اصطلاح خواہ کسی صیغۂ علم سے تعلق رکھتی ہو، اس کا بنیادی مقصد ایجاز واختصار ہوتاہے۔ اصطلاح اپنی زبان میں بھی وضع کی جاتی ہے اور درآمد بھی کی جاتی ہے۔ یعنی جب کسی دوسری زبان سے معانی کی ترسیل مقصود ہوتی ہے، تو اس کے متبادل کے طور پر اپنی زبان میں اصطلاح وضع کی جاتی ہے۔ لیکن اس عمل میں اکثر یہ کوتاہی راہ پاجاتی ہے کہ دوسری زبان کے الفاظ یا اصطلاحات کے لفظی ترجمے پیش کردیے جاتے ہیں۔ اصطلاح سازی میں ترجمہ تو پہلی منزل ہوتی ہی ہے، لیکن اگر کسی زبان کے معنوی پس منظر اور تہذیبی سیاق سے واقفیت نہیں تو یہ اصطلاحات سازی کا عمل محض ایک مشق فضول بن کر رہ جاتا ہے۔ ایک چھوٹے سے لفظ (اصطلاح) میں بڑی سے بڑی دنیا آباد ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ وحیدالدین سلیم نے بجاطورپر لکھاہے کہ ہراصطلاح ایک چھوٹی علامت ہوتی ہے جوبہت بڑے مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اصطلاح سازی کے لیے کسی بھی لفظ کے مترادفات سے واقفیت ضروری ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ آتاہے کہ ان مترادفات میں سے کون سا اردو، عربی یا فارسی کا لفظ ایسا ہے جو انگریزی یا دوسری کسی زبان کی اصطلاح کی تمام معنوی جہات کو پیش کرسکتاہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ماہرزبان ولسان کاامتحان ہوتاہے اور اس امتحان سے گزرنے کے لیے احتیاط لازمی ہوتی ہے۔ یہ احتیاط اور چھان پھٹک تمام ترعملی، سائنسی، معاشی، سیاسی،صحافتی اور ادبی اصطلاحوں کے لیے ضروری ہے۔
یہ بات محل نظر ہے کہ کوئی تخلیق کار ان اصطلاحوں کے چکر میں نہیں پڑتا۔ شاید تخلیق کار کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ اب ایسا بھی نہیں کہ اُسے اصطلاحوں سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہیے یا یہ بھی نہیں کہ یہ اس کے کسی کام کی نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ناول یا افسانے کے بیانیہ میں یاکرداروں کے مکالموں میں ایسی صورت پیداہوجائے کہ ان ادبی اصطلاحوں کی کھپت کی جاسکے۔ ایسا تو ہے نہیں، کہ تمام ادبی اصطلاحوں پرنقادوں کاحق ہے، یابہ الفاظ دگر، یہ کہ ان کی اجارہ داری ہے۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ اصطلاحوں کو Toolsکے طورپر اردو میں نقادوں ہی نے زیادہ سے زیادہ استعمال کیاہے۔ میں بھی یہاں جن اصطلاحوں سے بحث کروں گا ان میں سے بیشتر وہی ہوں گے جو ہمارے نقاداستعمال کرتے رہے ہیں۔
ارد و میں اصطلاح سازی کا کام باضابطہ طورپر دارالترجمہ حیدر آباد کے قیام کے بعد شروع ہوا۔ اس کے علاوہ سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی، آگرہ میڈیکل کالج،جامعہ ملیہ اسلامیہ، انجمن ترقی اردو،اورنگ آباد ثم پاکستان، دارالمصنّفین وغیرہ کے نمونے بھی موجود ہیں۔اس سے پہلے انفرادی طورپر ادیب وناقد وضع اصطلاحات کرتے رہے۔ دھیرے دھیرے جس قدر مختلف علوم وفنون اردو میں آتے گئے اصطلاحوں کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔ لہٰذا عہدجدید میں دیکھیں توابلاغ عامہ یعنیMass – Communicationاور سائنس اور روز افزوں کمپیوٹر کے فروغ پذیر عہد میں اردو کا دامن وسیع کرنے کی ضرورت ہوئی۔ لہٰذا اس طرف بھی کام چل رہاہے۔ ہندوستان میں گرچہ توجہ کم دی جارہی ہے لیکن پاکستان میں سائنسی اور دیگرعلوم کی اصطلاح سازی پر خاصی توجہ دی جارہی ہے۔ مقتدرہ،پاکستان کا تو سارا زور ہی اردو زبان اوراصطلاحات کے فروغ اورتحفظ پر ہے۔
