اُردو زبان کی مقبولیت اور ہردِلعزیزی صرف اس کی شیرینی، چاشنی، لطافت، شائستگی اور تہذیب و سلیقہ کی بِنائ پر نہیں ہے بلکہ ہر طرح کے احساسات، جذبات اور کیفیات و معاملات کے اظہار اور مافی الضمیر کی بھرپور ترجمانی کی اہلیت رکھنے کی وجہ سے بھی ہے۔نیز انسانیت اور انسانی فلاح و بہبود اور معاشرتی زندگی کی عکاسی کا جوہر ہونے کی وجہ سے بھی اُردو عالمی رابطے کی زبان کا مزاج رکھتی ہے۔ قدرت کے جلوے اور افراد و معاشرے کے چہرے کی سلوٹوں کو بھی اُردو کے شعرا اور اُدبا نہایت چابک دستی اور فنکاری سے پیش کرتے رہے ہیں اس لیے اردو کے کلام توجہ طلب بن جاتے ہیں۔ اُردو کے قلم کاروںنے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مروّج ہونے سے قبل ہی اس کی آہٹ محسوس کرلی تھی اور ان کے تصورات اس قدر وسیع ہوگئے کہ غالبؔ نے یہاں تک کہہ دیا ؎
اب کہاں تصوّر کا دوسرا قدم یارب
میں نے دشتِ امکاں کو اِک نقشِ پا، پایا
علامہ اقبالؔ نے خلائی سفر کی شروعات سے پہلے کہہ دیا تھا ؎
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پر
زمیں اور بھی آسماں اور بھی ہیں
اُردو کی نثری داستانوں نے بھی نئے جہان سے روبرو کرایا ہے۔ یہاں قالین ہوا میں پرواز کرتے ہیںاور میلوں کا فاصلہ پلک جھپکتے طے ہوتے ہیں جو ہوائی جہاز کے پرواز بھرنے اور خلائی شٹل کا موجب بنے ہیں۔ حقیقتاً اُردو داں طبقہ نے اس تناظر میں خاطرخواہ توجہ نہیں فرمائی، ورنہ اُردو کا منظرنامہ کچھ اور ہی ہوتا۔ عصری تقاضوں اور حسیات کے ساتھ تصوراتِ فردا کو بھی اُردو زبان میں موضوع بنایا جاتا رہا ہے نیز خشک سے خشک موضوع اور موقع محل کی مناسبت سے اُردو میں کلام دستیاب ہیں۔اس لیے پارلیامنٹ اور اسمبلیوں میں بجٹ پیش کرنے کے دوران اُردو کے مناسب اشعار کے انتخاب ملتے ہیں جو ماحول کو خوشگوار بنانے کے ساتھ مطلوبِ مقصد کی معنویت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ راکیش شرما نے اپنے خلائی سفر کے دوران علامہ اقبالؔ کی نظم کا ایک مصرع ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘کے توسط سے اپناپیغام دیا نیز عزت مآب وزیر اعظم شری نریندر مودی جی نے ۳۱؍دسمبر ۲۰۱۶ کو قوم کے نام اپنے خطاب میں اسی نظم کا یہ مصرع پڑھا’’کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری‘‘۔ لہٰذا اس تناظر میں اُردو زبان کی اہمیت و افادیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں رپورتاژ اور سفرنامہ کے نظریاتی پہلو – پروفیسر عبدُ البرکات )
درحقیقت اُردو ہند آریائی زبان کی ایک شاخ ہے جو سرزمینِ ہند سے بارآور ہوئی ہے۔ ہندوستان میں آنے والے عرب و فارس کے تجار، صوفیا اور لشکر؛عربی، فارسی اور ترکی بولتے ہوئے آئے اور ہندوستانی عوام سے ان کا میل جول بڑھا۔ ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کے دوران عربی، فارسی اور ترکی الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ ہندوستان میں سنسکرت کے ساتھ علاقائی بولیاں اور پراکرتیں بھی شامل ہیںخصوصاً برج بھاشا ، کھڑی بولی، ہریانی، شورسینی اور مراٹھی زبان کے اختلا ط سے ایک نئی زبان اُبھرکر سامنے آئی جس کو لشکری زبان کہا گیا، پھر ریختہ، ہندی اور ہندوستانی کے نام سے موسوم ہوئی۔ ڈاکٹر مسعود حسین خان نے ہندوستانی زبان کی پیدائش کے متعلق تحریر کیا ہے:
’’اندرونی(ہندوستان کی) زبان کی شاخ میں صرف مغربی ہندی ایک ایسی زبان ہے جسے ہم خالص اندرونی زبان کہہ سکتے ہیں، بلکہ اگر پنجابی، راجستھانی اور گجراتی کی ملواں حیثیت پر نظر رکھیں تو اندرونی گروہ کی نمائندہ زبان محض ہندی ہوسکتی ہے۔ مغربی ہندی کا یہ نام مدھیہ پردیش کی زبان گریرسن نے دیا ہے جس نے سب سے پہلے مشرقی اور مغربی ہندی میں فرق کیا۔ مغربی ہندی مدھیہ پردیش کی زبان ہونے کی وجہ سے ہند آریائی زبان کی بہترین نمائندہ ہے کیوں کہ اسی علاقہ میں سنسکرت، شور سینی اور اَپ بھرنش پروان چڑھتی ہیںجن کی سچی جانشین اس علاقے کی جدید بولیاں کھڑی بولی(ہندوستانی)، برج بھاشا، اورہریانی وغیرہ ہیں۔‘‘ ۱؎
مختصر یہ کہ کولکاتا میں ۱۸۰۰ میں فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد ’’ہندوستانی زبان‘‘ ہندی اور اُردو دوآزاد زبانوں میں منقسم ہوگئی۔ ان دونوں زبانوں کے جملہ کی بناوٹ اور اسما و ضمائر ایک جیسے ہیں۔ فرق صرف رسم الخط کے ساتھ الفاظ کے انتخاب و استعمال میں ہے۔ ایک میں سنسکرت اور بھاشا کے الفاظ کثرت سے استعمال ہونے لگے اور دوسری زبان فارسی رسم الخط قرار پائی جس میں کھڑی بولی کے ساتھ فارسی، عربی و ترکی کے الفاظ نمایاں ہوگئے۔ اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے سب سے پہلے لسانی سطح پر تفریق کا بیج بو دیا۔
بہر کیف! اُردو نے بہت جلد معرب اور مفرس الفاظ سے اپنا دامن بچانا شروع کیا اور کھڑی بولی کو اپنا محور بنایا۔ موجودہ اُردو زبان کھڑی بولی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ڈاکٹر اعجاز حسین لکھتے ہیں:
’’اُردو زبان نہ برج بھاشا سے بنی نہ پنجابی سے بلکہ مخلوط زبانوں سے ہوکر کھڑی بولی پر اس نے اپنی بنیاد قائم کی یہ نئی زبان اپنی مقبولیت کی وجہ سے برابر ترقی کرتی رہی۔‘‘ ۲؎
کھڑی بولی خالص ہندوستانی عوام کی زبان تھی کیوں کہ’’کھڑی بولی؛ شور سینی اور اَپ بھرنش سے پیدا ہوئی۔‘‘ ۳؎
اَپ بھرنش کا مطلب’’ گری پڑی‘‘ سے ہے۔ یعنی عام لوگ جو بولتے تھے جس میں ادبیت کا نمایاں فقدان تھا، اس کو اپ بھرنش کا نام دیا گیا جب کہ شورسینی پراکرت تھی جس کا معنی فطری زبان ہے۔ اس میں ادبی کام ہوتے تھے ۔ اس طرح ہندوستان کے عوام و خواص کی مخلوط زبان سے کھڑی بولی تشکیل پائی جو ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی اپنی رسمِ خط کے ساتھ اُردو زبان سے رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو عوام سے خواص تک یکساں مقبول ہے۔
اُردو زبان کے آغاز و ارتقا پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس زبان نے صوفیائ کی آغوش میں پرورش پائی۔لشکر اوربازاروں میں چہل قدمی کرتی ہوئی شاہی دربار میں پہنچ کر ’اُردوئے معلی‘ سے بھی معنون ہوئی۔ صوفیائ اور عوام سے قربت کی وجہ سے اُردو میں محبت، رغبت، اخوت، یکجہتی، رواداری اور شاہی دربار میں پروان چڑھنے کی وجہ سے اس میں نزاکت و نفاست اور شان و شوکت پیدا ہوگئی۔ اردو نے دوسری زبانوں کے برمحل الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال سے اپنے دامن کو آراستہ کیاجس سے اردو کا ذخیرۂ الفاظ وقیع ہوا۔۱۸۲۵ میں دِلّی میں دہلی کالج کا قیام عمل میں آیا جس میں تمام علوم کی تعلیم اُردو میں دی جاتی تھی۔ ۱۸۳۲ تک دہلی دربار کے بہت سارے احکام اردو میں جاری ہونے لگے۔ اس طرح اُردو کو غیر اعلانیہ سرکاری زبان ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رابطے کی زبان ہونے کے ساتھ انتظامی امور بھی اردو میں انجام پانے لگے۔ انتظامیہ کی سرپرستی کی وجہ سے دستاویز اور عدالتی فیصلے بھی اردو میں تحریرہونے لگے، اس طرح اُردو زبان کی ہمہ جہت ترقی ہوئی۔( یہ بھی پڑھیں بہار میں اردو زبان کی موجودہ صورت حال اور اس پر ہندو مسلم گیپ کا اثر – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی )
۱۸۵۷ کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کے پاؤں مضبوط ہوگئے اور دیگر معاملات کے ساتھ اُردو زبان بھی معتوب ہوئی ۔دلّی کالج جہاں ہندوستانیوں کو اُردو زبان کے ذریعے ادب اور سائنس کی تعلیم دی جاتی تھی، تباہ و برباد ہوگئی اور انگریزی زبان کا دبدبہ بڑھنے لگا۔ اعلیٰ عہدوں پر بحالی کے لیے انگریزی زبان میں مسابقاتی امتحانات ہونے لگے۔ انتظامی امور انگریزی میں انجام پانے لگے اور ہندوستانی زبانوں کی ترقی کی راہ مسدود ہوگئی نیز انگریزوں کی سیاسی شعبدہ بازی کی وجہ سے لسانی اختلافات سنگین ہوگئے۔ نتیجتاً اردو اور ہندی میں رقابت پیدا ہوگئی۔
۱۸۵۷ کی پہلی جنگِ آزادی میں بھی اُردو نے نمایاں رول ادا کیا ہے۔ اردو صحافت، ریشمی رومال تحریک اور دیگرتحریکات میں اردو نے مجاہدانہ حصّہ لیا ہے۔عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کی تاسیس ۱۹۱۸ میں عمل میں آئی جہاں تمام علوم کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی۔ اردو شعر و ادب کے ذریعے تحریکِ آزادی کو مزید دھاردار بنا دیا گیا۔ ’’انقلاب زندہ بادہ‘‘ تحریکِ آزادی کا نمایاں نعرہ قرار پایا۔علاوہ ازیں بہت سارے نعرے اور اردو کے اشعار عوام میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ عوام کے جذبات و خیالات کے ترجمان بن گئے۔مثلاً ؎
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
بہر کیف! انتظامیہ کی سرپرستی سے اُردو زبان کو جو فروغ حاصل ہوا، اس کے اثرات نمایاں ہیں کیوں کہ کسی بھی زبان کے فروغ میں انتظامیہ کلیدی رول ادا کرتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ زبان کی شیریانوں میں دوڑتا ہوا خون عوام عطا کرتے ہیں لیکن اس کو مثبت دھارے سے ہم آہنگ کرکے ادبی و علمی معنویت پیدا کرنا انتظامیہ کے رہین ہے۔اس لیے کہ انتظامیہ کے پاس وسائل اور نظامِ حکومت ہوتا ہے جس کے توسط سے زبان میں وسعت و گیرائی آتی ہے۔ لہٰذا اُردو زبان نے اپنے ابتدائی دَور میں ہی یہ شرف حاصل کرلیا تھا۔ انگریزوں کے مفسدانہ رویّے کے باوجود ریاستی حکومت نے فروغِ اردو زبان کے لیے متعدد قابلِ تعریف کام کیے۔ زبیر احمد بھاگلپوری کے مطابق:
’’اُردو اصطلاح سازی اور ترجمے کا اساسی عمل فرمانروائے دکن عثمان علی خاں اور بابائے اردو مولوی عبد الحق کے زیرِ قیادت جامعہ عثمانیہ میں مختلف علوم کی کتابوںکا اردو میں ترجمہ کرنے کے مقصد سے قائم ’’ دار الترجمہ‘‘ سے انیسویں صدی کے نصف اوّل میں متحدہ ہندوستان میں شروع ہوا۔ ’ورناکُلر ٹرانسلیشن سوسائٹی‘‘ دہلی اور اس کے علاوہ ’’سائنٹفک سوسائٹی‘‘ علی گڑھ نے بھی اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا لیکن باضابطہ اور منظم طریقے سے یہ کام ’’دار الترجمہ‘‘ جامعہ عثمانیہ سے ہی شروع ہوا، جہاں وسیع پیمانے پر نہ صرف دیگر علوم کی کتابوںکا ترجمہ اُردو میں ہوا بلکہ ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ میں تمام علومِ متداولہ وغیرمتداولہ کی تعلیم اردو میڈیم میں پہلی بار شروع ہوئی۔‘‘ ۴؎
لیکن انگریزوں کی ریشہ دوانیوں اور تقسیمِ مادرِ وطن کے سانحہ نے ترقی کی راہ پر گامزن اردو زبان کے راستے مسدود کردیے، تاہم ہندوستان کے قومی رہنماؤں نے بڑی فراخ دلی، رواداری اور جسارت اور دور اندیشی کا ثبوت دیا اور ہندوستان ایک سیکولر ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اُبھر کر سامنے آیا۔ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے قدیم و جدید تعلیم کے فروغ کے لیے منصوبہ بنایا جس سے اردو زبان بھی فیضیاب ہوئی اور رفتہ رفتہ فروغِ اردو زبان کے لیے ماحول تیار ہوا اور تقریباً ہر صوبہ میں اردو اکادمیاں قائم ہوئیں۔ انجمن ترقی اردو اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کا قیام عمل میں آیا۔ اُردو کی ہردلعزیزی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے بہت سارے عہدوں کے نام اور اصطلاحیں اردو زبان کے ہیں جیسے منصف، عدالت، وکالت، مدعی، مدعا علیہ،سمّن، قانون، قرقی ضبطی، کاتب، دستاویز، اقبالِ بیان، سزا، کوتوالی، داروغہ، جمعدار، سپاہی، چوکیدار، دفعہ دار، جرم، مجرم، قیدی، حوالات، ناظر، نظارت وغیرہ کے استعمال سے جو معاملات اور تہذیبی پس منظر اُبھرتے ہیں، وہ بے نظیر ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت – ڈاکٹر محمد بہلول)
حقیقتاً اُردو کی اس وسیع معاشرتی و تہذیبی، سیاسی عوامل اور عوامی مزاج، نیز جذبات و خیالات سے اردو زبان کی ہم آہنگی کی بنائ پر اُردو کو بہار اور کچھ دوسرے صوبوں میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا جس کے نمایاں اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔مرکزی حکومت نے بھی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی قائم کی ہے جہاں تمام علوم و فنون کی تعلیم اردو میں دی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ اردو شاعری اور فکشن نے عالمی سطح پر اپنی انفرادی شناخت قائم کی ہے جو قابلِ ستائش ہے۔ لہٰذا اردو زبان کو سائنس و ٹیکنالوجی اور عصری تقاضوں کا متحمل بناکر عالمی رابطے کی زبان بنانے کی جد وجہد ہونی چاہیے۔
حوالہ جات:
(۱) ’’مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو‘‘ ڈاکٹر مسعود حسین خاں، ص ۷۹، ایڈین ۱۹۸۲
(۲) ’’مختصر تاریخِ ادبِ اردو‘‘ ڈاکٹر سیّد اعجاز حسین، ص ۲۵
(۳) ایضاً، ص۲۶
(۴) ’’اردو اصطلاح سازی: مرحلہ در مرحلہ‘‘، مشمولہ ’’زبان و ادب‘‘ پٹنہ، ص ۲۱، دسمبر ۲۰۱۷
Correspondence Address :-
Prof.. Abdul Barkat
Mehdi Hasan Road,, Qila Chowk,
Near Jheel, P.O. M.I.T., Brahampura
Muzaffarpur-842003 (Bihar)
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] تحفظ مادری زبان […]
[…] تحفظ مادری زبان […]