Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras اگست 25, 2020
by adbimiras اگست 25, 2020 0 comment

سردار جعفری سے متعلق ایک اہم کتاب ( تجزیاتی مطالعہ) فیضان الحق

علی سردار جعفری کا شمارترقی پسند تحریک کے فعّال اراکین میں ہوتا ہے۔وہ نہ صرف ایک شاعر ،افسانہ نگار،ڈراما نویس اور نقاد تھے، بلکہ ترقی پسند فکر کے مبلغ،شارح اور وکیل بھی تھے۔عام طور پر علی سردار جعفری کا نام زبان پر آتے ہی ہمارے اذہان میں بڑی بڑی آنکھ،کشادہ پیشانی اور لمبے بالوں والا ایک ایسا چہرہ ابھرتا ہے جسے لوگ متشدد ترقی پسند ادیب کے نام سے جانتے ہیں۔لیکن تحقیق طلب امریہ ہے کہ کیا سردار جعفری ترقی پسند تحریک کو لے کر واقعی انتہا پسندی کے شکار تھے یا پھر ان کی شبیہ سازی میں کسی ادبی سیاست کا حصہ تھا ؟ دوسرا اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سردار جعفری کی تخلیق اور ان کی تنقید کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ کیا ان کی تخلیقات میں بھی ہم ان اصولوں کی پابندی دیکھتے ہیں جن کا ذکر انہوں نے خوداپنے تنقیدی افکار میں کیا ہے یا پھر ان کی تخلیق ،تنقید سے کچھ مختلف ہے؟تیسری اہم بات یہ ہے کہ سردار جعفری کے تنقیدی تصورات جامد، ٹھس اور ساکت قسم کے تھے یاپھر ان میں کوئی تبدیلی،انحراف یا اصلاح کی صورت بھی پائی جاتی ہے؟یہ اور ان جیسے متعدد امور کو لے کر سردار فہمی کی کوششیں ایک زمانے سے چلی آ رہی ہیں۔اس سلسلے میں مضامین کے علاوہ چند اہم کتابیں جو سردار جعفری کی شخصیت اور ان کے کارناموں کو مد نظر رکھ کر تصنیف کی گئیں ان میں’’علی سردار جعفری:شخصیت اور شاعری۔از محمد ایوب واقف(۱۹۸۴ء)، علی سردار جعفری شخصیت اور فن۔از علی احمد فاطمی(۱۹۹۴ء)، علی سردار جعفری: ایک مطالعہ۔از وارث علوی(۲۰۰۱ء)، علی سردار جعفری: ایک مطالعہ۔از رفیعہ شمیم عابدی(۲۰۰۲ء)، علی سردار جعفری:شخص ،شاعر اور ادیب۔از عبد الستار دلوی(۲۰۰۲ء) وغیرہ شامل ہیں۔علاوہ ازیںماہنامہ ’افکار‘ (۱۹۹۱ء) اور’’کتاب نما‘‘(۲۰۱۱ء) نے سردار جعفری نمبر شائع کرکے ان کے تئیں اپنی خراج عقیدت کااظہار کیا ہے۔لیکن سردار جعفری کی شخصیت کے بہت سے پہلو ابھی بھی تشنۂ تعبیر نظر آ تے ہیں اور ان پرنئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔سردار فہمی کی انہیں کوششوں میں سے ایک کوشش ’’غالب انسٹی ٹیوٹ‘ ‘ (دہلی) کے ذریعہ ۲۰۱۳ء میں کی گئی۔جہاں ایک شاندار بین الاقوامی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سمینار کے متعلق غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی صاحب لکھتے ہیں:
’’ہم نے ۲۰۱۳ء میں ممتاز ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری پر ایک بین الاقوامی سمینار کا انعقاد کیا تھا،جس میں ملک اور بیرون ملک کے اہم علماء اور ادباء نے شرکت کی تھی‘‘
( ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص ۷)
اس سمینار میں اردو زبان و ادب کی مایہ ناز ہستیوں نے شرکت کی تھی۔ جن میں پروفیسر شمیم حنفی،پروفیسر عتیق اللہ، ڈاکٹر خلیق انجم، پروفیسر ابوالکلام قاسمی، ڈاکٹر محمد ضیاء الدین احمد شکیب، پروفیسر علی احمد فاطمی ،جناب انور معظم، محترمہ کشور ناہید،ڈاکٹر ناصر عباس نیّر،جناب زبیر رضوی، ڈاکٹر مرزا حامد بیگ اور پروفیسر انیس اشفاق وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں۔ بعد میں سمینار میں پڑھے گئے مقالات کو کتابی شکل میں ’’ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری‘‘ کے نام سے ادارے نے ہی شائع کرکے قارئین کے سامنے پیش کیا۔ ہماری کوشش بس اتنی ہے کہ اس کتاب میں شامل مقالات کا تجزیاتی مطالعہ کرکے ان نتائج کو اخذ کیا جائے جن کے سبب سردار جعفری کی ادبی شخصیت کو پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ سردار جعفری کی تخلیقات کے ساتھ ان کے نتقیدی افکار کو کس نظر سے دیکھا گیا۔کتاب کے مطالعے سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس سمینار میںپڑھے گئے مقالات سے سردار جعفری کی ادبی شخصیت کس حد تک سامنے آسکی ہے اور اس کے کتنے گوشے ابھی تشنۂ تعبیر ہیں۔سردار جعفری کو سمجھنے میں آسانی ہو ،اس لئے کتاب میں شامل مقالات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلے میں شخصیت سے متعلق مقالات، دوسرے میں تنقیدسے متعلق اور تیسرے میںتخلیق سے بحث کرنے والے مقالات کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
(۱)شخصیت:
علی سردار جعفری کی ادبی سرگرمیوں کو ان کی شخصیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے کتاب میں شامل کچھ ایسے مقالات کا ذکر ضروری ہے جو ہمیں سردار جعفری کی پوری شخصیت سے روبرو کراتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے طویل اور تفصیلی مضمون ’’ علی سردار جعفری: حیات و شخصیت ‘‘(پروفیسر علی احمد فاطمی) ہے۔سردار جعفری سے پروفیسر علی احمد فاطمی کو گہری دلچسپی رہی ہے۔ جس کا ثبوت سردار جعفری سے متعلق ان کی دیگر تصنیفات و تالیفات سے ملتا ہے۔ان میں’’کلیات علی سردار جعفری ،’’ علی سردار جعفری :شخصیت اور فن‘‘،’’باقیات علی سردار جعفری‘‘ اور’’ علی سردار جعفری: حیات اور تخلیقی جہات‘‘ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔
کتاب میں شامل مضمون کے مطابق علی سردار جعفری کی پیدائش۲۹ نومبر ۱۹۱۳ ء کو بلرام پور( یوپی) کے ایک مہذب شیعہ خاندان میں ہوئی۔ان کے آباء و اجداد ایران کے مردم خیز شہر شیراز سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے۔ان کی ابتدائی تعلیم بلرام پور کے ایک اسکول میں ہوئی ۔انہوں نے محض پندرہ سال کی عمر میں ایک مرثیہ لکھا تھا اورسر منبر اس کو سنانے پربہت داد و تحسین حاصل کی تھی۔ اسی زمانے میں انہوں نے افسانے بھی لکھے اور اقبال جیسے بڑے شاعروں کے کلام کا مطالعہ کیا۔سردار جعفری کی ذہن سازی میں علی گڑھ کا اہم کردار رہا ہے جہاں انہوں نے لینن کے نظریات سے واقفیت حاصل کی۔تب تک ترقی پسند تحریک وجود میں آ چکی تھی اور سردار جعفری نے علی گڑھ ہی کی ایک محفل میں اپنا مضمون’’ جدید اردو ادب اور نوجوانوں کے رجحانات‘‘ کے نام سے پیش کیا تھا۔ جس میں انہوں نے ادب کی موجودہ تمام اصناف کی سمت و رفتار میں ترقی پسندی کے عناصر کی نشان دہی فرمائی تھی۔اسرار الحق مجازؔ اور سجاد ظہیر سے ان کی ملاقات نے علمی سرگرمیوں کو مزید تیز کر دیا۔ ۱۹۳۹ء میں انہوں نے سبط حسن اور مجاز کے ساتھ مل کر لکہنئو سے رسالہ ’’نیاادب‘‘ نکالنا شروع کیا۔۱۹۴۰ میں سردار جعفری کو ایک تقریر کی پاداش میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔اس گرفتاری کے خلاف خوب احتجاج ہوا۔ اور سردار جعفری نے اسی عالم اسیری میں انقلابی نظمیں لکھیں جو بعد میں ’’پرواز ‘‘ کے نام سے شائع ہوئیں۔ممبئی میںسجاد ظہیر کی رہائش گاہ پر ترقی پسندوں کے جلسے ہوا کرتے تھے۔سردار بھی اس میں شریک ہوتے رہے اور اپنی نظموں کے باغیانہ تیور سے ترقی پسندوں کا دل جیتتے رہے۔ممبئی میں قیام کے دوران ان کی تخلیقی سرگرمیاں بڑھ گئیں اور انہوں نے نظم نگاری اور تنقید نگاری کے ساتھ ساتھ ایک رسالہ ’’گفتگو‘‘ بھی جاری کیا۔اپنی ادبی سرگرمیوں کے بعد بالآخر ایک مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے سبب ۸۷ سال کی عمر میں یکم اگست ۲۰۰۰ء کو سردار جعفری اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے ۔
شخصیت سے متعلق دیگر مضامین میں ’’علی سردار جعفری یادوں کے ہجوم میں‘‘(محمد ضیاء الدین احمد شکیب)، ’’نوک قلم سے اوراق پر ابھری سردار جعفری کی یادیں‘‘(صغیر افراہیم) اور ’’علی سردار جعفری: اپنے خطوط کی روشنی میں ‘‘(خلیق انجم)شامل ہیں۔یہ مضامین سردار جعفری کی حیات اور ان کی شخصیت سے متعلق متعدد گوشوں کو ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔جس سے سردار کی شخصیت کو ان کے ملنے جلنے والوں اور دوستوں کے حوالے سے پہچاننا آسان ہو جاتا ہے۔خلیق انجم نے سردار جعفری کے متعدد خطوط کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ سردار کو اردو زبان سے بیحد لگائو تھا اور وہ ہندی والوںکے اردو زبان کے ساتھ غیر منصفانہ رویے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے تھے۔ڈاکٹر راج بہادر گوڑ کے نام ایک خط میں وہ لکھتے ہیں:
’’اردو کے سوال پر تمہارا مضمون میں نے پڑھ لیا تھا ۔ تمہارے رویّے کے بارے میں کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔لیکن اصل مسئلہ ہندی کے ترقی پسند ادیب اور ہندی کے پارٹی ممبروں کا رویہ ہے۔اکثر و بیشتر حضرات اردو کے خلاف ہیں اور جیسا تم جانتے ہو،آج سے نہیں بلکہ راہل شنکر تیاگی کے وقت سے،اب تک ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘
(ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص ۳۵)
ان خطوط میں سردار جعفری کی ادبی سرگرمیاں، دوستوں سے بات چیت اور اس وقت کے حالات کے متعلق بھی بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔اس اعتبار سے خلیق انجم صاحب کی مرتبہ کتاب’’ سردار جعفری کے خطوط‘‘ کی اہمیت مسلم ہو جاتی ہے۔
(۲)تنقید :
