مانگی ہوئی دعا – شیبا کوثر

by adbimiras
0 comment

"اللّه ایسے بھی من چاہی خواہش پوری کرتا ہے "۔وہ اپنے ناخونو ں  پر  بنے مہندی کے  دلکش ڈیزائن  کو دیکھتے ہوئے  سوچ رہی تھی ۔دراز گردن میں فکس سسرال سے آئے چنے برابر ہیرو ں کی مالا کسی بے آرامی بنا اس کی کھا ل کے ساتھ چپکی تھی۔وہ یسرا سلطان تھی ۔سلطان اختر کی تیسری ،بقول ماں باپ کے سب سے ضدی بیٹی ،جس نے اپنے لئے آئے ہر رشتے سے انکار کرتے یہ کہا تھا کہ اسے کوئی” پر یکٹسنگ مسلم”(عملی مسلمان)  چاہئیے ۔

وہ خود کچھ عرصہ قبل ہی مقامی دینی تنظیم سے جڑنے کے بعد پر یکٹسنگ مسلمہ بنی۔ ارحم آیا تو سارے ملبوسات نئے سرے سے بنوا ئے ،زندگی کا ڈھب تبدیل کیا ۔

حلال کا نظریہ خاصہ واضح تھا اس گھر میں،اس لئے سب نے اس کی اس تبدیلی کو نوٹ تو کیا لیکن اعتراض نہیں اٹھایا ۔کسی کی ذاتی پسند نا پسند پر رائے دینا اس کی ذاتیات میں مدا خلت  گردا نا جاتا تھا ۔سو یسرا سلطان نےجب باب ہیر کٹ پر اسکارف لیا تو کوئی آواز گھر سے نہیں اٹھی ۔اور پھر جب دو سول سر وس سے جڑے دامادو ں کے بعد یسرا کے لئے منیجر صاحب کے بیٹے کا رشتہ آیا تو اس نے فورا ً ہی انکار کر دیا ۔

"چلو اچّھا ہوا یسرا  نے خود منع کر دیا ،اس لڑکے میں پینے پلا نے کا شوق سننے میں آیا ہے "۔

بیگم کلثوم سلطان نے صبح سویرے لان سے توڑے موتیا کے پھولوں کو پیالہ میں بھرتے ہوئے میاں سے کہا،جو راکنگ چیئر پر بیٹھے تسبیح کے دانے گراتے بیوی کی بات سن کر خاموش رہے۔

نوکری بطور شہری ہوا بازی کے ایماندار افسر ی کرنے پر وہ پچھلے دو برس سے عدالتی مقدمہ بھگت رہے تھے ۔

مصا لحت ہر وقت سامنے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔”عہدہ چھوڑ دیا عہد ایمانداری "دونوں سے سلطان اختر کے انکار نے معاملہ کو لٹکا رکھا تھا،یہ سال خاصہ نازک تھا ،کیس جج آچانک تبدیل کر دیا گیا۔اور اس کا لہجہ اور تاثر دونوں ہی پچھلے جج سے مختلف اور تیکھے تھے ۔

ایسے میں یسرا کی زوج کے حوالے سے فرمائش بھی انکے لئے درد سر بن رہی تھی ۔اس کے معیار کا لڑکا ان کے ارد گرد نہ تھا۔ چار بیٹیا ں وہ بیاہ چکے تھے ،ان کی ایسی کوئی پسند نہیں تھی مگر یسرا دو چھوٹی بہنوں کی شادی کے بعد بھی "نیک و صالح مرد "کے تصّور  سے دستبردار نہیں ہوئی اور نیک مرد تھا کہ کہیں غائب تھا ۔بظاہر اچّھے رشتے وہ مستر د کر دیتی کہ ان کے یہاں دین نہیں ہے ۔بیگم کلثوم سلطان کو یسرا کے عمر کے ستائسویں برس بڑی جد و جہد سے اس کی شرائط پر پورا اترنے والارشتہ آخر مل ہی گیا۔ لڑکا شہر کے مشہور ہسپتال میں ڈاکٹر سیول سرجن تھا اور والدین کا اکلوتا چشم چراغ تھا ۔ناک نقشہ بڑا سوہنا تھا اتنا سوہنا کہ یسرا سلطان اس کے سامنے کچھ دب سی گئی ،لیکن جس چاہت سے رشتے کی ابتدا ہوئی،یسرا نے ہر آن الحمدوللّه  کی تسبیح روا رکھی ۔اس کا خیال تھا کہ ہر اچّھی شئے پر نظر لگتی ہے اور اس کا ہونے والا شوہر ایمان بھی بہت سارے پہلو ؤں سے بہت اچّھا ہے ۔نسبت طئے ہونے سے شادی کے دوران ایک ماہ کا وقفہ بڑی تیزی سے گزر کر نکاح اور رخصتی تک پہنچ گیا ۔

یسرا سلطان نے گھو نگھٹ  تو بے شک نہیں نکالا تھا لیکن عروسی کمرے میں پہنچ کر بھی نگا ہیں ضرور جھکا ئے رکھیں، اور پھر ایمان رضا کی پہلی بات سنتے ہی جس تیزی سے اس کی پلکیں اوپر ہوئیں،دیکھنے والا ان میں بے یقینی صاف دیکھ سکتا تھا ۔

"میری چار بہنیں ہیں اور ایک ماں،تم مجھے اپنی پانچو یں نند اور دوسری ساس ہی سمجھنا "۔

یہ تھا پہلا جملہ جو نئے نویلے دولہا نے اپنی نئی دلہن کی رونمائی کرتے ہی بیحد سنجیدگی سے کہا تو یسرا سلطان کی گذشتہ دو ماہ سے جاری تسبیح کو جھٹکا لگا اور وہ گنگ ہی ہو گئی ۔اسے فوری طور پر سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ شوخی ہے یا سنجیدگی ۔۔۔۔۔!

وہ بہت سنجیدہ طبع تھی۔اس کے باوجود وہ اس کی توقع نہیں کر رہی تھی ۔کوئی میٹھی بات،کوئی شوخ جملہ نہ سہی ایک توصیفی نظر بھی نہیں۔اس کے دل کو شدید ٹھیس لگی تھی ۔

پھروہ اپنے مجازی خدا کے اس بات کا مطلب بھی وہ نہیں سمجھ پائی تھی۔انہی سوچوں میں الجھتے ہوئے پوری رات گزر گئی۔اس کا کھر درا رویہ اسے بہت چبھا تھا ۔

بڑی بیٹی پابندی سے باپ کو ان کے طبیب کے پاس چیک اپ کیلئے لے کر جاتی ،وقت سواری ،ٹیسٹ رپور ٹس سب کے انتظامات اور دیکھ بھال میں اس کے شوہر کا پورا تعاون ہوتا۔

دوسری دن میں دو بار آتی بلا ناغہ ۔۔۔۔۔امی ابو کو تنہائی کا احساس نہ ہو ،اس کے شوہر نے اپنے گھر کی اس عارضی بے ترتیبی کا کوئی شکوہ نہیں کیا ۔لیکن یہ ان دونوں کے لئےہی ممکن تھا کیوں کہ وہ بالکل خود مختار تھیں۔دونوں چھوٹی بہنیں اس حد تک نہیں کر رہی تھیں اور نہ کر سکتی تھیں۔یسرا کا تو ہر ہفتہ آنا ہی بہت تھا۔

مائیکہ میں یسرا کو کوئی طعنے تو نہیں دیتا لیکن جب بھی کوئی یہ کہتا کہ "ان پر یکٹسنگ مسلم(  با عمل مسلمان) سے تو ہمارے نان پر یکٹسنگ گھرا نے بہتر "۔تو وہ کٹ کر رہ جاتی ۔

وہ سب جانتے تھے کہ ایمان اور اس کے گھر والوں کا اپنا قصور ہے ۔۔۔۔۔دین کا نہیں ،لیکن اخلاق کا علم تھامنے  والوں میں کجی دیکھنے والے عقیدے کو متاثر کر جاتی ہے ۔

یسرا اپنے گھر کے ماحول کے سبب کھانے پکانے میں خاص طاق نہیں تھی ان سب کاموں کے لئے اس نے آنکھ کھولتے ہی مددگار دیکھے تھے ۔شادی کے بعد اس نے نئے ماحول میں ضم ہونے کے لئے پکانا چاہا تو کم ذائقہ پکانے پر اس کا  کچن جانا ممنوع کر دیا گیا ۔

"دلہن! چیزوں کا ستیاناس نہیں کیا کرو ،رزق ضائع ہوتا ہے” ۔ساس نے مہنگے ٹماٹروں کی پتیلا بھر چٹنی کو زبان پر رکھتے ہی کڑے تیور سے گھورتے ہوئے کہا تو وہ کچھ گھبڑ ا سی گئی ۔چٹنی واقعی عجیب سے ذائقہ کی بنی تھی۔

نجانے بوا فرزانہ امی جان کے گھر اسی تر کیب سے کیسے بناتی تھیں ؟ڈھیر سارا بناتی تھیں ۔اور پھر بھی ختم ہو جاتی تھی دو دن میں "۔ یسرا نے دکھے دل سے چولہے پر رکھی ٹماٹر کی چٹنی پر افسردہ نگاہ ڈالی ،ساس امی کی ڈانٹ نے پیروں کو سن کر دیا تھا ۔تعریف کی امید پر شروع  کیا کام سرزش پر ختم ہو گیا۔

ایمان کو شام ڈیوٹی سے آکر پنیر سینڈ و چ  کے ساتھ ٹماٹر  کیچپ کی طلب ہوئی تو ٹماٹر کی چٹنی اور رزق کے ستیاناس کرنے کا قصّہ بھی دو بارہ سے چھڑ گیا ۔

"دلہن بیگم سے کہ دیا میں نے ،کہ آئندہ کچن میں جانے کی تمہیں کوئی  ضرورت نہیں،اور نہیں کچھ پکانے کی”

امی کی بات سن کر ایمان نے سینڈوچ پر ہی توجہ مرکوز رکھی اور سامنے بیٹھی یسرا کے پیر پھر سن ہو گئے۔اس نے آس بھری نگاہ ایمان رضا پر ڈالی کہ وہ اس کے لئے کوئی ڈھال مہیا کرے لیکن اس کی بے تاثر کیفیت سے یسرا کے دل میں شوہر کےلئے  بد ظنی پیدا ہو گئی ۔

اسے کبھی ترحم والا تعجب ہوتا کہ یسرا سلطان کیا اتنی ارزاں ہے کہ اس سے اس کی ہر مرضی چھین کر بس منکوحہ کا لیبل دیا جائے۔ لیکن اس کی ان باتوں کا جواب اس کے ما ئکے کے پاس تھا ،چونکہ   دراصل اس کے انتخاب پر ہی ان لوگوں کو اعتراض تھا ۔

"سویٹ ہارٹ یہ جو نیک دکھتے ہیں نا ،یہی سب سے زیادہ فیک نکلتے ہیں ۔” بڑی بہن نشرح نے اسےاتنی محبّت سے چمٹا ئے ہوئے سر گو شی کی تھی کہ وہ بس ان  کو دیکھے گئی ۔

"کچھ عرصہ اور دیکھ لو لیکن کوئی فیملی بنانے کی حماقت نہیں کرنا ۔۔۔۔۔۔تم سمجھ رہی ہو نا ،میں کیا کہ رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔؟” بہن نے یسرا کے ہاتھ تھامے جو سرد تھے ۔

"ہوں !”

رات آئ ،لیکن راحت نہ لائی ،ایک عورت کو قر ب سے قبل محبّت مطلوب ہوتی ہے،جو اسے ایمان رضا سے روز بہ روز گھٹتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔کبھی کبھی اسے یہ بڑی شدّت سے  محسوس ہوتا کہ وہ ایک خرید ی ہوئی شئے کے مانند اس گھر میں ہے،جس پر ہر ایک اپنے حساب سے حاکمیت جتاتا ہے ۔۔۔۔۔۔کسی نے کبھی اس کی کسی بھی بات کو سراہا نہیں ۔۔۔۔۔اس کو اپنی الفت سے نوازا نہیں ۔بس ایک ایمان تھا جو اس کو نگاہ اور الفاظ کی سوئی نہیں چبھو تا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن چبھو نے والوں سے اسے محفوظ بھی نہیں رکھتا ،ایسے میں یسرا کا رنگ روپ کیا سنور تا ،وہ زرد پڑنا شرو ع ہو گیا۔۔۔۔۔۔جذبات کی  شدّت کے دوران یسرا کا گریز  ایمان پر کھل کر واضح ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ چڑ کر اس کے ساتھ تکلیفدہ حرکت کر جاتا ۔یسرا کی کھا ل پر خونی نشانات جا بجا تھے ۔یسرا تکلیف سے جب ہوش میں آتی تو اس کا دل چاہتا کہ کاش ایک بل ڈاگ وہ بھی ایمان رضا پر چھوڑ سکتی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور فیملی بڑھنے کے آثار شرو ع ہو گئے ۔

اسے بہن کی محبّت بھری نصیحت یاد تھی سو اس نے اپنی زندگی کو بہتر دیکھنے سے قبل اس معاملے کو ختم کرنا مناسب سمجھا ۔وہ اپنے نومو لود کو زندگی افزا ماحول میں شیر مادر دینا چاہتی تھی اور ایمان رضا کے ساتھ نہ گل پاشی ہونی تھی اور نہ اس کے بچے پر ۔بس ذرا سی چوک ہوئی اس سے اور رپو رٹ کی ہارڈ کاپی ایمان رضا کے ہاتھ لگ گئی ۔

وہ مائیکہ  آئ ہوئی تھی ،اپنے امی ابو کے پاس بیٹھی پورے چھ ماہ بعد کھل کر ہنس رہی تھی ۔شاید دل میں کئے گئے فیصلے نے اسے اتنا شانت کر دیا تھا کہ چہچہاہٹ اس کی آواز میں در آئ تھی ۔

"تمہارا انتخاب کیسا رہا یسرا بیٹا ؟”ابّو نے اتنےآچانک۔غیرمتوقع سال کیا کہ وہ سوال کا پس منظر سمجھتے ہوئے سرعت سے بولی۔

” ابّو وال ڈیزائن اچھا نہیں بنا ۔”

"میں تمہارے پینٹ کا نہیں تمہارے ہمسفر کا پوچھ رہا ہوں بیٹا ۔۔۔۔؟”

وہ چپ کی چپ رہ گئی ۔

"ابّو ! میرے پیارے ابّو جان !زندگی بہت ٹف ہے ،اور ٹف نیس کا آخری سرا کدھر ہے ۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ دیکھائی نہیں دیتا "اس کی آواز میں آذر د گی ،کچھ نمی سی تھی ۔

باپ نے اپنی لخت جگر کو بے قرار نگاہوں سے دیکھا جس نے  انسان کی نیکی چاہی تھی ۔اور اب وہ غمگین تھی ۔

"یسرا بیٹا !تم کیا چاہتی ہو اب ۔۔۔۔۔؟”وہ خاموش رہی ۔

"ٹھیک ہے تم پریشان نہ ہو میں ایمان سے بات کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے بہتری کی کوئی راہ نکل آئے ۔والدین کی نگاہ بیٹیوں کے حالات پر رہنی بہتر رہتی ہے ۔

یسرا نے ستے ہوئے چہرے سے باپ کو دیکھا ،اسے کہیں موه و م سی امید تھی کہ ابّو ایمان رضا سے اس کی علیحدگی پر سو چیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ تو گفتگو کا سوچ رہے ہیں۔

اسے یہاں  آئےہوئے  آج ایک ہفتہ ہونے کو آئے ۔سلطان صاحب نے ایمان کو بڑی محبّت سے کھانے کی دعوت دی ،جسے وہ کچھ پس و پیش بعد مان گیا ۔

ایمان آیا ،کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا،یسرا سرخ لپ ا سٹک کے ساتھ سرخ آ یزا ں میں بہت دلکش لگ رہی تھی،شوہر کی نگاہیں اس پر گاہے بہ گاہے اٹھتیں مگر وہ بے نیازی سے کھانے اور پھر کام میں مصروف رہی ۔

وہ اپنی پسند کے حساب سے تیار ہوئی تھی ،ایمان کی موجود گی سے اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ،اس کا دل بہت زخمی تھا۔

"ہاں تو ایمان بابو ! یسرا آپ کو کیسی بیوی لگی ۔۔۔؟ابّو نے  کافی کی چسکی لیتے  ہوئے سرسری انداز میں ایمان کو مخاطب کیا ۔

"یسرا اچّھی بیوی نہیں ہے انکل "۔اس کے اتنے سپا ٹ جواب نے کمرے میں یکدم سنا ٹا طاری کر دیا ۔کلثوم سلطان نے کچھ کہنے کے لئے منھ کھولا لیکن میاں کے تاثرات پہچان کر خاموش رہیں ۔

سلطان صاحب نے لمحہ بھر کے سکو ت کے بعد قہقہ لگاتے داماد کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔

میری یسرا بیٹی تو ماشاءالله سے بہت اچّھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔بیوی اچّھی اگر نہیں بنی تو مطلب ہے کہ میاں سے شکایت ہوگی اسے بھی،اور بیٹا مجھے ان ساری شکایتوں کا علم ہے ۔”

ایمان رضا نے پہلو بدل کر یسرا پر نظر ڈالی اور کھڑا ہو گیا ۔

"ٹھیک ہے جب ان کو شکایتیں نہ رہیں تو بھیج دیجئے گا میرے گھر”۔

"سلطان صاحب نے چھڑی کے سہارے کھڑے ہوئے ،بیٹی پر نگاہ ڈالی جس کے چہرے پر جالا سا بن رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ایمان رضا !میری بیٹی نے نیک مرد چاہا تھا اور نیک مرد بیوی کو مار جن دیتے ہیں ۔ان کی کمزوریوں کے باوجود ۔۔۔۔۔ہماری بیٹی یسرا بھی ایک اچّھی نیک سیرت دیندار خاتون ہے "۔کچھ تو قف کے بعد وہ مضبوط لہجے میں بولے تو ایمان رضا نے گرد ن گھما کر بے اختیار اپنی بیوی کو دیکھا ۔

پر فیوم کی بھینی بھینی خوشبو اس کے وجود کو سحر انگیز کر رہی تھی ۔

"چلو "اس نے یکدم یسرا کی کلائ پکڑ لی ۔

ما ں باپ دونوں ہی خاموش تھے ،وہ چاہتی تھی کہ  جھٹکے سے ہاتھ چھڑا لے لیکن ابّو نے مداخلت کی ۔

"تم باہر چلو ،یہ اپنا ہینڈ بیگ لے کر آرہی ہے ۔”

سلطان صاحب کی بات سن کر وہ لب بھینچتا باہر کیطرف

روانہ ہوا تو وہ بے اختیار ماں کے گلے لگ کر سیسکیاں لینے لگی ۔

"امی !میرا وہاں دم گھٹا ہے ،وہ لوگ مجھے بلیڈ جیسے لگتے ہیں "۔

"میری بیٹی ! میری یسرا !مجھے قو ی امید ہے کہ خدائے لم یز ل کی ذات سے تمہاری زندگی میں بہتری کے آثار نظر آنے شرو ع ہونے والے ہیں انشااللہ رحمٰن "۔

"ہم  تمہارے ساتھ ہیں بیٹا! گھبراو نہیں تم "۔باپ نے اسے اپنے سینے سے لگا کر  دست شفقت سے پیشانی پر بوسہ دیا اور گیٹ کے باہر کھڑی گا ڑ ی میں اس کو بیٹھا دیکھ کر آسمان کی جانب دیکھا جو بہت روشن تھا ۔لگتا تھا کہ پچھلی رات تہجد میں یسرا کی آسانیوں کے لئے مانگی ہوئی دعا خدا پاک تک پہنچ چکی ہے ۔۔۔۔۔!!

(ختم شد )

 

شیبا کوثر

( برہ بترہ آرہ،بہار )  انڈیا ۔

You may also like

Leave a Comment