Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

سیدہ جعفرکی تنقیدنگاری – 1934تاجون 2016 – شاہ نواز فیاض

by adbimiras اگست 13, 2020
by adbimiras اگست 13, 2020 0 comment

شمال اور دکن کے بیچ بہت فاصلہ رہا، ایک دوسرے کے نوادرات سے واقفیت بھی اس طرح سے نہیں تھی۔ شمالی ہند کے محققین اور ناقدین کے لیے اس راہ میں بہت سی دشواریاں بھی حائل تھیں۔ خاص طور پر دکن کے لسانی نظام سے عدم آگہی کی وجہ سے جنوبی ہند کی بہت سی مثنویوں کے مفاہیم تک رسائی مشکل تھی، دکنی ادب سے مکمل طور پر متعارف کرانے والوں میں بہت سے نام آئے ہیں۔ ان میں ایک نام سیدہ جعفر کا بھی ہے۔

پروفیسر سیدہ جعفر کا سب سے اہم کام’تاریخ ادب اردو1700تک ‘ بہ اشتراک گیان چند، اور اس کے بعد انھوں نے عہد میرسے ترقی پسند تحریک تک جو کام کیا ہے، وہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے دکنیات کے حوالے سے جو کچھ کیا ہے، اور جس تحقیق و جستجو سے کیا ہے، اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے بڑی محنت سے ایک ایک حصے کو جوڑ کر تاریخ ادب اردو کی قدامت کو واضح اور مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔

پروفیسر سیدہ جعفر نے تحقیق و تنقید کے تعلق سے بہت سے کام کیے۔لیکن ان کا اصل میدان تحقیق ہی تھا۔ انھوں نے جس متن کی بھی تدوین کی ہے، اس کے طویل مقدمے سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی طرف سے تمام ماخذات کو دیکھ کر ہی قلم اٹھایا۔انھوں نے تنقید میں اپنی بصیرت اور شعور کا مکمل ثبوت دیا ہے۔ اس کو ان کتابوں تنقید اور انداز نظر اور فن کی جانچ میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔اس وقت ان کی یہی دونوں کتابیں پیش نظر ہیں۔انھوں نے تنقید کے تعلق سے اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’تنقید کے بارے میں میرا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ وہی تنقید بھر پور اور وزن رکھنے والی ہو سکتی ہے جس میں اس پس منظر کا عطر کھینچ آئے جس میں کسی فن پارے کی تخلیق ہوئی ہو لیکن محض تاریخی پس منظر میں انسانی عمل اور رد عمل کے نتائج کا اظہار جامع تنقید نہیں۔اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس فن پارے کے شعری محاسن اور فنی نکات پر بھی نظر رکھنی ہوگی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فنکار کی تخلیقات میں اس کی شخصیت کی مہک، اس کے نظریات کا اظہار اور اس کی ذات کی جلوہ گری کس طرح ہوئی ہے اور اس کے پیچھے فنکار کے نفسیاتی محرکات اور نجی تجربات زندگی کے گوناگوں اثرات کس طرح کار فرما ہیں۔‘‘

(فن کی جانچ: سیدہ جعفر،نیشنل فائن پرنٹنگ پریس چار کمان، حیدرآباد، 1965، ص، 3)

فن کی جانچ، سیدہ جعفر کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں کل بارہ مضامین شامل ہیں۔لیکن کچھ مضامین ایسے بھی ہیں، جو تحقیقی نوعیت کے ہیں۔اس ضمن میں ’تذکروں کی تنقیدی اہمیت‘ اور ’کچھ مضمون نگاری کے بارے میں‘ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔آخرالذکر ان کے تحقیقی مقالہ ’اردو میں مضمون نگاری‘ کے تعلق سے ہے۔اس مضمون میں انھوں نے واضح کیا ہے کہ اردو کے پہلے مضمون نگار ماسٹر رام چندر تھے۔1846کے آس پاس ان کے مضامین منظر عام پر آئے۔سر سید احمد خاں اور ان کے رفقا(حالی، محسن الملک، چراغ علی اور وقارالملک) 1857کی ناکامی کے بعد اپنے مضامین کو ذہنی بیداری اور سماجی شعور کو عام کرنے کا ذریعہ بنایا۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو اردو میں مضمون نگاری کا آغاز 1846کے آس پاس ہوا،سیدہ جعفر نے ماسٹر رام چندر کو اردو کا پہلا مضمون نگار ثابت کیا ہے۔سر سید اور ماسٹر رام چندر کے بیچ مضمون نگاری کا فاصلہ تقریباً دس سا ل کا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ماسٹررام چندراردو کے پہلے مضمون نگار ہیں، لیکن سر سید اور ان کے رفقا نے اس کی توسیع میں بلاشبہ غیرمعمولی کردار ادا کیا۔البتہ جب زمانی فاصلہ اتنا کم ہو تو ایسے میں بہت سی باریکیوں سے آگاہی ہونی چاہیے، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سیدہ جعفر نے جس محنت اور تجزیے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کے پہلے مضمو ن نگار ماسٹر رام چندر ہیں، ان کی تحقیق ایک گرانقدر کارنامہ ہے۔یہ تبھی ممکن ہو سکاہے، جب انھوں نے ان مضامین کا تنقیدی جائزہ لیا ہوگا۔مذکورہ بالامضمون میں سیدہ جعفر نے سرسری تاریخ بیان کی ہے، جو ماسٹر رام چندر سے شروع ہوتی ہے اور آل احمد سرور پر ختم ہو جاتی ہے۔

’تذکروں کی تنقیدی اہمیت ‘ میں سیدہ جعفر نے لکھا ہے کہ جس طرح سے اردو نے دوسری اصناف ادب میں عربی اور فارسی روایات اور پیرایۂ بیان کو اپنایا ہے، اسی طرح سے ادبی جانچ پڑتال کی کسوٹیاں بھی عربی اور فارسی سے لی ہیں۔کیونکہ اردو میں تذکرہ نویسی کا رواج فارسی کے اثر سے ہوا ہے اور فارسی تذکروں کے تتبع میں اردو دانوں نے تذکرہ نویسی کا فن اختیار کیاہے۔سیدہ جعفر نے ایک طرح سے تذکرے کی روایت کو سرسری طور پر پیش کیا ہے۔اس کے بعد اردو تذکروں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے؛ اور بتایا ہے کہ کس طرح سے ان تذکروں نے اردو تنقید کو فروغ دیاہے۔انھوں نے لکھا ہے:

’’تذکروں کی تنقیدی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تذکرہ نویسی میں تنقید نگاری کا ہیولا بنتا ہوا نظر آتا ہے۔شعرا کے کلام پر رائے دینا اور انتخاب کلام پیش کرنا یا معاصر ین سے ان کا مقابلہ کرنا، یا فارسی شعرا سے اردو شعرا کا موازنہ کرنا، بغیر تنقیدی صلاحیت کے کیسے ممکن تھا۔تذکروں کا ایک تنقیدی پہلو یہ بھی تھا کہ میر، میر حسن، قائم، شیفتہ اور مصحفی وغیرہ نے جہاں ضرورت محسوس کی تھی کلام پر اصلاحیں بھی دی تھیں۔اصلا ح کلام دراصل فنی اور عملی تنقید ہی کا ایک پر تو ہے۔اصلاح ایک طرح سے اصولی تنقید اور عملی تنقید کا بڑا اچھا امتزاج ہوتا ہے۔ تذکروں میں جو اصلاحیں ملتی ہیں ان کی نوعیت زیادہ تر صوری اور لسانی ہے، لیکن معنوی پہلو بھی ان کے پیش نظررہا ہے۔‘‘ (ایضاً۔ص، 69-70)

تذکرہ نگاروں کے پیش نظر تنقید کرنا نہیں تھا، چونکہ جس وقت تذکرے لکھے گئے تھے، اس وقت تذکرہ نگاروں کا مقصد صرف شاعر کے حالات یا واقعات زندگی ، ماحول کا مختصر سا خاکہ اور نمونہ کلام درج کرنا تھا۔بعض تذکرہ نگاروں نے اتنی اچھی تنقید کا نمونہ پیش کیا ہے کہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان تذکرہ نگاروں میں کس پائے کی تنقیدی صلاحیت موجود تھی، جہاں محاسن شعر کی کھلے دل سے تعریف کرتے تھے اور معائب پر بے لاگ تنقید بھی کرتے تھے۔البتہ اگر گروہ بندی حاوی نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ اس سے اچھی بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے۔

’اردو نثر میں مرقع نگاری‘میں سیدہ جعفر نے اس کی مختصر تاریخ بیان کی ہے۔اور بتایا ہے کہ مرقع نگاری یا خاکہ نگاری ابھی اپنی ابتدائی منزلوں میں ہے۔انھوں نے اس ضمن میں دریائے لطافت سے کچھ مثالیں بھی دی ہیں، لیکن یہ بھی واضح کیا ہے کہ انشاء نے دریائے لطافت میں میر غفر غینی، بی نورن، بھاڑا مل، مرزا صدرالدین اصفہانی اور ملا عبدالفرقان کے کرداروں کو جس طرح سے پیش کیا ہے، وہ خاکہ نگاری کے فن سے قریب تر ہے، لیکن تمام فنی خوبیوں کے باوجود مرقع نگاری کی تاریخ میں اپنا کوئی مقام نہیں پیدا کر سکا۔سیدہ جعفر کا یہ مضمون تقریباًنصف صدی پہلے لکھا گیا ہے، انھوں نے تذکروں سے بھی ایسے بہت سے حوالے دیے ہیں، جہاں خاکہ کی جھلک نمایاں ہے۔ مرقع نگاری کے تعلق سے لکھا ہے:

