Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگنصابی مواد

عہدِ نبویؐ کے چند اہم شعراء – ڈاکٹر یوسف رامپوری

by adbimiras جنوری 21, 2021
by adbimiras جنوری 21, 2021 0 comment

مستشرقینِ یورپ کے ساتھ بعض عرب ناقدین بھی یہ کہتے نظرآتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں شاعری کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اس دورمیں شاعری ماند پڑگئی تھی۔مثلاًمحمد بن سلام الجمحی نے اپنی کتاب ’’طبقات فحول الشعرا‘‘  میں لکھاہے کہ عربوں کی توجہ شعر کہنے سے ہٹ گئی تھی۔ ابن خلدون نے کہا کہ’’ شعرعربوںکا دیوان تھا جس میں حکمت وفلسفہ محفوظ تھا،پھر عرب اس سے ابتدائے اسلام میں پھر گئے۔نبوت، وحی اور دین کی باتوںنے ان کی توجہ کو اس طرف سے ہٹادیا اور انھوں نے شعر سے اپنی زبان بندکرلی۔‘‘ عبدالرب نے اپنی کتاب ’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘ میں مشہور نقاد صمعی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس نے کہا:’’ شعر بڑی گھٹیا چیز ہے جو برائی میں خوب پھیلتا ہے اور بھلائی میں کمزور ولاغر ہوجاتاہے۔‘‘وہ دلیل کے طورپر حسان بن ثابت کی شاعری کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’حسان کا شمار جاہلی دور کے صفِ اول کے شاعروںمیں ہوتا تھا لیکن جب اسلام آیا تو ان کا شعر گرگیا۔‘‘اس رائے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے کہ حسان کی شاعری جس طرح عہد جاہلیت میں مقبول ہوئی ،اسی طرح دورِ اسلام میں بھی خوب پھلی پھولی۔اس خیال سے بھی اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ شعر برائی میں پھیلتا ہے اور اچھائی میں کمزور ہوجاتاہے ۔اُردومیں ڈاکٹر اقبال نے ایسے دورمیں شاعری کی جو مغربی طاقتوں کے عروج کا زمانہ تھا اور ہرطرف مادیت کے سائے پھیل رہے تھے،لیکن اس دورمیں بھی ان کی شاعری کو زبردست شہرت ملی ۔صدرِ اسلام کی شاعری کی حقیقی صورتِ حال کا اندازہ اس دور کے شعراکے کلام کا جائزہ لینے سے بخوبی ہوجاتاہے۔

 

حسان ؓبن ثابت

حسان بن ثابت ہجرت نبویؐ سے ساٹھ ۶۰ سال پہلے پیدا ہوئے اور ۶۰سال کے بعد ۱۲۰برس کی عمر پاکر ۶۷۴ء میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ان کی کنیت ابوالولید تھی اور باپ کا نام ثابت تھا۔اس کے علاوہ ان کی ایک کنیت ابوعبدالرحمن اور ایک ابوالحسام بھی تھی، ان کا نسبی سلسلہ مدینہ کے دومشہور انصاری قبیلوں’’ نجّار‘‘ اور’’ خزرج‘‘ سے جاملتا ہے۔ان کی ماں کا سلسلۂ نسب بھی انصار کے خزرج کے دوسرے قبیلہ تک پہنچتا ہے۔حسان کے والد اور داد اممتازکا شمار ممتاز شخصیات میں ہوتا تھا۔ان کے دادا صلح پسند اور امن جوتھے۔ انھوں نے اوس وخزرج کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لیے زبردست کوششیں بھی کی تھیں۔حسان کا وطن مدینہ تھا ، وہیں ولادت ہوئی اور وہیں پرورش بھی پائی، شعروشاعری کا آغاز بھی مدینہ کے ماحول میں کیا۔اپنے کلام کی وجہ سے جلد مشہور ہوگئے اور پورے قبیلۂ ’خزرج‘ کے چہیتے قرار پائے۔ان کی جاہلی زندگی آسودگی کے ساتھ بسرہوئی۔ کیوں کہ ان کا تعلق غسان اورمنذری بادشاہو ں سے تھا،وہ ان کی شان میں مدحیہ قصائد لکھ کر لے جاتے تھے، اور صلے کے طورپر انعامات سے نوازتے۔

حسان بن ثابت کی وہ شاعری جو انھوں نے دورِاسلام میں کی ،بہترین شاعری ہے ۔ اس شاعری پر اگرچہ اسلام کے اثرات بڑی حد تک نمایاں ہیں،لیکن اس کے باوجود شاعری کی شان وشوکت اور جاہلی رنگ ڈھنگ ان کے قصیدوں میں خوب ملتاہے۔ غزوۂ بدر کے بعد حسان بن ثابت نے ۱۶؍اشعار پر مشتمل قصیدہ کہاجس میں ابوجہل ،عتبہ اور شیبہ کے قتل کا ذکرکیا ہے اور بتایا ہے کہ رسولِؐ خدا کی بات کس طرح سچ ثابت ہوئی۔یہ قصیدہ اسلامی ہے مگر اس کا آغاز اپنی محبوبہ زینب کے دیارکے ذکرسے کیا ہے۔جنگِ بدر میں دشمنانِ اسلام کے بھیانک انجام اور مسلمانوں کی فتح پربھی حسان نے ایک قصیدہ کہا ۔حسان کا وہ قصیدہ جو انھوں نے فتحِ مکہ کے موقع پر کہا ، بہترین قصیدہ ہے ۔اس قصیدے میں کہیں جاہلی رنگ ہے اور کہیں اسلامی رنگ ، آغاز دیارِ محبوب کے ذکر سے کرتے ہیں ، اس کے بعد بزم ہائے طرب اور راگ ورنگ کا تذکرہ کرتے ہیں جوغسانی بادشاہوں کے درباروں میں منعقد ہوتی تھیں،پھر پورے جوش کے ساتھ فتح کا نقشہ کھینچتے ہیں، آنحضرتؐ کی تعریف کرتے ہیں اور ابوسفیان کی ہجو کرتے ہیں۔حسان بن ثابت کے دورِاسلام کے قصائد میں خاصی تعداد ایسے قصائد کی ہے جو ہجویہ اشعار پر مبنی ہیں اور اس نوع کے قصائد کہنے کی تحریک خود پیغمبرِاسلامؐ نے حسان کو دی تھی۔حسان نے ایسے ہجویہ قصائد کہے کہ دشمنوں کی زبانیں بند ہوگئیں۔ کہاجاتاہے کہ حسان نے وہ ہجویہ اشعار جو مخالف شعراکے جواب میں یا آنحضرت ؐ کی مدافعت میں کہے ، وہ ان کی شاعری کابہترین نمونہ ہیں ۔

جو قصائد حسان ؓنے پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہے ہیں، ان کے دل کی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں اور وارداتِ قلبیہ کا گہرا احساس دلاتے ہیں ، اس لیے ان قصائد کو داخلیت کے زمرے میں رکھنا زیادہ صحیح ہوگا۔جب کہ حیرہ اور غسانی بادشاہوں کی شان میں کہے گئے حسان کے قصائد پرداخلیت کا اطلاق نہیں ہوتاکہ ان میں کہیں نہ کہیں دنیوی انعام واکرام ان کے پیشِ نظر ہوتا تھا۔چنانچہ حسان کے وہ قصائد زیادہ مہتم بالشان اور وقعت وعظمت کے حامل ہیں جو انھوں نے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں کہے ۔حسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ عقیدت ومحبت تھی ، مندرجہ ذیل اشعار سے اندازہ کیا جاسکتاہے    ؎

مَابَالَ عینُکُ لَا تَنَامُ کَانَّہا

کحلت ماقیبہا بکحل الأرید

متی یبدفی الدجی البہیم جنبہ

یلح مثل مصباح الدجی المتوقد

فمن کان أو من یکون کاسمائٍ

نظام لحق أورنکال لملحد

’’تیری آنکھ کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ سوتی نہیں گویا اس کی پتلیوں کو آشوب کا سرمہ لگادیا گیا ہے۔سیاہ رات میں جب آپؐ کی جبینِ مبارک نظرآتی ہے تو ایک چمک ہوتی ہے جیسے تاریک رات میں کوئی روشن شمع ہو۔ کون احمدؐ سا ہوا ہے یا ہوگا، حق کا پاسبان ، ملحد کے عبرت ناک انجام کا باعث۔‘‘

 

کعبؓ بن زہیر

بعض ناقدین نے کعب کا موازنہ طبقۂ اولی کے شاعرنابغہ اورمعلقہ کے شاعر لبید سے کیا ہے ۔خلف الاحمر کا کعب کے بارے میں یہ خیال ہے کہ اگر زہیر کے وہ خوبصورت الفاظ نہ ہوتے جن کی لوگ بہت قدر و منزلت کرتے ہیں تو کعب زہیر سے بھی بڑا شاعر ہوتا۔ کعب کے بارے میں احمد حسن زیات بھی کچھ اسی طرح کا خیال ظاہرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اگر اس کی شاعری کے الفاظ میں غرابت ، تراکیب میں پے چیدگی اور مطولات میں خامیاں نہ ہوتیں جن عیوب سے اس کے باپ کی شاعری پاک ہے تو وہ شاعری میں تقریباً اپنے باپ کے ہم پلّہ ہوجاتا ۔‘‘                                                                                       (تاریخ ادب عربی، ص ۱۳۱)

کعب بن زہیر زمانہ ٔ جاہلیت کے شہرہ ٔآفاق شاعر زہیر بن ابی سلمیٰ کے فرزند اور اس خاندان کے چشم وچراغ تھے جو شاعری کا عظیم الشان گہوارہ رہاتھا۔ خود کعب کے والد زہیر بن ابی سلمیٰ نہ صرف معلقہ کے شاعر تھے بلکہ ان کا شمار طبقہ اولی میں ہوتاتھا اور ان کی شاعری سنجیدگی و بردباری اورجاہلی رواج کے ساتھ حکمت و اخلاق اورفلسفے جیسے مختلف موضوعات پر مشتمل ہوتی تھی۔باپ کے اثرات کعب میں بھی آئے اور انھوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر کم عمری ہی میں شاعری میں دلچسپی لینی شروع کردی اور اشعار کہنے لگے۔زہیر بن ابی سلمیٰ نے کعب کے شاعرانہ رجحان کو دیکھتے ہوئے انھیں اشعار کہنے سے باز رکھنے کی کوشش کی، اس لیے کہ انھیں خوف تھا کہ اگر کعب نے غیر معیاری اشعار کہہ ڈالے تو سارے خاندان کی عزت خاک میں مل جائے گی لیکن کعب نہ مانے اور انھوں نے اپنے شوق کو جاری رکھا۔بیٹے کی ضد کو دیکھتے ہوئے زہیر نے از خود تربیت دی۔ وہ کعب کو بستی سے دور لے جاتے، ان کے اشعار سنتے، شاعری کے اصول ورموز بتاتے ۔گویاکہ کعب نے باضابطہ زہیرکی شاگردی اختیارکی۔اندازہ کیا جاسکتاہے کہ جس شاعر کو زہیر جیسے پختہ اور عظیم استاد سے شاعری سیکھنے کا موقع ملا ہو، اس کی شاعرانہ حیثیت کتنی مستحکم ہوگی ۔

کعب بن زہیر کا وہ قصیدہ جو انھوںنے پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا ، اس میں جاہلی رنگ بھی ہے اور قصیدے کی وہ تمام خصوصیات بھی موجود ہیں جو دوسرے بڑے شعرا کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔ اس قصیدے کو کعب بن زہیر نے جاہلی ریت کے مطابق اپنی محبوبہ کے غمِ مفارقت سے شروع کیا ہے۔محبوبہ کے حسن وجمال کی تعریف بھی کی ہے ، اس کے حسن کا سراپا بھی کھینچا ہے ،پھر اکثر زمانۂ جاہلیت کے قصیدہ گو کی طرح اونٹنی کا تذکرہ بھی کیا ہے اور اس میں اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا ۔اس کے بعد نبی ؐ کی توصیف میں جو اشعارکہے ہیں ،اس میں انھوںنے پوری طاقت جھونک دی ہے۔اس قصیدے کے چند اشعار اس طرح  ہیں:

فَقَدْ اَتَیتُ رَسولَ اللّٰہِ مُعْتذرًا

وَالعفوُ عندَ رسولِ اللّٰہِ مَقبولُ

لَقد اَقُومُ مَقامًا لَو یَقوم بِہ

اَری واَسمعُ مَالَوْیَسْمَعُ الفِیلُ

لَظَلَّ یَرعدُ اِلَّا اَن یَّکونَ لَہٗ

مِنَ الرَّسولِ بِاِذنِ اللّٰہِ تَنْوِیْلُ ۔۔۔

’’اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں عذرخواہ ہوکر پہنچا اور معافی ودرگذر اللہ کے رسول ؐ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ میں اس مقام پر کھڑا تھا کہ اگر وہاں ہاتھی بھی کھڑا ہوتا اور ہاتھی وہ دیکھتا اور سنتا جو میں دیکھ اور سن رہا تھا تو یقینا کانپنے لگتا۔اگر اللہ کے حکم سے رسول اللہ کی طرف سے جو دوسخا، اور بخشش وعطا نہ ہوتی ،یہاں تک کہ میں نے اپنا داہنا ہاتھ بغیر کسی مناقشے کے اس ہاتھ میںدے دیا جو کہے کی سزادے سکتا تھا اور جس کا قول قولِ فیصل تھا ۔بے شک رسول اللہ وہ سیف ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور وہ اللہ کی تلواروںمیں سے ایک کھینچی ہوئی تلوار ہیں۔‘‘  (نقوش ، رسول نمر، ۲۳۶، جلد نمبر ۱ ، شمار ۱۳۰، اشاعت ، ۱۹۸۴ء)

اسلامی دورکی شاعر ی میں کعب بن زہیر دورِجاہلی کی شاعری سے الگ نظرآتے ہیں۔وہ اس دور کے قصیدوںمیں شراب وشباب ، حسن وجمال کے بجائے ان مسائل کو موضوعِ شاعری بناتے ہیں جو زندگی سے زیادہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جو ’قصیدہ بردہ‘(بہ معروف ’بانت سعاد‘) کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہا ہے اس کی تشبیب میں محبوبہ کے حسن وجمال کی تعریف کی گئی ہے۔ اس تشبیب میں پوری طرح سے جاہلی  انداز کی غزلیات کارنگ نمایاں ہے تواس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ قصیدہ دورِجاہلی اور دورِاسلام دونوں زمانوں کا احاطہ کرتا ہے ۔تشبیب کے اشعار کعب نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کہے تھے ۔کعبؓ نے دورِاسلام میں حسانؓ بن ثابت سے کم شاعری کی ہے ، لیکن جتنی بھی کی ہے وہ بہت عمدہ اور معیاری ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں حسّان ؓبن ثابت اور محسن کاکوروی کی نعتیہ قصیدہ گوئی :ایک تقابلی مطالعہ- ڈاکٹریوسف رامپوری)

 

عبداللہؓ بن رواحہ

عبداللہ بن رواحہ بھی دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ا ہم شاعر تھے ۔رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی مخالفینِ اسلام کا جواب دینے کے لیے منتخب کیا تھا۔گویاکہ اس اعتبارسے عبداللہ بن رواحہ حسان بن ثابت اور کعب بن مالک کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا خاندانی تعلق مدینہ کے مشہور قبیلہ خزرج سے تھا، عبداللہ بن رواحہ طبعاً شریف الطبع ، باحیا اور بااخلاق تھے۔اسلام لانے کے بعد ان کی شخصیت میں اور زیادہ نکھار آگیا تھا اور وہ ہرنوع کے گناہ سے پرہیز کرتے تھے ۔

عبداللہ بن رواحہ نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد بھی شاعری کے سلسلہ کو جاری رکھا مگر جب یہ آیت ’’وَالشُّعرائُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوُوْن ‘‘ نازل ہوئی تو انھیں شاعری سے ہچکچاہٹ محسوس ہوئی لیکن حضوراکرمؐ نے آپ کو شعر کہنے کی ترغیب دی اور جب یہ آیت’’ اِلاَّالَّذِینَ اٰمَنُوْا وَعملواالصَّالِحَات‘‘ اتری تو انھیں سکون حاصل ہوا اوراپنی شاعری جاری رکھی ۔ ان کے قصائد میں اسلامی رنگ زیادہ نظر آتاہے ۔ ان کے یہاں موضوعات کا دائرہ وسیع نہیں ہے۔

 

کعبؓ بن مالک

عہدِ نبویؐ کے شاعروںمیںایک اہم شاعرکعبؓ بن مالک تھے جنھوںنے دورِ جاہلی اور دورِاسلام دونوں زمانوں میں قصائد کہے ۔ وہ پُرگوشاعر تھے اور رزمیہ اور وصفیہ قصیدہ گوئی میں انھیں ملکہ حاصل تھا۔انھوں نے ایسے کئی قصائد کہے جن میں غزوات کا نقشہ کھینچا گیاہے۔اسلام میں داخل ہونے کے بعد ان کی شاعری پر اسلام کا رنگ نمایاں نظر آتاہے ۔ان کے قصائد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ جاہلی ریت کے مطابق اپنے قصائد تشبیب سے شروع نہیں کرتے ، غزلیہ مضامین کی طرف تو وہ جاتے ہی نہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بہت سے ناقدین وادبا نے کعبؓ بن مالک کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے ، بہت سوں نے ان کے ہلکے پھلکے تذکرے پر اکتفاکی ہے لیکن کعب نے جتنا کلام کہا اور جس معیار کو انھوں نے اپنے قصائد میں قائم کیا ،وہ شاعری میں ان کے مرتبے کو متعین کرنے کے لیے کافی ہے۔کعب نے حسان کی طرح مخالفینِ اسلام کی ہجو بھی کی ہے اور اعتراضات کے جواب بھی دیے ہیں۔ گویاوہ مدح اور ہجو دونوں کے شاعر تھے ، البتہ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع نہیں ہے۔

کعب ؓبن زہیر اور کعبؓ بن مالک کے حالات ِزندگی میں ایک بات یہ مشابہہ ہے کہ حضوراکرمؐ دونوں سے ناراض ہوگئے تھے۔ کعب بن مالک سے ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوۂ تبوک میں بلاعذرِشرعی کے شریک نہ ہوسکے تھے۔آپؐ نے کعب سے قطعِ تعلق کرلیا اور ان کا سماجی بائیکاٹ کردیا۔دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین عرب ان پر تنگ ہوگئی ،تمام دوستوں، رشتہ داروںاور ملنے جلنے والوں نے منہ موڑلیا۔یہاں تک کہ ان کی بیوی کو بھی میکے بھیج دیا گیا۔ اس حال میں پورے ۵۰؍دن گزرگئے ۔اس کے بعد سورہ توبہ کی آیت ۱۱۸ نازل ہوئی جس میں یہ بیان کیا گیا کہ اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ مذکورہ آیت کے نزول کے بعد ان کا سماجی بائیکاٹ ختم کردیاگیا۔کعب نے خاصی عمر پائی ، انھوں نے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا زمانہ بھی دیکھا ۔بالآخر ۷۷سال کی عمر میں ۶۷۰ء اور ۶۷۳ء کے درمیان اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔

صدرِاسلام میں اوربھی کئی ایسے شعرا گذرے جن کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی ، ان میں ایک نام عبا س بن مرداس السّلمی کاہے۔ وہ دورِ اسلام کے بڑے بلیغ اور قادرالاکلام شاعر تھے۔انھوں نے دورِجاہلی  میں بھی شاعری کی اور دورِاسلام میں بھی۔ان کے قصائد میں جاہلی شعرا کی طرح فخر وشجاعت کا زبردست اظہار ملتاہے۔جب ان کے بھائی حریم بن مرداس کا قتل ہوا تو انھوں نے بڑے جوشیلے اشعار کہے اور بنی عامر کو قصاص لینے پر ابھارا۔ انھوں نے اپنے اعزا و اقارب کو لعن طعن کی تاکہ وہ شمشیر برہنہ لے کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑیں۔ان کے کلام میں حقائق کا بیان بھی ملتا ہے۔جیساکہ وہ اپنے ایک قصیدے میں کہتے ہیں:

’’ تو ایک کمزور ولاغر سے آدمی کو دیکھتاہے اور اس کو حقیر وکم مقدور سمجھتاہے ۔حالاں کہ اس کے کپڑوں میں اس کے پکے ارادے کا شیر ہے۔ مردوں کا دراز قد ہونا ان کے لیے فخر کی بات نہیں ہے۔اگر ان کے لیے کچھ فخر ہے تو سخاوت و شرافت میں ہے۔‘‘ (عربی ادب کی تاریخ ، جلد اول، ص: ۱۳۷، ازمحمد عبدالاحد)

اسی دور کے نامی شاعروںمیں عمروبن معدیکرب الزبیدی کا بھی شمار ہوتاہے ۔ ان کی کنیت ابوثور تھی،قبیلہ مذحج سے تعلق رکھتے تھے۔وہ اپنی قوم کے سردار تھے اور میدانِ جنگ میں بہادری دکھاتے تھے۔انھوں نے غزوہ ٔ تبوک کے بعد اسلام قبول کیا لیکن جب آپ ؐ دنیا سے رخصت ہوگئے تو اسلام سے پھر گئے۔حضرت ابوبکر ؓ کے عہدِ خلافت میں مسلمانوں سے لڑائی ہوئی اور شکست سے دوچار ہوئے۔قید کرکے حضرت ابوبکر کے پاس لائے گئے۔ آپ نے انھیں معاف کردیا۔اس کے بعد پھر اسلام لے آئے اور آخری دم تک مسلمان رہے۔جنگِ قادسیہ میں شجاعت وبہادری دکھائی۔

صدرِاسلام میں عربی قصائد پر اسلام کا رنگ چڑھا ہوا تھا۔ چوں کہ اسلام انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، اس لیے قصائد میں بہت سے ایسے موضوعات داخل ہوگئے جو پہلے قصیدے میں مستعمل نہ تھے ۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قصیدے کو اس دورمیں بھی نقصان نہیں ہوا لیکن جو لوگ قصیدے میں صرف ان موضوعات و مضامین کو دیکھنا چاہتے تھے جو دورِ جاہلی میں منظوم ہوتے تھے ،انھیں اس تبدیلی یا اضافے پرقصیدے کا فائدہ نظر نہیں آیابلکہ انھوں نے اس وسعت کو قصیدے کا خسارہ خیال کیا۔انھوں نے شکوہ کیا کہ قصیدے میں جاہلی شان و شوکت برقرار نہ رہی ، نہ زبان و بیان پر وہ زور ، نہ نادر تشبیہات واستعارات اور عمدہ تراکیب کا استعمال اور نہ وہ وارداتِ قلبیہ کا اظہار ۔لیکن یہ زمانے اور ماحول کی تبدیلی کے اثرات تھے۔کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ زمانۂ اسلام کے شعرا کا مطمحِ نظر صرف شاعری نہ تھا بلکہ آخرت کی کامیابی ان کے پیش نظرتھی۔چنانچہ دورِ اسلام(صدرِاسلام) کے جو بڑے شعرا گزرے ، ان کی زندگیوں پر اسلام کے گہرے اثرات تھے ۔ ظاہرہے کہ شاعر کی شاعری پراس کی زندگی اورماحول کے اثرات ضرور پڑتے ہیں۔ایسے میں ان سے محض جاہلی قصیدے کی ریت کی تقلید کی امید کیسے کی جاسکتی تھی اور نہ ہی ان سے اس بات کی توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ جاہلی دور کے موضوعات پر اپنی شاعری کرتے ۔ انھوں نے نئے دور کے تقاضوں کے مدِّ نظررکھ کر شاعری کی اور روشن خیالی سے کام لیا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثشاعریعرب شاعرعرب میں شاعریعربی قصیدہعہد نبوی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
الفاظ کا دیوتا: محی الدین نواب – ڈاکٹر عبدالحی
اگلی پوسٹ
بادشاہِ طنز و ظرافت جناب شوقؔ بہرائچی – پروفیسر طاہرمحمود

یہ بھی پڑھیں

مشاعرے کی افادیت – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں