Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحفظ مادری زبان

فروغِ اُردو زبان میں انتظامیہ کی حصّہ داری – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras اگست 19, 2021
by adbimiras اگست 19, 2021 2 comments

اُردو زبان کی مقبولیت اور ہردِلعزیزی صرف اس کی شیرینی، چاشنی، لطافت، شائستگی اور تہذیب و سلیقہ کی بِنائ پر نہیں ہے بلکہ ہر طرح کے احساسات، جذبات اور کیفیات و معاملات کے اظہار اور مافی الضمیر کی بھرپور ترجمانی کی اہلیت رکھنے کی وجہ سے بھی ہے۔نیز انسانیت اور انسانی فلاح و بہبود اور معاشرتی زندگی کی عکاسی کا جوہر ہونے کی وجہ سے بھی اُردو عالمی رابطے کی زبان کا مزاج رکھتی ہے۔ قدرت کے جلوے اور افراد و معاشرے کے چہرے کی سلوٹوں کو بھی اُردو کے شعرا اور اُدبا نہایت چابک دستی اور فنکاری سے پیش کرتے رہے ہیں اس لیے اردو کے کلام توجہ طلب بن جاتے ہیں۔ اُردو کے قلم کاروںنے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مروّج ہونے سے قبل ہی اس کی آہٹ محسوس کرلی تھی اور ان کے تصورات اس قدر وسیع ہوگئے کہ غالبؔ نے یہاں تک کہہ دیا   ؎

اب کہاں تصوّر کا دوسرا قدم یارب

میں نے دشتِ امکاں کو اِک نقشِ پا، پایا

 

علامہ اقبالؔ نے خلائی سفر کی شروعات سے پہلے کہہ دیا تھا  ؎

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پر

زمیں اور بھی آسماں اور بھی ہیں

اُردو کی نثری داستانوں نے بھی نئے جہان سے روبرو کرایا ہے۔ یہاں قالین ہوا میں پرواز کرتے ہیںاور میلوں کا فاصلہ پلک جھپکتے طے ہوتے ہیں جو ہوائی جہاز کے پرواز بھرنے اور خلائی شٹل کا موجب بنے ہیں۔ حقیقتاً اُردو داں طبقہ نے اس تناظر میں خاطرخواہ توجہ نہیں فرمائی، ورنہ اُردو کا منظرنامہ کچھ اور ہی ہوتا۔ عصری تقاضوں اور حسیات کے ساتھ تصوراتِ فردا کو بھی اُردو زبان میں موضوع بنایا جاتا رہا ہے نیز خشک سے خشک موضوع اور موقع محل کی مناسبت سے اُردو میں کلام دستیاب ہیں۔اس لیے پارلیامنٹ اور اسمبلیوں میں بجٹ پیش کرنے کے دوران اُردو کے مناسب اشعار کے انتخاب ملتے ہیں جو ماحول کو خوشگوار بنانے کے ساتھ مطلوبِ مقصد کی معنویت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ راکیش شرما نے اپنے خلائی سفر کے دوران علامہ اقبالؔ کی نظم کا ایک مصرع  ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘کے توسط سے اپناپیغام دیا نیز عزت مآب وزیر اعظم شری نریندر مودی جی نے ۳۱؍دسمبر ۲۰۱۶ کو قوم کے نام اپنے خطاب میں اسی نظم کا یہ مصرع پڑھا’’کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری‘‘۔ لہٰذا اس تناظر میں اُردو زبان کی اہمیت و افادیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں رپورتاژ اور سفرنامہ کے نظریاتی پہلو – پروفیسر عبدُ البرکات )

درحقیقت اُردو ہند آریائی زبان کی ایک شاخ ہے جو سرزمینِ ہند سے بارآور ہوئی ہے۔ ہندوستان میں آنے والے عرب و فارس کے تجار، صوفیا اور لشکر؛عربی، فارسی اور ترکی بولتے ہوئے آئے اور ہندوستانی عوام سے ان کا میل جول بڑھا۔ ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کے دوران عربی، فارسی اور ترکی الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ ہندوستان میں سنسکرت کے ساتھ علاقائی بولیاں اور پراکرتیں بھی شامل ہیںخصوصاً برج بھاشا ، کھڑی بولی، ہریانی، شورسینی اور مراٹھی زبان کے اختلا ط سے ایک نئی زبان اُبھرکر سامنے آئی جس کو لشکری زبان کہا گیا، پھر ریختہ، ہندی اور ہندوستانی کے نام سے موسوم ہوئی۔ ڈاکٹر مسعود حسین خان نے ہندوستانی زبان کی پیدائش کے متعلق تحریر کیا ہے:

’’اندرونی(ہندوستان کی) زبان کی شاخ میں صرف مغربی ہندی ایک ایسی زبان ہے جسے ہم خالص اندرونی زبان کہہ سکتے ہیں، بلکہ اگر پنجابی، راجستھانی اور گجراتی کی ملواں حیثیت پر نظر رکھیں تو اندرونی گروہ کی نمائندہ زبان محض ہندی ہوسکتی ہے۔ مغربی ہندی کا یہ نام مدھیہ پردیش کی زبان گریرسن نے دیا ہے جس نے سب سے پہلے مشرقی اور مغربی ہندی میں فرق کیا۔ مغربی ہندی مدھیہ پردیش کی زبان ہونے کی وجہ سے ہند آریائی زبان کی بہترین نمائندہ ہے کیوں کہ اسی علاقہ میں سنسکرت، شور سینی اور اَپ بھرنش پروان چڑھتی ہیںجن کی سچی جانشین اس علاقے کی جدید بولیاں کھڑی بولی(ہندوستانی)، برج بھاشا، اورہریانی وغیرہ ہیں۔‘‘  ۱؎

مختصر یہ کہ کولکاتا میں ۱۸۰۰ میں فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد ’’ہندوستانی زبان‘‘ ہندی اور اُردو دوآزاد زبانوں میں منقسم ہوگئی۔ ان دونوں زبانوں کے جملہ کی بناوٹ اور اسما و ضمائر ایک جیسے ہیں۔ فرق صرف رسم الخط کے ساتھ الفاظ کے انتخاب و استعمال میں ہے۔ ایک میں سنسکرت اور بھاشا کے الفاظ کثرت سے استعمال ہونے لگے اور دوسری زبان فارسی رسم الخط قرار پائی جس میں کھڑی بولی کے ساتھ فارسی، عربی و ترکی کے الفاظ نمایاں ہوگئے۔ اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے سب سے پہلے لسانی سطح پر تفریق کا بیج بو دیا۔

بہر کیف! اُردو نے بہت جلد معرب اور مفرس الفاظ سے اپنا دامن بچانا شروع کیا اور کھڑی بولی کو اپنا محور بنایا۔ موجودہ اُردو زبان کھڑی بولی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ڈاکٹر اعجاز حسین لکھتے ہیں:

’’اُردو زبان نہ برج بھاشا سے بنی نہ پنجابی سے بلکہ مخلوط زبانوں سے ہوکر کھڑی بولی پر اس نے اپنی بنیاد قائم کی یہ نئی زبان اپنی مقبولیت کی وجہ سے برابر ترقی کرتی رہی۔‘‘  ۲؎

کھڑی بولی خالص ہندوستانی عوام کی زبان تھی کیوں کہ’’کھڑی بولی؛ شور سینی اور اَپ بھرنش سے پیدا ہوئی۔‘‘  ۳؎

اَپ بھرنش کا مطلب’’ گری پڑی‘‘ سے ہے۔ یعنی عام لوگ جو بولتے تھے جس میں ادبیت کا نمایاں فقدان تھا، اس کو اپ بھرنش کا نام دیا گیا جب کہ شورسینی پراکرت تھی جس کا معنی فطری زبان ہے۔ اس میں ادبی کام ہوتے تھے ۔ اس طرح ہندوستان کے عوام و خواص کی مخلوط زبان سے کھڑی بولی تشکیل پائی جو ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی اپنی رسمِ خط کے ساتھ اُردو زبان سے رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو عوام سے خواص تک یکساں مقبول ہے۔

اُردو زبان کے آغاز و ارتقا پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس زبان نے صوفیائ کی آغوش میں پرورش پائی۔لشکر اوربازاروں میں چہل قدمی کرتی ہوئی شاہی دربار میں پہنچ کر ’اُردوئے معلی‘ سے بھی معنون ہوئی۔ صوفیائ اور عوام سے قربت کی وجہ سے اُردو میں محبت، رغبت، اخوت، یکجہتی، رواداری اور شاہی دربار میں پروان چڑھنے کی وجہ سے اس میں نزاکت و نفاست اور شان و شوکت پیدا ہوگئی۔ اردو نے دوسری زبانوں کے برمحل الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال سے اپنے دامن کو آراستہ کیاجس سے اردو کا ذخیرۂ الفاظ وقیع ہوا۔۱۸۲۵ میں دِلّی میں دہلی کالج کا قیام عمل میں آیا جس میں تمام علوم کی تعلیم اُردو میں دی جاتی تھی۔ ۱۸۳۲ تک دہلی دربار کے بہت سارے احکام اردو میں جاری ہونے لگے۔ اس طرح اُردو کو غیر اعلانیہ سرکاری زبان ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رابطے کی زبان ہونے کے ساتھ انتظامی امور بھی اردو میں انجام پانے لگے۔ انتظامیہ کی سرپرستی کی وجہ سے دستاویز اور عدالتی فیصلے بھی اردو میں تحریرہونے لگے، اس طرح اُردو زبان کی ہمہ جہت ترقی ہوئی۔( یہ بھی پڑھیں بہار میں اردو زبان کی موجودہ صورت حال اور اس پر ہندو مسلم گیپ کا اثر – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی )

۱۸۵۷ کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کے پاؤں مضبوط ہوگئے اور دیگر معاملات کے ساتھ اُردو زبان بھی معتوب ہوئی ۔دلّی کالج جہاں ہندوستانیوں کو اُردو زبان کے ذریعے ادب اور سائنس کی تعلیم دی جاتی تھی، تباہ و برباد ہوگئی اور انگریزی زبان کا دبدبہ بڑھنے لگا۔ اعلیٰ عہدوں پر بحالی کے لیے انگریزی زبان میں مسابقاتی امتحانات ہونے لگے۔ انتظامی امور انگریزی میں انجام پانے لگے اور ہندوستانی زبانوں کی ترقی کی راہ مسدود ہوگئی نیز انگریزوں کی سیاسی شعبدہ بازی کی وجہ سے لسانی اختلافات سنگین ہوگئے۔ نتیجتاً اردو اور ہندی میں رقابت پیدا ہوگئی۔

۱۸۵۷ کی پہلی جنگِ آزادی میں بھی اُردو نے نمایاں رول ادا کیا ہے۔ اردو صحافت، ریشمی رومال تحریک اور دیگرتحریکات میں اردو نے مجاہدانہ حصّہ لیا ہے۔عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کی تاسیس ۱۹۱۸ میں عمل میں آئی جہاں تمام علوم کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی۔ اردو شعر و ادب کے ذریعے تحریکِ آزادی کو مزید دھاردار بنا دیا گیا۔ ’’انقلاب زندہ بادہ‘‘ تحریکِ آزادی کا نمایاں نعرہ قرار پایا۔علاوہ ازیں بہت سارے نعرے اور اردو کے اشعار عوام میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ عوام کے جذبات و خیالات کے ترجمان بن گئے۔مثلاً   ؎

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

بہر کیف! انتظامیہ کی سرپرستی سے اُردو زبان کو جو فروغ حاصل ہوا، اس کے اثرات نمایاں ہیں کیوں کہ کسی بھی زبان کے فروغ میں انتظامیہ کلیدی رول ادا کرتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ زبان کی شیریانوں میں دوڑتا ہوا خون عوام عطا کرتے ہیں لیکن اس کو مثبت دھارے سے ہم آہنگ کرکے ادبی و علمی معنویت پیدا کرنا انتظامیہ کے رہین ہے۔اس لیے کہ انتظامیہ کے پاس وسائل اور نظامِ حکومت ہوتا ہے جس کے توسط سے زبان میں وسعت و گیرائی آتی ہے۔ لہٰذا اُردو زبان نے اپنے ابتدائی دَور میں ہی یہ شرف حاصل کرلیا تھا۔ انگریزوں کے مفسدانہ رویّے کے باوجود ریاستی حکومت نے فروغِ اردو زبان کے لیے متعدد قابلِ تعریف کام کیے۔ زبیر احمد بھاگلپوری کے مطابق:

’’اُردو اصطلاح سازی اور ترجمے کا اساسی عمل فرمانروائے دکن عثمان علی خاں اور بابائے اردو مولوی عبد الحق کے زیرِ قیادت جامعہ عثمانیہ میں مختلف علوم کی کتابوںکا اردو میں ترجمہ کرنے کے مقصد سے قائم ’’ دار الترجمہ‘‘ سے انیسویں صدی کے نصف اوّل میں متحدہ ہندوستان میں شروع ہوا۔ ’ورناکُلر ٹرانسلیشن سوسائٹی‘‘ دہلی اور اس کے علاوہ ’’سائنٹفک سوسائٹی‘‘ علی گڑھ نے بھی اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا لیکن باضابطہ اور منظم طریقے سے یہ کام ’’دار الترجمہ‘‘ جامعہ عثمانیہ سے ہی شروع ہوا، جہاں وسیع پیمانے پر نہ صرف دیگر علوم کی کتابوںکا ترجمہ اُردو میں ہوا بلکہ ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ میں تمام علومِ متداولہ وغیرمتداولہ کی تعلیم اردو میڈیم میں پہلی بار شروع ہوئی۔‘‘  ۴؎

لیکن انگریزوں کی ریشہ دوانیوں اور تقسیمِ مادرِ وطن کے سانحہ نے ترقی کی راہ پر گامزن اردو زبان کے راستے مسدود کردیے، تاہم ہندوستان کے قومی رہنماؤں نے بڑی فراخ دلی، رواداری اور جسارت اور دور اندیشی کا ثبوت دیا اور ہندوستان ایک سیکولر ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اُبھر کر سامنے آیا۔ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے قدیم و جدید تعلیم کے فروغ کے لیے منصوبہ بنایا جس سے اردو زبان بھی فیضیاب ہوئی اور رفتہ رفتہ فروغِ اردو زبان کے لیے ماحول تیار ہوا اور تقریباً ہر صوبہ میں اردو اکادمیاں قائم ہوئیں۔ انجمن ترقی اردو اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کا قیام عمل میں آیا۔ اُردو کی ہردلعزیزی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے بہت سارے عہدوں کے نام اور اصطلاحیں اردو زبان کے ہیں جیسے منصف، عدالت، وکالت، مدعی، مدعا علیہ،سمّن، قانون، قرقی ضبطی، کاتب، دستاویز، اقبالِ بیان، سزا، کوتوالی، داروغہ، جمعدار، سپاہی، چوکیدار، دفعہ دار، جرم، مجرم، قیدی، حوالات، ناظر، نظارت وغیرہ کے استعمال سے جو معاملات اور تہذیبی پس منظر اُبھرتے ہیں، وہ بے نظیر ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت – ڈاکٹر محمد بہلول)

حقیقتاً اُردو کی اس وسیع معاشرتی و تہذیبی، سیاسی عوامل اور عوامی مزاج، نیز جذبات و خیالات سے اردو زبان کی ہم آہنگی کی بنائ پر اُردو کو بہار اور کچھ دوسرے صوبوں میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا جس کے نمایاں اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔مرکزی حکومت نے بھی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی قائم کی ہے جہاں تمام علوم و فنون کی تعلیم اردو میں دی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ اردو شاعری اور فکشن نے عالمی سطح پر اپنی انفرادی شناخت قائم کی ہے جو قابلِ ستائش ہے۔ لہٰذا اردو زبان کو سائنس و ٹیکنالوجی اور عصری تقاضوں کا متحمل بناکر عالمی رابطے کی زبان بنانے کی جد وجہد ہونی چاہیے۔

حوالہ جات:

(۱)      ’’مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو‘‘  ڈاکٹر مسعود حسین خاں، ص ۷۹، ایڈین ۱۹۸۲

(۲)     ’’مختصر تاریخِ ادبِ اردو‘‘  ڈاکٹر سیّد اعجاز حسین، ص ۲۵

(۳)     ایضاً، ص۲۶

(۴)     ’’اردو اصطلاح سازی: مرحلہ در مرحلہ‘‘، مشمولہ ’’زبان و ادب‘‘ پٹنہ، ص ۲۱، دسمبر ۲۰۱۷

 

 

Correspondence Address :-

Prof.. Abdul Barkat

Mehdi Hasan Road,, Qila Chowk,

Near Jheel, P.O. M.I.T., Brahampura

Muzaffarpur-842003 (Bihar)

مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

عبد البرکات
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
تعلیمِ جدید کا مثالی منشور : نذیر احمد کے خطوط اُن کے بیٹے کے نام – صفدرامام قادری
اگلی پوسٹ
آس – افتخار زاہد

یہ بھی پڑھیں

ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب...

جولائی 1, 2023

عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان...

فروری 21, 2023

اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:...

مئی 22, 2022

کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –...

مئی 22, 2022

خطرہ میں ڈال کر کہتے ہیں کہ خطرہ...

مئی 13, 2022

مادری زبان’ اردو‘ کی اہمیت – حافظ معراج...

فروری 20, 2022

بہار کی درس گاہوں میں اردو تعلیم کے...

جنوری 4, 2022

گوشہ گوشہ مہک رہا ہے اردو زباں کی...

نومبر 9, 2021

شیریں زبان اردو: ماضی، حال اور مستقبل کے...

نومبر 8, 2021

 یومِ اردو: اردو زبان و ادب کے فروغ...

نومبر 8, 2021

2 comments

- Adbi Miras اگست 31, 2021 - 7:08 صبح

[…] تحفظ مادری زبان […]

Reply
ظریفانہ ادب کا فنّی اختصاص - پروفیسر عبدُ البرکات - Adbi Miras ستمبر 7, 2021 - 11:38 صبح

[…] تحفظ مادری زبان […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں