اس ناول کے ابتدائیے کے طور پر ناول نگار نے اقبال کے جبرئیل کی طرف سے یہ شعر لکھا ہے:
کھو دیے انکار سے تُو نے مقاماتِ بلند
چشمِ یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو!
…………………………..
اور اس شعر کے جواب میں ابلیس جو کچھ کہتا ہے در اصل اسی کی بنیاد پر اس ناول کی عمارت کھڑی کی گئی ہے- بطورِ خاص ابلیس کا یہ شعر:
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصۂ آدم کو رنگیں کرگیا کس کا لہو
میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو
………………………………….
بہت ہی معنویت اور رمزیت سے معمور ہے-
تین ابواب پر مشتمل ناول "عزازیل” کی ابتدا میں اس کی تخلیق کے محرکات اور اس کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے ناول نگار نے لکھا ہے کہ :
"سب سے پہلے میں اس بات کی وضاحت کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ پیش نظر تحریر ایک ادبی ناول ہے جہاں مجاز ہمیشہ حقیقت پر سبقت رکھتا ہے- اسے مذہبی، تاریخی یا تحقیقی نقطہ نظر سے نہیں پڑھا جانا چاہیے-"
(عزازیل،پیش نوشت ص 9 )
ناول کے آغاز میں ہی اس بات کی وضاحت کرکے ناول نگار نے خود کو بہت سی بندشوں سے آزاد کرلیا ہے-اور” عزازیل” کے کردار کو نہ صرف اپنے انداز میں آئینہ کیا ہے بلکہ اکثر توجیہات کو بھی اپنے طور پر مرتب کرنے کی سعی کی ہے-
ناول نگار نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ یہ زمانہ عزازیل کی سوانح حیات پر مبنی ہے- اس ناول میں جس قصے کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ اصل میں اَ ہرَو مَن کے عزازیل بننے تک ایک طویل سلسلہ ہے- ناول نگار کے مطابق:
"معلوم کا سفر جہاں سے شروع ہوتا ہے اس سے پہلے ہی یہ وقفہ ختم ہوجاتاہے-” (عزازیل،پیش نوشت -ص9)
مندرجہ بالاجملے کو ذرا وسیع مفہوم میں سمجھا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ وہی عزازیل ہے جو اپنے انجام سے غافل اور خاتمہ سے بے خبر تھا-ہمیں معلوم ہے کہ عزازیل راندہ درگاہ ہونے سے قبل خدا کا مقرب اور معلم الملائک تھا مگر جب اسے دھتکار کر بارگاہ خدا وندی سے بے دخل کردیا گیا تو اسے غصہ آنا یقینی تھا کیوں کہ اگر خدا کے حکم سے یہ کام ہوا تو کیوں؟ کیا خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کی جاسکتی؟ لیکن انسان تو روز غلطی کرتا ہے مگر اس طور نہیں جس طریقے سے ابلیس نے کی اور کرنا بھی نہیں چاہیے وہ اس وجہ سے کہ ابلیس ناعاقبت اندیش ہے اور انسان عاقبت اندیش- ابلیس انجام سے غافل ہے مگر انسان نہیں، ابلیس خاتمہ سے بے خبر اور انسان باخبر، مگر آپ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ خدانے ہی تو ابلیس کو پیدا کیا اور خدا نے ہی اسے دربدر بھی کیا اور حکم عُدُولی کا بالآخر یہی انجام ہوتاہے- اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ خدا خیر وشر کے معرکے کو قیامت تک باقی رکھنا چاہتاہے-یہی وجہ ہے کہ خیر وشر کی یہ کشمکش آج بھی جاری ہے- اور اُسی خیر وشر کے لامتناہی کشمکش کو یعقوب یاور نے ناول کی شکل میں ایک خوب صورت پیکر عطا کیا ہے- (یہ بھی پڑھیں ’میں تمثال ہوں ‘ کا ایک نفسیاتی جائزہ – شبانہ یوسف)
دراصل ابلیس کی ناعاقبت اندیشی اسی وقت ثابت ہوگئی تھی جب اس نے حکم خداوندی سے اعراض کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیاجب کہ حکم عُدُولی سے قبل وہ عابد کے نام سے پکارا جاتا تھا مگر سجدے کے انکار نے اسے دربار اکبری سے نکلوادیا پھر وہ ابلیس کے نام سے پکاراگیامگر جب اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا کو بہکایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے لعنتی ٹھہرایا "لعنتُ اللہ علی شیاطینھم” بائیبل میں بھی یہ قصہ قریب قریب اسی طرح مذکور ہے- قرآن مجید کی سورہ بقرہ کے تیسرے رکوع میں اس تعلق سے اللہ رب العالمین نے مفصل ذکر کیا ہے-
واقعہ عزازیل کو ناول نگار نے قدیم آسمانی صحائف کے حوالے سے قلم بند کرکے اپنے خیالات کج بلندی اور ذہنی وفکری توانائی کا عمدہ ثبوت پیش کیا ہے-ناول نگار نے یہ بات پیش لفظ میں تحریرکی ہے کہ مجھے روایتوں اور حقائق کے محقق ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے قدیم آسمانی صحائف کی روایتوں کو بلا تحقیق اپنی کہانی کا حصہ بنایا اور جہاں جہاں سے روایتیں ملی انھیں تحریر کیا-لہذا بیانیہ پر مشتمل اس ناول کو پڑھ کر اندازہ ہواکہ ناول نگار کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے-بس اپنے تخیل اور بیانیے کی قوت سے تمام اساطیری روایتوں کو ملا کر ایک خوب صورت بیانیہ تشکیل دینے کی سعی کی ہے جس سے صرف یہ اندازہ ہوتا ہے کہ معرکہ خیر وشر ازل سے ہے-اس ناول میں عزازیل کو موضوع بناکر کہانی کی زمین ہری کرنے کی خوبصورت کوشش کی گئی ہے-جسے لوح محفوظ میں ابلیس کے نام سے یاد کیا گیا ہے-یہ ابلیس جو خدا کا مقرب تھا مگر اس نے خدائے لم یزل کے حکم کی سرتابی کی اور اپنے خالق کا حکم کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو مگراس نے اپنی بڑائی، تکبر اور گھمنڈ کے زعم میں سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور اس طرح اس نے حضرت آدم کی تحقیر کی نتیجتاً –
تکبر عزازیل را خوار کرد
بہ زندان لعنت گرفتار کرد
…………………………………
محل نظر یہ بات بھی رہے کہ خدا نے کہا” انی جاعلُّ فی الارض خلیفتۃٌ” میں زمین پر خدا کا جانشین بنانے والا ہوں مگر سوال یہ ہے کہ کس کا جانشین؟ کیا اللہ تعالی کا مگر نہیں کیوں کہ خداکی جانشینی کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی انسان در اصل اپنی پیش رو مخلوق شیاطین کا جانشین ہے- کیوں کہ کرہ ارض پر جب شیاطین موجود تھے اور زمین آگ کا گولہ تھی اور یہی آتشیں گولہ شیاطین کا مسکن تھا جس کی تائید جدید سائنسی انکشافات سے بھی ہوچکی ہے- چنانچہ اس کی توضیح یعقوب یاور نے اس طرح کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ:
” اس سیارے کانام ارد ان تھا-اس کا تقریباً تین چوتھائی حصہ خشکی اور باقی حصہ پانی پر مشتمل تھا- سیارے کا قطر تقریباً تین ہزار میل تھا جو ہماری زمین کے قطر سے نصف سے بھی کم ہے-اس کی بیرونی سطح آگ کی طرح سرخ اور گرم تھا-اس سیارے پر خدا نے جنوں کو آباد کیا تھا جو خود بھی آگ سے ہی پیدا کیے گئے تھے-"(عزازیل،اردبان-ص31)
ناول نگار کے مطابق سجدہ آدم سے انکار کا واقعہ خیر وشر کی کشمکش کی بنیاد والے تمام سامی عقائد میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے-ناول نگار کا موقف ہے کہ عقیدے اور جذبات کی روشنی میں مذہبی جوش اور جنون دونوں کے تحت اس واقعے کو دیکھنے اور سمجھنے کی ایک مستحکم روایت موجود ہے لیکن اس کا علمی پہلو ہمیشہ تشنہ رہا ہے اور ناول نگار کے دعوے کے مطابق تشنگی کی اسی روایت اور دباؤنے اسے ان تمام واقعات کو نئے سرے سے بصیرت کے ساتھ دیکھنے پر مجبور کیاہے تاکہ اس کے ذریعے عزازیل کے انکار، اس کے مزاج، اس کے سابقہ مرتبے اور اس کی خواہشات وتوقعات پر روشنی پڑے اور اس کے انکار کے اسباب کی بازیافت ہوسکے-
یعقوب یاور نے اپنے اس ناول کو انوکھا اور اچھوتا کہا ہے اور اس کی تخلیق کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ وہ اس حقیقت کو ابھار نا چاہتے ہیں کہ نافرمانی اور بے راہ روی کو جب علم کی سرپرستی حاصل ہوجاتی ہے اور جب علم کو صرف فائدے اور نقصان کے زاوے سے دیکھا جانے لگتا ہے تو علم کا تعلق اخلاقی اقدار سے ٹوٹ جاتا ہے اور غیر جانب داری اور برائی کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے-نیز اسی ناہمواری کے سبب تمام تر خرابیاں پیدا ہوتی جلی جاتی ہیں-
عزازیل کا مرکزی کردار جیسا کہ درج بالاسطور میں عرض کیاگیا ہےکہ خود "عزازیل” ہی ہے-عزازیل کے کردار کو اکثر باغی اور منفی ماناجاتاہے لیکن صرف ایک انکار ہے سبب اس کے سابقہ تمام نیک اعمال کو رد کرنا مناسب نہیں- وہ اس لیے کہ وہ ایک طویل عرصے تک خداکا محبوب اور مقرب بھی رہا تھا-لیکن وہ آگے چل کر خیرو شر میں بروقت تمیز کر نے سے چوک گیا-ناول نگار نے اس چوک اور نافرمانی کی گرہ کشائی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
"دراصل شر کے پس پشت جو نفسیات کام کرتی ہے وہ بھی غیر فطری نہیں ہوتی- اس کے پیچھے بھی اسباب وعلل کا ایک سلسلہ ہوتا ہے-"
یعنی ہم اکثر اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہر انسان کی سوچ اور اس کے اعمال پر اپنے اطراف کے منفی ومثبت دونوں اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ انہی اثرات کے زیر اثر آتا چلا جاتا ہے- بسا اوقات وہ خود پر قابو نہیں رکھ پاتا اور ریلے میں تنکے کی مانند بہتا چلا جاتا ہے-اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ انسان پورے طور پر خود مختار اور آزاد نہیں ہوتا-اسے معاشرے اور ماحول کے حساب سے ڈھلنا پڑتا ہے- کبھی دانستہ اور کبھی غیر دانستہ، اور ماحول کے یہ اثرات اکثر وبیشتر اس کی پوری زندگی پر محیط ہوجاتے ہیں-ہاں یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ بعض اوقات انسان ان اثرات سے باہر آنے کے لیے کوشش کرتا ہے لیکن اس کی مسلسل کوشش بھی اسے پوری طرح نہیں بدک پاتیں، محض معمولی سی تبدیلیاں ہی وقیع پذیر ہوتی ہیں-اس سے یہ راز بھی عیاں ہوتا ہے کہ دراصل انسان فطری طور پر بہت معصوم ہوتاہے لیکن فکر کازاویہ اور طریقہ تبدیل ہوجائے اور انسان کو دیے گئے فہم وادراک کج خصوصیت کو مرکزی حیثیت دے دی جائے تو نتائج مختلف بھی برآمد ہوسکتے ہیں-یعقوب یاور نے اپنے اس ناول کی بنیاد اس فکر پر رکھی ہے کہ” اس دنیا میں رہنے والا ہر آدمی اچھائی اور برائی کا اپنا الگ الگ معیار اور میزان رکھتا ہے-"
حالاں کہ خارجی جبر اسے یہ باور کرنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں وہ اپنے اس انفرادی معیار کا پابند نہیں،ہر آدمی کےیہاں یقین اور عقیدے کا تعلق اس کے علم، اس کی فکر اور اس کے پس منظر اور پیش منظر پر انحصار کرتا ہے-یعنی خارجی اثرات کے تابع ہوکر پوری زندگی گزار دیتا ہے حالاں کہ وہ اس بات کا اعلان کرتا رہتا ہے کہ وہ اپنے عقل وشعور سے کام لیتا ہے-
اس ضمن میں کسی کا یہ قول بہت ہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ "انسان معصوم پیدا ہوتا ہے اور معصوم ہی مرجاتا ہے”جب کہ پوری عمری وہ اس مغالطے میں رہتا ہے کہ وہ معصوم نہیں، وہ بہت چالاک اور شاطر ہے-
مختصراً یہ کہ یہ ناول عام طور سے تفریحی اور عمومی موضوعات پر مبنی ناولوں سے بالکل مختلف ہے، اس میں ایک ایسے حساس کردار کو اپنا موضوع بنانے کی جرات نظر آتی ہے جس کا تاریخی تناظر میں ذکر توکیا جاسکتاہے لیکن اس انداز میں جس انداز میں عام طور پر ذکر کرنے کی روایت رہی ہے-
میری دانست میں اس ناول کی انفرادیت اور
خصوصیت محض اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اس کے ذریعے ناول نگار نے عزازیل کے کردار اور اعمال کو نئے سرے سے بالکل یہ کہا جاے تو بیجا نہ ہو گا کہ مثبت طریقے سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے-اور اس کی کستاخی کو خالص نفسیاتی نقطہ نظر اور خارجی عوامل نتیجہ قرار دیا ہے-
اس ناول کوپڑھ کراس بات کا بخوبی اندازہ ہوا کہ یہ ناول قرآن، حدیث اور اسلامی تواریخ کے گہرے مطالعے اور دلچسپی کا نتیجہ ہے کیوں کہ ایک عام انسان یا ایسا انسان جس کا مطالعہ وسیع اور متنوع نہ ہو وہ اس نتیجہ تک پہنچ ہی نہیں سکتا کہ وہ جان سکے کہ نظام دنیا کے اصول وضوابط کیا ہیں، اور دنیا کے خاتمے کے اسباب قرآن وحدیث میں کیا بتائے گئے ہیں، اور قیامت اصل حقیقیت کیا ہے، اس راز سے وہی شخص واقف ہوسکتا ہے جس کا مطالعہ وسیع ہو ورنہ اس طرح کا ایک موضوعی ناول لکھنا ہر ایرے غیرے کی بس کا نہیں-اس ناول میں قیامت اور وجود کائنات کے تعلق سے کتنی بصیرت افروز بات کہی گئی ہے، اس بات کا اندازہ اس اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے، اقتباس ملاحظہ کریں :
"دنیا کا خاتمہ ایک نئی دینا کی تخلیق کے لیے ضروری ہوتا ہے-ہر نئی دنیا ایک متعین عمر لے کر آتی ہے اور جب اپنی معینہ مدت طے کرنے کے بعد اس دنیا کو تباہ کردیا جاتاہے تو وقت کاایک متعین وقفہ بغیر کسی نئی مخلوق کے گزرتا ہے-اس مدت کے گزر نے کے بعد خدائے کائنات پھر اپنی قوت تخلیق کا مظاہرہ کرتاہے اور ایک نئی مخلوق کے وجودمیں آنے کے اسباب بہم ہونے لگتے ہیں-” (عزازیل،ہنگام لابد،ص 24)
بہر کیف اس ناول کا بالاستعاب مطالعہ کرنے کے بعد ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ناول کی زبان شستہ، شگفتہ اور پرکشش ہے یعقوب یاور کو قصہ گوئی پر قدرت کاملہ حاصل ہے-اسلوب کی ندرت اور بیانیہ کی جاذبیت نے اس خشک موضوع کو پرکشش اور پر اثر بنادیاہے- اس ناول کا یہ محض ایک سرسری مطالعہ ہے-جب کہ حقیقت یہ کہ اس کی متعدد جہتوں سے ابھی پردہ وا ہونا باقی ہے جن پر بہت ہی تفصیل اور صرارحت کے ساتھ لکھنا اور غور وفکر کی گنجائش ابھی باقی ہے-
9810862283
afeefrizwan@gmail.com
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