’’مرقع نگاری صنف ادب کی حیثیت سے چند انفرادی خدوخال اور خصوصیات کی حامل ہوتی ہے۔مرقع نگاری کسی خاص شخص کی سیرت کی دھوپ چھاؤں ، اس کے عادات و اطوار کے زیر وبم اور اس کے کردار کے سیاہ و سفید کی ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے جو اپنے اختصار اور ارتکاز کے باوجود اس شخصیت کے بہت سے اہم گوشوں کو بے نقاب کردیتی ہے۔‘‘

(تنقید اور انداز نظر:سیدہ جعفر،نسیم بک ڈپو، لکھنؤ1969،ص، 70)

مرقع نگار تذکرہ نگار سے اس لیے مختلف ہوتا ہے کہ تذکرہ نگار ہر واقعے کو منتخب کرتا ہے، جب کہ مرقع نگار وہ صرف چند واقعات کا انتخاب کرتا ہے۔اور انہی چند واقعات پر عمارت تعمیر کرتا ہے۔اردو میں مرقع نگاری یا خاکہ نگاری کی سب سے با قاعدہ اور کامیاب کوشش مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضمون’نذیر احمد کی کہانی کچھ میری کچھ ان کی زبانی‘ میں دکھائی دیتی ہے۔مرزا فرحت اللہ کے مذکورہ بالا مضمون سے لے کر منٹو کے’گنجے فرشتے‘ تک کا اس مضمون میں سیدہ جعفر نے کہیں تفصیل اور کہیں اختصار سے ذکر کیا ہے۔اس طرح کے مضامین تحقیقی و تنقیدی نوعیت کے ہوتے ہیں، اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ سیدہ جعفر نے اس مضمون کے ذریعے تحقیق و تنقید کابڑا خوبصورت امتزاج پیش کیا ہے۔

’نذیر احمد کے سماجی تصورات‘ میں سیدہ جعفر نے نذیر احمد کے ناولوں کے تعلق سے گفتگو کی ہے۔مضمون کے شروع میں انھوں نے نذیر احمد کی ابتدائی زندگی اور سیاسی اور سماجی حالات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔چونکہ نذیر احمد نے اپنے معاشرے کی سیاسی، معاشرتی اورمعاشی و اخلاقی زندگی کا تجزیہ کیا ہے۔ اور جذباتی طور پر ان کوتاہیوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے بہت سی جگہوں پر ہندوستانی معاشرے پر طنز بھی کیا ہے۔چونکہ نذیر احمد کا خیال تھا کہ سماجی ترقی کے لیے عورتوں کو ان کا معاون ہونا پڑے گا۔اس وقت سماج میں عورتوں کی جو حالت تھی نذیر احمد اس سے مطمئن نہیں تھے ۔نذیر احمد اپنے زمانے کے نظام تعلیم سے بھی مطمئن نہیں تھے۔انھوں نے اپنے زمانے کے مدرسوں کی بد انتظامی پر بھی چوٹ کی ہے اور استاد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔نذیر احمد کے ناولوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے ناولوں میں ہمیں ایک مخصوص طرز کا طبقاتی شعور ملتا ہے جس پر جاگیر داری تمدن کی خاصی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔لڑکیوں کی تعلیم کے وہ حمایتی تھے۔وہ چاہتے تھے کہ لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کریں اور سماج کی تشکیل نو میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس تعلق سے سیدہ جعفر نے لکھا ہے:

’’نذیر احمد نے لڑکیوں کی تعلیم کی پر زور حمایت کی تھی۔وہ پہلے مصنف ہیں جنھوں نے اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو نثر میں ’مراۃ العروس‘ جیسی مفید کتاب لڑکیوں کے لیے لکھی۔’بنات النعش‘ بھی اسی تصور کے تحت منظر عام پر آئی تھی۔ان دونوں ناولوں کے مطالعے سے نذیر احمد کے تعلیمی نظریات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔نذیر احمد عورتوں کی مناسب تعلیم اور تربیت پر بہت زور دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک عورتیں لکھنا پڑھنا نہ سیکھیں، جغرافیہ کی ابتدائی معلومات، تاریخ کے اہم واقعات اور حساب کتاب سے واقف نہ ہوں وہ گھر کے کاروبار کو بخوبی سنبھال نہیں سکتیں۔‘‘ (ایضا،ص، 100′)

سیدہ جعفر کے درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ متن کو بغور پڑھتی ہیں، اور مصنف کے عہد اور سیاسی ماحول کو سامنے رکھ کر متن کا مطالعہ اس بات کی طرف آمادہ کرتا ہے کہ منشائے مصنف واضح طور پر سامنے آجائے۔جس طرح سے سیدہ جعفر نے منشائے نذیر احمد کو بیان کیا ہے، یہ تبھی ممکن ہے جب متن کا بغور مطالعہ کیا جائے۔ سیدہ جعفر نے نذیر احمد کے سماجی تصورات پر بھر پور مضمون تحریر کیا، اور اپنی بے لاگ رائے دی۔انھوں نے نذیر احمد کی تعریف بھی کی ہے، اور جہاں انھیں لگا بے لاگ تنقید بھی کی ہے۔

’خواجہ حسن نظامی کی انشائیہ نگاری‘ میں سیدہ جعفر نے ابتدا میں خواجہ حسن نظامی کی نثرپرمجموعی گفتگو کی ہے، اس کے بعد ان کی انشائیہ نگاری پر گفتگو کی ہے۔انشائیہ اور خواجہ حسن نظامی کی انشائیہ کے تعلق سے سیدہ جعفر نے لکھا ہے:

’’انشائیہ کے لیے موضوع کی قید نہیں۔ہر موضوع خواہ وہ اخلاقی ہو یا مذہبی اور فلسفیانہ، ایک جادو نگار انشائیہ پرداز کے قلم سے مس ہو کر ادب کی ایک حسین یادگار بن سکتا ہے۔اس حقیقت کی سب سے اچھی تفسیر اگر اردو انشائیہ نگاروں میں ہم کو کہیں مل سکتی ہے تو وہ خواجہ حسن نظامی کی تحریریں ہیں۔انھوں نے انشائیہ کے فن کو ترقی دی اور اس کے اسلوب کو نکھار دیا۔حسن نظامی کے انشائیوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے بظاہر بکھرے ہوئے موضوعات میں مقصدیت کا ایک لطیف رشتہ موجود ہوتا ہے اور ان میں ایک مخصوص سلسلۂ خیال کی جھلک پائی جاتی ہے۔‘‘(ایضاً، ص، 199)

سیدہ جعفر نے اپنے مخصوص انداز میں خواجہ حسن نظامی کی انشائیہ نگاری کا جائزہ لیا ہے۔ظاہر ہے کہ خواجہ حسن نظامی کی انشائیہ نگاری کے تعلق سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور آگے بھی لکھا جاتا رہے گا۔جب بھی انشائیہ کی تاریخ پر کچھ لکھا جائے گا، خواجہ حسن نظامی کا نام ضرور آئے گا۔ اسی طرح سے سیدہ جعفر نے حسرت کا تغزل، دکنی غزل گوئی، محروم کی نظم نگاری، صفی اورنگ آبادی اور مولانا آزاد کے مضامین جیسے عنوان کے تحت سیدہ جعفر نے مضامین لکھے ہیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تنقیدی شعور کتنا پختہ اور غیر جانب دارانہ ہے۔انھوں نے جو بھی لکھا ہے، اس کی ا ہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انھوں نے متن کو علاقائی زاویۂ نگاہ سے نہیں ایک قاری کی نگاہ سے دیکھا ہے۔اور جو کچھ محسوس کیا اسے بے کم وکاست بیان کر دیا۔اردو تنقید کا ذکر ہو یا پھر تحقیق کا، سیدہ جعفر کا ذکر دونوں صورتوں میں ہوگا۔انھوں نے جو کچھ کیا ہے، علمی حلقوں میں اس کا اعتراف بھی کیا گیا ہے، اور آگے بھی لکھا جاتا رہے گا۔جب بھی دکن کے محققین یا ناقدین کا شمار کیا جائے گا ، سیدہ جعفر کا شمار ان اہم لوگوں میں ہوگا جنھوں نے اردو تحقیق و تنقید میں گرانقدر اضافہ کیا ہے۔ ان کی خدمات سے آنے والی نسلیں مستفید ہو تی رہیں گی۔

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اخترحسین رائےپوری ترقی پسند تنقید کے پیش رو – مخمور صدری
اگلی پوسٹ
اردو خاکہ نگاری کا نقش اول : آب حیات – محمد مقیم خان

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

مابعد جدیدیت، اردو کے تناظر میں – پروفیسر...

نومبر 19, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں