Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیمنصابی مواد

نیا قانون : مابعد نو آبادیاتی مطالعہ – محمد عامر سہیل

by adbimiras مارچ 25, 2021
by adbimiras مارچ 25, 2021 0 comment

آج تراسّی سال بعد (1937ءمیں ” نیا قانون “ کی اوّل اشاعت ” ہمایوں “ میں ہوئی تھی ) اس کا تجزیہ کرنےکی آخر کیوں ضرورت پیش آئی ؟ حالانکہ اک زمانہ گزر گیا ، تین چار نسلیں گزر گئیں، لیکن آج بھی ” نیا قانون“ کا کردار ( استاد منگو ، کوچوان ) ہمیں کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہےاور ہم کھینچےچلےجاتےہیں اور اس کہانی کو جتنی بار پڑھتےہیں ہم بوریت میں مبتلا نہیں ہوتے۔ چوں کہ موضوع ” مابعد نو آبادیاتی مطالعہ “ہے۔ لہٰذا ” نیا قانون“ کا تجزیہ کرنےسےقبل ” مابعد نو آبادیاتی  مطالعہ “ پر سرسری روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ تاکہ افسانےکو ” مابعد نو آبادیاتی تنقید“ کی کسوٹی پر پرکھ کر آسانی سےسمجھا جا سکے۔” مابعد نو آبادیاتی مطالعہ “ بر صغیر میں ( اس کےعلاوہ بھیوہ علاقےنو آبادیاں رہ چکےہیں ) نو آبادیاتی عہد میں مخلوط تہذیبوں کےکردار کےدرمیان کش مکش کا تجزیاتی مطالعہ ہے( مابعد نو آبادیاتی مطالعہ کی اور بھی صورتیں ہیں لیکن زیر ِ بحث موضوع کےاعتبار سےیہ تعریف حرفِ آخر نہیں تو مکمل ضرور ہے۔)

1857ءکی ناکام جنگ آزادی ( جسےغدر کا نام دیا گیا ) کےبعد ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم ہوئی تو ہندوستان براہِ راست تاجِ برطانیہ کےریر تسلط چلا گیا ۔ جنگ کےبعد مسلمانوں پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ان حالات میں نئی حکومت (برطانوی سامراج) کےساتھ چلنےکےلیےہندوستان میں تین گروہ سامنےآئی( جن کا تفصیلی جائزہ ناصر عباس نیّر نےاپنےمضمون ” نو آبادیاتی صورتِ حال “ میں لیا ہے)۔

پہلی بات ۔۔۔۔ انجذاب ، بغاوت اور امتزاج ( آفاقیت) ، یہ تین گروہ ہیں ، ( جو1857 ءکی ناکام جنگ آزادی کےبعد سامنےآئے) ۔ ” نیا قانون “ افسانےمیں استاد منگو ( کوچوان ) کا کردار بغاوت کی اعلیٰ ترین مثال ہےجو کسی قیمت پر اپنےاوپر سامراجی تسلط برداشت نہیں کرتا اور ہر قیمت پر ( چاہےاس کی جان چلی جائے)ہندوستان کی ( برطانوی سامراج کےشکنجےسے) آزادی چاہتا ہےاگرچہ اس کا تعلق معاشرےکےکم درجہ طبقہ سےہے۔

دوسری بات ۔۔۔۔۔

” جلد یا بدیر ایک وقت آئےگا جبکہ دنیا یہ محسوس کرےگی کہ برطانیہ کا ذہنی اور علمی اقتدار ہندوستان سےکبھی زائل نہیں ہو گا(٢)“۔۔۔( بیورلی نکلسن)

” یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریزی راج رہےگا( ٣)“ ۔۔۔ گاندھی

انگریزوں کی آمد سےقبل ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات اس سطح پر نہیں تھےجو ان کی آمد کےبعد سامنےآئے۔ ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات کی مادی قجہ انگریزوں کی آمد ہے۔ انگریز ہندو مسلم فسادات پیدا کر کےاپنا تسلط قائم رکھ سکتےتھے۔ ( جو اسی طرح ہوا) لیکن ” نیاقانون “ میں ان فسادات کی وجہ ” مابعدالطبیعیات“ کےپیش نظر بیان کی گئی ہے۔ ہندوستانی باشندہ قیاسی وجہ پیش کرتا ہے۔

افسانےسےاقتباس ملاخطہ فرمائیں :

” اس روز شام کےقریب وہ اڈےپر آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا ۔ حقےکا دور چلتےچلتےجب ہندو مسلم کی بات چھڑی تو استاد منگو نےسر پر سےخاکی پگڑی اتاری اور بغل میں داب کر بڑےمفکرانہ لہجےمیں کہا ۔۔۔۔۔“ یہ کسی پیر کی بددعا کا نتیجہ ہےکہ آئےدن ہندوستان اور مسلمانوں میں چاقو چھریاں رہتےہیں اور میں نےاپنےبڑوں سےسنا ہےکہ اکبر بادشاہ نےکسی درویش کا دل دکھایا تھا اور اس درویش نےجل یہ بد دعا دی تھی ، جا ، تیرے ہندوستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتےرہیں گے اور دیکھ لو جب سےاکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہےہندوستان میں فساد ہوتے رہتےہیں ۔“

اس اقتباس کو ہم بیورلی نکلسن اور گاندھی کےنظریات کی روشنی میں دیکھنےسےقبل ” نیا قانون“ افسانےکےمرکزی کردار” استاد منگو“ کا جائزہ لیتےہیں ( پہلی بات۔۔۔۔۔ کےپیش نظر جو ایک بغاوت کی مثال ہے)۔

منٹو ایک خالص تخلیق کار ہےجس نے” منگو“ جیسا کردار منتخب کر کےافسانےکو خاصا جاندار بنا دیا ہے۔ منٹو ایک کامل تخلیق کار کی طرح نو آبادیاتی صورت حال سےمتاثر ہو کر اس افسانےکو پیش کرتا ہے۔ وہ انگریزوں کےجابرانہ تسلط کو محسوس کرتا ہے۔ ناصر عباس نئیر کےمطابق :

” تخلیق کارجس شدتِ احساس سےنو آبادیاتی دوہری متصادم شناختوں کو محسوس کرتا ہےاور جس طور پر اپنی روح کو ٹکڑوں میں بٹا دیکھتا یا اپنی روح پر سفید آدمی کی روح کےجابرانہ تسلط کو محسوس کرتا ، اسےپستیقانون “ میں ان فسادات کی وجہ ” مابعدالطبیعیات“ کےپیش نظر بیان کی گئی ہے۔ ہندوستانی باشندہ قیاسی وجہ پیش کرتا ہے۔

افسانےسےاقتباس ملاخطہ فرمائیں :

” اس روز شام کےقریب وہ اڈےپر آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا ۔ حقےکا دور چلتےچلتےجب ہندو مسلم کی بات چھڑی تو استاد منگو نےسر پر سےخاکی پگڑی اتاری اور بغل میں داب کر بڑےمفکرانہ لہجےمیں کہا ۔۔۔۔۔“ یہ کسی پیر کی بددعا کا نتیجہ ہےکہ آئےدن ہندوستان اور مسلمانوں میں چاقو چھریاں رہتےہیں اور میں نےاپنےبڑوں سےسنا ہےکہ اکبر بادشاہ نےکسی درویش کا دل دکھایا تھا اور اس درویش نےجل یہ بد دعا دی تھی ، جا ، تیرےہندوستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتےرہیں گےاور دیکھ لو جب سےاکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہےہندوستان میں فساد ہوتےرہتےہیں ۔“

اس اقتباس کو ہم بیورلی نکلسن اور گاندھی کےنظریات کی روشنی میں دیکھنےسےقبل ” نیا قانون“ افسانےکےمرکزی کردار” استاد منگو“ کا جائزہ لیتےہیں ( پہلی بات۔۔۔۔۔ کےپیش نظر جو ایک بغاوت کی مثال ہے)۔

منٹو ایک خالص تخلیق کار ہےجس نے” منگو“ جیسا کردار منتخب کر کےافسانےکو خاصا جاندار بنا دیا ہے۔ منٹو ایک کامل تخلیق کار کی طرح نو آبادیاتی صورت حال سےمتاثر ہو کر اس افسانےکو پیش کرتا ہے۔ وہ انگریزوں کےجابرانہ تسلط کو محسوس کرتا ہے۔ ناصر عباس نئیر کےمطابق :