کتاب میں شامل مقالات کے سب سے اہم مباحث سردار جعفری کی تنقید اور ان کے افکار و نظریات سے متعلق ہیں۔ان مضامین میں سردار جعفری کو ایک نئے زاویے اور انصاف پسندی کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہاں کوئی بھی فیصلہ جذبات کی رو میں آ کر نہیں سنایا گیا ہے ۔ بلکہ تمام باتیں دلائل کی روشنی میں پیش کہی گئی ہیں اور دلائل کے لئے سردار جعفری کی تخلیقات اور تنقیدات کو ہی مد نظر رکھا گیا ہے۔اس سلسلے میں کتاب کا پہلا ہی مضمون ’’ترقی پسند ادبی روایت اور سردار جعفری‘‘(پروفیسرشمیم حنفی) ہمیں ایک نئی آگہی بخشتا ہے۔اب تک ترقی پسندی اور جدیدیت کے نظریات میں جو انتہا پسندی پیدا ہو چکی تھی اس کا تجزیاتی انداز میں مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ترقی پسندی اور جدیدیت جو کہ دو الگ الگ رجحان اور ایک دوسرے کی ضد کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، بعض معاملات میں ایک دوسرے کے کافی قریب آ جاتے ہیں۔اس لئے جب تک ہم ان کی قربت اور دوریوں کے اسباب کا بنظر غائر مطالعہ نہیں کریں گے یہ تحریکیں ہمیں دو مختلف سمتوں میں کھڑی نظر آئیں گی۔پروفیسر شمیم حنفی لکھتے ہیں:
’’جدیدیت کے میلان کی شروعات کے دور میں ترقی پسندی اور جدیدیت کے پر جوش وکلاء کے یہاں جو تصادم اور تنازعات کی فضا ملتی ہے، اس پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اختلاف واقعۃََ اتنا شدید نہیں تھا جتنا کہ دکھائی دیتا ہے۔جذباتیت کی رو میں میراجی اور راشد ،جن کا تخلیقی آدرش سردار جعفری اور فیض کے مقابلے میں یکسر مختلف بلکہ متضاد سمجھ لیا گیاتھا،اس کا جائزہ اب نئے سرے سے لینے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر اس لئے کہ بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی کے دوران ،جدید اور ترقی پسند دونوں حلقوں میں اشتعال اور اختلاف کی جو لہر نمودار ہوئی تھی ،اب غائب ہو چکی ہے۔اس پورے دور میں اگر ایک بار پھر سے داخل ہوا جا سکے ،نظریاتی کشمکش اور تصادم کے اس پورے قصے کو پھر سے دیکھا جا سکے تو ایک بدلہ ہوا منظر نامہ سامنے آتا ہے‘‘۔
(ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص ۱۲)
شمیم حنفی صاحب نے سردار جعفری کا مطالعہ اسی بدلے ہوئے منظرنامے میں کرنے کی دعوت دی ہے۔انہوںنے سردار جعفری کی کلاسیکی متن پر تنقید اور ان کے دیگر تنقیدی نظریات کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سردار جعفری کا مطالعہ اب نئے سرے سے بطور ایک ادیب کے کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔انہیں ترقی پسندی کی جڑوں میں باندھ کر رکھنے سے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ سردار جعفری نے وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو کافی تبدیل کر لیا تھا اور ان کی یہ فکری تبدیلی کبھی کبھی اتنی واضح ہو جاتی ہے کہ اپنے پچھلے افکار کی تردید کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔کبیر ؔ،میرابائیؔ،غالبؔ،اقبال ؔاور رومیؔ وغیرہ سے متعلق سردار کے افکار کو مد نظر رکھتے ہوئے شمیم حنفی صاحب لکھتے ہیں:
’’یہاں کبیر کو اردو کی شعری روایت یا ہندی کی شعری روایت کے ساتھ رکھ کر دیکھنے کے بجائے، دراصل انہیں ایک دیسی اور مقامی خلقیے کے ترجمان کی حیثیت سے سمجھا جانا چاہیے۔اس طرح سردار جعفری کی ترقی پسندانہ حسیت کے ایک نئے زاویے کی نشان دہی ہوتی ہے جس پر ان کے کسی اور ہم مسلک معاصرکی نظر نہیں پڑی تھی۔‘‘ (ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص ۱۴)
’’سردار جعفری اور مارکسی جمالیات ‘‘ کے عنوان سے ابو الکلام قاسمی نے بھی سردار جعفری کی فکری تبدیلی اور شدت میں اعتدال پیدا ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔خاص طور پر اقبال، میر اور غالب کے تعلق سے سردار جعفری کے پہلے اور بعد کے دونوں نظریات کو ایک ساتھ پیش کیا گیا ہے اور ان میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔وہی سردار جعفری جو ترقی پسندی کے نشے میں ہر ایک کو مارکسی نظریہ میں بند کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے ، اخیر میں ایک معتدل رویہ اور کھلے ذہن کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں ، جہاں ان کے اندر کلا سیکی ادب کا احترام بھی ہے اور وہ اس کی الگ شعریات کے بھی قائل ہیں۔مثال کے طور پر ترقی پسند تحریک سے اپنی ولولہ انگیز وابستگی کے زمانے میں انہوں نے اقبال کی شاعری میں فاشزم کی علامتیں تلاش کی ہیں:
’’اقبال نے اپنے شاہین کو تیمور،ابدالی ،نیپولین ،اور مسولینی کی شکل میں دیکھا تھا،اور ان کے نزدیک پوری انسانی تاریخ ایسے ہی خودی سے سرشار افراد کے اشاروں پر چلتی ہے اور فوق البشر کی تلاش میں ہے۔یہ انفرادیت پرستی اور ہیرو پرستی خالص بورژوا تصور ہے جو اپنی آخری شکل میں فاششٹ کا روپ دھار لیتی ہے۔‘‘
(ترقی پسند ادب۔علی سردار جعفری، انجمن ترقی اردو ہند،ص ۱۱۴،۱۹۵۷)
لیکن یہی سردار جعفری جب ’’اقبال شناسی‘‘ تصنیف کرتے ہیں تو نہ صرف ان کے تنقیدی نظریات بدل جاتے ہیں بلکہ وہ اقبال کی شان میں یوں قصیدہ خواں نظر آتے ہیں:
ناتوانوں کو عطا کی قوت ضرب کلیم
تو نے بخشے ملت بے پر کو بال جبرئیل
رند کیا ساقی بھی جس محفل میں پیاسا تھا وہاں
لے کے آیا دل کے پیمانے میں موج سلسبیل
زندگی دشوار تر کردی غلامی کے لئے
کھینچ دی اس طرح آزادی کی تصویر جمیل
اس کے علاوہ کتاب کے دیباچے میں اپنی بات کا آغاز وہ یوں فرماتے ہیں:
’’اقبال مسلم بیداری کے شاعر تھے۔اس میں ایشیائی بیداری شامل ہے۔اقبال ہندوستان کی بیداری کے شاعر تھے، اس میں پوری تحریک آزادی شامل ہے اور اقبال عالم انسانیت کی بیداری کے شاعر تھے ،اس میں اشتراکیت کی فتح اور کارل مارکس اور لینن کے افکار کی عظمت شامل ہے۔اقبال کی دوسری اور تیسری حیثیت ان کی پہلی حیثیت کی تردید نہیں کرتی بلکہ میرے نزدیک اس کی توثیق اور توسیع کرتی ہے۔کیونکہ ہندوستان اور ایشیا کی مسلم بیداری عالم انسانیت کی بیداری کا ایک حصہ ہے۔اقبال صحیح معنوں میں عالمی شاعر تھے‘‘
( اقبال شناسی۔ص۱۱)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سردار جعفری نے ترقی پسند تحریک کے متشدد نظریات سے اپنے آپ کو کافی الگ کر لیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اپنی ہی باتوں میں ایک تضاد کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔یہ تضاد دراصل سردار کے متحرک ذہن کی طرف اشارہ کرتا ہے جو وقت کی نزاکتوں کو بھانپ گیا تھا اور جس کے تبحر علمی نے اسے ایک نظریہ کا پابند بنانے سے انکار کر دیا تھا۔
ناصر عباس نیر صاحب نے اپنے مضمون’’ ترقی پسند اور نو ترقی پسند جمالیات ‘‘ کے تناظر میں سردار جعفری کی تنقید نگاری کا جائزہ لیا ہے۔مضمون نگار نے ترقی پسند جمالیات اور نو ترقی پسند جمالیات کا جائزہ لیتے ہوئے سردار جعفری کے ذوق جمال کو پیش کیا ہے۔یہ جمال دراصل فن پارے کو پرکھنے کا معیار ہے جس کی بنیاد پر کسی ادب پارے کی قدر و قیمت کا فیصلہ ہوتا تھا۔ناصر عباس نیر نے سردار جعفری کی تنقیدات کا معروضی مطالعہ پیش کرتے ہوئے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان کی اس درجہ بندی کوکئی معنوں میں ذہن قبول کرتا ہے اور جعفری کے تنقیدی افکار کے بتدریج ارتقاء کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
’’ان (سردار جعفری) کی تمام تنقیدیںترقی پسندانہ ہیں، تاہم ان کے یہاں ترقی پسندی کا تصور اول تا آخر یکساں اور جامد نہیں رہا۔ان کی تنقید کو ہم تین حصوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ایک حصہ تحریکی مقاصد کی وضاحت اور دفاع میں ہے۔دوسرا حصہ اس اشتراکی نظریہ سے اردو ادب کے مطالعے پر مشتمل ہے،جس کی اصل لیننی مارکسیت ہے۔تیسرا حصہ کلاسیکی شاعری کے ان مطالعا ت پر مشتمل ہے،جن میں کلاسیکی اشتراکی نظریے کے سلسلے میںاجتہادی رویہ اختیار کیا گیا ہے۔پہلے حصے کی حیثیت تاریخی ہے۔ دوسرا حصہ کئی متنازع تعبیروں اور انتہا پسندانہ محاکموں پر مبنی ہے، جبکہ تیسرے حصے میں بعض ایسے مطالعات کئے گئے ہیں جنہیں ہم اردو تنقید میں اہم قرار دے سکتے ہیں۔‘‘
(ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص۱۹۷)
ناصر عباس نیر نے سردار جعفری کی کلاسیکی تنقید کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس موقعے پر سردار جعفری نے ترقی پسند تحریک کے سیاسی کردار کو چھوڑ کر اس کے ثقافتی کردار کو اہمیت دی ہے۔اور سپید و سیاہ کے بیچ میں پائے جانے والے کچھ معتدل،بین بین، اور غیر واضح رنگوں کو بھی اہمیت دینے کی کوشش کی ہے۔اس اعتبار سے سردار جعفری کا یہ تنقیدی کارنامہ جوکہ ’’اقبال شناسی ‘‘اور’’ سرمایۂ سخن‘‘ کی شکل میں موجود ہے، قابل قدر ہے۔
’’ترقی پسند ادب: علی سردار جعفری‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر سرورالہدی نے علی سردار جعفری کی معرکۃ الآراء تصنیف’’ترقی پسندادب‘‘ کا بالتفصیل تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔اس مقالے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ’ترقی پسند ادب‘‘ کے پہلے ایڈیشن(۱۹۵۱) اور دوسرے ایڈیشن(۱۹۵۶)دونوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔اس کے سبب سردار جعفری نے پہلے ایڈیشن کی اشاعت پر اٹھنے والے سوالات اور اعتراضات کا جس احترام سے جواب دیا ہے اس سے بھی ہم آگاہ ہوتے ہیں۔اس مقالے میں سردار جعفری کی تصنیف کو بحیثیت ادبی تاریخ اور تنقید کی زبان کے اہمیت دی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ آج سے قریب پچاس سال قبل جب اردو میں تنقید کا کوئی مستقل ضابطہ وجود میں نہیں آیا تھا اس وقت اگر کوئی مصنف تنقید لکھ رہا ہے تو اس کی تنقیدی زبان کی اہمیت بہر حال مسلم رہے گی۔ وہ لکھتے ہیں:
’’جو لوگ اس کتاب کا نام سن کر بھڑک جاتے تھے انہیں کتنے اور کیسے قاری ملے۔وہ بھی تاریخ کا ایک جبر تھا جب یہ کتاب لکھی گئی اور یہ بھی تایخ ہی کا ایک جبر ہے جب یہ نئے سرے سے پڑھی جا رہی ہے۔پچاس سال پہلے اس کتاب نے فکری سطح پر جو دھول اڑائی تھی وہ ابھی بیٹھی نہیں ہے۔انتہا پسندی اور مضحکہ خیزی کی چاہے جتنی بھی مثالیں تلاش کر لی جائیں مجموعی طور پر اس کی معنویت کا سفر ابھی باقی ہے۔ تنقید کی زبان اور اس کے منصب پر گفتگو کرتے وقت بھی اسے حوالہ نہیں بنایا گیا۔مباحث اور نتائج سے اختلاف کے باوجود اس کتاب سے تنقیدی زبان کا ایک ماڈل بھی سامنے آتا ہے اور یہ بھی کہ تنقید وتجزیے میں قوت استدلال کی کتنی ضرورت ہے۔‘‘
(ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص،۳۲۳۔۳۲۴)
اس مضمون میں ’’ترقی پسند ادب‘‘ کے تمام مباحث کا باب در باب جائزہ لیا گیا ہے اور سردار جعفری کے نظری مباحث کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن بہت سے مقامات پر سردار جعفری کے تنقیدی نظریات پر سوال بھی کھڑے کئے گئے ہیں۔مثلا فانیؔ،اصغرؔ اور ن۔م راشد کے تعلق سے سردار جعفری کی تنگ نظری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔وہ سردار جعفری کی عبارت:’’فانی اور اصغر کا ذکر اس لئے نہیں کروں گا کہ ایک نے اپنی شاعری کو قنوطیت کا گھن لگا لیا اور دوسرے کا تصوف بے وقت کی راگنی تھا۔‘‘پر سخت گرفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’علی سردار جعفری نے دونوں شاعروں کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔اگر وہ چاہتے تو اپنی ترقی پسند روایت کو ان کے یہاں تلاش کر سکتے تھے۔فانی اور اصغر کے بارے میں یہ ایک غیر ذمہ دارانہ اور جلد بازی میں دیا ہوا بیان ہے۔اگر انہیں اپنی ترقی پسند روایت کا اتنا ہی پاس تھا توفراقؔ کے یہاں کیوں کر انہیں پسندیدہ اشعار مل گئے۔فراق کے جن شعروں کو درج کیا ہے انہیں مشکل سے ترقی پسند ثابت کیا جا سکتا ہے۔اس کی وجہ اور کچھ نہیں کہ فراقؔ نظری طور پر جتنے ترقی پسند تھے تخلیقی طور پر نہیں۔‘‘ (ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص ۳۳۹،۳۴۰)
اس مضمون کے آخر میں کتاب کے مطالعے سے جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں انہیںچودہ اہم نکات کی شکل میں معروضیت کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے جس سے کتاب کا پورا نچوڑ ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔اس کا آخری نکتہ جو غالبا فراق کی تصنیف کو ایک نکتے میں سمیٹ لیتا ہے وہ یہ کہ:
’’ترقی پسند ادب میں ‘‘ انسانی آوازوں اور دکھوں کو زندگی کے جن پہلوئوں سے قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ بدلی ہوئی اصطلاحوں کے ساتھ ہماری موجودہ ادبی فکر اور ڈسکورس کا حصہ ہے۔بعض اعتبار سے ’’ترقی پسند ادب ‘‘ کے چند مباحث آج کے مباحث معلوم ہوتے ہیں۔‘‘
(ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص۳۴۴)
کلاسیکی متن کی تنقید میں سردار جعفری کا ایک اور کارنامہ ان کی میرؔ شناسی ہے۔سردار جعفری نے ترقی پسندی کے اس دور میں جب کہ پرانی روایات کو از کار رفتہ سمجھ لیا گیا تھا اور اس کی معنویت سے لوگ یکسر انکار کر رہے تھے ایسے وقت میں سردار جعفری نے میر کا مطالعہ کیا اور کی شعری آفاقیت کو دنیا کے سامنے متعارف کرایا۔جعفری کی میر تنقید سے متعلق کتاب میں دو مضامیں شامل ہیں۔ ایک مضمون ’’سردار جعفری کا دیوان میر‘‘ کے عنوان سے پروفیسر انیس اشفاق صاحب کا لکھا ہوا ہے اور دوسرا مقالہ’’علی سردار جعفری کی میر نقید‘‘ کے عنوان سے پروفیسر احمد محفوظ صاحب نے رقم کیا ہے۔جہاں تک پہلے مضمون کی بات ہے تو اس میں انیس اشفاق صاحب نے سردار جعفری کے انتخاب’’دیوان میر‘‘ کو اب تک کا سب سے اچھا انتخاب قرار دیا ہے۔اس کی خوبی یہ بتائی گئی ہے کہ اس انتخاب میں سردار جعفری نے میر کے شعری اسلوب، موضوع اور رنگ سخن کا خاص خیال رکھا ہے۔اور ساتھ ہی انہوں نے اس انتخاب میں متن کی صحت کی طرف بھی توجہ دی ہے جو عام طور پر انتخاب میں دیکھنے کو نہیں ملتی اور اسے تدوین متن کا حصہ مان کر تساہلی برتی جاتی ہے۔متعدد خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس انتخاب میں کچھ خامیاں بھی راہ پا گئی ہیں جن کی جانب بھی انیس اشفاق صاحب نے توجہ دلائی ہے۔ اس میں پہلی کمی یہ پائی جاتی ہے کہ سردار جعفری نے ایک ہی بحر میں لکھی گئی مختلف غزلوں کو آپس میں ملا دیا ہے۔جس سے بسا اوقات یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ یہ مسلسل غزلیں ہیں۔جبکہ وہ دو الگ الگ غزلیں ہوتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اس انتخاب میں ایک نقص یہ بھی رہ گیا کہ میر کی شاعری میں امرد پرستی سے متعلق جو مضامین کثرت سے بیان کئے گئے ہیں ان سے متعلق کوئی شعر نقل نہیں کیا گیا ہے۔ جس سے میر کا وہ رنگ یہاں دیکھنے کو نہیں ملتا۔لیکن ان تمام نقائص سے پرے ’’دیوان میر‘‘ میر تقی میر کے رنگ سخن کو کافی حد تک سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اور اس کے شروع میں لکھا گیا دیباچہ میر کے شعری محاسن سے بحث کرتا ہے۔
جعفری کی میر تنقید سے متعلق پروفیسر احمد محفوظ صاحب کا مضمون کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔اس مضمون میں ’’دیوان میر‘‘ کے دیباچے کو خاص طور پر موضوع بحث بنایا گیا ہے اور اسی کی روشنی میں سردار جعفری کی میر تنقید کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔مضمون میں جعفری کی میر تنقید کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے لیکن میر سے متعلق ان کے ہر بیان کو آنکھ بند کرکے قبول نہیں کیاگیا ہے۔اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ پروفیسر احمد محفوظ نے میر کوپڑھتے ہوئے ایک لمبا وقت گزارا ہے اور اس کا ثبوت میرؔ سے متعلق ان کی خدمات (’کلیات میر‘،مطبوعہ این سی پی یو ایل اور ’بیان میر‘)سے مل جاتا ہے۔احمد محفوظ صاحب نے سردار جعفری کے کئی بیانات کی گرفت کی ہے جو وہ جذباتی رو میں آ کر لکھتے چلے گئے ہیں۔مثلا سردار جعفری کے مطابق میر تقی میر کے یہاں دل ’دلی‘ کا استعارہ بن گیا ہے۔اور میر نے زیادہ تر جگہوں کو اسے دلی ہی کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔پروفیسراحمد محفوط ان کے اس بیان پر کڑی گرفت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
دل کی بربادی کا کیا مذکور ہے یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
’’تو اس سلسلے میں یہی کہنا زیادہ مناسب ہے کہ یہاں میر نے دل کے نگر کے لٹنے کا مضمون بیان کیا ہے۔کیوں کہ یہ بات تو منطقی طور پر بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ غزل میں شہر دل کے لٹنے کا مضمون شاعر نے صرف دلی میں بیٹھ کر نہیں باندھا ہے۔پھر ایک بات اور بھی ہے کہ اگر میر کے ساتھ دوسرے شعراء نے بھی دلی شہرکی تباہی و بربادی اپنی آنکھوں سے دیکھی اور ان حالات سے خود بھی دوچار ہوئے اور پھر انہوں نے اپنے اشعار میں شہر دل کے لٹنے کا مضمون باندھا،تو ان کے بارے میں دل اور دلی کے ہم معنی الفاظ بننے والی بات کیوں نہ کہی جائے۔‘‘
(ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص،۲۹۸،۲۹۹)
ایک خاص بات اور جو اس مضمون میں اہمیت رکھتی ہے وہ میر کی فارسی تراکیب کا استعمال ہے ۔سردار جعفری کے مطابق میر نے فارسی تراکیب کا استعمال تو کیا ہے لیکن انہوں نے ہندوستانی لب و لہجے کو فارسی لب و لہجے پر ترجیح دی ہے۔اس پر بھی گرفت کرتے ہوئے احمد محفوظ صاحب لکھتے ہیں:
’’ایسا نہیں ہے کہ میر نے ہر جگہ فارسی الفاظ کو ان کی اصل صورت کے بجائے عام بول چال کی صورت میں استعمال کیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ایسے فارسی اور عربی الفاظ جو بول چال کے تلفظ کے ساتھ بہت معروف ہیں ،میر نے انہیں اصل زبان کے تلفظ کے لحاظ سے بھی کہیں کہیں برتا ہے۔مثلا اردو بول چال میںعام طور سے آنا َفاناََ زبانوں پر ہے، لیکن میر نے اس کو اصل صورت میںیعنی آناََ فآناََ استعمال کیا ہے۔اس طرح فارسی لب و لہجے پر ہندوستانی لب و لہجے کی ترجیح کی بات محل نظر ٹھہرتی ہے۔‘‘
(ترقی پسند شعری روایت اور علی سردار جعفری، ص ۲۹۹،۳۰۰)
اسی طرح سردار جعفری کا یہ بیان کہ میر کے شعر:
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا
میں ’’خیال‘‘ کو بغیر ’ی‘ کے پڑھا جائے گا کو بھی غلط ثابت کیا گیا ہے۔اور احمد محفوظ صاحب نے شعر کی تقطیع کرکے دونوں صورتوں کو صحیح قرار دیا ہے۔ اسی طرح خیال کے مماثل لفظ ’پیالہ‘‘ کی بھی دونوں صورتیں میر کے کلام سے پیش کی ہیں۔ اور دونوں صورتوں میں مستعمل ہونے کی مثالیں بھی اشعار کے ذریعہ دکھائی گئی ہیں۔اس مضمون سے ثابت ہوتا ہے کہ سردار جعفری کی میر تنقید گرچہ کئی مقامات پر کلاسیکی غزل کی شعریات اور رسومیات سے میل نہیں کھاتی لیکن پھر بھی اس دیباچے سے میر کے متعلق بہت کچھ معلوم کیا جا سکتا ہے۔
سردار جعفری کی کلاسیکی متن پر تنقید سے متعلق دو مضامین’’ سردار جعفری کی اقبال شناسی‘‘ (عمیر منظر) اور’’ سردار جعفری کی غالب شناسی‘‘( خالد علوی) بھی شامل ہیں۔جن میں سردار جعفری کے دیباچوں ہی کے تعلق سے غالب اور اقبال تنقید پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خالد علوی نے سردار جعفری کی غالب تنقید کی شروعات کی نشاندہی بہت پہلے ہی زمانے میں دریافت کی ہے جہاں ۱۹۴۷ء میں ’سویرا‘ کے اندر سردار جعفری کا ایک مضمون ’’غالب :عبوری دور کا شاعر‘‘ شائع ہوا تھا۔ان کے مطابق سردار جعفری نے غالب کے فکری عناصر اور ان کے فلسفیانہ مزاج کی نشان دہی کی ہے۔اور یہ بھی کہ غالب کی شاعری میں سردار جعفری نے پہلی مرتبہ دریافت کیاکہ ان کے یہاں تصور عشق میں جسمانیت زیادہ ہے اور افلاطونیت کم۔سردار جعفری نے غالب پر لکھے گئے اپنے آخری مضمون’’ غالب کی کہانی سردارجعفری کی زبانی‘‘ مطبوعہ ’’ نوائے ادب‘‘ ممبئی ۲۰۰۰ میں بھی غالب کی آفاقیت کو تسلیم کیا ہے اور اسے کئی زمانوں کا شاعر قرار دیا ہے۔اس اعتبار سے غالب پر سردار جعفری کی تنقید ، پہلی ترقی پسند تنقید ہے جو کئی معنوں میں اہمیت کی حامل ہے۔
(۳)تخلیق:
سردار جعفری کی شخصیت کا تیسرا اہم گوشہ ان کی تخلیقات و نگارشات ہیں۔اس بات سے کوئی بھی دانشور انکار نہیں کر سکتا کہ سردار جعفری کے اندر بے پناہ تخلیقی صلاحیت موجود تھی اور اس کا اظہار انہوںنے متعدد مواقع پر اپنی نظموں، افسانوں اور ڈراموں کے ذریعہ کیا ہے۔جعفری کی تنقید سے پرے ان کی شاعری اپنی الگ پہچان رکھتی ہے اور اس میں کئی سطحیں بھی موجود ہیں۔سردار جعفری کی تخلیقی صلاحیتوںکا جائزہ بھی کتاب میں شامل کئی اہم مضامین میں لیا گیا ہے۔اس سلسلے میں سب سے پہلا اور اہم مضمون پروفیسر عتیق اللہ صاحب کا ’’ سردار جعفری کے کالم میں شعری عمل کی سطحیں‘‘ ہے۔آپ نے اس مضمون میں سردار جعفری کے کلام کی کئی سطحیں دریافت کی ہیں۔ اور انہیں الگ الگ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب سردار جعفری کے کلام پر یکسر کوئی رائے قائم کرنا دانشمندی نہیں کہلائے گی۔عتیق اللہ صاحب کے مطابق سردار جعفری کی ایک شعری سطح ایسی ہے جو ان کے بلند و بانگ صدا، بغاوتی لہجہ اور خطابت سے بھرپور ہے۔ ان کی اس قسم کی شاعری تحقیر سے شروع ہو کر تنفیر تک جا پہنچتی ہے۔اور اکثر اس قسم کی شاعری کسی مخصوص تاریخی واقعے کے پس منظر میں وجود میں آتی ہے۔ان کی اس نوعیت کی نظموں میں ’’پرواز‘ اور ’’اور ایشیا جاگ اٹھا‘‘ کو رکھا جا سکتا ہے۔جہاں ان کا باغیانہ تیور صاٖف دکھائی دیتا ہے۔اس کے علاوہ ان کی دوسری شعری سطح وہ ہے جہاں وہ تصویروں کے ذریعہ سوچتے ہیں اور مختلف تصاویر کا نگار خانہ آباد کرکے اپنے خیالات کی ترسیل کرتے ہیں۔ان کی اس قسم کی نظمیں تصویروں کا آئینہ ہوتی ہیں جو قاری کے ذہنی دیواروں پر نقش ہو جاتی ہیں۔ایسی نظموں میں سردار کا شعری تصور جاگ اٹھتا ہے اور وجدانی کیفیت جوش مارنے لگتی ہے۔یہ نظمیں نئے تجربے اور نئے احساس دونوں سے لبریز ہوتی ہیں۔ سردار جعفری کی اس قسم کی نظموں میں ’’اودھ کی خاک حسیں کے نام، نیند، پتھر کی دیوار، نومبر میرا گہوارہ، سمندر کی بیٹی، شہزادی، میرا سفر اور حسین تر وغیرہ شامل ہیں۔نظم حسین تر کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے:
ہماری عمر رواں کی شبنم
تری سیہ کاکلوں کی راتوں
میں تار چاندی کے گوندھ دے گی
ترے حسیں عارضوں کے رنگیں
گلاب بیلے کے پھول ہوں گے
شفق کا ہر رنگ غرق ہوگا
لطیف و پر کیف چاندنی میں
تری کتاب رخ جواں پر
کہ جو غزل کی کتاب ہے اب
زمانہ لکھے گا اک کہانی
اور ان گنت جھریوں کے اندر
مری محبت کے سارے بوسے
ہزار لب بن کے ہنس پڑیں گے
سردار جعفری کی شاعری سے متعلق دوسرا اہم مضمون’’ترقی پسندانہ شعری روایت اور علی سردار جعفری‘‘ ( مرزا حامد بیگ)ہے۔اس مضمون میں مرزا حامد بیگ نے پوری ترقی پسندروایت کا جائزہ لینے کے بعد ان کے اندر پیدا ہونے والی ہیئتی اور موضوعی تبدیلوںکی نشان دہی فرمائی ہے۔اور مثالوں کے ساتھ اسے واضح کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ترقی پسند حضرات کس طرح غزل کے دشمن تھے اور پھر انہیں کے شعراء،فیض، مخدوم، مجروح، جذبی وغیرہ نے اسے اپنا لیا۔مرزا حامد بیگ نے اس پوری شعری روایت کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سردار جعفری کو ان کے بلند و بانگ لہجے نے نقصان پہنچایا اور جو نظمیں اس عیب سے خالی ہیں ان میں ایک جاذبیت پیدا ہو گئی ہے۔انہوں نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ غزل سے متعلق سردار جعفری کی پریشانی مجازؔ سے لے کر فیضؔ تک جاری رہتی ہے ۔ لیکن پھر ستر کے دہے میں سردار کی نظم کا ایک ٹکرا’’ یہ آب و خاک و باد کا جہاں بہت حسین ہے‘‘ جدید غزل کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔اس طرح سردار کی غزل دشمنی کچھ کام نہیں آتی اور آگے چل کر ان کی نظم کے بطن سے ہی غزل کے دھارے پھوٹنے لگتے ہیں۔
’’سردار جعفری کااسلوب شعر‘‘ کے عنوان سے زبیر رضوی صاحب نے ایک عمدہ مقالہ لکھا ہے جس میں سردار جعفری کی شاعری کے تمام بنیادی محرکات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ان کے مطابق سردار جعفری انقلاب کا خواب دیکھتے تھے اور اس انقلاب کے لئے لوگوں کو جنگ پر اکسانے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ان کی نظم ’’دشمن کون ہے‘‘ اس کی کھلی مثال ہے۔اس کے علاوہ ہند پاک دوستی قائم کرنا بھی سردار جعفری کی شاعری کا ایک بنیادی متحرک رہا ہے۔زبان کی سطح پر سردار جعفری آرائش کا خاص خیال رکھتے ہیں تاکہ عوام تک ان کی بات پہنچ جائے اور مخاطب کو نعرہ یا پند نہ معلوم ہو۔اسی طرح ان کی شاعری کا ایک حاوی رجحان اشتراکی نظام حیات کی دین آفاقیت اور بشریت بھی ہے۔جسکی مثال’ہمارے نام‘‘ میں موجود ہے۔زبیر رضوی نے سردار جعفری کی موقع پرستی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور جارحانہ لہجے میں لکھی گئی ان کی نظموں سے اس کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔
سردار جعفری کی شاعری پر تنقید کے علاوہ ان کی دو اہم نظموں کا تفصیلی تجزیہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔اس میں پہلا مضمون ’’اودھ کی خاک حسین : ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ (سید محمد عقیل) اور دوسرا مضمون’’ نئی دنیا کو سلام: پس نو آبدیاتی اظہار‘‘( مولا بخش)ہے۔
نظموں کے علاوہ سردار جعفری کی غزلوںکا بھی تنقیدی جائزہ ایک مضمون’’ سردار جعفری بحیثیت غزل گو‘‘ (صالحہ زریں) میں پیش کیا گیا ہے۔شاعری کے علاوہ سردار جعفری کی نثری تصنیفات سے متعلق بھی دو اہم مضامین اس کتاب میں شامل ہیں ، جس میں پہلا مضمون ’’سردار جعفری کی نثر‘‘ ( قمر الہدی فریدی) اور دوسرا ’’ سردار جعفری کے ڈرامے میں عورت کا کردار‘‘ ( محمد کاظم) شامل ہے۔
اس لحاظ سے اگر سردار جعفری کی ادبی شخصیت کی مختلف جہات کی بات کی جائے تو یہ کتاب ان میں سے اکثر کا احاطہ کر تی نظر آتی ہے۔یہاں ہمیں سردار جعفری کی شخصیت اور ان کے حالات زندگی سے بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے اور ان کی ادبی سرگرمیاں بھی سامنے آ جاتی ہیں۔اس کے علاوہ ترقی پسند تحریک سے سردار کی وابستگی، ان کے تنقیدی نظریات، کلاسیکی متن پر تنقید، اور نظم نگاری سے بھی کافی حد تک آگہی ہو جاتی ہے۔تنقید سے متعلق مختلف مضامین ہمیں نہ صرف سردار جعفری کے شعری اور تنقیدی اسلوب اور نظریات سے باخبر کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت میں آنے والی تبدیلی سے بھی ہمیں آگہی ہوتی ہے۔ایسے میں اگر کوئی گوشہ چھوٹتانظر آتا ہے تو وہ سردار جعفری کی افسانہ نگاری ہے۔ لیکن مجموعی طور پر اس کا بھی کئی جگہ ذکر آ جانے سے کسی حد تک تلافی ہو جاتی ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سردار جعفری کو سمجھنے کے لئے یہ کتاب بنیادی اور اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایک مبتدی طالب علم کے لئے معلوماتی اور معاون ہونے کے ساتھ ساتھ دانشوروں کے لئے حوالہ جاتی کتاب کا بھی درجہ رکھتی ہے ۔اس میں شامل بعض مضامین ہمیں موٹی موٹی کتابوں کے مقابلے میں بھی زیادہ مفید اور تحقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ اس میں ایک ہی شخص سے متعلق مختلف دانشوروں کے خیالات جمع ہو گئے ہیں، جس کے سبب سردار جعفری تنقید یک رنگی اور جانب داری کا شکار نہیں ہونے پائی ہے۔ اس میں اگر کہیں سردار جعفری کی تعریف کی گئی ہے تو ان کے بعض نظریات و افکار پر سخت گرفت بھی موجود ہے۔کتاب کی یہی خوبی ہمیں سردار جعفری کو آزادانہ طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

 

نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی  میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

 

 

ترقی پسندعلی سردار جعفری
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
تنقیدی اصطلاحات: تعیین قدر کا مسئلہ- پروفیسر کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
بے قراری سی بے قراری ہے-نایاب حسن

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں