آج تراسّی سال بعد (1937ءمیں ” نیا قانون “ کی اوّل اشاعت ” ہمایوں “ میں ہوئی تھی ) اس کا تجزیہ کرنےکی آخر کیوں ضرورت پیش آئی ؟ حالانکہ اک زمانہ گزر گیا ، تین چار نسلیں گزر گئیں، لیکن آج بھی ” نیا قانون“ کا کردار ( استاد منگو ، کوچوان ) ہمیں کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہےاور ہم کھینچےچلےجاتےہیں اور اس کہانی کو جتنی بار پڑھتےہیں ہم بوریت میں مبتلا نہیں ہوتے۔ چوں کہ موضوع ” مابعد نو آبادیاتی مطالعہ “ہے۔ لہٰذا ” نیا قانون“ کا تجزیہ کرنےسےقبل ” مابعد نو آبادیاتی مطالعہ “ پر سرسری روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ تاکہ افسانےکو ” مابعد نو آبادیاتی تنقید“ کی کسوٹی پر پرکھ کر آسانی سےسمجھا جا سکے۔” مابعد نو آبادیاتی مطالعہ “ بر صغیر میں ( اس کےعلاوہ بھیوہ علاقےنو آبادیاں رہ چکےہیں ) نو آبادیاتی عہد میں مخلوط تہذیبوں کےکردار کےدرمیان کش مکش کا تجزیاتی مطالعہ ہے( مابعد نو آبادیاتی مطالعہ کی اور بھی صورتیں ہیں لیکن زیر ِ بحث موضوع کےاعتبار سےیہ تعریف حرفِ آخر نہیں تو مکمل ضرور ہے۔)
1857ءکی ناکام جنگ آزادی ( جسےغدر کا نام دیا گیا ) کےبعد ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم ہوئی تو ہندوستان براہِ راست تاجِ برطانیہ کےریر تسلط چلا گیا ۔ جنگ کےبعد مسلمانوں پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ان حالات میں نئی حکومت (برطانوی سامراج) کےساتھ چلنےکےلیےہندوستان میں تین گروہ سامنےآئی( جن کا تفصیلی جائزہ ناصر عباس نیّر نےاپنےمضمون ” نو آبادیاتی صورتِ حال “ میں لیا ہے)۔
پہلی بات ۔۔۔۔ انجذاب ، بغاوت اور امتزاج ( آفاقیت) ، یہ تین گروہ ہیں ، ( جو1857 ءکی ناکام جنگ آزادی کےبعد سامنےآئے) ۔ ” نیا قانون “ افسانےمیں استاد منگو ( کوچوان ) کا کردار بغاوت کی اعلیٰ ترین مثال ہےجو کسی قیمت پر اپنےاوپر سامراجی تسلط برداشت نہیں کرتا اور ہر قیمت پر ( چاہےاس کی جان چلی جائے)ہندوستان کی ( برطانوی سامراج کےشکنجےسے) آزادی چاہتا ہےاگرچہ اس کا تعلق معاشرےکےکم درجہ طبقہ سےہے۔
دوسری بات ۔۔۔۔۔
” جلد یا بدیر ایک وقت آئےگا جبکہ دنیا یہ محسوس کرےگی کہ برطانیہ کا ذہنی اور علمی اقتدار ہندوستان سےکبھی زائل نہیں ہو گا(٢)“۔۔۔( بیورلی نکلسن)
” یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریزی راج رہےگا( ٣)“ ۔۔۔ گاندھی
انگریزوں کی آمد سےقبل ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات اس سطح پر نہیں تھےجو ان کی آمد کےبعد سامنےآئے۔ ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات کی مادی قجہ انگریزوں کی آمد ہے۔ انگریز ہندو مسلم فسادات پیدا کر کےاپنا تسلط قائم رکھ سکتےتھے۔ ( جو اسی طرح ہوا) لیکن ” نیاقانون “ میں ان فسادات کی وجہ ” مابعدالطبیعیات“ کےپیش نظر بیان کی گئی ہے۔ ہندوستانی باشندہ قیاسی وجہ پیش کرتا ہے۔
افسانےسےاقتباس ملاخطہ فرمائیں :
” اس روز شام کےقریب وہ اڈےپر آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا ۔ حقےکا دور چلتےچلتےجب ہندو مسلم کی بات چھڑی تو استاد منگو نےسر پر سےخاکی پگڑی اتاری اور بغل میں داب کر بڑےمفکرانہ لہجےمیں کہا ۔۔۔۔۔“ یہ کسی پیر کی بددعا کا نتیجہ ہےکہ آئےدن ہندوستان اور مسلمانوں میں چاقو چھریاں رہتےہیں اور میں نےاپنےبڑوں سےسنا ہےکہ اکبر بادشاہ نےکسی درویش کا دل دکھایا تھا اور اس درویش نےجل یہ بد دعا دی تھی ، جا ، تیرے ہندوستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتےرہیں گے اور دیکھ لو جب سےاکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہےہندوستان میں فساد ہوتے رہتےہیں ۔“
اس اقتباس کو ہم بیورلی نکلسن اور گاندھی کےنظریات کی روشنی میں دیکھنےسےقبل ” نیا قانون“ افسانےکےمرکزی کردار” استاد منگو“ کا جائزہ لیتےہیں ( پہلی بات۔۔۔۔۔ کےپیش نظر جو ایک بغاوت کی مثال ہے)۔
منٹو ایک خالص تخلیق کار ہےجس نے” منگو“ جیسا کردار منتخب کر کےافسانےکو خاصا جاندار بنا دیا ہے۔ منٹو ایک کامل تخلیق کار کی طرح نو آبادیاتی صورت حال سےمتاثر ہو کر اس افسانےکو پیش کرتا ہے۔ وہ انگریزوں کےجابرانہ تسلط کو محسوس کرتا ہے۔ ناصر عباس نئیر کےمطابق :
” تخلیق کارجس شدتِ احساس سےنو آبادیاتی دوہری متصادم شناختوں کو محسوس کرتا ہےاور جس طور پر اپنی روح کو ٹکڑوں میں بٹا دیکھتا یا اپنی روح پر سفید آدمی کی روح کےجابرانہ تسلط کو محسوس کرتا ، اسےپستیقانون “ میں ان فسادات کی وجہ ” مابعدالطبیعیات“ کےپیش نظر بیان کی گئی ہے۔ ہندوستانی باشندہ قیاسی وجہ پیش کرتا ہے۔
افسانےسےاقتباس ملاخطہ فرمائیں :
” اس روز شام کےقریب وہ اڈےپر آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا ۔ حقےکا دور چلتےچلتےجب ہندو مسلم کی بات چھڑی تو استاد منگو نےسر پر سےخاکی پگڑی اتاری اور بغل میں داب کر بڑےمفکرانہ لہجےمیں کہا ۔۔۔۔۔“ یہ کسی پیر کی بددعا کا نتیجہ ہےکہ آئےدن ہندوستان اور مسلمانوں میں چاقو چھریاں رہتےہیں اور میں نےاپنےبڑوں سےسنا ہےکہ اکبر بادشاہ نےکسی درویش کا دل دکھایا تھا اور اس درویش نےجل یہ بد دعا دی تھی ، جا ، تیرےہندوستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتےرہیں گےاور دیکھ لو جب سےاکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہےہندوستان میں فساد ہوتےرہتےہیں ۔“
اس اقتباس کو ہم بیورلی نکلسن اور گاندھی کےنظریات کی روشنی میں دیکھنےسےقبل ” نیا قانون“ افسانےکےمرکزی کردار” استاد منگو“ کا جائزہ لیتےہیں ( پہلی بات۔۔۔۔۔ کےپیش نظر جو ایک بغاوت کی مثال ہے)۔
منٹو ایک خالص تخلیق کار ہےجس نے” منگو“ جیسا کردار منتخب کر کےافسانےکو خاصا جاندار بنا دیا ہے۔ منٹو ایک کامل تخلیق کار کی طرح نو آبادیاتی صورت حال سےمتاثر ہو کر اس افسانےکو پیش کرتا ہے۔ وہ انگریزوں کےجابرانہ تسلط کو محسوس کرتا ہے۔ ناصر عباس نئیر کےمطابق :
” تخلیق کارجس شدتِ احساس سےنو آبادیاتی دوہری متصادم شناختوں کو محسوس کرتا ہےاور جس طور پر اپنی روح کو ٹکڑوں میں بٹا دیکھتا یا اپنی روح پر سفید آدمی کی روح کےجابرانہ تسلط کو محسوس کرتا ، اسےپستیاس کےہندوستان پر اپنا سکہ چلاتےہیں اور طرح طرح کےظلم ڈھاتےہیں ۔ مگر اس کےتنفر کی سب سےبڑی وجہ یہ تھی کی چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتےتھے۔ وہ اس کےساتھ ایسا سلوک کرتےتھےگویا وہ ایک ذلیل کتا ہے۔ اس کےعلاوہ اسےان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا ۔ جب کبھی وہ کسی گورےسرخ و سپید چہرےکو دیکھتا تو اسےمتلی سی آجاتی ہے۔ نہ معلوم کیوں ۔ وہ کیا کرتا تھا کہ ان کےلال جھریوں بھرےچہرےدیکھ کر مجھےوہ لاش یاد آجاتی ہےجس کےپر سےاوپر کی جھلی گل گل کر جھڑ رہی ہو !“۔(٦)
آگےچل کر منگو کہتا ہے: ” آگ لینے آئے تھے۔ اب گھر کےمالک ہی بن گئےہیں ۔ ناک میں دم کر رکھا ہےان بندروں کی اولاد نے، رعب گانٹھتےہیں ۔ گویا ہم ان کےباوا کےنوکر ہیں۔۔۔۔“
انگریز تجارت کی غرض سےآئےتھےلیکن جب انھوں نےہندوستان کی سیاسی بد نظمی دیکھی تو آہستہ آہستہ اپنی پالیسیوں ( جو کہ ایک موضوع بحث ہے)کےذریعے1849ء( مارچ 1849ءمیں پنجاب فتح ہوا ) تک پورےہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لےلیا ۔1857ءمیں ہلکی سی چنگاری انگریزوں کو نظر آئی تو ہندوستان براہِ راست تاج برطانیہ کےزیر تسلط چلا گیا ۔ پہلےوائسرائےتک (Lord) کا لفظ ان کےنام کےساتھ استعمال ہوتا ۔ جس کا لفظی معنی ” آقا“ ہے۔ گویا حکمران ” آقا“ اور ہندوستانی ” غلام “ تھے۔ منگو نےکہا کہ : ” گویا ان کےباوا کےنوکر ہیں “ ۔ ہاں ۔ ہم ہندوستانی واقع ان کےباوا کے بھی اور ان ( بندروں جیسےمنہ والےانگریز وائسرائے) کےبھی نوکر ہیں۔
منگو کےکرداری مطالعہ سےدوسرا اہم پہلو ” تبدیلی کی خواہش“ ہے۔ اور یہ ہندوستانی کی خواہش بن کر سامنےآتی ہےکہ ” نیا قانون“ آئےاور جلد آئے، ضرور آئے۔۔۔ پھر کچھ تبدیلی ہو ۔۔۔ وغیرہ ۔ (یہ بھی پڑھیں کچھ تخلیقی عمل کے بارے میں -محمد عامر سہیل )
آپ ایک نظر ہندوستان کی تاریخ پر آئیں تو انگریزوں سےقبل ہندوستان پر جو بادشاہت قائم تھی اس بادشاہت کےسلسلےمیں تو ہندوستانی عوام میں تبدیلی کی کبھی خواہش نہیں دیکھی گئی ، ہاں اقتدار کےلئےریاستی سطح پر لڑائیاںہوئیں تھیں لیکن عوام رعایا تھی اور اس تصور کےساتھ رعایا تھی کہ اللہ نےہمیں رعایا پیدا کیا ہے، اور ہمارےاوپر بادشاہ اللہ کی طرف سےہے، خدا اپنی مرضی سےبادشاہ بھیجتا ہےجس کےاحکام کی تکمیل میں ہمیں سر خمِ تسلیم کرنا از حد ضروری ہے۔ شروع میں جب انگریز تسلط اختیار کرتےجارہےتھےتو بھی ہندوستانیوں نےخدا کی مرضی قرار دی۔ لیکن آہستہ آہستہ جب انھوں نےاپنےمفادات کےمطابق سب پالیسیاں بنائیں تو ہندوستانیوں مین ان کےخلاف نفرت پیدا اور پھر ابھرنا شروع ہو گئی ۔ ہندوستانی ، جاگیر داری دور میں بادشاہت کےزیر اثر آرہےتھے۔ جب ہندوستان سرمایہ دارانہ حکومت ( برطانوی سامراج ، جمہوری طرز حکومت) کی کالونی بنا تو سیاسی نظام ” جمہوریت“ کو متعارف کروایا گیا اور فطری چیز ہےکہ جمہوری نظام میں عوام ہمیشہ تبدیلی کی خواہش مند ہوتی ہے۔ افسانےکےاقتباس پر غور کریں :
” ہر چیز تو نہیں بدلےگی ۔ مگر کہتےہیں بہت کچھ بدل جائےگا اور ہندوستان کو آزادی مل جائےگی “۔
یہاں یہ بات سامنےآتی ہےکہ ” نیا قانون“ کی وجہ سےملک میں تبدیلی آجائےگی ۔۔۔۔ نہ جانےاستاد منگو کس تبدیلی کو دیکھنا چاہتےہیں ۔۔۔ آئندہ سطورمیں بتایا جائےگا ۔
منگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنےآتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنے کے بعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :
” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔
یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:
”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔
یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔
استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سےقبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:
” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔
” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :
” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائیمنگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنےآتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنےکےبعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :
” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔
یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:
”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔
یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔
استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سے قبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:
” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔
” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :
” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائے منگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنے آتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنےکےبعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :
” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔
یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:
”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔
یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔
استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سےقبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:
” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔
” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :
” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائیمنگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنےآتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنےکےبعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :
” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔
یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:
”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔
یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔
استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سے قبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:
” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔
” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :
” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائیمنگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنےآتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنےکےبعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :
” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔
یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:
”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔
یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔
استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سےقبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:
” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔
” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :
” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائے ہندوستان تین آزاد ( سیاسی و انتظامی ) ملکوں کی شکل میں دنیا کےنقشےپر نظرآتا ہے۔
سوال یہ کہ اب مندرجہ بالا تینوں دعوےکس حد تک صحیح ہیں یا غلط ؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہےکہ ہندوستان پر ہمیشہ غیروں کا ہی راج رہا ہےاور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا ۔ ہندوستان میں جب برطانوی تسلط تھا تو اسے” نو آبادیاتی ریاست“ کہتےتھےاور وہ عہد ” نو آبادیاتی “ کہلاتا تھا ۔1947ءمیں جب ہندوستان منقسم ہوا تو ” نو آبادیاتی عہد “ کا خاتمہ ہو گیا ۔ اس کےبعد دونوں ممالک ( ہندوستان اور پاکستان ) ” مابعد نو آبادیاتی ریاستیں “ کہلانےکی سزا وار ٹھہریں۔ انتظامی طور پر برطانوی سامراجی تسلط سےآزادی ملی لیکن ہم ذہنی طور پر آج بھی ان کےغلام ہیںاور پھر وہ جاتےجاتےہندوستان اور پاکستان پر ایسا طبقہ ٠ اسٹیبلیشمنٹ مسلط کر گئےجو عوام کو زراعت پر جامد رکھ کر سامراجی مصنوعات کی منڈی بنائےرکھے۔
دوسری جنگ عظیم کےبعد امریکہ سامراجی قوت بن کر ابھرا تو ” مابعدنو آبادیاتی ریاستیں “ برطانوی سامراجی پالیسیوں سےنکل کر امریکی سامراجی پالیسیوں کےزیر تسلط آگئیں ۔ پھر ان ریاستوں کےلئے( جو سابقہ بر طانوی کالونیاں تھیں ) ” مابعد نو آبادیاتی ریاستوں“ کی اصطلاح کی جگہ ” جدید نو آبادیاتی ریاستیں “ کی اصطلاح وضع کی گئی۔
بیورلی نکلسن ، گاندھی اور منگو ( افسانوی کردار) کا دعویٰ مادی ہےیا ما بعدالطبیعاتی ، ہر لحاظ سےسچ ہےیہی وجہ ہےکہ آج بھی یہ افسانہ قاری کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہےحالاں کہ مخصوص سیاسی حالات میں لکھا گیا ہےلیکن اس میں یہ آفاقی پہلو موجود ہےجو اس کی نو آبادیاتی تناظر میں دیکھنےپر مجبور کرتا ہے۔ہر دور میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ ہندوستان ( جو اب تین ملکوں میں تقسیم ہے) ذہنی آزادی حاصل کر ےگا بھی یا نہیں ، اور اگر تبدیلیآئےگی تو کس نوعیت کی ہوگی ۔
حوالہ جات
١۔ ناصر عباس نیر،ڈاکٹر،مابعد جدیدیت(اطلاقی جہات)،ملتان:بیکن ہاؤس،2015،ص372
٢۔مبارک علی،ڈاکٹر،برطانوی راج(ایک تجزیہ)،لاہور :فکشن ہاؤس،2005،ص9
٣۔مبارک علی،ڈاکٹر،برطانوی راج(ایک تجزیہ)،لاہور :فکشن ہاؤس،2005،ص9
٤۔ناصر عباس نیر،ڈاکٹر،اردو ادب کی تشکیل جدید (نو آبادیاتی اور پس نوآبادیاتی عہد کےادب کےمطالعات)،کراچی:آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس،2016،ص140
٥۔ناصر عباس نیر،ڈاکٹر،لسانیات اور تنقید،اسلام آباد:پورب اکیڈمی،ص62
نوٹ: (اس مضمون میں منٹو کےافسانےسےجو اقتباسات دئیےگئےہیں وہ [فسانےمنٹو کی]مرتب:ڈاکٹر خالد اشرف(دہلی:کتابی دنیا،2004)سےلیےگئےہیں)
محمد عامر سہیل
ریسرچ اسکالر
شعبہ اردو،اورینٹل کالج،پنجاب یونی ورسٹی لاہور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