” تخلیق کارجس شدتِ احساس سےنو آبادیاتی دوہری متصادم شناختوں کو محسوس کرتا ہےاور جس طور پر اپنی روح کو ٹکڑوں میں بٹا دیکھتا یا اپنی روح پر سفید آدمی کی روح کےجابرانہ تسلط کو محسوس کرتا ، اسےپستیاس کےہندوستان پر اپنا سکہ چلاتےہیں اور طرح طرح کےظلم ڈھاتےہیں ۔ مگر اس کےتنفر کی سب سےبڑی وجہ یہ تھی کی چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتےتھے۔ وہ اس کےساتھ ایسا سلوک کرتےتھےگویا وہ ایک ذلیل کتا ہے۔ اس کےعلاوہ اسےان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا ۔ جب کبھی وہ کسی گورےسرخ و سپید چہرےکو دیکھتا تو اسےمتلی سی آجاتی ہے۔ نہ معلوم کیوں ۔ وہ کیا کرتا تھا کہ ان کےلال جھریوں بھرےچہرےدیکھ کر مجھےوہ لاش یاد آجاتی ہےجس کےپر سےاوپر کی جھلی گل گل کر جھڑ رہی ہو !“۔(٦)

آگےچل کر منگو کہتا ہے: ” آگ لینے آئے تھے۔ اب گھر کےمالک ہی بن گئےہیں ۔ ناک میں دم کر رکھا ہےان بندروں کی اولاد نے، رعب گانٹھتےہیں ۔ گویا ہم ان کےباوا کےنوکر ہیں۔۔۔۔“

انگریز تجارت کی غرض سےآئےتھےلیکن جب انھوں نےہندوستان کی سیاسی بد نظمی دیکھی تو آہستہ آہستہ اپنی پالیسیوں ( جو کہ ایک موضوع بحث ہے)کےذریعے1849ء( مارچ 1849ءمیں پنجاب فتح ہوا ) تک پورےہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لےلیا ۔1857ءمیں ہلکی سی چنگاری انگریزوں کو نظر آئی تو ہندوستان براہِ راست تاج برطانیہ کےزیر تسلط چلا گیا ۔ پہلےوائسرائےتک (Lord) کا لفظ ان کےنام کےساتھ استعمال ہوتا ۔ جس کا لفظی معنی ” آقا“ ہے۔ گویا حکمران ” آقا“ اور ہندوستانی ” غلام “ تھے۔ منگو نےکہا کہ : ” گویا ان کےباوا کےنوکر ہیں “ ۔ ہاں ۔ ہم ہندوستانی واقع ان کےباوا کے بھی اور ان ( بندروں جیسےمنہ والےانگریز وائسرائے) کےبھی نوکر ہیں۔
منگو کےکرداری مطالعہ سےدوسرا اہم پہلو ” تبدیلی کی خواہش“ ہے۔ اور یہ ہندوستانی کی خواہش بن کر سامنےآتی ہےکہ ” نیا قانون“ آئےاور جلد آئے، ضرور آئے۔۔۔ پھر کچھ تبدیلی ہو ۔۔۔ وغیرہ ۔ (یہ بھی پڑھیں کچھ تخلیقی عمل کے بارے میں -محمد عامر سہیل  )

آپ ایک نظر ہندوستان کی تاریخ پر آئیں تو انگریزوں سےقبل ہندوستان پر جو بادشاہت قائم تھی اس بادشاہت کےسلسلےمیں تو ہندوستانی عوام میں تبدیلی کی کبھی خواہش نہیں دیکھی گئی ، ہاں اقتدار کےلئےریاستی سطح پر لڑائیاںہوئیں تھیں لیکن عوام رعایا تھی اور اس تصور کےساتھ رعایا تھی کہ اللہ نےہمیں رعایا پیدا کیا ہے، اور ہمارےاوپر بادشاہ اللہ کی طرف سےہے، خدا اپنی مرضی سےبادشاہ بھیجتا ہےجس کےاحکام کی تکمیل میں ہمیں سر خمِ تسلیم کرنا از حد ضروری ہے۔ شروع میں جب انگریز تسلط اختیار کرتےجارہےتھےتو بھی ہندوستانیوں نےخدا کی مرضی قرار دی۔ لیکن آہستہ آہستہ جب انھوں نےاپنےمفادات کےمطابق سب پالیسیاں بنائیں تو ہندوستانیوں مین ان کےخلاف نفرت پیدا اور پھر ابھرنا شروع ہو گئی ۔ ہندوستانی ، جاگیر داری دور میں بادشاہت کےزیر اثر آرہےتھے۔ جب ہندوستان سرمایہ دارانہ حکومت ( برطانوی سامراج ، جمہوری طرز حکومت) کی کالونی بنا تو سیاسی نظام ” جمہوریت“ کو متعارف کروایا گیا اور فطری چیز ہےکہ جمہوری نظام میں عوام ہمیشہ تبدیلی کی خواہش مند ہوتی ہے۔ افسانےکےاقتباس پر غور کریں :

” ہر چیز تو نہیں بدلےگی ۔ مگر کہتےہیں بہت کچھ بدل جائےگا اور ہندوستان کو آزادی مل جائےگی “۔

یہاں یہ بات سامنےآتی ہےکہ ” نیا قانون“ کی وجہ سےملک میں تبدیلی آجائےگی ۔۔۔۔ نہ جانےاستاد منگو کس تبدیلی کو دیکھنا چاہتےہیں ۔۔۔ آئندہ سطورمیں بتایا جائےگا ۔

منگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنےآتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنے کے بعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :

” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔

یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:

”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔

یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔

استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سےقبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:

” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔

” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :

” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائیمنگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنےآتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنےکےبعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :

” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔

یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:

”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔

یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔

استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سے قبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:

” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔

” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :

” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائے منگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنے آتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنےکےبعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :

” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔
یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:

”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔

یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔

استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سےقبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:

” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔

” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :

” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائیمنگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنےآتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنےکےبعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :

” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔
یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:

”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔

یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔

استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سے قبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:

” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔

” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :

” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائیمنگو کےکرداری مطالعہ سےتیسرا اہم پہلو ” آزادی کی خواہش“ سامنےآتا ہے۔ استاد منگو یکم اپریل کو ” نیا قانون “ آنےکےبعد انگریز کو پیٹتا ہےاور کیا کہتا ہے؟ افسانوی اقتباس پر غور کریں :

” پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔ اب ہمارا راج ہےبچہ!“۔
یہ وہی تبدیلی کی خواہش ہےجو دراصل برطانوی سامراج سےآزادی کی خواہش ہے۔ منگو یہ سمجھ رہا ہےکہ ” نیا قانون“ نافذ ہوا ہےتو اب انگریزوں کا راج ختم ہو گیا ہے، اب ہمارا راج ہےاسی اپنےراج کی وجہ سےاس نےانگریز کو مار پیٹ لیا کیوںکہ وہ اپنا راج سمجھ رہا ہے( نیا قانون آنےکےبعد ) حالاں کہ ایسا نہیں تھا ، تو کیسا تھا ۔۔۔؟ بقول گاندھی:

”یہاں پر انگریزوں کےبغیر بھی انگریز راج رہےگا “۔

یکم اپریل کو انگریز کو مارتےمارتےاستاد منگو یہ بھی کہتا رہا : ” وہ دن گزر گئےجب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتےتھے۔۔۔ اب نیا قانون ہےمیاں ۔۔۔۔۔۔۔نیا قانون !“۔

استاد منگو اسی مان کےساتھ انگریز کی طبیعت صاف کرتا رہا کہ ” نیا قانون“ آنےکےبعد اب ہندوستانیوں کا راج ہے۔ اس سےقبل بھی استاد منگو کی اس انگریز کےساتھ لڑائی ہوئی تھی لیکن اس نےانگریز کو مارا نہیں ، افسانوی اقتباس ملاخطہ ہو:

” اس کو معلوم تھا کہ اسی قسم کےجھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں پر ہی گرتا ہے“ ۔

” نیا قانون “ آنےکےبعد استاد منگو نےانگریز کو مارا اور ساتھ اپنےراج کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھول گیا تھا ؟ خود منگو کےزبانی سنیں :

” بڑی سےبڑی بات یہ ہوگی کہ انگریز چلا جائےگا اور اٹلی والا آجائے ہندوستان تین آزاد ( سیاسی و انتظامی ) ملکوں کی شکل میں دنیا کےنقشےپر نظرآتا ہے۔

