Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras اگست 31, 2021
by adbimiras اگست 31, 2021 0 comment

  قدسی، فن اور شخصیت : ایک تجزیاتی مطالعہ- وزیر احمد مصباحی

 

کہتے ہیں کہ تاریخ نویسی ایک قوی ترین فن ہے۔ جس چیز کے لیے بھی یہ اپنا دامن وسیع کر دے ،گردش ایام کے تمام تر تھپیڑے اس کا ایک بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ ہاں! تاریخ کا سینہ تو اس قدر کشادہ ہے کہ یہ اپنے ساکنین کو صدیوں زندہ رکھتی ہے۔دامنِ تاریخ سے حیات جاودانی جیسے مقدس و محترم مفہوم کو اس قدر محکم‌ وابستگی حاصل ہے کہ آج تک اس رشتے میں کہیں سے بھی کوئی اضمحلال نظر نہیں آتا۔یہ الگ بات ہے کہ اسی زمین کے اوپر اور نیلگوں آسمان کے نیچے کچھ ایسے بھی تاریخ نگار گزرے ہیں جن کے سر تاریخ مسخ کرنے کا سنگین الزام اب تک قائم ہے۔اس جرم کے پاداش میں وہ آج تک اہل علم و دانش کے یہاں مشکوک ہیں۔

آپ شاید اس تلخ حقیقت سے بھی باخبر ہوں گے کہ آج کئی ایک ایسی صاحب انجمن ہستیاں،جنھوں نے اپنی پوری زندگی علمی گتھیاں سلجھانے میں گزار دیں، وہ ہماری یادوں کی سدا بہار علمی دنیا میں اب اس لیے زندہ نہیں ہیں کہ ان کے ہم عصر تاریخ نگاروں نے ان کے ساتھ عدل و انصاف سے کام نہیں لیا،ذاتی چشمک یا پھر مسلسل ملتفت ہونے والی نظر و توجہ نے اس طرح خصوصی کرم نہیں کیا کہ جس کی بدولت وہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے اَمر ہو جاتے۔مگر اس کے برعکس وہ خوش قسمت افراد جن کی جانب زمانے کی آنکھ ملتفت ہوتی رہی وہ علمی دنیا میں ہمیشہ کے لیے اپنی یادوں کے چراغ روشن کر گیے ہیں۔آج بھی ان باکمال ہستیوں کے علمی نقوش اور فکری توانائی کے روشن چراغ آنے والی نسلوں کے دل و دماغ میں برابر جگمگا رہے ہیں۔

اس وقت مطالعاتی میز پر جو کتاب زیر تبصرہ ہے،اسی نوعیت کی کڑی ہے۔مصنف کتاب محمد رحمت اللہ صدیقی،ایڈیٹر: پیغام رضا ممبئی، نے ایک بہترین تاریخی گلدستہ اہل علم کے سامنے پیش فرمایا ہے۔ اس کتاب میں دور حاضر کے ایک بہترین نعت گو،ادیب شہیر، مختلف فن پاروں میں ید طولی کے مالک یعنی  حیاتِ سید اولاد رسول قدسی(مقیم حال:نیویارک،امریکہ)سے جڑے نشیب و فراز، ان کی تمام تر مصروفیات اور سنہرے کارنامے بہترین پیرائے اور دلکش انداز بیاں کے ساتھ یکجا کر دیے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب کو اگر قدسی کی ذات و عمل کو اجاگر کرنے والی ایک بنیادی ماخذ کے طور پر یاد کیا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔ در اصل تاریخ نگاروں کے یہاں ہوتا ہی یہی ہے کہ وہ کسی شئی سے متصل تمام تر نشیب و فراز تاریخ کے دامن میں اس طرح ثبت کر دیتے ہیں کہ پھر آنے والی نسلوں کے خاطر وہی صفحات کارناموں کو اجاگر کرنے کے باب میں ماخذ و مصدر کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔

موصوف صدیقی نے زیر تبصرہ کتاب (قدسی فن اور شخصیت) کو سجانے سنوارنے میں خوب محنتیں کی ہیں۔ جس طرح قدسی کے تمام تر کارناموں کو اپنے چھوٹے چھوٹے خوبصورت جملوں اور دلکش پیرائے بیان میں جمع کرکے ایک گراں قدر سرمایہ بنا دیا ہے، وہ کسی پی ایچ ڈی کے مقالے سے کم نہیں ہیں ہے۔ ڈاکٹر کرامت علی کرامت نے کتاب کی ابتدا میں "سید اولاد رسول قدسی اور تثلیث فکروفن” کے تحت جو منصفانہ باتیں تحریر کی ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ صدیقی کی سعی جمیل کے حوالے سے آپ لکھتے ہیں:

” البتہ یہ کتاب قدسی پر تحقیق کرنے والوں کے لیے کی نئی نئی راہیں ضرور کھول دے گی اس میں اتنا سارا مواد موجود ہے کہ ادب (Literature) اور اسلامیات Islami Studies) دونوں شعبوں میں قدسی پر متعدد ڈاکٹریٹ کے مقالے لکھے جاسکتے ہیں۔ زیر نظر تصنیف میں مولانا صدیقی نے خود اسی کی شخصیت کے ان پہلوؤں کو مس کیا ہے، جن کی طرف اب تک کسی کی نظر نہیں گئی تھی۔ مثلا قدسی کے مذہبی اور مسلکی عقائد، قدسی بحثیت مفتی،قدسی بحیثیت مقرر وغیرہ وغیرہ”۔

” جہاں تک ” قدسی فن اور شخصیت” کے مصنف مولانا رحمت اللہ صدیقی کے نثری اسلوب کا تعلق ہے، اتنا کہا جاسکتا ہے کہ ان کی نثر صاف ستھری اور رواں دواں ہے۔ تقریباً ہر جگہ ان کی شگفتہ بیانی کو فوقیت حاصل ہے”۔

اسی طرح ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، شعبہ اردو، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ نے بھی "قدسی کے ادبی نگارشات” کے تحت مولانا صدیقی کی محنت و لگن اور ذوق ترتیب و تدوین کو بھی دلچسپ طریقے سے بیان کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں:

"مولانا صدیقی کے اسلوب فکر اور اندازِ مطالعہ کے علاوہ ان کے ذوق ترتیب و تدوین کا بھی بہترین نمونہ زیرنظر کتاب ہے، جس سے نہ صرف قدسی کا تفصیلی مطالعہ سامنے آتا ہے بلکہ مولانا صدیقی کی محنت، لگن اور فکری معیار کا اندازہ ہوتا ہے۔ خدا کرے قدسی اور صدیقی کی یہ دوستی یوں ہی برقرار رہے اور ہم جیسے تشنگان علم و ادب کے سیرابی کی صورت نکلتی رہے”۔

یہ علمی گلدستہ ۵۸۴/ صفحات پر مشتمل ہے۔ تقریبا ۳۰/ صفحات پر ” قدسی اور عرفان قدسی،سید اولاد رسول قدسی اور تثلیث فکروفن، قدسی کے ادبی نگارشات، اور "قدسی فن اور شخصیت”  جیسے اہم و اچھوتے موضوعات پر بالترتیب ڈاکٹر غلام مصطفی نجم القادری قاری، ڈاکٹر کرامت علی کرامت، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی اور ڈاکٹر محمد حسین مشاہدرضوی جیسے صاحبان فکر و فن کی بڑی قیمتی اور ادبی رنگ میں ملبوس گراں قدر معلوماتی باتیں تحریر کی گئی ہیں۔ مذکورہ چاروں موضوعات پر بہترین خامہ فرسای کی گئی ہے۔میرے خیال سے قارئین کو چاہیے کہ وہ اصل کتاب پر اپنی نگاہ مرکوز کرنے سے پہلے ان چاروں موضوعات کو بھی اپنے مطالعاتی میز کی زینت بنا لیں تا کہ قدسی کی شش جہات شخصیت کے چند ضروری گوشوں کا عرفان ہو جائے اور اصل کتاب کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوں۔ (یہ بھی پڑھیں  نہ رادھا نہ رکمنی: امرتا پریتم کا اہم سوانحی ناول – وزیر احمد مصباحی)

مصنف موصوف نے دیدہ زیب ٹائٹل اور رنگ و آہنگ سے کتاب کو خوب مزین فرمایا ہے۔ پرکشش کتابی سرخیاں، ہلکے و صاف ستھرے صفحات کے ساتھ ساتھ کتاب کے دائیں بائیں چند ابتدائی اندرونی صفحات میں کتابی فہرست اور مصنف کے اوراق حیات و قدسی کے اوراق حیات کے تحت موٹی موٹی باتیں رقم کرکے قدسی تصنیفات میں سے چند کتابوں کے ٹائٹل پیج کو بشکل تصویر سجا کر جو دلکشی پیدا کی گئی ہے،  خوب ہے۔ ان ساری چیزوں سے جہاں کتاب کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتا ہے وہیں قارئین کے لیے بھی سامان نظر کے طور پر حسن ذوق کا بہترین مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی صفحات میں جہاں اور بھی باتیں لکھی گئی ہیں وہی اردو ہندی میں کل ملاکر قدسی کے ۲۵/ چھوٹی بڑی کتابوں کا بشمول سن اشاعت نام بنام  تذکرہ بھی کر دیا گیا ہے۔ جن میں سے سات نعتیہ مجموعے، دو غزلیہ مجموعے، ایک نظمیہ مجموعہ، ایک سیرت سرور دو جہاں اور نثر میں سوانحی و مذہبی مقالات پر متعدد کتابیں ہیں۔اس فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی قدسی کی ذات سیال قلم کی مالک ہے اور آج بھی مغربی دنیا میں سکونت پذیر ہونے کے باوجود آپ کی یہ تصنیفی تیزگآمی مسلسل عروج پر ہے۔قدسی کو شعر گوئی کا جذبہ صادقہ وراثت کے طور پر ملا ہے اور خدا کے فضل سے آپ کو گھرانہ بھی ایسا ملا کہ جو علمی و ادبی نکھار کے لیے کافی سازگار تھا۔ اس حوالے سے آپ کا بیان خود کتاب ہذا کے صفحہ نمبر ۱۰۵/ پر مرقوم ہے۔ادبی مجلہ ” ترویج ” کے مدیر جناب خاور نقیب صاحب کے سوال : آپ کی نعتیہ شاعری کس تحریک اور ماحول کے زیرِ اثر ہوئی؟ پر بطور جواب فرماتے ہیں کہ: ” نعتیہ ادب سے شغف،ہمارے خاندان کی خصوصیت رہی ہے۔میرے والد بزرگوار مفتی اعظم اڑیسہ مولانا مفتی سید عبد القدوس اور والدہ مکرمہ کو احکام شرعیہ کا بڑا پاس و لحاظ تھا۔گھر میں نعتیہ محافل و مجالس کا انعقاد ہوتا۔اپنے گھر کے علاوہ دیگر مقامات میں منعقد ہونے والی میلاد و تقاریر کی محافل میں شرکت کا بڑا پختہ اثر میری طبیعت نے قبول کیا۔لہذا نعت میرے تخلیقی اظہار کا پہلا زینہ تھی”۔

قدسی کو درجن بھر سے زائد اصناف شعر میں مہارت کاملہ حاصل ہے۔ بقول ڈاکٹر کرامت علی کرامت: ” آپ مابعد جدیدیت کے ایک مشکل پسند غزل گو ہیں”۔ قدسی ہمہ وقت اردو کی نئی بستیوں کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں۔تخلیقی میدان میں قدسی نے اپنا ایک زبردست انفرادی مقام بنایا ہے، شعری صنف میں بھی نئی نئی جہتیں تلاش کی ہے۔قدسی کے اندر آج بھی تلاش و جستجو کا عنصر کافی حد تک جوان ہے مگر دور حاضر میں دن بدن شعرا کا رجحان اس طرف اکثر مفقود ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

دور حاضر کے معروف تنقید نگار دار، جن کی تحریری خوبیوں کا رقم الحروف بھی اسیر ہے، یعنی جناب حقانی القاسمی قدسی کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:

” قدسی کی شاعری کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ Cryptomnesia سے پاک ہے۔ دوسروں کے خیالات کو شعوری طور پر من و عن نہ انھوں نے قبول کیا اور نہ ہی اس پر اپنی فکر کی عمارت کھڑی کی، جب کہ آج کی شاعری میں یہ وبا عام ہے۔قدسی کی شاعری میں ایک بڑی بات یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں جستجو کا عنصر زندہ ہے۔ وہ اپنی شاعری میں ” مقام شوق” کی تلاش میں مضطرب نظر آتے ہیں۔ ممکنات زندگی کی جستجو، جہاں کے جوہر مضمر کی تلاش کی وجہ سے قدسی کی لے بھی الگ ہوگئی ہے اور نے بھی۔

سید اولاد رسول قدسی نے شاعری میں اپنے تخیلات کو نہیں سمتیں عطا کی ہیں اور یہی سمتیں ان کا تخلیقی شناخت نامہ ہیں”۔ (کتاب ھذا، ص: ۵۸۴،۵۸۳)

قدسی کو جن درجن بھر سے زائد اصناف سخن میں مہارت حاصل ہے، مصنف موصوف نے ان تمام اصناف کو ص: ۵۳/ پر رقم بھی فرما دیا ہے۔ یہاں قارئین کے قلبی ذوق کے خاطر بس ان کا نام تحریر کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہوں:

(١)حمد (٢)آزاد حمد (٣)نعت (٤)غزل (٥)آزاد غزل (٦)ہائیکو حمد (٧)ہائیکو نعت (٨)ہائیکو غزل (٩)دوہا حمد (١٠)دوہا نعت (١١)دوہا غزل (١٢)منقبت (١٣)نظم (١٤)آزاد نظم (١٥)رباعی (١٦)تکونی (١٧)مسدّس (١٨)مخمس (١٩)ایک لفظی نعت (٢٠)ایک لفظی مکرر نعت۔

مصنف موصوف نے ص:٣٧ تا ٥٠ مختلف عنوانات جیسے: اسلام خدائی مذہب ہے، اسلام اپنے کردار کی بنیاد پر زندہ ہے، اسلام کے فروغ میں علما کا کردار،اسلام ظلم و جبر کا قاتل ہے اور مدارس انسان سازی کے کارخانے ہیں،وغیرہ کے تحت جو معرکۃآلارا اور دلنشین گفتگو کی ہے وہ ہر جہت سے مفید ہیں، اگر انھیں تمہیدی کلمات کہے جائیں تو بیجا نہ ہوگا۔ دراصل پوری کتاب میں جہاں کہیں بھی قدسی کی ذات پر گفتگو کرنے کے لئے نیا باب باندھا گیا ہے وہیں تمہیدی کلمات کے طور پر اس طرح نادرونایاب باتوں کا ایک خوبصورت سلسلہ شروع ہو گیا ہے کہ اس کا چھور کسی نہ کسی طرح قدسی کے کارناموں سے جا ملتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ کتاب ہذا قدسی کے شعری و تخلیقی صلاحیت کی ہر چند گواہی دیتی ہے، مگر کہیں کہیں قدسی کی انگریزی و اردو زبان میں فتوی نویسی، فن خطابت میں کمال کا جوہر اور میدان دعوت و تبلیغ میں ان کے انفرادی کمالات و خصوصیات کو بھی بڑے اچھوتے پیمانے پر بقید تحریر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ مصنف موصوف نے ص:٨٧/پر ان ٢٢، علوم و فنون کی ایک مختصر فہرست بھی جاری کی ہے،جن بر قدسی کی گہری نظر ہے۔ (یہ بھی پڑھیں فروغِ اُردو زبان میں انتظامیہ کی حصّہ داری – پروفیسر عبدُ البرکات )

زیر نظر کتاب کے ص:٥٠/پر موضوع” حیات قدسی کی بکھری کرنیں” کے بعد ہی مختلف عناوین کے تحت جم کر لکھا گیا ہے۔ص:٩١،٩٠/ پر رقم کردہ دواوین کا موضوعاتی اشاریہ کسی فائدے سے خالی نہیں ہے۔ اسی طرح ص:٩٦/ پر قدسی کے کلام کا اجمالی اشاریہ بھی خوب ہے۔ اس اشاریہ سے یہ بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ قدسی نے اب تک کتنی نعتیں، غزلیہ اشعار اور نظم وغیرہ رقم کیا ہے۔ص:٩٩/ پر جہاں ذات قدسی پر شائع شدہ مذہبی و ادبی رسائل کے گوشوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہیں لگے ہاتھوں کٹک، اڑیسہ سے شائع ہونے والا ادبی مجلہ ” ترویج ” کے ایڈیٹر خاور نقیب اور عروس البلاد،ممبئی سے شائع ہونے والا ماہنامہ” شاعر ” کے مدیر افتخار امام صدیقی سے ہوئے دونوں مکالموں کو بھی بطور خاص رقم کر دیا گیا ہے۔آخرالذکر مکالمہ تقریبا ٨٠/ سوالات و جوابات پر مشتمل ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اردو ادب و شعری میدان میں نووردی کرنے والوں کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے تا کہ نادر ونایاب گوشوں سے وہ اپنے خالی کشکول بھر سکیں۔

قدسی نے شعری دنیا کے ساتھ ساتھ نثری میدان میں بھی کمال کے جلوے بکھیرے ہیں۔ چوٹی کے دانشوروں و ادبی نقادوں نے بھی قدسی کی شعری لیاقت کے ساتھ نثری صلاحیت کا لوہا کھلے دل سے تسلیم کیا ہے۔اس حوالے سے مصنف موصوف نے کئی ایک تحریری نمونے بھی ص:١٣٧ تا ١٤١ پر رقم فرمایا ہے۔اسی طرح قدسی کے کئی ایک اردو انگریزی فتاوے اور انگریزی نثر و نظم بھی شامل ہیں۔ص:١٩١/ سے بنام ” نعت اصناف نعت”  بڑا قیمتی باب باندھا گیا ہے،اس باب میں غزل، قصیدہ، رباعی، مرثیہ،متضاد،مثنوی،دوہا، سانیٹ، ترائیلے، کہ مکرنی اور ہائیکو وغیرہ کثیر اصناف سخن کی معتبر تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ماہرین کے اسما، بطور مثال دو چند نعت اور قافیہ و ردیف کے علاوہ ان کے اجزا بھی مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔اردو ادب کی خاک چھاننے والے تمام اساتذہ اور طلبا کے لئے یہ باب یکساں طور پر مفید ہے۔ص:٢٠٢/ پر مثنوی سے متعلق لکھتے ہیں کہ:

” اردو میں کلاسیکی اور روایتی شاعری اس صنف سے مالامال ہیں۔ میراں جی، نظامی، اشرف بیابانی، جانم، عبدل، ملا وجہی، غواصی، مقیمی، نصرتی، ابن نشاطی، سراج، شفیق، جعفر، زٹگی، فائز، آبرو، حاتم، اثر، میر، سودا، انشا، مومن اور شوق وغیرہ کی مثنویاں مشہور ہیں۔ مثنوی نگار شعرا میں میر حسن کے حصے میں جو مقبولیت اور شہرت آئی وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اردو مثنوی کی تاریخ میر حسن کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔

اسی طرح ص:٢١٠/ پر بھی ” نعت،اعتراف نعت” کے عنوان سے ایک نیا باب نمودار ہوتا ہے‌۔ یہ باب تقریبا ٥٠/صفحات پر مشتمل ہے، صنف نعت کے متعلق بحوالہ ہندوپاک کی تقریبا ٦٥، شخصیات کے افکار و نظریات اور اظہار و خیالات کو دلکش لب و لہجے میں بیان کر دیا گیا ہے۔ نعت گوئی کے پس منظر میں ص: ٢١١، پر ہی عاشق رسول ﷺ،فاضل بریلوی امام احمد رضا قدس سرہ کا یہ قیمتی قول نقل کیا گیا ہے:

” حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے، جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں۔ اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تو تنقیص ہوتی ہے۔  البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے، جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔ غرض ایک جانب اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب سخت پابندی ہے”۔

لگے ہاتھوں تقریبا ١٣٠/  شعراے کرام کے چار چار نعتیہ مصرے بطور مثال بھی رقم کئے گئے ہیں۔ اشعار کے انتخاب میں آپ نے جس طرح عمدگی کا خیال رکھا ہے وہ آپ کے حسن ذوق اور عشق نبی کو خوب خوب اجاگر کرتا ہے۔

ص:٢٥٨ سے ” نعت اور سفیران نعت” سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔اس باب میں پیدائش نعت کے حوالے سے سے تاریخی اوراق کھنگالنے کی اچھی کوشش کی گئی ہے۔متعدد آیات قرآنیہ، احادیث کریمہ اور اقوال فقہا و مفسرین کے ساتھ توریت،انجیل اور زبور وغیرہ کی عبارتوں سے بھی نعت حبیب ﷺ کا اثبات کیا گیا ہے۔ اللہ کریم کی طرف سے عالم ارواح میں تمام بندوں اور پھر بعد میں سربراہان امم سے لیے گئے خصوصی عہدوپیمان سے جس طرح حسین لب و لہجے و عمدہ پیرائے میں نعت مصطفی ﷺ کو اجاگر کی گئی ہے،وہ تمام تر باتیں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔مصنف موصوف کا انداز بیاں واقعی اپنے قاری کو مکمل طور سے حصار میں لے لینے والا ہوتا ہے۔ مختصر جملوں میں سلاست کی ایسی چاشنی بھر دی جاتی ہے کہ پھر قاری اخیر تک مزہ لے لے کر پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔جملے، معانی و مفاہیم کی ادائیگی میں یقینا ہر جہت سے کامیاب ہوتے ہیں۔ نثری ادب میں مصنف موصوف کی زبردست مہارت کا سچا نمونہ آپ اس پیراگراف میں دیکھیں کہ وہ کیسے چند سطروں میں بڑی بات کہہ گیے ہیں:

” اعلی حضرت امام احمد رضا برکاتی قدس سرہ نے نعت کے حوالے سے عشق و عرفان کی جو انجمن سجائی تھی اور جو چراغ جلایا تھا ان کے خلفا، تلامذہ اور مستفیدین نے اس چراغ کی لو کو کبھی مدھم ہونے نہیں دیا بلکہ اپنے زور عشق سے اس کی لو کو تیز سے تیز کرتے رہے۔انھیں پاکان امت کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پورا بر صغیر بوستان کا نظارہ پیش کر رہا ہے”۔

کتاب کی اہمیت و افادیت اس جہت سے بھی من موہنی ہے کہ ص:٣١٦ تا ٣١٩ پر تقریباً ١٨١/ غیر مسلم شعرا کی ایک فہرست جاری کی گئی ہے۔میرے خیال میں یہ فہرست ان لوگوں کے لیے کسی خزینہ سے کم نہیں ہے جو غیر مسلم شعرا پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ص:٣٢٧ پر بنام ” قدسی کی نعت نگاری” ایک سرخی قائم کی گئی ہے۔صنف نعت کی مختلف صورتوں جیسے: ایک لفظی، دو رکنی، ایک لفظی مکرر، ایک رکنی اور ہائیکو وغیرہ میں قدسی کے نعتیہ اشعار بطور مثال مرقوم ہیں، ساتھ ہی اشعار کی روشنی میں قدسی کے اندر موجزن عشق رسول ﷺ کا بہترین جائزہ پیش کیا گیا ہے۔قدسی کو اس بات پر فخر حاصل ہے کہ انھوں نے فاضل بریلوی قدس سرہ سے ہی آداب نعت سیکھی ہے۔قدسی رفم طراز ہیں؀

قدسی ہوں اس رضا کے در پاک کا گدا

سیکھی ہے جس نے نعت خدا کی کتاب سے

 

رضا کے فیض و کرم سے کلام قدسی میں

بلند و بالا خیالات دیکھتے رہیے

ص:٣٥٦ تا ٣٧٤، ایک دلکش سرخی * قدسی کی نظموں کا آسمان* کے تحت مختلف موضوعات پر مثالوں سے مزین قدسی کے آزاد نظموں کا بہترین تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ باب پڑھنے کے بعد واقعی یہ احساس پختہ ہو جاتا ہے کہ قدسی کسی واقعہ سے متاثر ہو کر جس طرح زود رفتاری سے واقعات کا نقشہ صفحہ قرطاس پر اتار لاتے ہیں،قارئین اس سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔

جی ہاں! مصنف موصوف دلائل و شواہد کی روشنی میں قدسی کے زریں کارنامے شمار کراتے ہوئے اب تک کوسوں دور کا سفر کر چکے ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے نہ تو آبلہ پائی کا شکوہ کیا ہے اور نہ ہی پیچھے مڑ کر دیکھا ہے۔بلکہ وہ مسلسل قدسی کی نئی نئی فنکارانہ صلاحیتوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔اب وہ ہمارے لیے موضوع” قدسی کی نعت گوئی احادیث کی روشنی میں” کے تحت اپنی طویل گفتگو کا آغاز فرما رہے ہیں۔یہاں ابتداءً ذات قدسی پر کچھ بنیادی باتیں تحریر کی گئیں ہیں اور پھر موضوعاتی حدود کے اندر کہیں بھی پیمانہ انصاف کو جھکنے نہیں دیا ہے۔احادیث کریمہ کی روشنی میں قدسی کے نعتیہ اشعار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس ضمن میں قدسی کے اکثر اشعار کسی نہ کسی مفہوم حدیث کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔اس جہت میں مندرجہ ذیل اشعار کا جائزہ لیں اور یہ فیصلہ کریں کہ قدسی اس زمین پر طبع آزمائی کرنے میں کس حد تک کامیاب ہیں؟ ملاحظہ ہوں:

(١) چاند ٹکڑے ہو اور سنگ کلمہ پڑھے

ایسی قوت نبی کے اشاروں میں ہیں

 

(٢) قتادہ کی آنکھیں ہوئیں اور روشن

نبی نے لعاب اپنے ڈالے نرالے

 

(٣) سرکار کائنات کے روضے کے اردگرد

روزانہ صبح و شام ملک کی قطار ہے

 

(٤) دائمی مشک سے ہر ذرہ نہا جاتا تھا

جب نکلتی تھی محمد کے بدن کی خوشبو

 

(٥)   جو وحی خدا ہے وہی بولتے ہیں

ہیں یوں حق نشاں محمد مصطفی جان رحمت

 

(٦) سرکار سے پہلے کبھی اس دہرنے قدسی

انگشت مقدس میں سمندر نہیں دیکھا

 

(٧) معراج انبیا کی بھی اقصی میں ہوگئی

فیاض ہے نبی کی امامت کی روشنی

اس باب کی اہمیت و افادیت میں چار چاند اس لیے بھی لگ جاتا ہے کہ مصنف موصوف نے احادیث رسول کی ترجمانی کرنے والے اشعار بطور مثال رقم کرنے سے قبل معجزات، واقعات اور خصوصیات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا پس منظر و پیش منظر بیان کر دیا ہے تاکہ قاری جب اپنے ذہن میں موجود تازہ تر مواد کے ساتھ عشق مصطفی ﷺ میں ڈوب کر اشعار قدسی گنگنائے تو پورا واقعہ ان کی نگاہوں کے سامنے ایک اچھوتا منظر پیش کرنے میں کامیاب ہوجائے اور سرور دوجہاں کی جلوہ سامانیاں اذہان و قلوب میں کیف و سرور کا غازہ مل دیں۔ واقعات کی منظر کشی، اگر ایک طرف اپنے قاری پر جادوئی اثر چھوڑتا ہے تو وہیں دوسری طرف صدیقی کے وسعت مطالعہ اور اس سے کشید ہونے والے تمام تر لب لباب کو پوری محنت و لگن کے ساتھ نثری ادب میں ڈھالنے کی اعلی مہارت کو بھی خوب خوب اجاگر کرتا ہے۔ ہاں! ایک کامیاب مصنف کی یہ علامت بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مطالعہ سے کشید ہونے والے تمام تر مواد کو نثری یا نظمی ادب میں ٹھونس دلائل کے ساتھ بغیر کسی تکلف کے اپنے قارئین کے سامنے پیش کر دے۔

ص:٤٧٨/ سے * قدسی، ناقدین زبان و ادب کی نظر میں کس حد تک کامیاب ہیں؟* اسے دکھانے کے لیے ایک کامیاب سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور متعدد اہل علم و ادب کی جانب سے مختلف مواقع پر دیے گئے تاثرات جمع کردیئے گئے ہیں۔جی! ایک کامیاب شاعر یا ادیب کو جانچنے کے لیے اہل علم و دانش کے یہاں یہ معیار بھی مسلم ہے کہ ان کے ہم عصر اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اور چوں کہ وہ اس کی زندگی کے نشیب و فراز سے کافی حد تک باخبر بھی ہوتے ہیں۔اس لیے اس ضمن میں اگر قدسی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے ہے کہ قدسی اپنے ہم عصر ناقدین زبان و ادب کے یہاں بھی اپنے فنی‌،شعری و ادبی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہیں۔اس باب میں شمس الرحمن فاروقی، علی سردار جعفری،مظہر امام، کالی داس گپتا رضا، علقمہ شبلی، حقانی القاسمی، سید محمد اشرف برکاتی، ڈاکٹر خواجہ اکرام، کوثر چشتی اور پروفیسر انوار احمد زئی و سید صبیح الدین رحمانی پاکستان وغیرہ سمیت پاک و ہند کے تقریباً  ۵۰/  ناقدین کے تاثرات یکجا کر دیے گئے ہیں۔ساتھ ہی دو چند افراد کے منظوم تاثر اور قدیم وجدید کلام قدسی کے کچھ ایسے نمونے بھی شامل ہیں جو مطالعہ کے شوقین افراد کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔اخیر کتاب میں فتاوی کی شکل میں قدسی کے کچھ تحریری عکوث بھی شامل ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدسی خوش خطی کی دولت سے بھی مالا مال ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کی اولین نسائی آواز: رشیدۃ النساء بیگم – رخسار پروین )

یقیناً صدیقی کی یہ ایک کامیاب کوشش ہے کہ انھوں نے قدسی کو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر کردیا۔ جی ہاں!  فرصت طلبی کے ایسے دور میں قدسی کی ذات پر اس قدر  ضخیم کتاب کا منصہ شہود پر جلوہ گر ہو جانا خود قدسی کے لیے کسی معراج سے کم نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ صدیقی نے جس قدر محنت و لگن کے ساتھ عمدہ نہج پر قدسی کی ہمہ جہت شخصیت کو اہل علم و دانش کے یہاں متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ خوب سراہے جانے لائق ہے۔ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی مصنف کسی ذات کو تاریخ کے پنوں میں برابر جگہ دیتا رہے، مگر صدیقی نے قدسی پر کام کرنے کا جو سلسلہ وار بیڑا اٹھایا ہے وہ برابر اپنے جوہر دکھا رہا ہے۔

اس حوالے سے ڈاکٹر غلام مصطفی نجم القادری صاحب کا یہ پیراگراف دیکھیں:

(١) "صدیقی صاحب کی جگر کاوی کا کرشمہ نہیں تو اور کیا ہے؟ خدا ایسا ہم زلف ادب کے تمام محرم راز کو میسر فرمائے تاکہ گیسوئے فکر و خیال کی تابداری اور مشاطگی ہوتی رہے۔اگر مولانا صدیقی اتنا کچھ کر سکنے کی ہمت بھی رکھتے ہیں اور اس کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں تو علامہ قدسی سے بھی ہمیں امید ہے کہ وہ بھی صدیقی احساسات سے بے نیاز نہیں ہوں گے۔اپنے اوقات عزیز سے وقت نکالنا اور پھر قدسی فن پارہ کی ترتیب و تہذیب میں جٹ جانا صدیقی کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ تو پھر قدسی کی اولیات میں صدیقی جذبات کی نازکی شامل ہونی چاہیے”۔

یقیناً قدسی فکروفن کی تہذیب و تدوین صدیقی ترجیحات میں شامل ہے۔ اللہ ان دونوں کو سلامت رکھے اور یوں ہی راہ روانِ علم و ادب کے لیے برابر اپنے نئے نرالے علمی و فنی یادوں سے شاد کام کرتے رہیں۔(آمین یا رب العالمین)

ایں دعا از من و جملہ جہاں آمین باد

 

نوٹ:- کتاب حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔______

فون نمبر: 9892471264  ،  9930585533

Email address: siddiquirahmat92@gmail.c9m

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

وزیر احمد مصباحی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
یادوں کے چراغ : مولانا مفتی قاضی عبد الشکور قاسمیؒ – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں