Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      ستمبر 9, 2026

      کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      متفرقات

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      متفرقات

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      ستمبر 9, 2026

      کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      متفرقات

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      متفرقات

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

چیل ، چوزے اور چنار : کیا حقیقت کیا فسانہ! – توصیف احمد توصیف

by adbimiras جنوری 18, 2021
by adbimiras جنوری 18, 2021 0 comment

ریاست جموں و کشمیر کو اپنی ابتداء سے ہی یہ شرف و امتیاز حاصل رہا ہے کہ زندگی کے ہر ایک شعبے میں وقت وقت پر یہاں کے ذہین و فطین اذہان نے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جو نہ صرف قابل ستائش ہیں بلکہ نسلِ نو کے لیے قابلِ تقلید بھی۔اردو زبان و ادب کی تعمیر و تشکیل اور ترقی و ترسیل کے حوالے سے بھی جو تعمیری رول اس ریاست سے جنمے تجربہ یافت لکھاریوں نے سرانجام دیا ہے وہ ادبی تاریخ کا ایک یادگار باب ہے ۔ہمارے حق میں یہ ایک خوش آئند اور باعثِ فخر امر ہے کہ یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ اس ریاست کا معاصر ادبی منظر نامہ مستقبل کے حوالے سے مزید تابناکی اور پختگی کا عندیہ فراہم کرتا ہے۔

چیل ، چوزے اور چنار وادیٔ کشمیر کی ہم عصر ادبی روایت سے وابستہ ایک فعال اور اور سرگرم عمل افسانہ نگار’’راجہ یوسف‘‘ کا ایک بہترین افسانہ ہے ۔اس فن پارے میں کم و بیش وہ تمام عناصر یکجا دکھائی دیتے ہیں جو ایک افسانہ بلکہ فکری و فنی اعتبار سے کامیاب افسانہ کے ضامن قرار دیے جاسکتے ہیں۔پلاٹ کی بہترین پیش کش ، حسبِ موقع و واقع کرداروں کی عمل و حرکت ، برمحل مقالمہ نگاری ، موزوں منظر کشی و جزئیات نگاری ، زماں و مکاں کا حسین سنگم اور الفاظ و جملوں کی تخلیقی بنت کاری وغیرہ وغیرہ۔

افسانہ چیل ، چوزے اور چنار کا پلاٹ انسانی زندگی میں رونما ہونے والے جس واقعے یا حادثے کو محیط ہے اس کی مختصر تفصیل یوں ہے کہ معصوم و شریف النفس لوگوں سے بھرے ایک گاؤں کے بیچ و بیچ ایک تناور چنارکا درخت اپنی شاخیں دراز کیے ہواہے ۔اس چنار کو پہلے پہل دو چیلیں اپنا مسکن بناتی ہیں۔ ان دو چیلوں نے اپنی شاطرانہ سازشوں اور مکارانہ چالوں سے پورے گاؤں کے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے کہ موقع پاتے ہی یہ نوزائید اور ننھے منھے چوزوں پر اپنا داؤ بول کر انہیں بے دریغ نوچ لیتی ہیں۔چوزوں کے محافظ(لوگ) اپنی تمام تر ہوشیاریوں کے باوجود بھی ان چیلوں کو ایسا کر گزرنے سے باز نہیں رکھ سکتے ہیں۔جوں جوںوقت گزرتا ہے چیلوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ خصلت میں چیلوں سے کئی گنا زیادہ خونخوار اور غلیظ گدھ بھی ان کے صف میں شامل ہوتے ہیں۔اس طرح چوزوں کے ساتھ ساتھ اب زندہ انسان بھی ان کے شکنجے میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔لوگ ان وحشی درندوں سے چھٹکارا پانے اور اس چنار کو جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکنے کی ہرممکن کوشش اور تدبیر آزماتے ہیں لیکن ناکام و نامراد ہی لوٹتے ہیں۔

موصوف کا یہ افسانہ بظاہر یوں تو ایک سیدھا سادا واقعہ معلوم ہوتا ہے ۔ایک ایسا واقعہ جو ہمارے سماج اور معاشرے میں اس طرح اپنی جگہ بنا چکا ہے کہ ہمارے دل و دماغ اس کی الم انگیزی سے ذرہ برابر بھی چونک نہیں کھاتے۔ اس افسانے میں انسانی سماج اور معاشرہ کے ان حالات و حادثات پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کاسامنا ایک سادہ لوح انسان شاید ازل سے ہی کرتا آیا ہے اور جو آج بھی اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ قائم و دائم ہیں۔اس لیے اس افسانے کی سرسری قرأت قاری کے دل و دماغ کو کسی دیراور دور پا اثر سے لبریز کرتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی ہے۔لیکن ایک ادبی تحریرچوں کہ قاری کو بار بار پڑھنے اور غور و فکر کرنے پر اکساتی رہتی ہے اور متواتر قرأت کے بعد ہی اس میں پیش کیے گئے فکری میلانات کی تہہ تک پہنچنے کی گنجائش نکلتی ہے۔ اس تناظر میں جب ہم زیرِ بحث افسانے کی مسلسل قرأت کے بعداس کی تہہ میں چھپے معنوی ابعاد اور تاریخی و سماجی حوالہ جات کو کھنگالنے کی کماحقہ سعی کرتے ہیں تو ہمارا سروکار کہیں سارے ایسے سوالات سے پڑتا ہے جو یقینا اپنی سرشت میں تلخ بھی ہیں اور غور و فکر کے لائق بھی۔مثال کے طور پر:

۱۔ ایک انسان جسے اشرف المخلوقات کے عظیم شرف سے مشرف کیا گیا ہے کیونکر ایک حقیر اور غلیظ حیوانی مخلوق کے ظلم و استحصال کا شکار ہوچکا ہے؟

۲۔ کیا انسانی آبادی کا کوئی مخصوص خطہ اس جبر کے شکنجے میں گرفتار ہے یا اس کی کوئی حد متعین نہیں ہے؟

۳۔ چیلوں اور گدھوں کی یہ آدم خوریت کبھی ختم بھی ہوسکتی ہے یا اس کے امکانات مزید وسعت اور گہرائی ہی کا اندیشہ فراہم کرتے ہیں ؟وغیرہ

یہ اور اس نوع کے کئی سارے سوالات ایسے ہیں جو ہمارے ذہن کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتے ہیں اور جن کے جوابات کسی حد تک اس افسانے کی گہری اور تہہ دار قرأت کے بعد ازخود ازبر ہوجاتے ہیں ۔مثال کے لیے مذکورہ افسانے سے یہ مختصر اقتباس پیش کیا جاتا ہے:

’’ تب نیلوفر بہت چھوٹی تھی جب ماں نے اس کو چوزوں کی رکھ والی پر رکھ دیا تھا ۔ساتھ ہی چاق چوبند رہنے کے لیے اکثر اسے جھڑکتی بھی رہتی تھی ۔لیکن پھر بھی چنار سے دو چیلیں اتر آتیں اور اس کی آنکھوں کے سامنے دوچوزیں اٹھا کر لے جاتیں۔‘‘

اس اقتباس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا شاید زیادہ دشوار نہیں ہے کہ چیلوں کا معصوم چوزوں کو اپنا شکار بنا نا کوئی اتفاقی یا وقتی عمل نہیں ہے بلکہ اس روایت کی جڑیں بہت پہلے بلکہ اپنی ابتدا سے ہی ہموار ہونا شروع ہوئی ہیں ۔ نیلوفر کی والدہ ، جو اب عمر رسیدہ ہوچکی ہے ،جس کی رگوں میں اب وہ حرارت باقی نہیں رہی ہے کہ اپنے صحن میں پل بڑھ رہے چوزوں کی بھر پور دیکھ بال کرسکے ، اپنی کم سن بیٹی کو اب یہ ذمہ داری سونپ دیتی ہے لیکن اس کی موجودگی میں بھی دو چوزے بہ آسانی چیلوں کی غذا بن جاتے ہیں ۔گویا انسان کی وہ عظمت ، جاہ و جلال ، بہادری و دلیری وغیرہ جیسی خداداد صلاحیتیں اب اپنی کشش و تازگی کھو چکی ہیں جن کی بدولت اسے تمام مخلوقِ عالم پر فوقیت عطا کی گئی تھی اور جن کی سا لمیت سے بقیہٖ جملہ مخلوقات اس کے تابع اور اس سے لزرہ کھا جاتی تھیں۔لیکن اب ایک کمزور اور کم تر مخلوق بہ آسانی اس کے سامنے سے اپنا شکار مارتی ہے اور انسان بے بس و لاچار محض کف افسوس ملتا رہتا ہے۔

یہاں اس سوال کا پیدا ہونا فطری معلوم ہوتا ہے کہ آیا ایک انسان سے ایسی کون سی خطا سرزد ہوئی ہے یا یہ کہ وہ ایسی کس روگردانی کا مرتکب ہوا ہے کہ جس کے نتیجے میں عتاب الہٰی کی یہ قہرسامانیاں اس پر مسلط ہوئی ہیں؟کیا یہ واقعی قوانینِ فطرت سے چھیڑ چھاڑ کا ہی صلہ ہے یا پھر کچھ اور؟ افسانے سے لیے گئے درج ذیل اقتباس سے اس سب کی کسی حد تک گرہ کشائی کے امکانات واضح ہوجاتے ہیں:

’’اس نے کئی بار اپنے بابا سے کہہ بھی دیا تھا۔‘‘

’’بابا اس چنار کو جڑ سے ہی کاٹ ڈالو۔یہ چیل یہاں سے دفع ہوجائے ۔یہ ہمارے چوزوں کی دشمن ہے۔‘‘

بابا حسرت بھری آنکھوں سے چنار کی طرف دیکھتا تھا اور چپ ہوجاتا تھا۔نیلوفر حیران و پریشان اس کا منھ تکتی رہتی تھی۔وہ اکثر سوچتی تھی بابا تو روز کاندھے پر کلہاڑا لے کر پیڑ کاٹنے جاتا ہے وہ یہ چنار کیوں نہیں کاٹتا۔شاید بابا اتنے موٹے چنار کو کاٹ نہیں پائے گا بس میں بڑی ہوجاؤں تو اسے خود کاٹ دوں گی۔‘‘

چنار اپنی اصل میں ایک ایسا پیڑ ہے جس کی آبیاری و آبپاشی میں تمام لوگ بلاتمیز رنگ و نسل ، ذات پات اور مذہب و طبقہ کے اپنا بھر پور تعاون فراہم کرتے ہیں کہ چنار کے وجود سے زندگی کی خوشحالی اور رونقی مزید دوبالا رہتی ہے ۔ اس کے فائدے بے شمار رہتے ہیں اور نقصانات کم ۔ موسمی تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ چنار کی البیلی رنگ و روگن میں بھی تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے اور ہر بدلتا منظر پہلے کی نسبت بہرحال زیادہ دلکش اور موہ لینے والا ہی ہوتا ہے ۔لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے ۔ان تمام اوصاف کے باوجود چنار لوگوں کے مصائب و مشکلات کا گہوارہ بن چکا ہے ۔گویا چنار یہاں ایک ایسے نظام(System)کی علامت کے بطور سامنے آیاہے جو خود اپنی مرضی سے لوگوں نے اپنی خوش حالی اور ہریالی کے لیے گاڑا توہے لیکن اس سے برآمد ہونے والے نتائج ہر دو اعتبار سے انسانیت سوز اور غیرمتوقع ثابت ہوتے ہیں۔یہ نظام کوئی بھی ہوسکتا ہے سیاسی بھی اور سماجی بھی ، حاکمیت کا بھی اور اقتدار کا بھی ، محافظ کا بھی اور جدید جنگی ساز و سامان سے لیس افراد کا بھی اور معاشرتی بھی یا پھر مذہبی و طبقاتی بھی۔اب یہ قاری پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کس تناظر اور کس انداز سے مکالمہ قائم کرتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں فاروقی کی افسانہ نگاری کے خلاف- رحمٰن عباس)

نیلوفر اپنے بابا سے بار بار چنار کو جڑ سے اکھاڑنے پھینکنے کی تلقین کرتی ہے ۔وہ جانتی ہے کہ بابا کلہاڑا چلانے اور بڑے سے بڑے درختوں کو کاٹ دینے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بابا چنار کو کاٹ دینے اور لوگوں کو ان تمام مصائب سے مفتی عطا کرنے میں معذوری اور بے بسی کا ہی مظاہرہ کرتے ہیں ۔نیلو فر چوں کہ ایک کم سن اور جذباتی لڑکی ہے ۔اس کی رگوں میں گرم خون محوگردش ہے۔وہ اس چنار(صدیوں سے قائم غاضبانہ نظام)کی وسعت و گہرائی سے ناواقف ہے اس لیے نہایت کم و قلیل وقت میں اس کا نام و نشان مٹانے کی خواہاں ہے۔ نیلوفر کے برعکس بابا کا کردار ایک پختہ عمر اور تجربہ یافت فرد کا کردار ہے ۔ بابا معاملات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے ہرایک گُر سے بخوبی واقف ہیں۔انہیں اس نظام کی سفاکی ، بدلتی صورتوں ، جاہ و حشمت ، وحشیانہ سازشوں اور منافقانہ کارستانیوں کا بھر پور اندازہ ہے ۔وہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ یہ درخت اس قدر تناور اور پائیدار ہوچکا ہے کہ اسے بہ آسانی زمین بوس کرنا کوئی بچوں والا کھیل نہیں ہے۔ بابا کا کردار خلق کرکے افسانہ نگار نے جس متناسب اور متوازن طرزبیان اور طریقۂ کار کو روا رکھا ہے وہ قابلِ ستائش ہے ۔حالاں کہ ایسا بھی متوقع (ہوسکتا)تھا کہ بابا ، نیلوفر کی ہاں میں ہاں ملاکر چنار کو کلہاڑا سے ریزہ ریزہ کرنے پر اپنی رضامندی ظاہرکر دیتا اور ایسا کرنے سے یقینا یہ فن پارہ انتہاپسندی اور جذباتیت کے خول میں سمٹ کر رہ جاتا ۔اس اقتباس سے ایک دوسرا نکتہ یہ بھی ابھر کر سامنے آتا ہے کہ افسانہ نگار ادبی دائرے میں رہتے ہوئے سماج کے مظلوم و بے بس طبقے کو ایک انوکھے انداز میں اس حقیقت سے روشناس کراتے ہیں کہ ایک اکیلا فردِ، خواہ وہ کتنا ہی ذہین ، معامل فہم ، تجربہ کار اور بہادرہی کیوں نہ ہو، تنِ تنہاصدیوں سے قائم اس ظالمانہ نظام کی بیخ کنی نہیں کرسکتا ہے بلکہ بے جا ہنگامہ آرائی اور فوری ردّعمل کے برعکس ایک دانش ورانہ اور متوازن طریقۂ کار کے تحت ہی اس نوع کے نظامات سے انسانیت اپنا دامن چھڑا سکتی ہے ۔افسانے سے ایک اور اقتباس پیش کیا جاتا ہے:

’’چیلوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا اور ان کی من مانیاں بھی بڑھتی جارہی تھیں۔پھر اچانک کہیں سے گدھ بھی نمودار ہوگئے ۔وہ آنکھوں سے اندھے لگ رہے تھے ۔ان کے سامنے جو بھی آتا تھا اسے نوچ ڈالتے تھے ۔ان گدھوں کے آتے ہی چیلوں کا حوصلہ اور بڑھ گیا ۔یہ گدھ چیلوں سے زیادہ آدم خور تھے ۔مردار کے ساتھ ساتھ زندہ انسانوں پر بھی حملہ کرتے تھے ۔جب بھی جھپٹا مارلیتے تھے ، دوچار جانوں پر ہاتھ صاف کرجاتے تھے۔‘‘

یعنی یہ کہ اس جابرانہ نظام کے کارندے روزوں بڑھتے ہی جاتے ہیں ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس قافلے میں ایک ایسی مخلوق(گدھ) بھی شامل ہوجاتی ہے جو چیلوں سے زیادہ خطرناک اور بے رحم ہے۔چیلوں کی پہنچ تومحض چوزوں کے ہڑپنے اور ان کی بے دریغ قتل و غارت گری تک ہی محدود تھی لیکن گدھ زندہ انسانوں کی چیر پھاڑ میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔وہ بنا دیکھے بالے کسی کو بھی اپنا نشانہ بنادیتے ہیں ۔ان کے یہاں رحم و انصاف کی کوئی بو تک نہیں ہے۔افسانے کا یہ مذکورہ اقتباس کئی سارے مخفی حقائق کی پردہ کشائی کے لیے قارئین کو دعوتِ فکر دیتا ہے اور اسے اپنی سماجی و معاشرتی تاریخ میں جھانک کر ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے پر اُکساتا ہے کہ ، گدھ کے روپ میں یہ کون لوگ ہیں جن کی من مانیوں سے چیلوں کا حوصلہ اور بلند ہوجاتا ہے اور وہ ان کے ساتھ ہوکر انسانوں کا ببانگ دھل خون بہانے پر اُتر آتے ہیں؟گدھوں کے بھینس میں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنائیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے پیٹھ پیچھے خنجر سے وار کرتے ہیں یا کوئی ایسی طاقت جو چیلوں کی بداعمالیوں پر سے پردہ ڈال کر اپنی خودغرضیوں کو مزید مستحکم و کامیاب بنانے میں کوشاں ہے؟ وغیرہ ۔

انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کمزور و معصوم رعایا اپنی ابتدا سے ہی نہایت دلدوز اور دل دہلادینے والے حالات و حادثات کا شکار رہی ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ آج کے اس ترقی یافتہ اور تیز رفتار زمانے میں بھی ، جب کہ قومی و بین الاقوامی سطح پر تمام عالمِ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی و تحفظ کے بڑے بڑے دعوے دہرائے جاتے ہیں ، زمینی سطح پر حالات کچھ زیادہ تبدیل ہوتے ہوئے محسوس نہیں ہوتے ہیں ۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو ’’چیل ، چوزے اور چنار‘‘ایک ایسا فن پارہ ہے جو ان حالات و واقعات کی ترجمانی کے حوالے سے قابلِ ستائش کارنامہ گردانے کے مستحق ہے ۔

ریسرچ اسکالر

شعبۂ اردو ، کشمیر یونیورسٹی

فون:9622543998

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثافسانہکشمیر میں افسانہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ناول’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ ایک تنقیدی مطالعہ – مہر فاطمہ
اگلی پوسٹ
ناول "عزازیل” پر ایک تنقیدی نظر – ڈاکٹر خان محمد رضوان

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (187)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (122)
  • تخلیقی ادب (604)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (204)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (129)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,059)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (542)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (208)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (89)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (408)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (149)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (482)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,145)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (129)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (69)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں