بہار میں اردو زبان کی موجودہ صورت حال اور اس پر ہندو مسلم گیپ کا اثر – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

by adbimiras
0 comment

بہار میں اردو کے مسائل کے پیش نظر درجنوں پہلو نکل سکتے ہیں۔میں نے اپنے اس مضمون میں اس نکتے پر غور کر نے کی کوشش کی ہے کہ ہندومسلم گیپ سے اردو زبان کو کتنانقصان ہوا؟ دیگر ریاستہائے ہندوستان کے مقابلے میں بہار کی حیثیت قدرے مختلف ہے۔بہار سے تعلق رکھنے والے اردو داں طبقے کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔اول وہ لوگ جو بہار ہی میں رہ کر اردو کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔دوسرے وہ لوگ جو خطہئ بہار کے علاوہ دوسری ریاستوں میں اردو کی آبیاری میں مشغول ہیں۔دونوں گروہوں کی اپنی الگ الگ اہمیت ہے۔

ان دونوں کے بیچ ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا بھی ہے جس کا رشتہ اردو سے مکمل طور پر خلوص اور عشق کا ہے،ان کے پاس وسائل کی فراوانی کس قدر ہے؟اس سے انھیں کوئی سروکار نہیں،البتہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق دامے،درمے،قدمے اور سخنے وہ اردو کی خدمات میں مستقل لگے ہوئے ہیں۔غالباًاسی تناظرمیں معروف نقاد شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے کہ”اردو کے لیے سعی اور جہد سب سے زیادہ بہار میں کی گئی اور کی جارہی ہے“۔(ماہنا مہ ’اردو دنیا‘نئی دہلی۔ستمبر 2008)

اس کے علاوہ اور بھی کئی صحافیوں اور ادباو نقاد نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ بہارمیں اردو کی صورت حال دیگر صوبوں کے بالمقابل بہتر ہے۔میرے نزدیک اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ بہار میں وسائل کے فقدان کے باوجود لوگ اردو سے جڑے ہوئے ہیں اورخوش قسمتی کہیے یا کچھ اور کہ اردو زبان ایک حد تک بہار کے مسلمانوں کی مجبوری بھی ہے اس لیے کہ یہ زبان ان کے لیے ایک ٹھوس اور مضبوط ذریعۂ ترسیل بھی ہے۔

بہار کے بجائے بہار والوں کے ذریعے ہندوستان بھرمیں اردو کو ترقی مل رہی ہے،کہا جائے تو زیادہ درست ہے۔اردو زبان وادب کے حوالے سے بہار کو ماضی میں بھی کئی لحاظ سے اولیت حاصل رہی ہے اور اب بھی اسے کچھ نہ کچھ امتیاز ضرور حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ”پدرم سلطان بود“کے نعرے سے اردو کا کتنا بھلا ہو سکتا ہے؟

اس وقت بھی اور جب اسی(1980) کی دہائی میں بہار میں اردو کو دوسری زبان کا درجہ ملا تھا۔ کا اگر جائزہ لیا جائے تو اردو کی پستی کے پسِ پردہ دو ہاتھ دکھائی دیتے ہیں۔ایک تو اس کی قوتِ نفاذ میں اڑچن لگانے والے بے ایمان افسران کا ہاتھ۔دوسرے خود اردو کی کھانے والے بے ضمیر و بے ایمان کا ہاتھ۔ان دو وجہوں کے علاوہ ایک تیسری اہم وجہ ہندو مسلم گیپ بھی ہے۔میں فرقہ پرست ذہنیت یا فرقہ پرست عناصر کی بات نہیں کر رہا ہوں،میری مراد وہ اذہان ہیں جو ان خرافات سے خالی ہیں اور سمجھ سکتے تھے یا سمجھ سکتے ہیں کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔کاش ہمارے راہنما اس سلسلے میں اپنی دوسری کوششوں کے ساتھ اس پیغام کو بھی دور تک پھیلا سکتے کہ اردو ہندو مسلم دونوں کے خون پسینے سے سینچی ہوئی ایک میٹھی اور خوب صورت زبان ہے۔اس کی جنم بھومی یہی ہندوستان ہے جہاں ہم اور آپ سانس لے رہے اور جی رہے ہیں۔اس پر تنہا پاکستان کی اجارہ داری نہیں ہے۔پاکستان تو 1974 میں بنا جب کہ اس سے صدیوں پہلے اس زبان کی پیدائش ہو چکی تھی۔ اس زبان کی تعمیر و ترقی میں دونوں قوموں کا برابر کا حصہ رہا ہے۔اردو کے پہلے اخبار ”جامِ جہاں نما“(1822) کلکتہ کی بات کریں تو اس کے مالک ہری ہر دتہ اورایڈیٹر سدا سکھ لال دونوں ہندو تھے۔پٹنہ کے تیسرے نمبر کے اخبا ر’اخبار پٹنہ‘ کے ایڈیٹر بندا پرساد تھے۔ اسی طرح لکھنئو کے سب سے بڑے پبلشر اور وہاں کے پہلے اخبار کے مالک منشی نول کشور بھی ہندوتھے اور دہلی کے اولین اخباروں کے مالکان میں ماسٹر رام چند کا نام بھی بہت نمایاں ہے۔

میر ی ناقص معلومات کے مطابق اردو سے گہرا تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد بہار میں ہے،اس کے باوجود ہمارے ہندوبھائی جس قدر اردو سے ہٹے اور کٹے ہوئے ہیں وہ شاید دوسرے صوبوں میں دیکھنے کو نہ ملے۔آپ پنجاب،کشمیر،یوپی اور دہلی کا جائزہ لیں گے تو درجن بھر ارد و کے شاعر،کہانی کار،نقاد اور صحافی مل جائیں گے۔ آج گوپی چند نارنگ سے کون واقف نہیں۔پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی،کشمیر لال ذاکر،رتن سنگھ،جوگندر پال،کیول دھیر،بلراج مین را اور نند کشور وکرم وغیرہ کو پوری اردو دنیا جانتی ہے۔یہ حضرات اپنی کبر سنی کے باوجود اردو کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ چندر بھان خیال ؔ،کرشن کمار طورؔ،کرشن پرویزؔ، کرشن بے تابؔ،او پی اگروال سراج ؔدہلوی اور کرشن لال نارنگ ساقی وغیرہ جیسے عشاق اردو اور شاعر و ادیب بھی اپنی خوب صورت تخلیق سے اس زبان کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ہندوستانی سنیما کا ذوق رکھنے والا کا کون سا شخص ہوگا جو سمپورن سنگھ کالرا گلزار ؔسے واقف نہ ہوگا۔جواہر لعل نہرو یونیور سٹی نئی دہلی کے شعبہئ ہندی کے پروفیسر گوبند پرساد نے ہمیں اردو غزل کا درس دیا لیکن جب ہم بہار کا جائزہ لیتے ہیں تو یہاں ڈھونڈنے سے بھی کوئی مل جائے تو غنیمت ہے۔

اسی ہندو مسلم گیپ کا نتیجہ ہے کہ تیس چالیس سال کے ایک ہندو نوجوان سے اردو کے متعلق اگر کچھ دریافت کیا جائے تواس کے ذہن میں یہی بات آتی ہے کہ ہندوستان میں پاکستانی زبان کی بات کیوں کی جاتی ہے؟اسی کے بر عکس کوئی یہ نہیں کہتا کہ بنگلہ صرف بنگلہ دیش ہی کی زبان ہے۔معلوم ہوا کہ دنیا کی کسی زبان پر کسی ملک کی اجارہ داری نہیں۔اگر کوئی یورپی یا عربی ملک اپنی قومی زبان ہندی یا اردو کو بنا لے تو اردو ہندی والے کو یہ حق نہیں کہ وہ ان ممالک کے خلاف عدالت علیا میں مقدمہ دائرکر دیں۔

ہمارے دیش کے کار خانوں سے تیار ہونے والی چیزوں اورپروڈکشن کا دنیا میں استعمال ہوتا ہو بلکہ بعض ممالک اپنی زندگی کا انھیں حصہ بنا لیں تو اس میں نہ تو ان کے لیے کوئی ہتک کی بات ہے اور نہ ہمارے لیے ذلت و افسوس کا مقام ہے بلکہ اس میں ہمارے لیے اور فخر کی بات ہے۔

ارودسے بہار کے ہندوؤں کا دور رہنا جتنا قابل افسوس ہے اتنا ہی مسلمانوں کا اس دوری کو پاٹنے کی خاطر کوئی مؤثر اور سنجیدہ کوشش نہ کر نا بھی افسوس ناک ہے۔

اسی دوری کا نتیجہ ہے کہ آج سے تقریباً دوسال قبل کی بات ہے، میں کھگڑیا ٹاؤن سے اپنے گاؤں مشکی پور جارہا تھا،جیپ میں بیٹھا تھا،میرے ہاتھ میں اردوکا اخبار تھا،میں اسے کھول کر پڑھنے لگا۔ایک تیرہ چودہ سال کا ہندوبچہ مجھے بڑے غور سے دیکھنے لگا،وہ اتنا تو سمجھ گیا کہ ٹوپی والے اس مسلمان کے ہاتھ میں اردو کا اخبار ہی ہوگالیکن اگلے ہی لمحے اس نے تعجب سے کہا:”کیا اردو میں بھی اخبار نکلتا ہے؟“تو یقین جانیے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔حالانکہ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندی سے پہلے اردو اخباروں کا ہی چلن تھااور عمر میں ہندی صحافت اردوصحافت سے چار سال چھوٹی ہے۔میں نے بڑی سنجیدگی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میں اسے کتنا مطمئن کر پایا۔حالاں کہ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اس بچے کو ہندو مسلم،اردو ہندی اور لڑائی جھگڑے سے دور کا بھی واسطہ نہ ہوگا۔وہ ایک کورا ذہن طالب علم تھاتاہم ہمارے سماج کی منفی سوچ سے پیدائشی طور پر وہ متأثر تھا اور اسے یہ سمجھنے میں دشواری نہ ہوئی کہ وہ اخبار اردو کا ہی ہے۔اس وقت میرے ہاتھ میں عربی،چینی یا جاپانی زبان کا اخبار بھی ہوتا توشاید وہ معصوم اردو کا ہی سمجھتا کیوں کہ اس کا پیرا میٹر اس کے سامنے ایک ٹوپی والا تھا۔

دوسرا افسوس ناک واقعہ یہ پیش آیا ہے کہ ایک مرتبہ میں یونین بنک آف انڈیاکی اپنی قریبی شاخ جمال پورمیں کھاتہ کھلوانے گیااور فارم پر اردو میں دستخط کر دیا۔جناب دستخط کیاکیاکہ سامنے والا بنک ملازم اس طرح آگ بگولہ ہوا گویا میں نے ہندوستان کو پاکستان کے ہاتھوں بیچ دیا ہو۔مجھے بڑی مایوسی ہوئی کہ میرے ملک کی رگ رگ میں کس قدر فرقہ پرستی سمائی ہوئی ہے۔

گستاخی معاف!آج واضح طور بہار کے باسی خاص طور پر ہندو بھائیوں کا تلفظ بہت غلط ہوتا ہے۔دوسرے صوبے والوں کا اردو سے جڑنے کی وجہ سے یہ کمی بہت حد تک دور ہوجاتی ہے۔ بہار کے اسٹوڈنٹس تھوڑے ہی سہی،اچھے ہوتے ہیں لیکن جب بولنے کے لیے اپنا منہ کھولتے ہیں تو دوسرے صوبے کے لوگ ہنس پڑتے ہیں اور ہمارے بولنے کے انداز کا مذاق اڑاتے ہیں۔کیا ہم نے کبھی اس کی طرف دھیان دیا؟ہمیں اس کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ اس پہلو کو بھی سامنے رکھ کر بطور سبجیکٹ اردو کو اختیار کرتے ہیں تو آپ بہت آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ہندوستانی فلم انڈسٹری میں ہماری نمائندگی آٹے میں نمک کے برابر رہی اور ہے۔اس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ایک بڑی وجہ اردو سے ہماری دوری بھی ہے۔

آج اگر یہ دوری نہ ہوتی تو ایک بزرگ ہندو کواپنی زمینی دستاویز پڑھوانے کے لیے میرے پاس آنے کی ضرورت نہ پڑتی۔زبان کی موت سے تہذیب و کلچر کی موت کس طرح ہوتی ہے،آپ جانتے ہیں لیکن ساتھ ہی کبھی کبھی اس سے سماجی ضروریات کے بیچ بھی بہت بڑی مصیبت کھڑی ہو جاتی ہے۔ ترکی کی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے۔کمال اتاترک نے وقتی مفادات کی خاطراپنی زبان کارسم الخط عربی سے لاطینی میں تبدیل کر دیا۔نتیجہ:نئی نسل اپنے روشن ماضی سے بالکل کٹ گئی۔آج اگر کوئی اس سے جڑنا بھی چاہتا ہے توبراہ راست نہیں جڑ سکتا اس لیے کہ اس کے پاس وہ وسیلہ ہی نہیں رہا۔

یونیورسٹیوں اور اکادمیوں کے ذریعے جو تحقیقی کام اور سیمینار ہورہے ہیں ان کی مثال پودوں کی پتیوں پر اوپر اوپرچھڑکاؤکی سی ہے۔کوئی بھی پودا پہلے بیج ہوتا ہے،اگر بیج کی دیکھ بھال اور اس کے لیے کھاد پانی کا بر وقت اور معقول انتظام نہیں ہو گا،اوپری چھڑکاؤ سے پودے پھل پھول نہیں دے سکتے،یہ طے شدہ امر ہے۔

میں صرف مسلمانوں کی ہی بات نہیں کر تا ہوں۔میری ہندو بھائی سے بھی پر زور اپیل ہے کہ وہ بھی اپنے بچوں کو اردو پڑھا ئیں۔بچے اردو پڑھیں گے تو اردو باقی رہے گی اورجب یہ باقی رہے گی تو ہماری سنسکرتی زندہ رہے گی۔ یہ بات ذہن سے کھرچ کر نکال دینی چاہیے کہ یہ زبان ہندو کی نہیں ہے۔میں اس کی گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ اردو پڑھنے کے باوجود بھی ہندو رہیں گے،جیسا کہ پریم چند اور چکبست اردو کے اتنے بڑے دانشور ہونے کے باوجودبھی ہندو ہی رہے۔اگر اردو پڑھنے سے کوئی مسلمان ہوجاتا تو لتا منگیشکر اور جگجیت سنگھ بہت پہلے ہی مسلمان ہو گئے ہوتے لیکن کوئی بتائے کہ کیا ایسا ہوا؟! کیا کوئی لتا دی دی یا جگجیت سنگھ کو ناپسند یا ان سے نفرت کر تا ہے؟اردو تو نام ہی ہے محبت اور جوڑ کا۔

اب ہم ان ہندو بھائیوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جنھیں اردو سے عشق ہے،وہ اردو کو اپنی زبان سمجھتے ہیں اور اس گئے گزرے دور میں بھی پورے تن من دھن سے اردو کو آگے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔میں یہاں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں تاکہ ہمارے بہار کے ہندو بھائی بھی آگے آئیں اور اردو کو اپنی زبان سمجھ کر اسے اپنائیں اور ترقی دیں۔

اس وقت قومی سطح پر چلنے والے دو اہم اردو چینل کے مالک بھی ہندو ہیں۔”ای ٹی وی“اردو کی مالک ریلائنس کمپنی ہے اور”عالمی سہارا“ اردو چینل کا مالک سہارا گروپ ہے۔اسی طرح دو اہم قومی اردو اخبارکے مالکان بھی ہندو ہیں۔روزنامہ”راشٹریہ سہارا“ سہارا گروپ سے اور روزنامہ ”انقلاب“ جاگرن گروپ سے شائع ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے ہاتھوں اردو کے جو چینل اور اخبارات کام کر رہے ہیں ان کی حیثیت قومی نہیں،علاقائی ہے۔خواہ ’کشمیر عظمیٰ‘ ہو یاحیدر آباد کے’سیاست‘ منصف‘ اور ’اعتماد‘ ہوں یا پھر دہلی،ممبئی، کولکاتا،بھوپال،لکھنئو اور پٹنہ سے شائع ہونے والے اردو اخبارات ہوں۔

سنجیو صراف بھی اس سلسلے کا ایک اہم نام ہے۔وہ بنیادی طور پر ایک صنعت کار ہیں۔انھوں نے اردو سے عشق کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ آب ِزر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ www.rekhta.org  کے نام سے ان کی ایک ویب سائٹ ہے جس کے ذیعے اردو رسم الخط کے ساتھ رومن اور دیو ناگری میں بھی اردو زبان کو دنیا بھر میں پھیلانے کا عظیم کارنامہ انجام دیا جا رہا ہے۔اس سائٹ پر دس ہزار برقی کتب،3344/ویڈیو،3965 / آڈیو اور13366, شعرا کی 12749/ غزلیں،2865 / نظمیں اور 6994/ متفرق اشعار دستیاب ہیں۔

ممکن ہے ان ہی چینلوں اور سوشل نیٹ ورک کے زیر اثر بہت سے غیر اردو داں طلبہ و طالبات کے اندر اردو سیکھنے کی للک پیدا ہوئی ہو۔میں نے دہلی کے عالمی کتب میلے میں کئی ہندونو جوان لڑکے اور لڑکیوں کو اردو سکھانے والی کتابوں کو ڈھونڈتے ہوئے دیکھا ہے۔شاید اسی طرح کا شوق رکھنے والوں کے لیے اردو اکادمی دہلی ایک سالہ اردو کورس کراتی ہے جس میں عمر کی قید کے بغیر ہر کوئی داخل ہو کر مختصر مدت میں اردو سیکھ سکتا ہے۔اس کا امتحان بھی ہوتا ہے،امتحان میں ٹاپ آنے والوں کو سرٹیفکٹ کے ساتھ نقد انعام سے بھی نوازا جاتا ہے۔ابھی گزشتہ ۱۱/مارچ(2015) کو کئی ہندو لڑکے، لڑکیوں کو ٹاپر کا انعام ملا،ان میں ایک میرے والد کی عمر کے گھنشیام جی بھی تھے۔اردو کے لیے ان کے جذبہ شوق کوبے حد سلام۔

اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہندوبھائی اس میں حصہ لیں اور آگے بڑھیں اور ہمار ا ساتھ نہیں بلکہ ہمیں بھی اپنے ساتھ رکھ کر ہم سے سیوا لیں۔گاؤں گاؤں یہ بات چلائیں اورموقع بہ موقع ایسے پروگرام منعقد کر یں کہ جس سے ہندومسلم اور اردو ہندی کا فاصلہ کم سے کم ہو سکے اور ہمارا سماج چھوٹے موٹے جھگڑوں سے نکل کر اصل ترقی کی طرف قدم بڑھا ئے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

You may also like

Leave a Comment