حقوق انسانی اسلام کی نظر میں – ڈاکٹر انیس الرحمن

by adbimiras
2 comments

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام ایک مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی کامل راہنمائی کرتا ہے،یہ وہ واحد جامع دین ہے جس میں تمام لوگو ں کے حقوق خواہ وہ والدین ہوں، بیوی بچے ہوں یا بہن بھائی،رشتہ دار ہوں یا ہمسایا ،حاکم ہوں یا رعایا،مسلم ہوں یا غیر مسلم، حتی کہ حیوانات کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔

حقوق سے مراد بنیادی ذمہ داریاں ہیں، اسلام میں حقوق کی دوقسمیں ہیں۔

(۱)       حقوق اللہ         (۲)     حقوق العباد

میں یہاں صرف حقوق العباد سے متعلق چند باتیں عرض کروں گا۔

موجودہ دور میں حقوق انسانی کے تصور کو کافی فروغ ملا ہے، حقوق انسانی کی تنظیمیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم عمل ہیں، مختلف ممالک نے حقوق انسانی کمیشن قائم کررکھے ہیں۔ اسی تناظر میں جب ہم اسلامی تعلیمات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے روز اول سے ہی انسانی حقوق کی پاسداری کی ہے۔

اسلام کہتا ہے کہ تمام انسانوں کو ایک ہستی نے پیدا کیا ہے، اس نے انسانوںکو عزت وتکریم بخشی، انہیں اپنی بے پایاں نعمتوں سے نوازا اور کائنات کی تمام چیزوں کو ان کی خدمت میں لگا دیا۔ ولقد کرمنا بنی آدم الخ یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی وتری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت دی۔ (سورہ اسراء ، آیۃ ؍ ۷۰)

اسلام کہتا ہے کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہے، وہ ایک ماں باپ سے پیدا کئے گئے ہیں اس لیے ان کے درمیان کوئی تفریق اور کوئی اونچ نیچ نہیں، وہ کہیں کے رہنے والے ہوں، کسی رنگ ونسل کے ہوں، کوئی بھی زبان بولتے ہوں مگر یہ چیزیں وجہ فضیلت نہیں بن سکتیں۔

یا اَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا(سورہ الحجرات، آیۃ ۱۳)

لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفی  ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا، آپ نے فرمایا لوگو! خوب اچھی طرح سن لو تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے، نہ عربی کو عجمی پر فضیلت حاصل ہے، نہ عجمی کو عربی پر، نہ گورے کو کالے نہ کالے کو گورے پر، اگر کسی کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل ہوسکتی ہے تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر۔‘‘ (مسند احمد)

یہ حقوق اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہیں ان میں کوئی شخص تبدیلی نہیں کرسکتا، کیسے بھی حالات ہوں ان حقوق پر دست درازی کی کسی کو اجازت نہیں ہے، حتی کہ جنگ کے دوران دشمن فوجیوں اور قیدیوں کے انسانی حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

اسلام نے جن حقوق کا ذکر کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

زندہ رہنے کا حق

اسلام میں کسی ایک شخص کو قتل کردینا پوری نوع انسانی کو قتل کرنے کے مترادف ہے، قتل کرنے والامجرم اور سزا کا مستحق ہے، اس معاملہ میں مسلم اور غیر مسلم کسی کی تفریق نہیں ہے، اسلام کسی فرد کو پیدائش کے بعد ہی نہیں بلکہ رحم مادر میں پلنے والے جنین کو بھی زندگی کا حق دیتا ہے۔

عزت واحترام کا حق

اسلامی قانون کے اعتبار سے دنیا کا ہر شخص محترم ہے خواہ وہ سماج کے کسی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، کسی کو حق نہیں کہ اس کی ہنسی اڑائے، برا بھلاکہے، پیٹھ پیچھے برائی کرے، بہتان لگائے، اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھے یا اس کی تذلیل اور اہانت کرے،ارشاد ربانی ہے: یا ایہا الذین آمنوا لایسخر الخ( سورہ الحجرات، آیۃ؍ ۱۱)

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ،ہوسکتا ہے کہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن کرواور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔

یا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا (الحجرات، ۱۲)

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔

اسلام کے نزدیک یوں تو ہر شخض کی عزت وآبرو محفوظ ہے لیکن خاص طور سے عورتوں کی عزت وناموس کی پاسداری کی تاکید کی گئی ہے اور ان پر بہتان لگانے والوں کے لیے سخت سزا متعین کی گئی ہے، ان الذین یرمون المحصنٰت الغافلات المؤمنات الخ (النور ۲۳)

ترجمہ:  جو لوگ پاک دامن ،بے خبر مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ا ن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اسلام لوگوں کی عزت وآبرو کو کتنا محترم سمجھتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کسی مرد یا عورت پر زنا کا بے بنیاد الزام لگانے کی سزا اسی(۸۰) کوڑے مقرر کی گئی ہے اور انہیں ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے۔

نجی معاملات میں راز داری اور پردہ داری

اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی شخص کے نجی معاملات میں دخل اندازی کی جائے اور ان کی ٹوہ میں لگا جائے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے ’’ولا تجسسوا‘‘  اور تجسس نہ کرو اس معاملے میں اس قدر لحاظ رکھتا ہے کہ بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے یا باہر سے تانک جھانک کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔

اسلام تحصیل علم پر زور دیتا ہے اور یہ ہر شہری کا حق ہے، اسلام ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، اسلام نے عقل سے کام لینے اور غور وفکر کرنے پر زور دیا ہے، غور وفکر سے مختلف لوگوں کے نقطہء نظر میں اختلاف ہوتا ہے، اسلام حدود کے اندر اختلاف کی اجازت دیتا ہے۔

اسلام نے عقیدہ اور مذہب کے انتخاب کا حق عطا کیا ہے، اسلام واضح کرتا ہے کہ حق کیا اور باطل کیا ہے لیکن ساتھ ہی وہ انسانوں کی اس بات کی آزادی دیتا ہے کہ وہ جو عقیدہ اور مذہب چاہیں اختیار کریں۔

لاَ اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ(البقرہ ۲۵۶) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ،صحیح بات غلط خیالات سے چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔

اسلام تنظیم سازی کا حق عطا کرتا ہے، اسلام اجتماعی نظم قائم کرکے کسی کام کو انجام دینے سے نہیں روکتا، بشرطیکہ اس کا مقصد خیر وصلاح ہو۔

انصاف کا حق

اسلام میں قانون کی نظرمیں تمام انسان برابر ہیں کوئی شخص خواہ امیر ہو یا غریب، صاحب جاہ ومنصب ہو یا عام آدمی ،اپنے کا ہو یا دوسرے مذہب کا ماننے والا سب کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جائے گا۔

واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (النساء ۵۸) اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔

کام کرنے اور اس پر اجرت لینے کاحق

اسلام حلال روزی حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس کے لیے محنت ومشقت کرنے کی فضیلت بیان کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے فریب دہی، چوری، غصب، جوا، سود، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کی تمام شکلوں کو حرام قرار دیا ہے۔

ملکیت کا حق

کوئی شخص جو کچھ حلال ذرائع سے کمائے اسلام اس پر اس کا حق ملکیت تسلیم کرتا ہے، اس کا استعمال اور تصرف کا اسے پورا اختیار ہے، دوسرا شخص یا حکومت اس کے اس حق کو غصب کرسکتی ہے نہ اس اس کی ملکیت کو ختم کرسکتی ہے۔

آزادی کا حق

اسلام انسان کو یہ حق بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے ارادہ اور اختیار میں آزاد ہو اور اپنی مرضی سے جو چاہے وہ کرسکے، اسلام کسی انسان سے اس کی آزادی کو سلب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

سکونت کا حق

اسلام کی نظر میں کسی شخص کو ا س کے گھر بار سے بے دخل کرنا جائز نہیں۔

پناہ کا حق

اگر کوئی شخص کسی علاقے میں ظلم کا شکار ہو اور وہ اپنے دفاع پر قادر نہ ہو تو اسلام اس کا یہ حق تسلیم کرتا ہے کہ وہ وہاں سے کہیں اور چلا جائے اور کسی ایسے علاقے میں پناہ لے جہاں وہ اپنی آزادی او رعزت نفس کو باقی رکھ سکے۔

پڑوسیوں کے حقوق

نبی اکرم  ﷺ نے ارشاد فرمایا:  پڑوسی تین طرح کے ہیں، ایک وہ جس کا صرف ایک حق ہے ، دوم وہ جس کے دو حق ہیں، سوم وہ جس کے تین حقوق ہیں، مسلمان رشتہ دار پڑوسی کے تین حق ہیں، پڑوس کا حق، اسلام کا حق، رشتہ داری کا حق، مسلمان پڑوسی کے دو حق ہیں، حق اسلام اور حق جوار، کافر پڑوسی کا صرف ایک حق ہے، یعنی حق جوار۔

ایک  مرتبہ اللہ کے رسول  ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے سلسلے میں وصیت کرتے تھے حتی کہ مجھے خیال ہوا کہ پڑوسی کو وارث کی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔‘‘(صحیح بخار ی ومسلم بروایت حضرت عائشہؓ)

ایک حدیث میں ہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے پڑوسی کا اکرام کرے۔(صحیح بخاری)

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے ’’کوئی شخص اس وقت تک مومن (کامل) نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کی شر انگیزیوں سے محفوظ نہ رہے۔‘‘

پڑوسی کا حق صرف یہی نہیں ہے کہ اسے ایذاء نہ پہنچائی جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ تکلیف پہنچائے تو صبر وتحمل اور برداشت سے کام لے، اور اس کی طرف سے پہنچائی جانے والی تمام تکالیف کے باوجود اس کے ساتھ نرمی، تواضع اور خندہ پیشانی سے پیش آئے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے، کہتے ہیں کہ قیامت کے دن مفلس پڑوسی اپنے مالدار پڑوسی کا دامن پکڑ کر باری تعالی سے عرض کرے گا یا اللہ ! اس سے پوچھئے کہ اس نے مجھے اپنے حسن سلوک سے کیوں محروم رکھا؟

ان کے علاوہ پڑوسیوں کے حقوق میں سے یہ بھی ہیں کہ اسے سلام میں پہل کرے، گفتگو کو طویل نہ کرے، اور نہ بار بار اس کا حال پوچھے، اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے، مصیبت میں اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے، اس کے غم میں شریک رہے ،اس کی خوشی پر خوش ہو ،اس کی غلطیوں کو نظرانداز کرے ، دیوار یا چھت سے اس کے مکان میں نہ جھانکے ، اس کے صحن میں نالہ گرا کر اسے ایذاء نہ پہنچائے، اس کے گھر کا راستہ تنگ نہ کرے،اگر وہ کوئی چیز اپنے گھر لے جاتا ہوا نظر آئے تو اس کی جستجو نہ کرے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرے، اگر اسے کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کی مدد کرے، اس کی عدم موجودگی میں گھر کی حفاظت کرے،اور بیوی بچوں کی خبر گیری رکھے، اس کی کوئی بر ائی نہ سنے، اس کی بیوی اور خادمہ سے نیچی نگاہیں رکھے، اس کے بچوں کے ساتھ مہربانی اور شفقت کا معاملہ کرے، اگر وہ کسی دنیوی یا دینی نقصان کی طرف قدم بڑھا رہا ہو تو اسے روک دے اور صحیح راستہ کی طرف اس کی رہنمائی کرے، یہاں ان حقوق کا اضافہ بھی کر لیا جائے جو عام مسلمانوں کے لیے بیان کئے گئے ہیں،یہ حقوق روایات سے ثابت ہیں۔چنانچہ نبی اکرم  ﷺ کا ارشاد ہے:

’’کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے؟ (پڑوسی کا حق یہ ہے کہ) اگر وہ تم سے مدد مانگے تو تم اس کی مدد کرو، قرض کا طالب ہو تو قرض دو،تم سے کوئی کام پڑے تو اسے پورا کرو، بیمار ہو تو عیادت کرو، مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، کوئی خوشی ہوتو اسے مبارک باد دو، مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو تسلی دو، اپنے گھر کی دیواریں اتنی اونچی نہ کرو کہ اس کے گھر کی ہوا رک جائے ہاں اگر وہ اجازت دے دے تو کوئی حرج نہیں ہے، اسے کوئی تکلیف مت پہنچاؤ، اگرتم کوئی پھل فروٹ خریدو تو اسے ہدیہ کرو، اگر تم ہدیہ نہیں کرسکتے تو یہ پھل چھپاکر گھر میں لے جاؤ، اپنے بچے کو وہ پھل لے کر باہر نہ جانے دوایسا نہ ہو کہ پڑوسی کا بچہ دیکھے اور اسے رنج ہو، اپنی ہانڈی کی خوشبو سے اسے تکلیف مت پہنچاؤ، ہاں اگر ایک چمچہ سالن اسے بھی دے دو تب کوئی مضائقہ نہیں ہے، اس کے بعد آپ  ﷺنے فرمایا تمہیں پڑوسی کا حق معلوم بھی ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے پڑوسی کا حق وہی شخص ادا کرسکتا ہے جو رحمت خداوندی سے فیضیاب ہو۔ (مکارم الاخلاق للخرائطی، ابن عدی)

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سرکار دوعالم  ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ !مجھے اپنے فعل کے حسن وقبح کا علم کس طرح ہوسکتاہے؟ فرمایا:

’’اگر تیرے پڑوسی یہ کہیں کہ تونے اچھا کیاتو تیرا فعل اچھا ہے اور اگر وہ کہیں کہ تو نے برا کیا تو تیرا فعل برا ہے‘‘۔(طبرانی ،مسند احمد)

جانوروں کے حقوق

اسلام نے انسان تو انسان حیوانات بلکہ نباتات وجمادات تک کے حقوق بتلائے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ جانوروں کے کیا حقوق ہوسکتے ہیں؟ جس جانور سے کوئی غرض متعلق نہ ہو اس کو قید نہ کرے بالخصوص بچوں کو آشیانہ (پنجرے) سے نکال لانا اور ان کے ماں باپ کو پریشان کرنا بڑی بے رحمی ہے، اسی طرح جو جانور قابل انتفاع نہیں ان کو بھی محض مشغلے کے طور پر قتل نہ کرے، ان کی نسل کو بڑھنے سے نہ روکا جائے، جو جانور اپنے کام میں ہیں ان کے کھانے پینے کا خیال رکھنا،  ان کے راحت رسانی اور خدمت کا پورے طور سے اہتمام کرے، ان کی قوت سے زیادہ ان سے کام نہ لے اور ان کو بلا وجہ یا حدسے زیادہ نہ مارے، جن جانوروں کو ذبح کرنا ہو یا بوجہ موذی ہونے کے قتل کرنا ہو تو تیز اوزار سے جلدی کام تمام کردے اس کو تڑپائے نہیں، بھوکا پیاسا رکھ کر جان نہ لے۔

اسی طرح اسلام کی تعلیم ہے کہ کسی بھی غیر جاندار شئی کا استعمال منصفانہ ہونا چاہیے، بغیر ضرورت انہیں برباد کرنا وغیرہ ان کے حقوق کی پامالی ہے۔

خلاصۂ کلام

جو حقوق انسانوں کے ذمہ ہوں اگر وہ حقوق اللہ ہیں سو اگر عبادات میںسے ہیں تو ان کو ادا کرے مثلا اس کے ذمہ نمازیں یا کچھ روزے یا زکوٰۃ وغیرہ رہ گئیں ہو تو ان کو حساب کرکے پورا کرے، اور اگر معاصی میں سے ہیں تو ان سے سچے دل سے توبہ کرے۔

اور اگر وہ حقوق العباد ہیں جو ادا کرنے کے قابل ہوں ادا کرے یا معاف کرائے مثلا قرض یا خیانت وغیرہ اور جو صرف معاف کرنے کے قابل ہوں ان کو فقط معاف کرالے مثلا غیبت وغیرہ اور اگر کسی وجہ سے اہل حقوق سے نہ معاف کراسکتا ہے نہ ادا کرسکتا ہے تو ان لوگوں کے لیے ہمیشہ استغفار کرتا رہے، عجب نہیں کہ اللہ تعالی قیامت میں ان لوگوں کو رضامند کرکے معاف کرادیں ، اور جو حقوق خود اوروں کے ذمہ رہ گئے ہوں جن سے امید وصول کی ہو تو نرمی کے ساتھ ان سے وصول کرے اور جن سے امید نہ ہو یا وہ قابل وصول نہ ہوں جیسے غیبت وغیرہ سو اگرچہ قیامت میں ان کے عوض حسنات (نیکیاں)ملنے کی توقع ہے مگر معاف کردینے میں اور زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے اسے بالکل معاف کردینا زیادہ بہتر ہے۔

 

 (گیسٹ ٹیچر)  شعبۂ اسلامک اسٹڈیز ،

جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

Email: anisurrahmanqasmi@gmail.com

Mobile:9891755509

 

 

You may also like

2 comments

ZAHID HUSSAIN جنوری 20, 2021 - 1:35 شام

MASHALLAH VERY NICE.HER EK ILFAZ KO NEHAYET HI KHOOBI K SAATH ROOSHNI DALA GAYA HAI.KHAS KER JANWARON K MOTALLIQ.

Reply

Leave a Comment