سوال یہ کہ اب مندرجہ بالا تینوں دعوےکس حد تک صحیح ہیں یا غلط ؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہےکہ ہندوستان پر ہمیشہ غیروں کا ہی راج رہا ہےاور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا ۔ ہندوستان میں جب برطانوی تسلط تھا تو اسے” نو آبادیاتی ریاست“ کہتےتھےاور وہ عہد ” نو آبادیاتی “ کہلاتا تھا ۔1947ءمیں جب ہندوستان منقسم ہوا تو ” نو آبادیاتی عہد “ کا خاتمہ ہو گیا ۔ اس کےبعد دونوں ممالک ( ہندوستان اور پاکستان ) ” مابعد نو آبادیاتی ریاستیں “ کہلانےکی سزا وار ٹھہریں۔ انتظامی طور پر برطانوی سامراجی تسلط سےآزادی ملی لیکن ہم ذہنی طور پر آج بھی ان کےغلام ہیںاور پھر وہ جاتےجاتےہندوستان اور پاکستان پر ایسا طبقہ ٠ اسٹیبلیشمنٹ مسلط کر گئےجو عوام کو زراعت پر جامد رکھ کر سامراجی مصنوعات کی منڈی بنائےرکھے۔

دوسری جنگ عظیم کےبعد امریکہ سامراجی قوت بن کر ابھرا تو ” مابعدنو آبادیاتی ریاستیں “ برطانوی سامراجی پالیسیوں سےنکل کر امریکی سامراجی پالیسیوں کےزیر تسلط آگئیں ۔ پھر ان ریاستوں کےلئے( جو سابقہ بر طانوی کالونیاں تھیں ) ” مابعد نو آبادیاتی ریاستوں“ کی اصطلاح کی جگہ ” جدید نو آبادیاتی ریاستیں “ کی اصطلاح وضع کی گئی۔

بیورلی نکلسن ، گاندھی اور منگو ( افسانوی کردار) کا دعویٰ مادی ہےیا ما بعدالطبیعاتی ، ہر لحاظ سےسچ ہےیہی وجہ ہےکہ آج بھی یہ افسانہ قاری کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہےحالاں کہ مخصوص سیاسی حالات میں لکھا گیا ہےلیکن اس میں یہ آفاقی پہلو موجود ہےجو اس کی نو آبادیاتی تناظر میں دیکھنےپر مجبور کرتا ہے۔ہر دور میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ ہندوستان ( جو اب تین ملکوں میں تقسیم ہے) ذہنی آزادی حاصل کر ےگا بھی یا نہیں ، اور اگر تبدیلیآئےگی تو کس نوعیت کی ہوگی ۔

حوالہ جات

١۔ ناصر عباس نیر،ڈاکٹر،مابعد جدیدیت(اطلاقی جہات)،ملتان:بیکن ہاؤس،2015،ص372

٢۔مبارک علی،ڈاکٹر،برطانوی راج(ایک تجزیہ)،لاہور :فکشن ہاؤس،2005،ص9

٣۔مبارک علی،ڈاکٹر،برطانوی راج(ایک تجزیہ)،لاہور :فکشن ہاؤس،2005،ص9

٤۔ناصر عباس نیر،ڈاکٹر،اردو ادب کی تشکیل جدید (نو آبادیاتی اور پس نوآبادیاتی عہد کےادب کےمطالعات)،کراچی:آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس،2016،ص140

٥۔ناصر عباس نیر،ڈاکٹر،لسانیات اور تنقید،اسلام آباد:پورب اکیڈمی،ص62

نوٹ: (اس مضمون میں منٹو کےافسانےسےجو اقتباسات دئیےگئےہیں وہ [فسانےمنٹو کی]مرتب:ڈاکٹر خالد اشرف(دہلی:کتابی دنیا،2004)سےلیےگئےہیں)

 

محمد عامر سہیل

ریسرچ اسکالر

شعبہ اردو،اورینٹل کالج،پنجاب یونی ورسٹی لاہور

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
عامر سہیلمنٹونیا قانون
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بہار میں اردو زبان کی موجودہ صورت حال اور اس پر ہندو مسلم گیپ کا اثر – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی
اگلی پوسٹ
مانگی ہوئی دعا – شیبا کوثر

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں