"رسالہ شاھراہ:تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ” /نوشاد منظر – ڈاکٹر خان محمد رضوان
شاہراہ علم کا مسافر
نوشاد منظر ایک فعال متحرک اور سنجیدہ اسکالر ہیں-ان کے اندر ادب میں کچھ نیا کر گزرنے کا جذبہ موجزن ہے جو انہیں ہمہ دم سرگرم عمل رکھتا ہے- ان کے اندر کبھی نہ سرد پڑنے والی چنگاری ہے جو اپنی تپش سے ان کے جذبے کو جنوں ساز کرتی رہتی ہے- وہ عزم محکم اور عمل پیہم کے ارادے سے کشاں کشاں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں- ان کی تگ ودو اور حرکت و عمل خمار بارہ بنکوی کے اس شعر کے مصداق معلوم ہوتی ہے کہ لذت سفر کا احساس صرف اور صرف مسافر کو ہوتا ہے اور جو کوئی لذت سے آشنا ہوجاے اسے منزل کم تر نظر آنے لگتی ہے- خمار کا شعر ملاحظہ کریں :
مرے راہبر مجھ کو گم راہ کردے
سنا ہے کہ منزل قریب آگئی ہے
…………
اور اس نوجوان کو دیکھ کر علامہ اقبال کا یہ شعر بھی صادق آتا ہے جو اکثر میری زبان پر بے ساختہ رواں ہوجاتا ہے-
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
………….
نوشاد منظر کی یہ کتاب ان کے اسی جذبہ وجنون اور فکر عمل کی گواہ ہے-
"رسالہ شاھراہ:تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ” نوشاد منظر کی پہلی تصنیف ہے- اس کے بعد ان کی دوسری مرتبہ کتاب”افسانہ اور افسانہ نگار” کے موضوع سے منظر عام پر آ چکی ہے –
انہوں نے "افسانہ کی تنقید:ترقی پسند تحریک تا حال” کے موضوع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ہے-
اس کے علاوہ ان کے درجنوں مضامین علمی اور موقر رسائل وجرائد میں شائع ہوچکے ہیں- جملہ معترضہ کے طور پرکتاب پر گفتگو سے قبل چند معروضات پیش کرنا چاہوں گا- جو اس طرح ہیں :
کہا جاتا ہے کہ ہماری موجودہ نسل پچھلی نسل سے ہر اعتبار سے زیادہ ذہین ہے- مجھے لگتا ہے کہ اس مفروضے کی روایت کا سلسلہ نسل آدم کی آفرینش سے ہی شروع ہوا ہوگا-اور شاید قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا- مگراس کی کئی وجوہات ہیں- اس میں ایک / دو یہ ہیں کہ ہر دور میں اپنے ہم عصروں کو یا اپنے چھوٹوں کا اعتراف کبھی نہیں کیا گیا- اور پھر شخصیتوں کی حیات میں اعتراف اس طرح کبھی نہیں کیا گیا جیسا کہ کیا جانا چاہیے-ہمیشہ بعد از مرگ تعریف وتحسین اور اعتراف ذات اوراعتراف فن کیاجاتا ہے- جب کہ خدا تعالی کا یہ مسلم اصول ہے کہ اس نے ہمیشہ سے نسل انسانی کو باصلاحیت اور ذہین و فتین بنایا ہے-
ایسا بالکل نہیں ہے کہ اس نے نسلوں کے اعتبار سے ذکاوت و فتانت عطا کیا ہو-یا نسلا بعد نسل اس سلسلے کو وہ کم کرتا جارہا ہے-
– متذکرہ جملہ کو دہرانا غیر دانستہ طورپر حقیقت سے انحراف بھی ہے اور قدرت خداوندی پرغیر ارادی تہمت بھی ہے-
لہذا ہمیں اپنے اس روے سے گریز کرنا چاہیے- اہالیان ادب اس بات سے واقف ہیں کہ
"رسالہ شاھراہ”ترقی پسند اردو مصنفین کا بہت ہی معروف اور باوقار ترجمان تھا- جو دہلی سے شائع ہوتا تھا – شاہراہ کا سفر 1949ء سے شروع ہوا اور0 196میں اپنا سنہرا اور عہد ساز دور صرف بارہ سال کے مختصر مدت میں طے کرکے اردو رسائل کی ادبی تاریخ میں اپنا مقام مستحکم کرلیا –
شاہراہ اپنے وقت کا مقبول ترین رسالہ تھا اور اس کی مقبولیت میں اس عہد کے نامور ترقی پسند ادبا وشعرا کا اہم اور کلیدی رول تھا-
ان میں ساحر لدھیانوی-پرکاش پنڈت-ظ-انصاری-فکر تونسوی -محمد یوسف-محمور جالندھری اور وامق جونپوری وغیرہ قابل ذکر ہیں-
ترقی پسند تحریک اردو ادب کی غالبا وہ پہلی اور آخری تحریک تھی جو اپنا وجود کھودینے کے بعد بھی فکری طور پر اپنا وجود رکھتے ہوے ایک طویل عرصے تک اپنا اثر قائم رکھنے میں کام یاب رہی ہے-
یہ بھی سچ ہے کہ یہی وہ پہلی اور آخری تحریک بھی ہے جس نے مستند، معتبر، کار آمد اور لازوال ادب پارے تخلیق کیے ہیں،اس دور کے ادب پاروں کو آج بھی ہر مکتبہ فکر کے ادبا اپنے مطالعے کا حصہ بناتے ہیں- اور یہی وہ واحد ادبی تحریک ہے جس نے یکساں طور پر ادب، سماج اور سیاست پر اپنا اثر قائم کرنے میں کام یاب رہی ہے-
مجھے لگتا ہے کہ ترقی پسندی انسان کی فطرت کی آواز تھی جسے پوری دنیا میں سنا گیا اور آگے چل کر یہ ایک توانا اور ہمہ گیر تحریک کی صورت میں وجود میں آئی- جس نے اپنے ہمہ جہت کام اور مختلف النوع طریقہ کار اور لچک دار فکر کی بنا پر ہر خاص وعام کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ سحر انگیز طور پر اپنا اسیر کر لیا-
ترقی پسند تحریک ہی وہ واحد تحریک ہے جو ادبی اور سیاسی بساط پر آندھی اور طوفان کی صورت میں آئی اور خش وخاشاک کو اڑا لے گئی- جس کے نتیجے میں ترقی پسندوں کو سیاسی اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرتے ہوے قید بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں – جسے ہم آزمائشوں بھری تحریک بھی کہہ سکتے ہیں- اور یہ حقیقت ہے کہ اس تحریک کے ماسوا کسی اور فکر وخیال کو کسی بھی قسم کی آزمائش کا سامنا نہیں کرنا بڑا- اس کی وجہ یہ بھی رہی کہ ترقی پسند فکر ایک تحریک کی صورت میں معرض وجود میں آئی- باقی ادب کے نام پر وجود میں آنے والی کوئی بھی تحریک نہیں ہے، بلکہ وہ صرف ادبی رجحانات اور نظریات ہیں-
ترقی پسندوں کا کام بہت ہی ٹھوس بنیادوں پر ہواکرتا تھا اور ان کی فکر بھی ٹھوس تھی یہی وجہ ہے کہ اس کا اثر دیر پا رہا-
ترقی پسند تحریک کا قیام یوں تو 1936ء میں عمل میں آیا مگر فکری اعتبار سے یہ اپنی تاریخ سے تقریباً دس سال قبل ہی فکر و خیال کا حصہ بن چکی تھیں- آخر کار یہ تحریک بیسویں صدی کی سب سے بڑی تحریک بن گئی –
سالہ شاہراہ چونکہ ترقی پسند نظریات کا حامل تھا اس وجہ سےاس کے اشاریے، مضامین اور دیگر مشمولات فکری اور فنی اعتبار سے بے حد اہم ہیں-اس رسالہ کے مطالعہ سے اس تحریک کے ایک دور کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے- اس طور پر یہ رسالہ نہ صرف اہم ہے بلکہ بہت کار آمد اور تاریخی اہمیت کا حامل بھی ہے-
"رسالہ شاھراہ:تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ” کے عنوان سے نوشاد منظر نےتوضیحی اشاریہ کے طور پر تحقیقی کام کیا ہے-جو نہ صرف لائق تعریف وتحسین ہے بلکہ عمدہ، اہم اور تحقیقی نوعیت کا کام ہے-
یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے-
باب اول : شاہراہ کے مشمولات کاتجزیاتی مطالعہ-
” شاہ راہ ” کے اداریے/مضامین /نظمیں / غزلیں /رباعیات /شاہراہ کے افسانے/ ناولیں /تراجم نظمیں
باب دوم : شاہراہ کا اشاریہ
اداریہ /مضامین /نظمیں /غزلیں /افسانہ /ناولیں /رباعیات /قطعات / طنز ومزاح / ڈرامہ
رفتار: بین الاقوامی خبریں اور ادبی انتخاب /جائزے / کتابوں پر تبصرے / کتابیات
اس کے علاوہ سر سخن کے عنوان سے عابد سہیل کا مختصر مگر جامع اور توضیحی مضمون ہے- مصنف نے حرف آغاز اور شاہراہ: تاریخی پس منظر کے تحت جامع اور مفصل مضمون تحریر کیا ہے –
نوشاد منظر اپنے ہم عصروں میں ذہین، محنتی اور کچھ نمایاں کر گزرنے والے فن کار ہیں، ان کی یہ کتاب انشاءاللہ تادیر یاد رکھی جاے گی-
یہ کتاب اشاریہ سازی کی فہرست میں اہم اضافہ ہے اور بالخصوص توضیحی اشاریہ پر تحقیق کرنے والے اسکالرز کے لیے ایک رہنما بھی ہے- توقع ہے اہل علم و دانش اس گراں قدر کام کو ضرور سراہیں گے-
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

