کرپاتے، لیکن دوسرے بآسانی کرتے ہیں ، حالانکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں۔ سامنے کی ایک مثال اورپیش کی جاسکتی ہے ۔ قرآن مجید اللہ کاکلام ہے ، دنیا کے تمام مسلمان اس کی تلاوت کرتے ہیں، اس کے بہترین قاری دنیا کے مختلف علاقوں اور ملکوں میں موجود ہیں جب کہ بعض حروف قرآن میں ایسے ہیں جن کی ادائیگی بعض خطوں کے لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جگہ کے قاری اورقرآن کو اچھا پڑھنے والے اسی طرح کی ادائیگی کرتے ہیں۔ قرآن میں موجودع ، ق ، ش ، ص ، ض ،ط ، ظ کو عرب کے قاری بھی اسی طرح ادا کرتے ہیں تو مصر کے قاری کے بھی ، ایران کے قاری بھی، ہندوستان کے قاری بھی ، انگلینڈ و امریکہ کے قاری بھی ۔ دہلی ،یوپی ، بہار، بنگال، کرناٹک اور کشمیر کے قاری بھی۔ آخر سب ان حروف کی ادائیگی ان کے اصل مخارج کے ساتھ اداکرنے پر قادر کیوں ہوئے ؟ جب کہ ان میں سے بہت سو ںکی اپنی زبانوں میں ص ،ق ، ع ، ط ، ظ نہیں ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس کی بنیادی وجہ مشق اور کوشش ہے۔ کیا اس طرح اردو کے طلبا واساتذہ ان حروف کی ادائیگی کی مشق نہیں کرسکتے جو ان کے لیے دشوار ہوتے ہیں۔ کشمیر کے بعض طلبا اور اساتذہ کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ق کی ادائیگی درست کرتے ہیں ، جس طرح اردومیں کی جانی چاہئے ۔ لیکن اس کے برعکس بیشتر کشمیر کے طلبا ، اوراردو کے ماہرین ’ق‘ کو’ک‘ ہی کہتے ہیں اور اس کو تبدیل کرنا بھی نہیں چاہتے ۔مغربی بنگال اوربہار کے بہت سے طلبا اور اساتذہ ’ ڑ‘ کو ’ڑ‘ ہی ادا کرتے ہیں اور ’ر‘نہیں کہتے ،کیونکہ وہ کوشش ومشق کرکے اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے حل کرلیتے ہیں جب کہ بعض’ ڑ‘ کو ’ر‘ کہنے پر ہی قائم رہتے ہیں ۔ معلوم یہ ہواکہ حروف تہجی کا مسئلہ اتنا پیچیدہ بھی نہیں ہے کہ اس کا حل ممکن نہ ہو، بس ضرور ت توجہ اور تھوڑی کوشش ومشق کی ہے ۔
وہ حضرات جن کی زبان اردو نہیں ہے ، وہ توبس اردو کے بعض الفاظ اپنی زبان میں ملاکر بولنے کا شوق رکھتے ہیں یا پھر اردو بولنا ان کو اچھا لگتاہے۔ ان کے لیے اردو الفاظ کے درست تلفظ کا موثر طریقہ یہ ہے کہ وہ اردو کے حروف تہجّی سیکھیں، صرف ان کی شناخت ہی نہیں بلکہ ان کو صحیح ادا کرنے کی بھی مشق کریں۔ ش، ع ، ق ، زجیسے حروف پر خاص توجہ دیں اور باضابطہ ان کو صحیح طورپر نکالنے کی مشق کریں۔ ہندی ،انگریزی وغیرہ میں اردو الفاظ کو لکھ کران کے لیے صحیح تلفظ بہت دشوار ہوگا۔حروف تہجی کی مشق کے بعد اردو کے عام الفاظ کا تلفظ ان کے لیے آسان ہوجائے گا۔اس کے بعد وہ اردوزبان کی گہرائیوں کی جس قدر پیمائش کریں گے ،اسی قدر اردومیں مہارت حاصل ہوتی جائے گی اور آگے کی غلطیوں سے بھی بچاجاسکے گا۔
تلفظ کو درست کرنے کے جو طریقے زیادہ موثر ثابت ہوسکتے ہیں ان میں سے مندرجہ ذیل طریقے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں:
۱۔ ماہر اساتذہ سے اردو زبان کو سیکھا جائے۔ کیوں کہ اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ انسان استاد سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔جو کچھ اساتذہ پڑھاتے ہیں ، طلبا خواہی نہ خواہی ان کی پیروی کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے اساتذہ کا انتخاب ناگزیر ہے جن کا تلفظ درست ہو۔یہ دورِحاضر کا بہت بڑا المیہ ہے کہ ماہر اساتذہ کی فی زمانہ کمی محسوس ہورہی ہے۔ اگر اساتذہ کا تلفظ خود درست نہ ہو تو طلبا پر منفی اثرات پڑیں گے ، اس کے برعکس اگر تلفظ درست ہو تو طلبا زبان و بیان کے حوالے سے ان سے بہت کچھ سیکھ لیں گے۔ انھیں تلفظ کے تعلق سے کوئی پریشانی نہیں آئے گی۔بہت سے الفاظ کا تلفظ دیکھنے کے لیے انھیں لغات کا بھی سہارا نہ لینا پڑے گا۔پڑھانے کے لیے ماہر اساتذہ کا تقررکرنااسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ تشویشناک بات ہے کہ تقرر کا جو عمل فی زمانہ رائج ہے ، اس میں سوفیصد تو کیا پچاس فیصد بھی لائق وماہر اساتذہ کا انتخاب نہیں ہوپاتا۔ اساتذہ کے تقررکے عمل میں شفافیت وقت کا اہم تقاضہ ہے۔
۲۔ مستند اور بہترین مقررین کو سننا۔ یعنی جو حضرات اپنا تلفظ درست کرنا چاہتے ہیں ، انھیں چاہئے کہ وہ ایسے مقررین کی تقریریں یا خطبات سنیں جن کو زبان وبیان پر گرفت حاصل ہواوران کا تلفظ بھی درست ہو۔ بار بار ایسے مقررین کو سننے سے سامعین کے تلفظ میں بہتری آئے گی ۔ایسے مقالہ نگاروں کے مقالے بھی سماعت کیے جاسکتے ہیں جو اچھے انداز میں مقالوں کی قرأت کرتے ہیں اور خاص طورسے الفاظ کی صحتِ ادائیگی پر زور دیتے ہیں ۔ اس طرح کے مواقع سیمناروں میں مل سکتے ہیں جہاں ماہرین لسانیات کو مقالے پڑھنے اور خطاب کرنے کے لیے مدعو کیا جاتاہے۔ ماہرمقررین کی تقریروں اور مقالوں کو ویڈیو اور آڈیو کے ذریعہ بھی سناجاسکتاہے۔ اچھی گفتگو وغیرہ سننا زبان سیکھنے کے لیے زیادہ موثر ہے۔
۳۔ لغت کی کتابوں کی طرف رجوع کرکے تلفظ کو درست کرنا بھی ایک مفید طریقہ ہے۔ جب بھی کسی لفظ کے تلفظ کے تعلق سے شکوک وشبہات قائم ہوں ، تو اپناقیاس لگانے سے بہتر ہے کہ لغات کی کتابوں میں تلفظ کو دیکھ لیاجائے۔لیکن یہ دھیان رہے کہ تلفظ ان لغات میں تلاش کیاجائے جو استناد کادرجہ رکھتی ہیں ۔مستند لغت کی کتابوں کے حوالے سے باخبر ہونا اس لیے ناگزیر ہے کہ بہت سی لغت کی کتابوںمیں تلفظ کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط نہیں پائی جاتی ، نتیجہ یہ کہ ان میں بہت سے الفاظ کا تلفظ غلط لکھا ہوا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل- مبصر : نوشاد منظر، )
یہاں اس تشویش کا اظہار کرنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ اردومیں تلفظ کے حوالے سے اچھی لغات کا فقدان ہے یا پھر ان کی تعداد نہ کے برابر ہے۔ بہت سی وہ اردو کی لغات جو بازاروں میں دستیاب ہیں ، تلفظ کی غلطیوں سے بھری پڑی ہیں،یا ان میں رائج تلفظ نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال طلبا کے لیے بڑی پریشان کن ہے۔لغت کی کتابوںمیں عام طورپر ان الفاظ کے تلفظ میں بے احتیاطی ملتی ہے جن کا تعلق عربی سے ہوتا ہے۔ ایسے ہی بعض لغات میں عربی وفارسی کے الفاظ کا صحیح تلفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے مگر عوام الناس کے درمیان رائج تلفظ کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ انھوں نے تلفظ لکھتے وقت اردو کے صوتی نظام کو بھی مد نظر نہیں رکھا۔ حالاں کہ اردو زبان کے درست تلفظ کے لیے اس کا صوتی نظام ومزاج بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اردو کے صوتی مزاج ونظام کوسامنے رکھ کر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے پروفیسر نصیر احمد خان کی ایک لغت شائع کی ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن میں اردو کے صوتی مزاج وآہنگ اور لہجہ کا قطعاً خیال نہیں کیا گیا ہے اور جس زبان کا لفظ ہے اس کے اصل تلفظ کو رقم کردیا گیا ہے، علاوہ ازیں رائج تلفظ کی بھی بھرپور نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔اس اعتبار سے یہ لغت بھی طلبا یا شائقین اردو کی تشنگی کو نہیں بجھاپاتی ۔مثال کے طورپر اردو کا ایک لفظ ’قہر ‘ ہے جس کا تلفظ ’قَہْر‘ لکھا گیا ہے ۔ جب کہ اس کا اردو تلفظ قِہر’ق‘ کے زیر مجہول کی آوازکے ساتھ ہونا چاہئے۔ ایک تو اس لیے کہ اردو سماج میں یہ لفظ قِہر ہی بولاجاتاہے۔ قِہرالٰہی، قہرِ خداوندی وغیرہ۔ دوسرے اس لیے کہ اردوکا صوتی مزاج اور لہجہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اسے قِہر پڑھااور بولاجائے ، اس لیے کہ صوتی مزاج اور لہجہ کے سبب عام طورپر زبر کو زیر کے ساتھ مجہول کرتے ہوئے پڑھنے اور بولنے کا اردومیںعام رواج ہے۔ جیساکہ اَحمد عربی لفظ ہے اور الف پر زبرہے لیکن اردو والے اِسے اِ حمد(Ehmad) بولتے ہیں۔ ایسے ہی اصل لفظ رَ حمۃ ہے مگر اردو میں اسے رِحمت بولاجاتاہے۔
یہ صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ کوئی ایسی لغت مرتب کی جانی چاہئے جس میں تلفظ کا خصوصی خیال رکھا جائے ۔ ایسی لغت کی ترتیب کے لیے پوری ایک ٹیم کی ضرورت ہوگی۔ کسی ایک فرد یا دوچار افراد سے لغت کو مرتب کرانے سے ہر گز مقصد حاصل نہ ہوسکے گا۔ اردومیں جن زبانوںاور بولیوں کے الفاظ ہیں ان زبانوں کے ماہرین بلکہ اہل زبان حضرات سے اس سلسلے میں مدد لی جائے اور ان کی تسلّی بخش ورکشاپ کا انتظام کیاجائے تاکہ الفاظ کے صحیح تلفظ کی نشاندہی ہوسکے۔
ایسے ہی ان الفاظ کے اردومیں تلفظ کے تعین کے لیے اردو کے ماہرین کی جماعت ہونی چاہئے جو اردو کے مزاج ومذاق اور رواج کو سامنے رکھ کرالفاظ کے تلفظ کا تعین کرے۔ جوتلفظ رائج ہے اس کو بھی درج کیاجائے ، جو تلفظ زیادہ مناسب ہے اس کو بھی بتایاجائے اور جو تلفظ غلط ہے اس کی طرف بھی اشارہ کیاجائے۔ تاکہ کوئی ایسی لغت تیار ہوجائے جس کے بعد تلفظ میں اردو کے طالب علموں اور اردووالوں کو کسی الجھاؤ کاشکار نہ ہونا پڑے ۔ انگریزی اور عربی میں ایسی لغات کا خاصا ذخیرہ موجود ہے جو صحیح تلفظ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ وہاں لغات کی ترتیب میں حد درجہ احتیاط کی جاتی ہے۔
