متن فہمی کے لیے نقاد کئی ذرائع استعمال کرتا ہے۔ شرحیات، تعبیریات اور تفہیمیت اپنی اصل میں تخلیق متن کی تفہیم، تشریح اور تعبیر کے زوایے ہیں۔ تفہیم، تشریح اور تعبیر جس قدر اپنے معنیاتی نظام میں ہم آہنگ ہیں، اسی قدر جداگانہ معنویت کے حامل بھی ہیں۔ علم شرح/علم تعبیر/شرحیاتHermeneutics)) کا بنیادی سروکار متن کی تشریح و تعبیر سے ہے۔ تاریخی طور پر اس علم کا آغاز انجیلی متون کی فہم وافہام کے ذیل میں ہوا، مگر بتدریج یہ مذہبیات کے علاوہ سماجیات ، تار یخ اور دیگر انسانی علوم کے متون کی شرح کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ شرح کے علاوہ یہ علم ایسے اصول و ضوابط کی تشکیل بھی کرتا ہے، جس کے ذریعے عملِ تشریح باقاعدہ ایک سائنس کی صورت اختیار کر جاتا ہے ۔ کل کے ذریعے جزو اور جزو کے ذریعے کل کی تفہیم کے استخراجی اور استقرائی تفاعل سے متن کی معنویت مرتب کی جاتی ہے۔ یونانی دور سے لے کر اب تک شرحیات اور تعبیر متن کے مباحث کئی تنوعات کے ساتھ مختلف جہات میں ارتقا پذیر رہے ہیں۔ ’’کبھی مقدس متون کے معنیاتی ابہام کو حل کرنے اور تفسیر کے اشکال کو سلجھانے کے سخت مگر نازک فن کی حیثیت سے، کبھی متن، فن پارے یا تاریخی واقعے کے الوہی یا انسانی مصنف کے مرادی معنی کی بازیافت کے راہنما اصولوں کی حیثیت سے، کبھی فن پارے کی تعمیر کردہ علامتی یا معنی کی مختلف سطحوں کے انکشافات کی حیثیت سے ، کبھی قرات کے تضادات کے درمیان، حسبِ تناظر، توافق وتطبیق کے اصولوں کی حیثیت سے اور کبھی ایک زیادہ بلند حوصلہ فلسفیانہ نظریہ کی حیثیتـ سے جو فطرت اور زبانوں کے باہم ارتباط ، معنی،فہمUnderstanding))اور وجود جیسے سوالوں سے بحث کرتا ہے ۔ ‘‘ (۱) علم شرح/شرحیات کے مباحث میں متن کی تعبیر کے سلسلے میں مصنف کی منشاء کی حیثیت ، متن کا خود مکتفی وجود، صنف کی روایت، زبان کا کردار، شارح کی ترجیحات اور تعصبات کے تصورات خاص طور پر زیر بحث امور رہے ہیں۔ ان تما م مباحث نے متن اور معانی کے تفاعل کے سلسلے میں نئی جہات کا تعین کیا اور کبھی متن، کبھی مصنف اور کبھی قاری کو کل کیؔؔحیثیت دے کر جزئیات کی نوعیت طے کی۔ یہ بھی پڑھیں کچھ تخلیقی عمل کے بارے میں -محمد عامر سہیل )
’شرح متن کے امکانات‘ قاضی افضال حسین کا بہت اہم مضمون ہے جو اِن کی مشہور کتاب ’تحریر اساس تنقید‘ میں شامل ہے۔ یہ کتاب تھیوری ، تعبیر اور عملی تنقید پر مشتمل اٹھارہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان تمام مضامین میں قدرِ مشترک مابعد جدید تنقیدی تصورات کا حامل ہونا ہے ۔ اس کتاب میں مصنف نے ما بعد جد یدیت،تھیوری او ر لا تشکیلی تصورات کو باقاعدہ گفتگو کا مو ضوع بنایا ہے۔ مذکورہ کتاب کے حوالے سے سکندر احمد کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ما بعد جدیدیت کے موضوع پر شفافیت کے ساتھ ایک ایمان دار ڈسکورس قائم کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔
زیر مطالعہ مضمون میں متن کی تشریح کے دائروی عمل، تشریح اور تعبیر کے تفاعل میں مصنف یا متن یا قاری کی ترجیح کے تصورات ، تقریر کے مقابلے میں تحریر کا ثبات اور خود مکتفی وجود، تعبیر متن کے حوالے سے شیلر ماخر سے پا ل ریکور تک اہم ناقدین کی موضوعِ بحث مرکزی مباحث اور ان متنوع مطالعات میں تشریحی دائرے اور معنی کے منطقی تصور کے دائمی ثبات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ قاضی صاحب لکھتے ہیں: ’’متن کی تشریح اور تفہیم ایک دائروی عمل ہے جس کے تین بنیادی ارکان مصنف، متن اور اس کے قاری ہیں۔‘‘(۲)اگر بغور دیکھا جائے تو تمام تنقیدی تصورات کی اساس ان تینوں ارکان میں سے کسی ایک پر قائم ہے۔ ان تین ارکان میں سے ایک کی مرکزیت کسی تنقیدی دبستان کی نظری اور اطلاقی جہات کا تعین کرتی ہے۔ا سی طرح شارح کے نزدیک بھی ان تینوں میں سے کسی ایک کی ترجیح تشریح کو ایک مخصوص دبستان سے منسلک کرتی ہے۔ قاضی صاحب نے اس مضمون کو تین حصوں میں منقسم کیا ہے جس میں مصنف ، متن اور قاری کو مرکز یا کل مان کر اس سے منسلک جزوی مباحث کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
تشریح و تعبیر کا عمل انسانی فطرت کا تقا ضا ہے۔ ابتداء سے ہی انسان نے فطری مظاہر اور الوہی پیغامات کی تفہیم کی کوشش کی ہے، بعض اوقات ہم شعوری اور بعض دفعہ لا شعوری طور پر یہ عمل سر انجام دیتے ہیں۔ تشریح و تعبیر کا عمل دیکھنے میں سہل اور آسان نظر آتا ہے لیکن اس کی وجودیات(Ontology) اور جہات مبہم ہیں ۔ یہی وجہ ہے شرحیات موجودہ دور میں باقاعدہ ایک علم اور ایک سائنس کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ مختلف ادبی، تاریخی اور ثقافتی متون شرح کے محتاج ہیں۔ شارح کے نزدیک اگر مرکزیت مصنف کو حاصل ہو تو مصنف کل کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، اس تناظر میں متن اِس کل کا جزو شمار ہوگا۔ اب تشریح کا محور منشائے مصنف کی تلاش اور اس کے تجربے کی بازیافت ہوگا۔تشریح وتعبیر کا مصنف محور دبستان خاصا قدیمی ہے۔ اس دبستان میں تعبیر ِ متن مصنف کے ذاتی تجربے اور ترجیح ،اسکے تہذیبی ماحول اور اس کی تاریخ کے زیرِ تسلط ہوتی ہے۔ شارح ،متن کے مفہوم کے تعین کے سلسلے میں ایسے معانی کی دریافت کرنے کا پابند ہوتا ہے جو منشائے مصنف کے نزدیک تر ہوں۔قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ تعبیر متن کے ذیل میں مصنف مرکزیت کا تصور ، شرحیات کے پہلے اہم ماہر شیل ماخر کے یہاں بہت نمایاں ہے۔ شیلر ماخر شرحیات کو ایک آرٹ سے زیادہ ایک فن قرار دیتا ہے، جس کا کام خالص تخلیقی عمل (Original Creative Act) کی اسی طرح بازیافت ہے جیسے وہ وقوع پذیر ہوا۔ اس کے نزدیک شارح کا کام مصنف کے سلسلہء خیال پر تامل اور تفکر کرنا ہے تاکہ شعور کے ایسے اجزاء کی دریافت کرے جو شاید مصنف کے لا شعور میں موجود رہے ہوں ۔ اردو میں اس طرز کے مطالعات کی کمی نہیں ہے۔ مختلف تحریکوں سے وابستہ ادیبوں کے متون کی تشریحات ان تحریکوں کی فکری منشائوں کے تحت کی جا چکی ہیں۔نفسیاتی اور تاریخی تنقید کے ذیل میں ہونے والی مباحث بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ یہاں قاضی صاحب نے اِس دبستان پر اٹھائے جانے والے تین اعتراضات /سوالات کا ذکر کیا ہے:
٭اگر مصنف مفقود الخبرہو تو ایسے میں شرحِ متن کی کیا صورت ہوگی؟
٭اگر زمان و مکان کے حوالے سے مصنف اور شارح کے مابین قابلِ ذکر فاصلہ ہو تو کیا ہوگا؟
٭تیسرا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اکثر شعراء نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے نہیں کہہ پائے، اگر متن ہی مصنف کی منشاء بیان نہیں کر سکتا تو شرح کے کیا معنی؟
مذکورہ بالا تمام سوالات جائز اور درست ہیں لیکن یہ تمام اعتراضات کسی ایسے Paradoxکو جنم نہیں دیتے کہ تفہیمِ متن کے اس زوایے کو بالکل ہی رد کر دیا جائے۔ مذکورہ سوالوں کے جوابات دیے جا سکتے ہیں ،حالانکہ قاضی صاحب مضمون میں ان کا ذکر کر کے آگے بڑھ گئے ہیں۔ سکندر احمد نے ان سوالوں سے بحث کرتے ہوئے لکھا ہے:”ان تینوں سوالوں کے جواب منطقی اور مدلل ہو سکتے ہیں ۔ اگر متن جز ہے تو یہ کل یعنی مصنف کی جزوی نمائندگی ہے، مصنف مفقود الخبر کہاں ہے؟ اگر زمان و مکان کی منطق قبول کر لی جائے تو اس کے معانی تو یہ ہوئے کہ ایسا تو صرف مشاعروں، شعری نشستوں میں ہی ممکن ہے اور یہ دریدا کے لفظوں میں Metaphysics of PresenceاورLogocentrism کو تقویت عطا کرتا ہے کیوں کہ ماورائے زمان ومکان متن Non-Text یعنی غیر متن قرار پائے گا۔)”۳ (بہر حال اب بھی اردو متن کی تشریح کا غالب رحجان یہی ہے۔ اس دبستان کی نظریاتی اساس متن کی قرات میں منشائے مصنف تک رسائی کی قیاسی راہوں کو روشن کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان قیاس آرائیوں کا متن اور مصنف سے کوئی منطقی ربط قائم نہیں ہوتا۔ یہ قیاس آرئیاں باقاعدہ دلیل کے سہارے پر استوار ہوتی ہیں اور انھیں کسی انتہائی حد تک نہیں پہنچنا چاہیے۔مضمون نگار نے اس کی ایک انتہائی مثال خواجہ منظور حسین کی کتاب ’تحریک جدوجہاد بحیثیت موضوع ِ سخن‘ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کتاب کے مصنف نے غالب کے بعض اشعار کی تعبیر و تشریح سیّد احمد بریلوی کی تحریک کے حوالے سے کی ہے۔ مثلاغالب کا یہ شعر:
َََِِِِِِِِِتو اور آرائشِ خمِ کا کل
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
خواجہ منظور حسین کی تعبیر کے انتقادی جائز ے سے قبل اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ مذکورہ بالا شعر غالب کے ان اشعار میں سے ہے جن پر بہت زیادہ بحث کی گئی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کلامِ غالب کی تشریح کے سلسلے میں عمومی طور پر ہمارے شارحین معنی کے تعین پر اصرار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں،لیکن اس کے برعکس غالب کا ڈکشن مذکورہ امر کی نفی کرتا ہے۔ غالب نے اپنے اشعار میں آنے والے الفاظ کو گنجینہء معنی کے طلسم سے تعبیر کیا ہے۔ طلسم سانپ کی اس تصویر کو کہتے ہیں جو خزانوں کی حفاظت کی خاطر بنائی جاتی ہے۔یعنی طلسم خزانے تک رسائی کو ناممکن بنانے سے عبارت ہے۔ غالب کے اشعار میں آنے والے الفاظ قاری/شارح کو معنی تک رسائی سے روکنے والے طلسم ہیں۔ اس کے برعکس غالب کا ناقدین نے اس امر کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کے ہر شعر میں کوئی لفظ، فقرہ یا ترکیب ، شعر کے لہجے اور معنی کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مذکورہ با لا شعر کو ہی لیجیے: اس شعرکی معنویت کا دارومدار اندیشہ ھائے دور دراز کی ترکیب پر ہے اور اس ترکیب کا سارا انحصار لفظ اندیشہ پر ہے۔ یوںپورے شعر کامعنیاتی نظام لفظ اندیشہ پر منحصر ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے تفہیم غالب میں اس شعر کی شرح کے حوالے سے تقریباََ بارہ امکانات کا ذکر ہے لیکن وہ تمام امکانات کلا سیکل غزل کی روایت سے برآمد ہوتے ہیں۔ خواجہ منظور حسین نے اس شعر میں سکھوں کی جنگ کے لیے تیاریوں کے پیشِ نظرمسلمانوںکے گو ناگوں اندیشوں کو موضوع بنایا ہے۔ ’خم کا کل‘ کی آرائشں محبوب نہیں کر رہا بلکہ یہ سکھ ہیں جو جنگ کی تیاریوں میں مشغول ہیں۔ دوسرے مصرعے میں ضمیر ’میں‘ سے مراد سیّد احمد شہید اور ان کے رفقا ہیںجو سکھوں کی تیاریوں کے سبب سے اندیشوں میں گرفتار ہیں۔ اس قیاس آرائی کے بارے میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اس قیاسی منشائے مصنف کے حوالے سے غالب کی تشریح کرتے ہوئے خواجہ صاحب نے غزل کے تمام رسومیاتی الفاظ معاصر سیاسی صورتحال کے حوالے کر دیے ہیں۔ یہ تعبیر متن کی ایک انتہائی صورت ہے۔
تعبیر و تشریح متن کا دوسرا دبستان اس لسانی /صنفی روایت کو بطور مرکز مانتا ہے جس میں وہ متن واقع ہوا ہے۔ متن محور تنقید کے تمام نظریات اسی دبستانِ تشریح سے متعلق ہیں۔ اس دبستان کا دارومدار اس تصور پر ہے کہ متن خود مکتفی موجود ہے۔ جو کچھ ہے متن ہے ،ورائے متن کچھ نہیں ہے۔ قاضی صاحب کے بقول اس دبستان کا دائرہ کار لفظ کے مفہوم سے لے کر متن کی نحوی ترکیب تک پھیلا ہوا ہے۔ تشریح کے تمام متن محور نظریات اسی دبستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ نفسیاتی تنقید، تاریخی تنقید، اشتراکی حقیقت نگاری اور ترقی پسند تنقید نے متن پر کم توجہ دی ہے۔ یہ تنقیدی نظریات متن سے زیادہ ، ادیب کے حالات ِ زندگی، اسکے ماحول اور طبقاتی کشمکش کے کردار حوالے سے ادبی متن کی قدرو قیمت کا تعین کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہیتی تنقید، نئی تنقید اور ساختیاتی فکر سیاسی، تاریخی ،سماجی اور نفسیاتی تناظرات کو رد کرتے ہوئے متن کے مطالعے پر زور دیتی ہے۔ یہ تشریحی دبستان متن کا مطالعہ اس کی داخلی شعریات کے حوالے سے کرنے کا قائل ہے۔ متن ایک خود مکتفی معروض ہے۔جب کوئی متن تخلیق ہوتا ہے تو وہ اس صنف کی روایت سے منسلک ہو جاتا ہے اور روایت سے مراد خاص متون کے درمیان صفات و امتیازات کا وہ اشتراک ہے جن پر ایک زبان کے بولنے والے متفق ہوں۔مضمون نگار نے دریدا کے الفاظ نقل کیے ہیں: ’’صنف کی روایت اور نئے متون کے درمیان ایک جدلیاتی رشتہ ہوتا ہے کہ ہر نئی تخلیق ما قبل کے متون سے مربوط بھی ہوتی ہے اور منحرف بھی‘‘۔ یہ جدلیاتی رشتہ کسی صنف کی تمام تخلیقات کو مدنظر رکھ کر وہ اصول برآمد کرتا ہے جسے شعریات(Poetics)کہا جاتا ہے۔قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ اردو میں اس تصور کے اہم داعی شمس الرحمن فاروقی ہیں۔ فاروقی نے اپنی کتاب ’’ تفہیم غالب‘‘ میں اسی طرزِ مطالعہ کے تحت تفہیم کا عمل سر انجام دیا ہے۔ فاروقی متن میں معنی خیزی کے وسا ئل کی تفہیم کے لیے شعریات کو بنیاد بنانے کے قائل ہیں۔ اس امر کا اعتراف فاروقی نے ’تفہیم غالب‘ کے مقدمے میں بھی کیا ہے۔ اس لحاظ سے شعریات کے سبب سے ہی متن کے خود مکتفی وجود کا اثبات ہوتا ہے، کیو نکہ یہ اس امر کی توجیح ہے کہ متن کی معنی خیزی کے وسا ئل کی تلاش کا منطقہ خود متن ہے۔ تحریر اساس تنقید کاایک اور مضمون بعنوان ’’لا تشکیل اور شرحیات‘‘ میں قاضی صا حب نے اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’شعریات(Poetics) سے قربت کے سبب لا تشکیلی تنقید میں متن کی تقدیر (Evalution)کسی نظریے ، عقیدے یا فلسفے کی پابندی سے آزاد ہوگی اور اس کے لیے معیار صرف متن میں معنی خیزی کے وسائل کی جستجو سے برآمد ہوں۔‘‘(۴) مذکورہ دبستان کے مطابق اگر کل اور جز کا رابط قائم کیا جائے تو صنف کی روایت /شعری روایت کو کل کی حیثیت حاصل ہے جبکہ زیر مطالعہ متن/شعر اء اسکا جز ہے۔ اس صورتحال میں لازم ہوگا کہ شارح تفہیم و افہام کے سلسلوں کو کسی ’جہانِ دیگر‘ میں تلاش کرے، کیونکہ اس کے سامنے ایک وسیع روایت موجود ہے جس نے اس شعر کے ظہور کو ممکن بنایا ہے۔ اس دبستان کی تاریخی تشکیل کو بیان کرتے ہوئے مضمون نگار نے مغرب میں نشاط الثانیہ کے بعد عقلیت پسندی کی تحریک کی جانب اشارہ کیا ہے کہ عقلیت پسندی کی تحریک نے معروضیت(Objectivity)
کو فروغ دیا۔ معروضیت پسندی نے ادب کے خود مکتفی وجود کے تصور کی راہیں ہموار کیں۔ متن کے خود مکتفی تصور سے مراد یہ ہے کہ متن کا داخلی نظام(System) فعال ہے اور سب کچھ متن میں موجود ہے، متن کی قرات اسکے داخلی نظام کے تحت ہی ہونی چاہیے۔ جیسا کہ ہیئتی تنقید کا مدعا یہ ہے کہ متن صرف وہ کہتا ہے جو اس کے Signifiersکی مخصوص ترتیب اور متن میں لفظ کی مخصوص حیثیت سے برآمد ہو تا ہے۔قاضی صاحب کے بقول اس نوع کی تشریحات اس طبقے میں عام ہیں جو کسی شاعرکا مطالعہ کرتے ہوئے پیکر، علامت، آہنگ یا وزن اور قافیہ وغیرہ کا تجزیہ کر رہے ہوتے ہیں۔ متن محور تشریحات میں Signifiers، کوڈز اور گرامر کو دخل ہے۔ اس دبستان نے ساختیاتی مطالعات کو فروغ بخشا۔ اس کا منبع سو سیور کا تصورِ زبان ہے۔ سو سیور نے زبان کے جوہری یا قائم بذات ہونے کے قدیمی تصور کو رد کرتے ہوئے زبان کا نسبتی تصور(Rational)پیش کیا۔ اس کے مطابق زبان ایک ایسا نظام ہے جو اپنے اجزاء کے باہم ربط وا تضاد کے ذریعے یک زمانی سطح پر فعال ہے۔ متن اور معانی کا تفاعل جاری رہتا ہے۔ جب کسی متن کی قرات کی جاتی ہے تو اس میں مو جود داخلی استعداد(Potential) یکجا ہو کر خود بخود تعبیرات کے ایک سلسلے کو تشکیل دینے کے اشارے فراہم کرتی ہے۔ ساختیاتی طریقہء تنقید کی وضاحت قاضی افضال حسین نے نہایت جامع الفاظ میںکی ہے: ’’ساختیاتی نقادوں نے زبان کے اس تصور سے متن کے مطالعے کا جو طریقہ کار برآمد کیا،اس میں پہلے متن کی وحدتیں/اکائیاں(Entities) طے کی جاتی ہیں، پھر ان میں باہم ربط و اتضاد کا ایک نظام تشکیل دیا جاتا ہے اور پھر ان ممکنہ روابط کی نہج مقرر کی جاتی ہے۔ مطالعہ کے ان تینوں درجات سے نظام بنتا ہے جس کے حوالے سے متن کی تشریح کی جاتی ہے۔‘‘
