پروفیسر کوثر مظہری اردو دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔انہوں نے ادب کے کئی میدان میں یا کئی اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنا لوہا منوایا ہے۔ غیر معمولی تنقیدی بصیرت اور تخلیقی صلاحیت کے حامل ہیں۔ جوازو انتخاب، جرأت افکار،جدید نظم حالی سے میرا جی تک، وحید اختر،فائز دہلوی، بازدید اور تبصرے اور قرأت اور مکالمہ وغیرہ آپ کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
شاعری کے میدان میں بھی آپ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ 80 کے بعد کی شاعری کے حوالے سے ایک اہم نام آپ کا بھی ہے۔ اس کا اندازہ’’ماضی کا آئندہ‘‘ کے مطالعے سے بخوبی ہوتا ہے۔ حق گوئی ان کی ذات و تحریر دونوں کا حصہ ہے اور یہ نثر و نظم دونوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ خواہ وہ تحقیق و تنقید ہو،شاعری ہو یا ناول۔
ناول نگاری میں بھی آپ کو غیر معمولی دسترس حاصل ہے۔’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انہوں نے یہاں بھی بڑی جلدی اپنی شناخت قائم کر لی۔ پطرس بخاری کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا کم سرمایہ لے کر بقائے دوام کے دربار میں شامل ہو گئے اور چوٹی کے مزاح نگار میں شمار ہوتے ہیں۔ ’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ کے حوالے سے بھی یہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اس پر استاد محترم خالد جاوید صاحب کا مقدمہ موجود ہے۔ فکشن کی دنیا کا مشہور و مقبول نام جن کو موت کی کتاب، نعمت خانہ اور آخری دعوت وغیرہ کے لئے بے شمار شہرت اور پذیرائی نصیب ہوئی۔ خالد جاوید صاحب نے اس ناول کو جس باریکی سے دیکھا اور سمجھا ہے وہاں تک معمولی ذہن کی رسائی ممکن نہیں:
یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل میں
مری نگاہ میں سارا کمال درد کا ہے
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک تخلیق کار یا فنکار نے دوسرے فنکار کی صلاحیت کا اعتراف کیا ہے جو دونوں کی صلاحیت کی دلیل ہے۔ ظاہر ہے کہ تخلیق اور تنقید دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ تخلیق کے دوران تنقیدی شعور بھی اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ تنقید نگار اسی طرح فن پارے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ تخلیق کار نے کرنے کی کوشش کی ہوتی ہے۔ اور یہ امر مسلم ہے کہ اچھے تنقیدی شعور کے بغیر اچھا فن پارہ جنم نہیں لے سکتا۔خالد جاوید صاحب نے مقدمے میں جن پہلوؤں کی طرف روشنی ڈالی ہے وہاں تک بآسانی ذہن کا منتقل ہونا تقریباً ناممکن ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مضمون میں ان کے اقوال و اقتباس پیش کیے گئے ہیں۔ ’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ کا دوسرا ایڈیشن بیس سال بعد حال میں منظر عام پر آیا اور پھر سے اردو دنیا میں توجہ کا مرکز رہا۔ ناول کی دوبارہ اشاعت کی وجہ یوں بیان کی گئی ہے:
’’اس ناول کی دوبارہ اشاعت کا جواز یہ ہے کہ اس کا موضوع آج کی حسیت سے بالکلیہ ہم آہنگ ہے۔ وہی تناظر،وہی طرز زندگی، وہی قتل و غارت گری، سیاسی و سماجی اتھل پتھل (بلکہ کچھ زیادہ ہی)،وہی فسادات وہی نفرتوں کا کاروبار،سیاست کے وہی کریہہ چہرے اور ان سب کے درمیان ایک بے حد حساس کردار ’رضوان‘جو چاہتا ہے کہ انسانیت کا خون نہ ہو۔ وہ قومی یکجہتی کے نغمے لکھتا ہے۔وہ ہندو مسلم کے درمیان کی نفرتوں کو ختم کرکے محبت سے بھر دینا چاہتا ہے۔‘‘
(آنکھ جو سوچتی ہے۔ ص ۸)
اس اقتباس کے بعد یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ اس کا موضوع کیا ہے؟ بالکل صاف ہے کہ ناول ہندو مسلم فساد سے متعلق ہے۔صوبہ بہار کے ایک شہر سیتامڑھی میں برپا ہندو مسلم فساد کو مرکزی قصے کی حیثیت حاصل ہے۔اس لحاظ سے تبصرہ نگاروں نے اس کو علاقائی ناول کے خانے میں رکھ دیا ہے لیکن یہ کسی ایک شہر،قریہ یا گاؤں کی کہانی نہیں ہے۔اس طرح کے حادثات و واقعات کا سامنا ساری دنیا کر رہی ہے اور ماضی میں بھی اس کا سامنا تھا اور حال میں بھی ہے۔اگر یہی حالات رہے تو شاید مستقبل میں بھی اس سے چھٹکارا حاصل نہ ہوسکے۔ لہٰذا اس کو عالمی منظر نامہ میں دیکھنا چاہیے بجائے اس کے کہ اس کو کسی خطے سے منسوب کر دیا جائے۔ فسادات کا سلسلہ تو تھمتے نہیں تھمتا ہے۔اس کی اصلاح کے لئے لوگ آگے بڑھتے ہیں روکنے کی ناکام کوشش کرتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ فسادات وقتاً فوقتاً ہر جگہ سر ابھارتے رہتے ہیں اور کوششیں ناکام ہوتی رہتی ہیں۔ایسی ہی ایک ناکام کوشش اس کہانی کے کردار’رضوان‘ نے کی۔
’رضوان‘ اس ناول کا مرکزی کردار ہے۔ ایک معمولی گھرانے کا طالب علم ہے۔ نہایت حساس طبیعت کا مالک ہے جس کو آس پاس کی زہر آلود فضا نے بہت بیزار کیا ہوا ہے۔ وہ اس میں سدھار لانے کا خواہاں ہے اور اس کی تکمیل میں منہمک ہے۔یہاں تک کہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ رضوان کے علاوہ زیبا، نوازی، چودھری کلیم الدین، خالد امام، سہیل اور جھا جی وغیرہ کا کردار بھی سامنے آتا ہے۔ ہر کردار کی زبان اور حرکات و سکنات اس کی مناسبت سے ہے۔ مثلا مولوی کی زبان اور ہنگاموں کی زبان میں فرق ہے۔ وید ناتھ جی کا اردو پڑھنا اور غالب کو یاد کرنا، باتوں باتوں میں کلاسیکی شعرا کے اشعار پیش کرنا اس مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ یہ سارے کردار اصل سے بہت قریب ہیں۔اس لیے ناول بڑے سیدھے سادے انداز میں اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔کہیں پر کوئی جھول یا کسی پیچیدگی کا شائبہ تک نہیں ہے۔ منطقی تسلسل قائم رہتا ہے۔واقعات ایک کے بعد ایک سلسلہ وار طریقے سے سامنے آتے رہتے ہیں۔یہ سب بالکل مربوط اور پیوست ہیں۔ جس کے نتیجے میں کہانی حقیقی معلوم ہوتی ہے۔ذہن یہ تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھتا جاتا ہے کہ ہاں یہ یونہی ہوا ہوگا۔
چند مغربی ناقدین کی بھی رائے ہے کہ ناول کو حقیقی زندگی سے قریب ہونا چاہیے۔مثلا ایچ جی ویلز کا کہنا ہے کہ اچھے ناول کی پہچان حقیقی زندگی کی پیشکش ہے۔مغرب میں حقیقت پسند ناول نگاروں میں فاکز اور ایمل زولا غیرہ کو خاص اہمیت حاصل ہوئی۔ہمارے یہاں تو ترقی پسند تحریک کے زیر اثر اس کی لہر چلی اور جیسا کہ ظاہر ہے ترقی پسندوں کی منشور میں لکھا تھا:
1 ۔ ادب کو سماج اور معاشرے کا ترجمان ہونا چاہیے۔
2۔ ادیب حساس طبیعت کا مالک ہو کیونکہ وہ سماج کا حصہ ہے اس سے منہ موڑ کر نہیں رہ سکتا۔
3۔ادیب کو فرقہ پرستی کے بجائے سیکولرزم، جذباتیت کی بجائے عقلیت، فراریت کے بجائے جدوجہد، تعطل کے بجائے تغیر، انفرادیت کے بجائے اجتماعیت اور رومانیت کے بجائے حقیقت کا علمبردار ہونا چاہیے۔
4۔ادب کو سماجی، سیاسی اور معاشی ناانصافی، استحصال،ظلم، تشدد، نفرت اور تعصب کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ اور اسے صداقت، انصاف، امن،نیکی، مساوات اور محبت کا دم بھرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ بھی اسی طرح کی دوسری باتوں پر زور دیا گیا تھا۔اگر ہم مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں ناول کا مطالعہ کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ تخلیق کار بھی اپنی حساس طبیعت کی وجہ سے سماجی انتشار اور معاشرے کی زہر آلود فضا سے بہت پریشان اور مغموم ہے۔اس نے اپنے طور سے سماج کو آئینہ یا سماج کی ایک جھلک دکھائی ہے۔دوسرے لفظوں میں اس نے اپنے ماحول یا معاشرے کی ہو بہو تصویر کو ادبی پیرایہ یا خول عطا کر دیا ہے جس سے بہتر عکاسی تقریبا ناممکن ہے۔’ عکاسی‘ سے متعلق خالد جاوید نے بڑی منفرد اور دلچسپ گفتگو کی ہے جو بطور خاص توجہ طلب ہے:
’’مجھے عکاسی والی بات اس لیے بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ میرے خیال میں ادیب،یا کوئی بھی فرد محض ایک جزو ہے،اور حقیقت یا صداقت یا معاشرہ کہہ لیجئے،آپ کائنات ہی کہہ لیجئے،وہ کل ہے۔جز و کل کی عکاسی کیسے کر سکتا ہے کل تو جزو کی عکاسی کر سکتا ہے بلکہ کل میں سارے اجزاء منعکس ہوتے ہی ہیں مگر کوئی فن پارہ چاہے وہ ناول ہو یا نظم، پینٹنگ ہو یا موسیقی وہ اپنے عہد سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ وہ سب اپنے وقت کے قیدی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے وقت کی عکاسی کر سکتے ہیں کیونکہ وقت نے اپنے بے رحم ہاتھوں سے اس آئینے کو توڑ دیا ہے۔وہ صرف ایک ٹوٹے ہوئے آئینے کو کبھی اپنی ذات کی طرف اور کبھی معاشرے،کائنات کی طرف رخ کر کے دیکھتے رہتے ہیں۔ اگرچہ فنکار کی آنکھیں اندھیرے میں غلطاں ہوتی ہیں مگر اس کی تخلیقیت اس شورش زدہ آئینہ میں ایک نئی متبادل حقیقت تشکیل کر لینے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
کوثر مظہری کا ناول’ آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک ایسا ہی جہان تو ہے۔بظاہر اوپری سطح سے دیکھنے اور پڑھنے میں ہمارا دیکھا ہوا جہان ہے،ہماری روزمرہ کی حقیقت مگر زیریں سطح پر ناول کا بیانیہ ہمیں ان نامانوس حقیقت سے روشناس کرتا ہے جو ہماری حسیت میں اضافہ کرتی ہے اور وجود کائنات کی پوشیدہ جہات کو اس خوبی کے ساتھ روشن کر دیتی ہیں کہ ناول پڑھتے وقت ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا۔یہ بیانیہ خاموش مگر تیز رواں بلیڈ ہے۔ وہ ہمارے اوپر بڑی نرمی اور روانی سے چلتا ہے۔یہ ہمیں بعد میں پتہ چلتا ہے، جب ہم غور سے آئینہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے چہرے پر جگہ جگہ خون چھلک آیا ہے۔‘‘
(مقدمہ: آنکھ جو سوچتی ہے۔ ص11)
اس میں ناول کے بیانیہ سے متعلق بڑی عمدہ بات کہی گئی ہے کہ ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا اور ہم بہت سے حقائق اور پوشیدہ جہات سے روشناس ہوتے چلے جاتے ہیں۔اس سے بڑھ کر کسی بیانیہ کی صفت کیا ہو سکتی ہے۔ناول کے بیانیہ کے حوالے سے کی اور پہلو بھی اہم ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ مصنف نے ادبیت کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا ہے۔واقعہ نگاری،مکالمہ نگاری اور کردار نگاری کے علاوہ مصنف کے تخیل کی کارفرمائی بیانیہ میں بڑی خوبی کے ساتھ نظر آتی ہے:
’’ایک طوفان تھا جو گزر گیا، چڑھتا ہوا دریا تھا کہ اتر گیا۔ موجوں کے تھپیڑے تھے کہ پرسکون ساحل میں سما گئے۔چیخ تھی کہ فضا میں تحلیل ہو گئی جیسے سگریٹ کے مرغولے تحلیل ہو جاتے ہیں۔ بچوں اور عورتوں کی کراہیں اور آہیں تھیں کہ دھوئیں کے موئے بادلوں سے ٹکرا کر زمین پر اوندھے منہ آ رہیں۔ کیا کچھ تھا، کیا معلوم؟ ‘‘
(آنکھ جو سوچتی ہے۔ص81)
’’رات نے اس کی تکان،اس کی سوچ،اس کے انتشار فکر،اس کی شدت احساس اور سیتامڑھی فساد کے ابھرتے مٹتے نقوش پر ایک دبیز چادر ڈال دی جیسے کرہ ازمہر پر نے دہکتے ہوئے سورج کو اپنے وجود میں ضم کر لیا ہو۔‘‘ (ص 104)
’’سورج کی ٹکیا آج کچھ زیادہ روشن ہو گئی تھی۔ندی کے خون آلود پانی پر جب سورج کی کرنیں پڑی ہو نگی تو اس کا انعکاس ہوا ہوگاجس سے یہ ٹکیا اور بھی سرخ ہو گئی ہوگی۔ سورج جو سیتامڑھی کی طرف سے طلوع ہوا تھا اور بیتیا کی طرف ناول میں اپنی سرخ کرنیں بکھیر رہا تھا۔‘‘ (ص 119)
مندرجہ بالا اقتباسات پر نظر ڈال کر خالد جاوید صاحب کے اس خیال کو دیکھیے:
’’ آج کل بڑے زور و شور سے یہ کہا جانے لگا ہے کہ یہ ناول کا عہد ہے۔ناول ہی وہ صنف ہے جو ہماری ذات پر ہمارے زمانے کے آشوب کی عکاسی کر سکتا ہے۔اردو میں لکھنے والوں کی ایک باڑھ سی آ گئی ہے۔ یہ سب کچھ خوش آئند ہو سکتا ہے۔اگر واقعی ناول لکھے جائیں۔مگر صحافتی قسم کے بیانیہ،سماجی مظاہر کی سپاٹ عکاسی اور سطحی مکالموں کے درمیان میں ناول تلاش کرتا پھرتا ہوں جو مجھے ہر جگہ نظر نہیں آتا۔اچھے ناول یا بڑے ناول کی بات تو بعد میں ہی کی جا سکتی ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ ناول ہے کہاں، اگر یہ زمانہ ناول کا زمانہ ہے؟‘‘
اقتباسات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ناول صحافتی بیانیہ سپاٹ عکاسی یا دیگر عیوب سے پاک ہے۔مصنف نے اس کا خاص خیال رکھا ہے۔اسلوب کے اعتبار سے یا زبان و بیان پر نظر ڈالیں تو مکالمات نے اس ناول کو کامیاب بنانے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ظاہر ہے کہ ناول کی کامیابی اور ناکامی کا بڑی حد تک انحصار مکالمات پر ہی ہوتا ہے۔آپ مکالمات پر نظر ڈالیں تو کوئی مکالمہ غیر ضروری طور پر نہ طویل ہوگا اور نہ ہی پیچیدہ۔ ہر کردار اپنے حسب حال بڑی نپی تلی گفتگو کرتا نظر آتا ہے۔ فساد میں پکڑے جانے کے بعد رضوان، نوازی، پولیس اور سپاہی کے مکالمات دیکھیے:
’’ نوازی: آپ کہاں سے آئے ہیں؟
رضوان: میں پٹنہ میں پڑھتا ہوں۔ وہیں سے ہم لوگ ریلیف کا کام کرنے آئے تھے۔
نوازی: ایک بات کہیں بابو صاحب!
رضوان: ہاں،ضرور کہیے۔
نوازی: آپ کو اس میں پڑنے کی کا جرورت تھی؟ آپ تو بیکار میں دھرا گئے۔
رضوان: نہیں نوازی بھائی،یہ تو ہمارا فرض ہے اگر ہر آدمی ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جائے تو اس ظلم کے خلاف کون لڑے گا؟
نوازی: اوتٓ ٹھیک ہے باپو صاحب! مگر یہاں سب کے تماسے دیکھتے ہیں۔ ہم تٓ کہتے ہیں کہ ای سب نیتا لوگ ہی کرتا ہے۔اسی درمیان دونوں کی سرگوشی سن کر ایک پولیس والا اس طرف آ گیا۔
پولس: کیا نیتا لوگ کرتا ہے۔ ابھی دوچار ڈنڈا سے تم لوگوں کا پیٹ نہیں بھرا ہے!
رضوان: دیکھیے،آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔
سپاہی: اچھا،ہم کو ہی کہتا ہے کہ گلط پھہمی ہوا ہے۔ارے صاف صاف کیوں نہیں کہتا کہ ای سب پربھوناتھ جھا کرواتے ہیں۔۔۔۔چُٹّی والے،سالے،کتے کرتا ہے دنگا آ بھاسن دیتا ہے۔۔۔۔۔ہے! ایک دم سے چپّے رہو،اب جو بولوگے تو ددیکھتے ہو ای گونجی (لاٹھی)
(آنکھ جو سوچتی ہے۔ ص 68)
اس اقتباس سے رضوان،نوازی، پولیس اور سپاہی کے مکالمات کا فرق صاف صاف واضح ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مصنف کی اس علاقے کی زبان پر دسترس کا ثبوت بھی ہے۔اس زبان سے بھوجپوری قدرے مختلف ہے۔ زبان کے علاوہ اس اقتباس میں منظر کشی کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بتاتی چلوں کہ یہ اقتباس غیر ارادی طور پر (Randomly) منتخب کر لیا گیا ہے۔اسی طرف مقدمے میں بھی اشارہ ملتا ہے:
’’ناول کی پوری فضا میں فسادات کا دھواں منڈلا رہا ہے۔کوثر مظہری نے فسادات کو ایک دم گھونٹ دینے والی بیک گراؤنڈ موسیقی کی طرح استعمال کیا ہے۔ناول کی بیک گراؤنڈ موسیقی جیسے کسی فلم میں ہوتی ہے۔ ویسے بھی یہ ناول اپنی طاقتور بصری پیکروں کے لیے یاد رکھا جائے۔ناول میں اتنے فضول ہیں کہ پڑھتے وقت ہمیں دیکھتے ہوئے کا گمان ہوتا ہے۔زبان و بیان کی نازک گرہوں کو سمجھے بغیر یہ ہنر نہیں آتا۔جب تحریری لفظ اچانک بصری منظر میں تبدیل ہو جائے۔بڑا آرٹ ہمیشہ وہ ہوتا ہے جو ہمارے پانچوں حواس خمسہ کی ہم آہنگی کو مجروح نہ کرے بلکہ اس کی توثیق کرے۔
شوگر فیکٹری، گنے کے کھیت، گوبر، بیل،بیل گاڑی، ندی، مچھیارے، برسات، شیشم،آم اور بانس کے درخت اور امرود کے باغ، مدرسے، مسجدیں، مندر اور خراب فصلیں یہ اور ایسے بہت سے منظر فلم کی طرح ہمارے سامنے آتے ہیں،چلے جاتے ہیں،پھر آتے ہیں،یہ منظر رکے ہوئے نہیں ہیں۔یہ ٹھوس مناظر نہیں ہیں۔کوثر مظہری نے اسے سیال بنا کر پیش کیا ہے۔ حقیقت ویسے بھی سیال ہوتی ہے۔وہ بہتی رہتی ہے، پوری طرح ہماری گرفت میں نہیں آتی،جیسے منظر بھی بہہ رہے ہیں، فسادات کے کابوسوں کے ساتھ ساتھ یہ ٹھہرے ہوئے نہیں ہیں۔کوثر مظہری اس نکتے سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر اس تمام فضا کو وہ اپنے ناول میں بہت ٹھوس طریقے سے پیش کرتے تو ناول اس فضا کا قیدی بن جاتا مگر اب کمال یہ ہوا ہے کے یہ فضا ناول میں قید ہے اور ناول اس کے سوا بھی نہ جانے کون کون سے بوجھ اٹھائے چلتا جا رہا ہے۔اختتام ہو کر بھی اس کا اختتام نہیں ہوتا یہ بہت بہت بڑی بات ہے کہ بیانیہ کی ان خوبیوں نے اس ناول کو نیچرلزم naturalism کے کلیشے سے دور کر دیا ہے۔‘‘ (ص 15)
اس اقتباس میں ذکر آ یا visual کا اور کہا گیا کہ زبان و بیان کی نازک گرہوں کو سمجھ کر تحریری لفظ کو بصری منظر میں تبدیل کرنے کا ہنر آ جاتا ہے جو اس ناول کی صفت ہے۔مجھے ناول میں موجود وہ واقعہ یاد آگیا جب زیبا کے رضوان کے روم میں آجانے پر افراتفری مچی ہے، سب بہانے بہانے دیکھنے آ رہے ہیں۔اس واقعہ کو پڑھیں تو اندازہ ہوگا کے تخلیق کار کو نفسیات پر بھی ااچھی پکڑ حاصل ہے۔ نفسیات کی سمجھ کے علاوہ وہ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ تخلیق کار اپنے بیان کردہ جگہ کے چپے چپے سے واقف ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ناول میں بصری منظر visualisation یا منظر کشی،واقعہ نگاری اور جزئیات نگاری کے بہترین نمونے موجود ہیں:
’’رضوان رضوان نے بڑے غور سے پروفیسر صابر علی کی باتیں سنیں۔ یہ الگ بات تھی کہ رضوان کے ذہن پر جو بات نقش تھی وہ اب بھی تھی۔البتہ گھر جانے والی بات پر سوچنے لگا۔ وہاں سے اٹھ کر سلام کرتا ہوا باہر آگیا۔ پٹنہ کالج کے پاس رمنہ روڈ پر شالیمار ہوٹل میں کھانا کھاتا ہوا اپنے کمرے پر پہنچا۔‘‘ (ص96)
پٹنہ کالج کے پاس رمنہ روڈ شالیمار ہوٹل،اس جزئیات نگاری کے ساتھ ساتھ آپ دیکھیں گے اوپر جو نفسیات کی پکڑ والی بات سامنے آئی اس کا بھی ثبوت مل گیاکہ رضوان اپنی سوچ پر کتنا اٹل ہے کہ پروفیسر صابر علی کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے رفع دفع کردیا۔اس طرح کی بے شمار مثالیں اس ناول میں مل جاتی ہیں مثلا قومی تنظیم وہاں بے حد مقبول ہے، تخلیق کار نے اس کا ہی ذکر کیا ہے۔کھینی کا ذکر کیا گیا۔ساتھ ساتھ وہ فضا، وہ ماحول، وہ علاقہ،وہاں کی زبان، وہاں کا رہن سہن،عادات و اطوار اور وہاں کی تہذیب سے نہ صرف ناول نگار واقف ہے بلکہ اس کے اندر رچی بسی ہوئی ہے۔جس کے سبب بڑی آسانی سے اور فطری انداز میں کہانی کو اختتام تک پہنچایا گیا ہے۔کسی جگہ پر کوئی تصنع بناوٹ یا غیر فطری یا کوئی غیر حسب حال یا نامناسب واقعہ یا مکالمہ سامنے نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ ذہن تسلیم کرتا ہے کہ یہ واقعہ اور یہ کردار حقیقی ہے۔اس کے ساتھ شاید ناول نگار نے طویل عرصہ گزارا ہوا ہے بلکہ کبھی کبھی رضوان کے کردار میں ناول نگار کی جھلک ملتی ہے مصنف نے اس کا اقرار بھی کیا ہے:
’’بہت سارے شواہد ایسے ہیں جو مصنف کی شخصیت کو اجاگر کرتے ہیں مثال کے طور پر اسٹو جلا کر مولانا آزاد والی چائے بنانا نظموں اور غزلوں میں دلچسپی لینا، اخبارات و رسائل میں نظمیں اور غزلیں چھپوانا،قومی تنظیم اخبار کے ادبی ایڈیشن کے لیے نظمیں دینا، پبلک سروس کمیشن کا ارادہ ترک کرنا، یو جی سی کا ایگزایم پاس کرنا،پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کرانا، درس و تدریس کو کیریئر بنانا اور صابر علی کے نظریے سے اتفاق نہ کرنا،اس پر اپنا مطالبہ پیش کرنا وغیرہ اور بہت ساری اسلامی افکار ایسے ہیں جو مصنف کی شخصیت کا پرتو ہیں ۔‘‘
(امتیاز احمد علیمی،ریسرچ جنرل،یکم اکتوبر 2017)
جیسا کہ مندرجہ بالا اقتباس میں ذکر آیا نظموں اور غزلوں میں دلچسپی اور اخبارات و رسائل میں اپنی غزلیں اور نظمیں بھیجنے کا تو ظاہر ہے ناول نگار ایک معلم بھی ہے جس نے کلاسیکی ادب پڑھا بھی ہے اور پڑھایا بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر موقع کی مناسبت سے کلاسیکی شعرا مثلا درد، سعدی، غالب اور اقبال کے اشعار جا بجا مل جاتے ہیں۔نہ صرف یہی بلکہ نثر میں حسن تعلیل کا نمونہ بھی موجود ہے۔مثلا جہاں سونو ڈاکو کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ’’ مولانا نورالحق اور وجیہہ الحق‘‘ ندی میں بے خوف اتر گئے جس کی وجہ سے ڈاکو واپس ہوا اور یہ معلوم ہوا کہ اس کی بندوق خالی تھی:
’’ تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ اگر سونوا ڈاکو کے پاس بھری بندوق ہوتی اور وہ فائر کر دیتا تو کیا ندی کا پانی لال نہ ہو جاتا۔۔۔۔۔۔۔ پھر تو یہ ندی ایک زمانے تک لال رہتی اور یہاں کی مچھلیاں مارے حیرت کے ساحل سے ٹکرا ٹکرا کر اپنے سر پھوڑ لیتیں اور لال پانی اور بھی لال ہو جاتا۔۔۔۔۔۔‘‘ (ص 154)
پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی
ساحل سے سر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی
اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘سے مصنف کی ذہنی،تخیلی، فکری،تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی بصیرت کے ساتھ ساتھ دوسری صفات یا جہات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ آخر میں ناول کے حوالے سے دو باتیں جورہ گئی ہیں ایک یہ کہ اس میں فلیش بیک کی تکنیک کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اختتام المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تکنیک کے ساتھ ہوا ہے۔آخری وقت میں رضوان کے منہ نکلے غیرمربوط جملے یا فقرے یا الفاظ بڑی معنویت کے حامل ہیں اور ان میں کئی پہلو مضمر ہیں۔ یہاں پر مصنف نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے اپنے من کی بات بھی رکھ دی ہے اور بظاہر کچھ کہا بھی نہیں ہے باوجود اس کے مکمل تصویر واضح ہو کر ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ساتھ ساتھ غور کریں تو یہ الفاظ پوری ناول کے keyword یا نچوڑ ہیں مثلا،، فساد، قبرستان، جنگی مسجد، درگا پوجا،سب کا حال، دو قومی نظریہ،لال سورج،جھا جی، نوازی، امام صاحب وغیرہ وغیرہ،،ظاہر ہے کہ یہ مصنف کی فنی مہارت کا ثبوت ہے۔
اختتام کے بعد بھی کہانی ذہن میں شروع ہوجاتی ہے کئی سوالات ذہن کے پردے پر ابھر آتے ہیں کہ آخری حادثہ کے پیچھے کون لوگ تھے؟ کہیں اس میں ساگر بابو کا ہاتھ تو نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ کسی مغربی دانشور نے ناول کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بہترین ناول وہ ہے جو صفحات پر ختم ہو کر ذہن میں شروع ہو جائے۔ دوسرا قول ڈینیل ڈیفو کا پیش کرنا چاہوں گی اس نے حقیقت نگاری اور اخلاقی نقطہ نظر کو اہمیت دی۔اس نے کہا:
’’ قصہ بنا کر پیش کرنا بہت ہی بڑا جرم ہے یہ اس طرح کی دروغ بافی ہے جو دل میں ایک بہت بڑا سوراخ کردیتی ہے،جس کے ذریعے جھوٹ آہستہ آہستہ داخل ہوکر ایک عادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔‘‘
وغیرہ وغیرہ۔ خیر یہ کافی لمبی بحث ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ناول کئی اعتبار سے نہایت اہم ہے اور موجودہ صور ت حال میں یہ تعصب،فرقہ ورانہ تشدد،اور انتشار کو ختم کرکے قومی یکجہتی،ہم آہنگی اور امن و آشتی کا پیغام دیتاہے اور ذہنی تربیت میں اہم رول ادا کرتا ہے۔
(مضمون نگار کا مختصر تعارف مہر فاطمہ)
٭٭٭
مہر فاطمہ
ریسرچ اسکالر،دہلی یونیورسٹی
meharekta004@gmail.com
9555949032
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