ماہرین لسانیات نے تقریباً۱۴ طریقے گنائے ہیں جن سے مدد لے کر کوئی بھی زبان نئے الفاظ یا تراکیب وضع کرکے اپنی ضرورت پورا کرتی ہے۔ کچھ لوگ صرف اُنہی الفاظ یااصطلاحوں کو تسلیم کرتے ہیں جو پہلے سے رائج ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ایک شخص یہ کام کرے تو اسے قبولیت کا درجہ نہیں ملنا چاہیے۔ حالانکہ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ کسی بھی لفظ یا اصطلاح کے صورت پذیر ہونے کے وقت پوری اردو دنیا یاپوری قوم ایک پلیٹ فارم پر توہوتی نہیں۔ البتہ کچھ تنظیمیں یا کچھ کمیٹیاں ضرور ہوتی ہیں جو اس ذمہ داری کو نبھاتی ہیں۔
اس مضمون میں اصطلاح سازی کے تمام اصولوں سے بحث نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اس کے مختلف طریقوں کو پیش کیا جائے گا۔ ادبی اصطلاحات کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ لہٰذا یہ بھی ممکن نہیں کہ ان تمام رائج اصطلاحوں کو زیربحث لایا جاسکے۔ میں یہاں اپنی سہولت کے لیے چنداہم رائج اصطلاحوں کو پیش کرتے ہوئے ان کی تعیین قدر سے گفتگو کروں گا۔ اس عمل میں زیادہ تر وہ اصطلاحیں ہوں گی جو جدید ناقدوں کے حربے اور Toolsبن چکے ہیں۔
آج کسے یقین آئے گا کہ Mythology کے لیے ’خرافیات‘ جیسی اصطلاح گھڑی گئی تھی۔ اس کے لیے زیادہ موزوں اصطلاح ’’خرافیات‘‘ ہی سمجھی گئی۔ محمدحسن نے اپنی کتاب ’’مشرق ومغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ‘‘ میں اس کے لیے’ صنمیات‘ اور’خرافات‘ لکھاہے۔لیکن بعدمیں اس کے لیے علم الاصنام (فارسی) اور علم اساطیر(عربی) جیسی اصطلاحیں رائج ہوگئیں۔آج تو خیر اس پر موٹی موٹی کتابیں موجود ہیں۔ البتہ اردو اساطیری علوم سے اب بھی تہی دامن نظرآتی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک اصطلاح جوآج سامنے آئی ہے، ممکن ہے کہ کچھ دنوں یا کچھ زمانوں کے بعد اس سے بھی زیادہ مناسب اور قابل قبول اصطلاح سامنے آجائے۔ ٹھیک اس کا الٹا بھی ہوسکتا ہے، یعنی ایک رائج اور موزوں اصطلاح کو محض بدل کر نئی اصطلاح پیش کردینے کی دھن میں ترجمے کردیے جائیں۔ جیسے تین اصطلاحیں انگریزی کے متبادل کے طورپر استعمال ہوتی ہیں:Consciousکے لیے شعور،Subconsciousکے لیے تحت الشعور اور Unconsciousکے لیے لاشعور۔لیکن پروفیسرآل احمدسرور نے اپنے مقالہ ’’تراجم اوراصطلاح سازی کے مسائل‘‘ میں تینوں کے لیے بالترتیب آگہی، زیرآگہی اور ناآگہی جیسی اصطلاحات وضع کیں جو محض زیب داستاں یا قصّۂ پارینہ کا حصہ ہوکر رہ گئیں۔ اس طرح کی مثالیں بہت مل سکتی ہیں۔ جیسے یہی کہ ایک زمانے میں Phychology کے لیے ’علم النفس‘ لکھا اور بولا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک ہی مترجم 1923 میں علم النفس لکھتاہے اور 1927 میں نفسیات کی اصطلاح استعمال کرتاہے۔مرزا محمدہادی رسوا نے اسٹورٹ کی کتاب Ground work of Psychologyکا ترجمہ 1923 میں ’’مبادی علم النفس‘‘ کیا اور ولیم میکڈوگل کی کتاب Social Psychologyکا ترجمہ رسوا نے ہی1927 میں ’معاشرتی نفسیات‘‘ کے نام سے کیا۔ اس کے بعدآج تک علم النفس کے بجائے اب نفسیات اورعلم نفسیات ہی مستعمل ہے۔ یعنی اس کی تعیین قدر کا مسئلہ حل ہوچکاہے۔
ساختیات(Structuralism): اردو میں Structureکوڈھانچہ،خاکہ یا ساخت کہہ سکتے ہیں۔ لیکن انگریزی میں ‘ism’لگاکر جب باضابطہ کسی رجحان یا تحریک کی وضاحت کی گئی تو اس کے لیے ساخت+یات=ساختیات کردیاگیا۔ پروفیسر گوپی چندنارنگ، پروفیسر وہاب اشرفی، پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسری حامدی کاشمیری، پروفیسرابوالکلام قاسمی، احمدسہیل، پروفیسرقاضی افضال حسین وغیرہ نے ساختیات کو ہی رائج کیا۔ حالانکہ مجھے لگتا ہے کہ ساخت+یت= ساختیت سے بھی کام چل جاتا جس طرح ہم نے Modernism کے لیے جدیدیات کے بجائے جدید+یت=جدیدیت کرلیاتھا۔ حالانکہ اسے بھی جدیدیات کیاجاسکتا تھا، کیونکہ یہ بھی کسی رجحان اور ‘ism’کوظاہر کرتی ہے۔ Structrualismکے لیے شمس الرحمن فاروقی نے ساختیت اورساختیات سے الگ ہٹ کر ایک اصطلاح بنائی وضعیات (ساحری، شاہی،صاحب قرانی،ص:108) لیکن یہ رائج نہ ہوسکی۔
پس ساختیات(Post structruralism): یہاں صرف یہ کہنا چاہتاہوں کہ Postکے لیے ’پس‘ کا سابقہ اگریہاں ہوسکتا ہے تو پھر Post Modernismکے لیے ’مابعد‘ کا سابقہ کیوں استعمال کیاجاتاہے؟ گرچہ اس کی تعیین قدر کا مسئلہ حل ہوچکاہے اور مابعدجدیدیت کی اصطلاح اس قدر جاری و ساری ہوچکی ہے کہ اب اس کی جگہ پس جدیدیت لکھنا یا بولنا اچھا نہیں لگتا۔ یا پھر یہ ہوسکتا تھا کہ پس ساختیات کے بجائے ’مابعدساختیات‘ وضع کی جاتی۔ انگریزی میں جس طرح دونوں کے ساتھ Postبطور Prefixکے آیاہے، کیا یہ ممکن نہیں تھاکہ ہمارے علماء نقدوادب اردومیں بھی پس ساختیات کی طرح پس جدیدیت یا پھر مابعدجدیدیت کی طرح مابعدساختیات رائج کرتے؟ اس سے یکسانیت قائم رہتی۔ کچھ لوگوں نے پس جدیدیت کہیں کہیں لکھا بھی ہے لیکن دراصل قافلہ سالارنے اس طرف توجہ نہیں کی۔
نشانی(Emblem): شمس الرحمن فاروقی نے Emblemکے لیے لفظ ’نشانی‘ لکھاہے۔ اپنی کتاب شعر،غیرشعر اورنثر کے ایک مضمون ’’علامت کی پہچان ‘‘میں اس کا استعمال کیا ہے جب کہ اسی کتاب کے ن م راشد والے مضمون میں Emblemکے لیے انھوں نے لفظ ’آیت‘ استعمال کیاہے۔ ساتھ ہی آیت کا استعمال انھوں نے علامت کی پہچان والے مضمون میں Signکے لیے بھی کیاہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ لفظ آیت بھی نشانی کے بطور استعمال ہوتاہے جیساکہ قرآن میں اللہ نے آیات کا استعمال اپنی نشانیوں کے لیے کیاہے۔ لیکن سوال ان دونوں کے مترادف ہونے کا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ انگریزی کے لفظ Sign اور Emblem دونوں کے لیے کبھی آیت تو کبھی نشان استعمال کرنے سے کیا Confusionکی صورت پیدا نہیں ہوتی؟ میرے خیال سے انگریزی میں دونوں کے استعمال کا محل بھی الگ الگ ہے۔ پھر یہ کہ اصطلاح تو بالکل واضح اور غیر پیچیدہ ہونی چاہیے۔ دوسرے لوگوں نے بھی الگ الگ متبادل لکھے ہیں۔Emblemکے لیے احمد سہیل نے نقش متن وتمثال لکھاہے۔ (ساختیات: تاریخ، نظریہ اور تنقید، ص414)
ظاہر ہے کہ یہ بھی تمثال کے سبب پیکر اور انگریزی کے Imageسے ذرا قریب نظرآتاہے۔ لانگ مین ڈکشنری میں اسے جملے میں اس طرح استعمال کیا گیاہے:National emblem of England is a rose یہاں پر قومی نشان کے لیے استعمال ہواہے۔ لہٰذا یہاںNational signنہیں لکھ سکتے۔ اگر اس کا ترجمہ اردو میں کریں تو یوں نہیں کرسکتے کہ انگلینڈ کی قومی آیت گلاب ہے۔ احمد سہیل نے تمثال لکھ کر تواسے اوربھی بھیانک اصطلاح کا روپ دے دیاہے۔ شاید تمثال کو انھوں نے علامت کے مساوی تصور کرلیاہے۔ آئیے اس تمثال کابھی محاسبہ کرتے چلیں۔
تمثال(Image): اس کے لیے مشہور ناقد اورنظریہ ساز سید سجاد باقررضوی نے انگریزی کے Imageکا لفظ استعمال کیاہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے Imageکے لیے پیکر کی اصطلاح استعمال کی ہے جو تقریباً جمہور کے نزدیک قابل قبول بھی ہے۔ لیکن اس کا کیا کریں کہ انھوں نے تمثال کے لیے انگریزی لفظRepresentationکا استعمال کیاہے جبکہ انگریزی میں یہ کوئی اصطلاح نہیں ہے۔ اس سے بھی دوقدم آگے اگراردو میں انگریزی لفظوں کی درگت دیکھنی ہو تو آپ رام بابوسکسینہ کی کتاب A History of Urdu Literatureکا اردو ترجمہ از مرزا محمد عسکری دیکھئے کہ جس میں Imageاور Imageryکے لیے جگہ جگہ بالترتیب تشبیہ اور استعارہ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ اس کا حوالہ شہپر رسول نے بھی اپنی کتاب ’’اردوغزل میں پیکرتراشی‘‘ میں دیا ہے۔ مرزا محمد عسکری نے اگرImageکے لیے تشبیہ کے بجائے شبیہ یا نقش لکھ دیا ہوتا تو شاید کچھ کام بھی چل جاتا۔ کلیم الدین احمد نے یہی متبادل لکھے ہیں۔ ساتھ ہی پیکر بھی لکھاہے۔ (بحوالہ:ادبی اصطلاحات)۔
مولوی عبدالحق نے Imageکے معنی یوں لکھے ہیں: صورت بنانا، تصویر بنانا، شبیہ بنانا، منعکس کرنا،تصور کرنا، وضاحت سے بیان کرنا،مثال ہونا وغیرہ۔ (انگلش اردوڈکشنری)۔ فاروقی صاحب نے جوانگریزی کے لفظRepresentationکے لیے تمثال کا لفظ استعمال کیاہے وہ شاید قابل قبول نہ ہو کیونکہ اس میں تمثال سے زیادہ قیادت کارنگ نظرآتاہے۔ مجھے لگتاہے کہ اس پر مزید غوروفکر کی ضرورت ہے۔
Binary Opposition: اردو تنقید میں اس اصطلاح کا استعمال بھی خوب خوب ہوتاہے۔ لیکن اپنے اپنے طورپر ہرایک نے اسے اردوجامہ عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے لیے پروفیسرعتیق اللہ نے اپنی کتاب ’’ادبی اصطلاحات کی وضاحتی فرہنگ‘‘ میں جوڑے دار ضدین لکھاہے۔ انھوں نے اسی میں پروفیسر گوپی چندنارنگ کے حوالے سے لکھاہے کہ زبان چونکہ ساخت پر مبنی ہے، اس لیے زبان کا نظام ساختیاتی ہے۔ یہ ساختیاتی نظام ہمیشہ یک زمانی (Synchronic) ہوتاہے اور چونکہ زبان کے بولتے ہی اس کے منظم ہونے کا احساس ہوتاہے اس لیے آوازوں کے اصول یعنی فونیمی اصول زبان کے اساسی ساختیاتی اصول ہیں۔۔۔ ان کی بنیاد جوڑے دار فرق پر یادورخے تضادات (Binary of Positions)پرہے۔ (ص310) اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ نارنگ صاحب نے اس کے لیے جوڑے دار فرق یا دورخے تضادات کو مناسب سمجھاہے۔ حالانکہ نارنگ صاحب نے اپنی مابعدجدیدیت والی کتاب (ص76) میں جوڑے دار اضدادلکھاہے۔ اسی کے لیے پروفیسر قاضی افضال حسین نے تثنیتی تخالف کا استعمال کیاہے۔ ظاہرہے کہ عربی کے تثنیہ سے تثنیتی بنایاگیاہے۔ لیکن یہ ایک ثقیل اور غیرمانوس اصطلاح ہے۔ مولوی عبدالحق کے زمانے میں انجمن ترقی اردو کی نگرانی میں جو اصطلاحات سازی کا کام عمل میں آیاتھا اس میں جغرافیہ کی ایک اصطلاح Binary Starsکے لیے ثنائی ستارے اورنجوم ثنویہ کا استعمال ہواہے۔ اگروہیں سے Binaryکے لیے ثنائی لے کر ضدین کے ساتھ جوڑ دیاجاتا تو یہ تفریق پیدا نہ ہوتی اور ثنائی ضدین بہت مناسب اصطلاح اردو میں بن جاتی اور تخالف کے تنافر سے بھی ہم بچ جاتے۔ ایک اور عالم جناب ضمیرعلی بدایونی نے ا س کے لیے زوجی تضاد وضع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اسے بھی قبولیت عام کا درجہ حاصل نہیں ہوسکا۔ جہاں تک میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے ثنائی ضدین مناسب ہوگا یاپھر عتیق اللہ صاحب نے جو عام فہم اصطلاح وضع کردی ہے یعنی جوڑے دارضدین، اسے ہی قبول کرلیاجانا مناسب ہوگا کہ اس میں معانی ومفاہیم کی ترسیل آسانی سے ہوجاتی ہے۔ نارنگ صاحب کے ’دورخے تضادات‘ اورقاضی افضال حسین کے’ تثنیتی تخالف‘ سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔
Signifier, Signified: اردو میں بیشتر نقادوں نے دال اور مدلول کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ حامدی کاشمیری نے Signifierکے لیے معنی نما اور Signifiedکے لیے تصورمعنی کی اصطلاح رائج رکھی ہے۔ اسی طرح احمد سہیل نے بھی اپنی کتاب ’’ساختیات: تاریخ،نظریہ اور تنقید‘‘ میں یہی لکھاہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی،قمرجمیل نے بھی اسی معنی نما اور تصور معنی کوبرتا ہے۔ قاضی افضال نے دال اور مدلول کو مناسب سمجھاہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اب آئندہ نسل اگر SignifierاورSignifiedکے لیے اردو اصطلاحات استعمال کرنا چاہے تودال اورمدلول کو پیش نظر رکھے یا معنی نما یا تصورمعنی کو؟ جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے وہ یہ ہے کہ دال اور مدلول ہی کو رائج سمجھناچاہیے کہ یہ دونوں رواں اور سبک بھی ہیں، جو کہ اصطلاح سازی کی شرطوںمیں سے ایک اہم شرط بھی ہے۔
مولوی عبدالحق نے جو اصطلاحات سازی کے لیے اصول وضع کیے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اردو اصطلاحات ممکنہ حد تک عام فہم ہوں اور پڑھنے،لکھنے اوربولنے میں آسان ہو۔ حتی الامکان مختصرالفاظ وضع کرنے کی بات بھی کہی ہے۔
(بحوالہ: فرہنگ اصطلاحات علمیہ، 1925، دیباچہ،ص1)
Free Association, Objective Correlative: عام طور پر Free associationکے لیے آزاد تلازمہ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اس میں بھی کچھ گھپلے ہیں۔ اس کے لیے بھی عام اتفاق نہیں ہے۔ فاروقی صاحب نے اپنے مضمون غالب اور جدید ذہن (شعر،غیرشعر اورنثر) میںAssociationکے لیے انسلاک اورFree Associationکے لیے آزاد تلازمہ لکھاہے۔ یہاں بھی یکسانیت کا فقدان نظرآتاہے۔ اگرانسلاک لکھا گیاتو پھر آزاد تلازمہ لکھنے کی کیاضرورت تھی؟ شایدفاروقی صاحب کو خود پر اعتماد نہ رہا ہو کہ زیادہ تر نقادوںنے اس کے لیے آزاد تلازمے کا استعمال کیاہے۔ اُدھر ادبی اصطلاحات کی فرہنگ میں(ص50) کلیم الدین احمد نے تلازم بھی لکھاہے اورایتلاف بھی۔ اس کے علاوہ اپنی چھے جلدوں پرمشتمل انگریزی اردو لغت میں کلیم الدین احمد نے Free Associationکے لیے آزاد ایتلاف درج کیاہے۔ مترادفات کی فرہنگ میں تو ایک انگریزی لفظ کے چاہیں جتنے بھی متبادل لکھ دیں، کوئی حرج نہیں، لیکن اصطلاح اگر رائج ہوگئی تو اس کی جگہ پر اس کا ہم معنی کوئی دوسرا لفظ رکھنا مناسب نہیں۔ عام لغت اوراصطلاحات کے لغت میں یہی بنیادی فرق ہے۔
ایک لفظ اور ہے Objective Correlativeجس کے لیے سجادباقررضوی نے اپنی کتاب مغرب کے تنقیدی اصول میں شامل اپنے T.S.Eliotوالے باب میں اس کے لیے معروضی تلازمہ استعمال کیاہے۔ Objectiveکے لے تومعروضی مقبول ومستعمل ہے لیکن Correlativeکے لیے تلازمہ استعمال کرنے سے Associationکے لے استعمال ہونے والے تلازمہ اورCorrelativeوالے تلازمہ میں ایک طرح کا Confusionپیدا ہوسکتاہے۔ کلیم الدین احمد کی انگریزی اردو ڈکشنری میں اس کے لیے متلازم، متمائل، تلازمی وغیرہ درج کیے گئے ہیں۔کلیم الدین احمد نے جو یہاں Correlativeکے لیے تین معانی درج کیے ہیں جو اپنا جواز رکھتے ہیں کہ یہاں ایک عام لفظ کے طورپر اس کے مختلف معانی دیے گئے ہیں تاکہ کسی عبارت کے ترجمے میں آسانی ہو۔ لیکن جہاں بطور اصطلاح کے اس کا استعمال ہووہاںحتی الامکان یہ کوشش ہونی چاہیے کہ انگریزی اصطلاح (لفظ) کا اردو متبادل ایک ہی ہو۔ یوں تو Correlativeصفت (Adjective)ہے لیکن جب معروضی تلازمہ کہتے ہیں تو یہاں لفظ معروضی صفت بن جاتا ہے اور Correlativeاسم۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بطور صفت کے دونوں کوجوڑکرمرکب اصطلاح نہیں بناسکتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کنفیوژن سے بچنے کے لیے Free Associationکے لیے آزاد تلازمہ اور Objective Correlativeکے لیے معروضی ایتلاف استعمال کیاجائے تاکہ لفظی طورپر انگریزی الفاظAssociationاورCorrelativeکی انفرادیت بھی اپنی اپنی جگہ باقی رہ سکے۔
Synchronic, Diachronic:انگریزی میں Chronicدیرینہ، کہنہ اور پرانے کے لیے بطور صفت کے آتاہے اور’Syn’سابقہ ہے جس کے معنی ’ہم‘ کے ہیں یعنی ساتھ ساتھ۔ لیکن یہاںChronicکا استعمال وقت اور زمانے کے لیے ہواہے۔ اس طرح Synchronicکے لیے اردو میں ہم وقتی کا استعمال کیاگیا۔ احمدسہیل نے ہم وقتی استعمال کیا جبکہ فہیم اعظمی نے یک زمانی کا استعمال کیا۔قاضی افضال نے اپنے مضمون ’لاتشکیل اورشرحیات‘ میں ’یک زمانیت‘ لکھاہے۔ حالانکہ جب یک زمانیت لکھنا ہوتو اس کے لیے انگریزی میں Synchroneity یا Synchronismلکھاجائے گا،ورنہ یک زمانی کے بدلے یک زمانیت کسی طور پر بھی قابل قبول نہ ہوگی۔ اسی طرح جب Chronicمیں ‘Dia’کا سابقہ لگاتے ہیں تو اس کے معنی دوکے ہوجاتے ہیں۔گویا Diachronicکے لیے دوزمانی کی اصطلاح مناسب ہوگی۔ فہیم اعظمی نے اسی کو رائج کرنے کی کوشش کی ہے۔ احمدسہیل نے البتہ اس کے لیے غیروقتی لکھاہے جو بالکل ہی غلط مفہوم ادا کرتاہے۔ کیونکہ ایسے میں دوزمانوں کا تصور ‘Dia’کی مناسبت سے رد ہوجاتاہے جو کہ اس کا ناگزیر سابقہ ہے۔ بلکہ احمدسہیل نے اپنی کتاب ’’ساختیات‘‘ میں دوسری جگہ اس کے لیے غیرتاریخی بھی لکھاہے۔ اندازہ لگائیے کہ وہ خودکس قدرConfusedہیں۔ آگے چلیں تو قاضی افضال کی اپنی الگ اصطلاح ہے ’ذوزمانیت‘۔ ’ذو‘ تو ‘Dia’کا ترجمہ نہیں ہوا ساتھ ہی جو مسئلہ ’زمانیت‘ کا اوپر آیا تھا، یہاں بھی ہے۔ یہاں بھی اس کے لیے Diachroneity یا Diachronicismہونا چاہیے، جو کہ نہیں ہے۔ پھریہ کہ ’ذو‘ کے بدلے اگر’دو‘ہی کرلیتے توکیا بگڑجاتا؟ یوں بھی ’ذوزمانیت‘ میں ایک طرح کاصوتی تنافر بھی ہے۔ یہ بھی کہ ذو بطور سابقہ کے ’والا‘ اور ’صاحب‘ کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے ذوالکفل، ذوالقرنین وغیرہ۔
Positivism: اس کے لیے بھی کئی طرح کی اصطلاحات رائج ہیں۔ کلیم الدین احمد نے فرہنگ ادبی اصطلاحات میں ثبوتیت لکھاہے۔ (ص53)۔ محمد حسن صاحب نے ’’مشرق ومغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ‘‘ میں اسی کے لیے اثباتیت لکھاہے۔ جب کہ مقتدرہ، اسلام آبادوالی کشاف تنقیدی اصطلاحات (مرتبہ:ابوالاعجاز،حفیظ صدیقی) میں اس کے لیے ثبوتیت کے ذیل میں ایجابیت درج ہے۔ اگر میں بھی اپنی طرف سے اضافہ کرنا چاہوں تو ’مثبتیت‘ لکھ سکتا ہوں۔ کلیم الدین احمد والی ’ثبوتیت‘ میں ثابت ہونے کی جھلک بھی ملتی ہے جو کہ التباس پیدا کرسکتی ہے۔ محمدحسن صاحب کی ’اثباتیت‘ کچھ حد تک قابل قبول اور معانی و مفاہیم کی ترسیل کے لیے مناسب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ’ایجابیت‘کے ایجاب وقبول کا کیاکریں کہ یہ توبالکل ہی دور کی کوڑی معلوم ہوتی ہے۔ یہ نئی تنقید کا سائنسی استدلالی طریقہ ہے جس سے کسی فن پارے کا اثبات ہوتاہے۔ کلیم الدین احمد نے لکھاہے کہ یہ August Comteکا فلسفہ ہے جس کی رو سے صرف ان لوگوں کو تسلیم کیا جاتا ہے جو قابل مشاہدہ وثبوت ہوں۔ لانگ مین انگریزی ڈکشنری نے اسے یوں درج کیاہے:
The system of thought (Philosophy) based on real facts that can be experienced rather than on ideas formed in the mind.
بہرحال، چونکہ یہ اصطلاحات کا توضیحی اشاریہ نہیں ہے اس لیے اس کی تفصیل لکھنا یوں بھی یہاں غیرضروری معلوم ہوتاہے۔ پھربھی، جہاں ناگزیر ہو وہاں اشارے دے دینا بھی ضروری ہوتاہے۔
اوپرجوبھی انگریزی اصطلاحات پیش کی گئیں ان کے علاوہ سیکڑوں اصطلاحات ایسی ہیں جن کا ذکر یہاں ممکن نہیں تھا اور کچھ اصطلاحات تو ابھی اس زبان اردو میں منقلب ہونے کی منتظر ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ غور کیاجائے کہ انگریزی الفاظ بالخصوص وہ الفاظ جو بطور اصطلاح کے رائج ہیں، اردو ادب میں آنے کے بعد کس قدر Confusingاور خلط مبحث کاشکار ہوگئی ہیں۔ کلیم الدین احمد کی فرہنگ ادبی اصطلاحات کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں ایک متبادل پراکتفانہیں کیاگیاہے۔ ایسے میں اس کی حیثیت محض ایک عام لغت کی ہوکر رہ گئی ہے۔ مقتدرہ کی ’کشاف تنقیدی اصطلاحات‘میں بھی اسی نوع کی بہت سی خامیاں ہیں۔ البتہ پروفیسر عتیق اللہ کی ’’ادبی اصطلاحات کی فرہنگ‘‘ میں معروضیت اورایک طرح کا Scientific Approachملتا ہے۔ انھوںنے ہرایک اصطلاح کے لیے ایک ہی اردو متبادل درج کیاہے لیکن یہ نامکمل فرہنگ ہے۔ کاش اس کی بقیہ جلدیں بھی تیار ہوکر منظر عام پر آجائیں پروفیسر عتیق اللہ کی نگرانی میں ڈاکٹرعمر فاروق نے بھی اصطلاحات جمع کرکے وضاحتی فرہنگ تیار کی ہے جو اصطلاحات نقدوادب (2004) کے نام سے منظرعام پرآچکی ہے۔چونکہ اصطلاح سازی ایک مشکل مرحلہ ہے اس لیے اس کے لیے کوئی ایساUniversal Parameterقائم کیا جانا چاہیے جس کی روشنی میں ان تمام اصطلاحوں کاازسرنو کئی ورک شاپ اور اجلاسوں میں جائزہ لیاجاسکے۔
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں اردو کے پروفیسر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
پروفیسر کوثر مظہری صاحب کا مضمون تنقیدی اصطلاحات تعین قدر کا مسئلہ. پڑھ کر معلومات میں اضافہ ہوا. میں مزید معلومات کے لیے سر سے گزارش کروں کا کہ جتنی اصطلاحات کا ذکر آپ نے کیا ہے اس کی وضاحت بھی ہو جاتی تو ہمارا مسئلہ حل ہر جاتا. آپ نے جتنی کتابوں کا ذکر کیا ہے مثلاً عتیق اللہ صاحب کی کتاب ادبی اصطلاحات یہ ترجمہ شدہ ہے اور بہت مشکل زبان میں ہے. جہاں تک کشاف کی بات ہے تو اس سے بہت حد تک تسکین ہوتی ہے مگر وضاحت میں پیچیدگی ہے عمر فاروق صاحب نے بہت حد تک سمجھانے کی کوشش کی ہے اور یہ کتاب اچھی بھی ہے. ابھی میں نے دو سال این سی ای آر ٹی میں اصطلاحوں پر کام کیا ہے جس کا تعلق ادبی اصطلاحوں سے ہے. اپ نے جن اصطلاحوں کا ذکریا ہے واقعی وہ بہت مشکل اور مبہم ہیں اگر آپ انھیں سمجھا دیں تو ہم جیسے طالب علموں کے لیے بہتر اور مفید ہوگا. کیونکہ آپ کے زبان میں وہ پیچیدگی نہیں ہے جو دیگر نقادوں کے یہاں ہیں اور اصل مسئلہ ترسیل کا ہے.
[…] تحقیق و تنقید […]