اس تثلیت کا تیسرا رکن ’قاری‘ ہے۔ متن اپنی تعمیر و تشکیل میں معنوی توسیع کی نظری استعداد سے لبریز ہوتا ہے، جس کی تکمیل قاری کے ذریعے ہوتی ہے۔ تنقید کا قاری اساس نظریہ، متن کی قرات اور قرات کے نتیجے میں قاری کے اندر پیدا ہونے والی ترجیح اور ذہنی ردعمل سے سروکار رکھتا ہے۔ اس نکتہ نظر کے مطابق قاری کل کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ متن اور صنف کی روایت جز کی۔ قاری اساس تناظر متن کے خود مکتفی وجود پر سوال اٹھاتا ہے اور اس کے علی الرغم قاری اور عمل قرات کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ مصنف کی جبریت کو رد کرتے ہوئے متن اور معنی کے تفاعل اور تعبیر و تشریح میں قاری کی تکمیلی شراکت پر اصرار کرتا ہے۔جدید تنقید کا مطالعہ کیا جائے تو اسکا تقریباََ ہر دبستان قاری اساس ہے۔رولاں بارتھ نےRustle of Language میں لکھا ہے: ’’ایک متن ان متنوع تحریروں سے تشکیل پاتا ہے، جومتعدد تہذیبوں سے برآمد کی جاتی ہیں اور باہم ایک مکالمے، پیروڈی یا مسابقت میں داخل ہوتی ہے لیکن ایک جائے وقوع ایسی ہے جہاں یہ کثرت تنوع مجتمع ہوتا ہے ۔ اور یہ جائے وقوع، مصنف نہیں ہوتا، جیسا کہ اب تک دعویـــ کیا جاتا رہا ہے بلکہ قاری ہوتا ہے۔ قاری وہ وسعت مکانی/ عرصہ ہے جس میں وہ تمام حوالے/اقتباسات، ان کا کوئی جز ضائع ہوئے بغیر،مرتسم/نقش ہوتے ہیں، جن سے تحریر بنتی ہے۔ ایک متن کی وحدت اس کے آغاز میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی منزل مقصود میں ہوتی ہے۔‘‘(۵) متن میں معنی بالقوت مضمر ہوتے ہیں، جن کو قاری موجود بناتا ہے۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی مثال کے مطابق متن گویا بارود کی ٹکیہ ہے، قرات کا عمل فتیلہ دکھاتا ہے جو اشتعالک پیدا کرتا ہے اور یوں وہ پھلجھڑی روشن ہوتی ہے جس کو معنی کا چراغاں کہتے ہیں۔ اسٹنلے فش نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ متن بے جان اور بے معنی لسانی معروض ہے جس میں معنی اسکا قاری پیدا کرتا ہے۔ دراصل فش یہ کہنا چا ہتا ہے کہ قاری ہی وہ عامل ہے جو متن لکھتا ہے۔ گوپی چند نارنگ نے فش کے نظریہ کو رد کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’ فش کی کمزوری یہ ہے کہ وہ متن اور مصنف کو رد تو کرتا ہے لیکن قاری کی انفرادیت کوایک نئے مقتدر یا نئی قوت کے روپ میں ادب پر فائز کرتا ہے۔‘‘ (۶ )قاضی افضال حسین نے بھی فش کے انتہائی موقف کے علی الرغم اعتدال کی اس صورت پر اصرار کیا ہے کہ قاری معنی کو اس قدر ہی سمجھ سکتا ہے جس قدر اسکا مطالعہ اور مطالعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فہم اسے اجازت دیتی ہے کیو نکہ ہر قاری خود اپنی تاریخی صورتحال کا اسیر ہوتا ہے۔ اس مقام پر قاضی افضال حسین نے بہت اہم نکتہ بیان کیا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ معاصر مطالعات میں تانیثی قرات کے فروغ نے قاری کے تصور میں ایک اور ـبعد کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس نئے تصور کے مطابق زمانے اور مطالعے کی نوعیت کے علاوہ قاری کا Gender بھی متن کی تعبیر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری نہیں کہ کسی متن کی قرات ایک پڑھے لکھے مرد کے لیے جو معنی رکھتی ہو،وہی معنی ایک پڑھی لکھی عورت کے لیے بھی ہوں۔‘‘ (۷) اردو میں کیونکہ تشریح و تعبیر زیادہ تر مرد مرکز یعنی Phello-Centric ہے، اس لیے قاضی صاحب یہ قیاس ظاہر کیا ہے کہ غالب کے بعض اشعار کی تعبیر تانیثی تناظر میں مختلف ہونی چائیے۔
Paul Ricoeur مشہور فرانسیسی مفکر ہیں۔ ان کا بنیادی کام تعبیریت اور شر حیات کے متعلق ہے۔ 1913ء میں پیدا ہو ئے اور سوربن سے فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ ریکور، گبریل مارسل کے شاگرد تھے اور اس کے فلسفے سے بھی متاثر تھے۔ قاضی افضال حسین نے ان کی مشہور کتاب Conflict of Interpretation کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب میں ریکور نے تقریر کے مقابلے میں تحریر کی فوقیت اور برتری کو واضح کیا ہے۔ تقریر کے مقابلے میں تحریر (لکھی ہوئی چیز) زمانی حدود کے مقابلے میں دوام حاصل کر لیتی ہے یعنی متن کے خود مکتفی وجود کو ثبات حاصل ہوتا ہے اور اس کے سیاق وسباق لا محدود ہو جاتے ہیں۔ اس کتاب میں ریکور نے تحریر کی فوقیت کے ذیل میں درج ذیل نکات کو بیان کیا ہے:
٭تحریر معنی کا وہ تعین ہے جس میں بولنے کے عمل سے زیادہ ’’کیا کہا گیا‘‘ اہمیت کر لیتا ہے۔
٭متن/ تحریر وہ عرصہ ہے جو مصنف کی حیات اور اسکی محدود زندگی کے افق سے بہت آگے نکل جاتی ہے۔
٭ تحریر کیونکہ تقریر کی ظاہری مختصر حیات سے ماوراء ایک مستقل معروض ہے، اس لیے تحریر میں معنی خیزی کی نئی جہات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
٭ لکھی ہوئی صورت میں متن کو جو استقلال حاصل ہوتا ہے اس میں ایک نوع کی آفاقیت پیدا ہو جاتی ہے۔
مندرجہ بالا تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ متن میں معنی کی کثرت کے امکانات بہت روشن ہو جاتے ہیں اور تفہیم دریافت کا عمل بن جاتا ہے۔ مضمون کے آخری حصّے میں قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ شرحیات کی مباحث مختلف ادوار سے گزری ہیں ۔ ان مباحث میں متن کی تعبیر میں منشائے مصنف کی اہمیت، متن کا خود مکتفی وجود، صنف کی روایت، زبان کا کردار اور شارح کی ترجیحات کو زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان تمام مباحث میں دو چیزوں کا وجود ہمیشہ ثابت رہا ہے:ایک تشریحی دائرہ اور دوسرا معنی کا منطقی تصور۔ مذکورہ مضمون میں قاضی افضال حسین نے بہترین انداز میں شرحیات اور اس سے متعلقہ مباحث کو بیان کیا ہے۔ اردو میں شرحیات کی نظری اور عملی تفہیم کے حوالے سے مذکورہ مضمون کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
حوالہ جات
۱: سیّد عبد السعید، ’’ شرحیات بحیثیت مکالمہ۔ ایک تعبیر‘‘ ، مشمولہ علم شرح ، تعبیر اور تدریس متن،مترجم: قاضی افضال حسین(علی گڑھ: علی گڑھ یونیورسٹی،1995ء)،ص68
۲: قاضی افضال حسین، تحریر اساس تنقید،(علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاوس،(2009ء) ،ص 90
۳: سکندر احمد، ــ’’ تحریر اساس تنقید: ایک تبصرہ‘‘ اردو چینل، ممبی، جلد 13، شمارہ 1,2، اگست 2011، ص 106
۴: قاضی افضال حسین، ایضاََ، ص55
5: Roland Barthes, Rustle of Language , p.54
۶:گوپی چند نارنگ، ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات،(دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،2004ء)، ص 312
۷: قاضی افضال حسین ، ایضاََ، ص 96
عرفان حیدر
(ایم فلِ اسکالر، پنجاب یونیورسٹی)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] تحقیق و تنقید […]