غلام مرتضیٰ راہی بہ سے بہتر، خوب سے خوب تر کی تلاش میں خود تردیدی اور خود تنسیخی عمل سے گزرتے رہے ہیں۔فنی اور فکری پختگی کی خاطرکلام میں ترمیم وتنسیخ اور حذف واضافہ بھی کرتے رہتے ہیں مگر میں ان کی طرح اپنی اس پرانی رائے میں کوئی ترمیم نہیں کرسکتاکہ’’ غلام مرتضیٰ راہی اپنی منفرد لفظیات ، تشبیہات واستعارات کی انفرادیت کی وجہ سے معاصر شعری منظرنامہ میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔انہوںنے عمومی رہ گزر سے الگ اپنی شعری شاہراہ تعمیر کی ہے اور ایک ایسی منزل تلاش کی ہے جہاں ان تحیرات اور تخیلات میں کوئی ان کا سہیم و شریک نہیں ۔‘‘
اورمیں ماضی کے اس موقف پر بھی قائم ہوں جس پراب کئی موسم گزرچکے ہیں کہ’’ غلام مرتضیٰ راہی ایسے تخلیق کار ہیں کہ بھیڑ میں بھی جن کی شناخت گم نہیں ہوئی اور انبوہ میں الگ سے پہچانے جاتے ہیں۔ان کے طرزِ اظہار واحساس اور شعری اسلوب میں کسی کی کوئی چھاپ یا پر چھائیں نہیں ہے۔ان کا کلام ان کی ندرت تخیل ،تازگیٔ فکر اور جدت اداکی گواہی دیتاہے ‘‘اور اب میں اس میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اعضائے رئیسہ اور اعصاب کی کمزوری بھی راہی کی تخلیقی قوت پر اثر انداز نہیں ہوئی ہے کہ دراصل جن کے لہومیں تخلیقیت تحلیل ہوجاتی ہے تو پھر اس کے تخلیقی خلیے مدام، متحرک ، توانا اور تابندہ ہی رہتے ہیں۔اسی لیے وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ
اتنی جلدی مرا سورج کبھی ڈھلنے کا نہیں
قوی مضمحل ہونے کے باوجود ان کا ذہن ساکت وجامد نہیں ہے، وہی پرانی زرخیزی اور شادابی ہے ۔شعری ارتکاز میں بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے ، وہی طنطنہ وطمطراق ہے جو عنفوان شباب میں رہا ہوگا۔ان کی تخلیقی حرارت وحدت اور فکر کی شدت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جب کہ اس عہد میں بہت کچھ بدل چکاہے۔میکانکی اور مشینی تہذیب نے بہت سی چیزوں کو تبدیل کردیا ہے، ترجیحات بدل گئی ہیں، مکانوں کے نقشے کے ساتھ ذہنوں کے زاویے بھی بدل گئے ہیں مگر غلام مرتضیٰ راہی کے لہجے میں وہی تازگی ہے ۔وہی نکیلا پن ، وہی مضطرب ومتجسس ذہن۔۔۔۔ان کی تخلیق میں پہلے جیسی ہی طغیانی ، جولانی اور تابانی ہے ۔شاید اسی لیے انھوں نے یہ کہا تھا
خاک ہی خاک نظر آئی مجھے چاروں طرف
جل گئے چاند ستارے میری تابانی سے
راہی کی تخلیقی تابانی کے نقوش لامکان (1971)،لاریب(1973)،حرف مکرر(1997)، لاکلام(2000)، لاشعور(2001)،کلیات راہی (2012) اور اب گل سرسبد(2019)میں مرتسم ہیں،ان تمام مجموعوں میں ان کا روشن ترین کلام شامل ہے جس میں وہ ایک دوررس شاعر کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں اور اپنے موضوعات اور اسلوب کی انفرادیت سے چونکاتے بھی ہیں اور نئے نئے استعارات اور تشبیہات سے اردو شاعری کو نیا رنگ وآہنگ بھی دیتے نظرآتے ہیں۔بہت سے لفظوں کو نئے معنوی امکانات اور تنوعات سے روشناس بھی کراتے ہیں جن میں خاص طورپر شجر، سمندر، در،دیوار،آب، آبشار، اور آئینہ جیسے الفاظ شامل ہیں۔اب شاید ہی اس میں کسی کو شک ہو کہ راہی کا ایک الگ اسلوب اور رنگ ہے جس کا پتہ ان کا کلام پڑھنے سے فوری طورپر ہوجاتا ہے۔اب یہ اشعا دیکھئے جن میں ان کے ذہن کا تجسس ، تفکراور تحیر نمایاں ہے۔
قیام میں بھی سفر اختیار کرتے ہوئے
چلا میں رات کو دن میں شمار کرتے ہوئے
۔۔۔۔۔۔
اس کی پرچھائیں نے پانی میں اترنا چاہا
دیکھنے کے لیے دریا نے ٹھہرنا چاہا
۔۔۔۔۔
جوجھتے جوجھتے لہروں کو ہوئی فتح نصیب
ٹوٹتے ٹوٹتے دریا کاکنارہ نہ بچا
وقت کہاں تک میری خاک اڑائے گا
میں تو لپٹا ہوں مٹی کی چادر سے
۔۔۔۔
میں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے چلتا ہوں
اب اس سے بڑھ کے کوئی مجھ سے اور کیا لے گا
۔۔۔۔۔۔
بجھا کے سویا تھا میں ایک اک چراغ مگر
کھلی جو آنکھ تو جلتا ہوامکان ملا
۔۔۔۔۔۔
ندی میں ڈوب گئے بے شمار پروانے
لویں چراغوں کی پانی کو خشک کرتی رہیں
۔۔۔۔
شام تک زرد پڑگیا سورج
ذرہ ذرہ کرن کا پیاساتھا
ہم لوگ پی کے بیٹھ گئے ایک سانس میں
کوزے میں اب کسی کے سمندر نہیں رہا
احساس واظہار کی انفرادیت کے لیے کیا اس سے زیادہ ثبوت کی ضرورت ہے؟ زمین شعر میں ایسے گل کھلانے والے آج کتنے ہیں؟ فنی اور فکری سطح پر راہی میں جو خوبیاں ہیں، وہ انہیں جدید غزل گویوں میں امتیاز عطا کرتی ہیں۔انہوں نے قدیم کلاسیکی شعریات سے ہم رشتگی کے باوجود اپنی نئی راہ نکالی ہے اور وہ سمتیں تلاش کی ہیں جن کی طرف ان کے بہت کم ہم عصر شاعروں کا امکانی سفر ممکن ہے۔راہی کا ’لاکلام‘ ہر اس احساس سے کلام کرتا نظر آتاہے جو غیر ممسوس ہے، ان چھوا ہے اور جو بہتوں کی نگاہ تخیل سے ہنوز دور ہے۔ان ہی کا اک شعرہے:
چھپاتھا ہیرا کوئی راستے کے پتھر میں
ہماری ٹھوکروں نے اس کا انکشاف کیا
غلام مرتضیٰ راہی نے اپنی شعری وتخلیقی مسافت میں ایسے ہی ہیر ے اور جواہرات تلاش کیے ہیں اور ان ہی جواہرات سے ان کی تخلیقی عمارت کی تشکیل ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس کی بھی نظر اس عمارت کی طرف اٹھتی ہے اس کی نگاہ حیرت سے پھٹی رہ جاتی ہے۔ سائنسی ایجادات اور انکشافات کے اس عہد میں اب کتنے شاعروں کے پاس تحیرات کی وہ زبنیل ہے جو قدرت نے غلام مرتضی راہی کو عطا کی ہے۔شاعری میں یہی وہ عطائے خاص ہے جس کی وجہ سے راہی شعری سفر میں سب سے الگ سمتوں کی طرف یاترا کرتے نظر آتے ہیں اور اس سفر نے انہیں اتنا تخلیقی حوصلہ بخشا ہے کہ وہ یہ پکار اٹھتے ہیں:
ملاسکتا ہوں سورج سے نگاہیں
ہزار اس نے مجھے ذرہ بنایا
اور یہ شعر بھی ان ہی کا ہے:
تم کو ہے سایۂ دیوار کی عجلت لوگو
اتنی جلدی مراسورج کبھی ڈھلنے کا نہیں
اسی نوعیت کا یہ بھی شعر ہے:
رہے گا آئینے کی طرح آب پر قائم
ندی میں ڈوبنے والا نہیں کنارا میرا
غلام مرتضی راہی کی شاعری یقینااسی آئینے کی طرح ہے جس کا کنارا وقت کی ندی میں کبھی نہیں ڈوب سکتا کہ یہ شاعری زمانیت اور عصریت سے ماورا ہے ۔ان کی شاعری میں مختلف آفریدہ اور ناآفریدہ زمانوں سے مکالمہ بھی ہے اور مختلف عہد ان کی شاعری میں سانس بھی لیتا ہے ۔ان کی شاعری میں جدید حسیت کے ساتھ ساتھ عتیقیت کی بھی عبارتیں روشن ہیں،اسی لیے غلام مرتضی راہی کے بارے میں خلیل الرحمن اعظمی نے کہا تھا کہ ’’ راہی کی غزل میں ایک تہ داری اور فکری دبازت ملتی ہے اور ان کے لہجے کی تازگی ان کے تخلیقی عمل کا ایک فطری نتیجہ معلوم ہوتی ہے‘‘ اور وحید اخترکا یہ خیال بھی بہت معنی خیز ہے کہ ’’ ہندوستان میں غزل کے جدید لہجے اور محاورے کو تخلیقی بصیرت کے ساتھ موضوعی تجربے کی اساس پر مستحکم کرنے والے شعرا میںغلام مرتضیٰ راہی کا نام بھی لیا جاسکتاہے۔جدید غزل کے علائم واستعارات بھی تقلیدی ذہنوں کی غیر تخلیقی قافیہ پیمائی کے ہاتھوں معنی کھوتے جارہے ہیں۔راہی نے ان بظاہر پٹے ہوئے الفاظ کو اپنے محسوسات سے ہم آہنگ کرکے داخلی تجربے اور خارجی حقائق کی زبان بنانے کا گر سیکھ لیا ہے اور اسی لیے غزل گو شعرا کے ہجوم میں جہاں چہروں میں امتیاز کرنا بہت مشکل ہے، راہی کی آواز کا چہرہ دوسروں سے ممتاز اور منفرد ہوکر پہچانا جانے لگا ہے۔ان کی آواز کے چہرے کے ایسے عکس ہر ہر صفجے پر چمک رہے ہیں۔جدید شاعری نئے معانی کی تلاش ہی نہیں تخلیق بھی ہے۔ ’لاریب‘ اس تلاش وتخلیق کی ایک روشن مثال ہے۔‘‘
غلام مرتضیٰ راہی اپنے منفرد تخلیقی خصائص کی وجہ سے خوش نصیب ہیں کہ صارفیت اور مادیت کے اس عہد میں بھی ان کی تخلیق سے محبت کرنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے مگر مجھے حیرت ہے کہ معاصرغزلیہ شاعری پر جو مستند اور معتبر تحقیقی، تنقیدی مقالے لکھے گئے ہیں،ان میں غلام مرتضیٰ راہی کا کوئی بھی شعر نہ تو حوالے میں شامل ہے اور نہ ہی ضمناً ان کاذکر موجود ہے۔پروفیسر زاہدہ زیدی نے حالیہ تخلیقات کی روشنی میں عصری غزل کے منظرنامے پر بھرپور روشنی ڈالی ہے جس میں بہت سے جونئیر شعرابھی موجود ہیں۔شارب ردولوی، عنوان چشتی، حامد ی کاشمیری، تنویر احمد علوی، خورشید احمداور شافع قدوائی جیسے معتبر ناقدین نے جدیداور مابعد جدیدغزل کے حوالے سے بیش قیمت مقالے لکھے ہیں جن میں غلام مرتضیٰ راہی کے معاصرین کا حوالہ شامل ہے لیکن غلام مرتضیٰ راہی کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔مضامین کے علاوہ آزادی کے بعد اردو غزل ، بیسویں صدی میں اردوغزل، اترپردیش میں اردو غزل جیسے تنقیدی وتحقیقی مطالعات بھی سامنے آئے لیکن ان میں بھی غلام مرتضی راہی بطورحوالہ شامل نہیں ہیں۔اس کی دو ہی وجہیں ہوسکتی ہیں۔یاتو کلام راہی کی رسائی ان تنقیدی اور تخلیقی ذہنوں تک نہیں ہوپائی یا پھر ناقدین نے ان کے کلام کو درخور اعتنا نہیں سمجھا،پہلی وجہ میری فہم سے بالاتر ہے کیونکہ غلام مرتضیٰ راہی ملک اور بیرون ملک کے مقتدررسائل ومجلات میں تواتر کے ساتھ چھپتے رہے ہیں، اس لیے ان کے کلام تک رسائی نہ ہونے والی بات تسلیم نہیں کی جاسکتی اور دوسری وجہ بھی ناقابل فہم ہے کیونکہ جس شاعر کو شمس الرحمن فاروقی جیسا ناقد سنجیدہ محنت کوش اور دوررس قرار دے جن کے انفرادی رنگ کا اعتراف بانی نے کیا ہواور ڈاکٹر محمد حسن جیسے نقاد نے جن کے یہاں غزل کے نئے امکانات تلاش کیے ہو، اسے کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔دورحاضر کے ناقدین سے یہ سوال کیا جانا اب بہت ـضروری ہے کہ جب غلام مرتضی راہی کے معاصرین اور ان کے جونیئرس تنقیدی اور تحقیقی حوالوں میں شامل کیے جاسکتے ہیں توپھر غلام مرتضیٰ راہی کے ساتھ یہ معاندانہ یا متعصبانہ رویہ کیوں؟
ـCell: 9891726444
Email: haqqanialqasmi@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