تلفظ کے حوالے سے خصوصی لغت کی ترتیب کے ساتھ اس کے ساتھ ایک آڈیویا ویڈیو بھی فراہم کیاجائے تاکہ اگر لکھے گئے تلفظ کے باوجود صحیح تلفظ کو لے کر کوئی پیچیدگی ہوتو اس آڈیو کے ذریعہ درست تلفظ کو سن کر اطمینان حاصل کرلیا جائے۔اردو تلفظ کے حوالے سے ایک آڈیو اور ویڈیو ڈکشنری کی ترتیب وقت کی اہم اور اشدضرورت ہے تاکہ لوگ انٹر نیٹ پر کسی بھی لفظ کا تلفظ سن کر اپنا تلفظ درست کرسکیں۔ انگریزی میں انٹرنیٹ پر ایسے راستے کھلے ہوئے ہیں کہ الفاظ کا تلفظ نہ صرف دیکھاجاسکتاہے بلکہ سنا بھی جاسکتاہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اردو والے بھی اس میدان میں بیداری کا ثبوت دیں اور وقت کی رفتار کا ساتھ دیں۔
۴۔ اردو کی بستیوں میں کچھ وقت گزاراجائے۔ اردو کی بستیوں سے مراد وہ شہر ، قصبات وغیرہ ہیں جنھیں اردو کے مراکز کہا جاتا ہے اور جہاں کی مادری زبان اردو ہے۔ صحیح زبان کو جاننے کا یہ طریقہ نہایت سود مند ہے۔ اس طریقے کو اختیار کرکے نہ صرف تلفظ کے حوالے سے بہت کچھ سیکھاجاسکتاہے بلکہ الفاظ کے معانی ، محاورات وغیرہ کو بھی جانا جاسکتاہے۔ ماہرِ لسانیات اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ۔دور رہ کر کتابوں، یا استادوں سے بھی زبان سیکھی جاسکتی ہے لیکن زبان کی باریکیوں سے واقفیت اور زبان کو زبان والوں کی طرح اسی وقت بولا جاسکتاہے جب کہ زبان والوں کے درمیان کچھ وقت گزاراجائے۔
عام طوپردیکھاجاتاہے کہ اہلِ زبان بہت سی چیزیں نہ سیکھ کر بھی صحیح زبان بولتے ہیں ۔مثال کے طورپر وہ گرامر اور قواعد سے واقف نہیں ہوتے ، نہ وہ قواعد پڑھتے ہیں ، مگر اس کے باوجود ان غیر زبان والوں کی بہ نسبت بہتر زبان بولتے ہیں جو زبان کو قواعد ، گرامر وغیرہ کی مدد سے پڑھتے اور بولتے ہیں۔ جیساکہ اردوکے وہ الفاظ دیکھئے جن میں ’امالہ ‘ کیا جاتاہے۔ بعض لوگ امالہ کے قواعد کا گہرا علم رکھتے ہیں ، مگر امالہ میں بہت سی جگہوں پر خود غلطیاں کربیٹھتے ہیں ، جب کہ ان علاقوں میں جہاں کی زبان اردوہے ، وہ امالہ کے قواعد سے واقف نہیں ہوتے بلکہ بہت سوں نے تو امالہ کا نام تک نہیں سنا مگر ان سے امالہ کرنے میں غلطی واقع نہیں ہوتی۔ وہ ہر اس جگہ امالہ کرتے چلے جاتے ہیں جہاں امالہ ہونا چاہئے۔ یہ صرف اس علاقے کی دین ہے جہاںکی مٹی اور آب وہوامیں اردو موجود ہے۔ اس لیے اگر درست زبان بولنی ہے تو اردو کی بستیوں میں وقت گزارنا اور ان بستیوں کے افراد سے جڑنا ہوگا۔مذکورہ طریقوں کے علاوہ اوربھی طریقے اختیار کرکے زبان کی کمزوریوں کو دوراور تلفظ کو درست کیاجاسکتاہے۔بشرطیکہ زبان بولنے کے طریقوں کی تلاش وجستجو کی جائے اور ان پر عمل بھی کیا جائے۔
مضمون نگار این سی پی یو ایل سے وابستہ ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]